فلسطین کا 4 سالہ کون ہے ؟ - مسعود ابدالی

فیڈر منہ سے لگائے یہ ننھے میاں کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ ایک 'خوفناک دہشت گرد' ہیں ۔ جی ہاں اسرائیل کی انسداد دہشت گردی کے ادارے نے 4 سالہ محمد الایان کو پوچھ گچھ یا Interrogation کے لیے آج تھانے طلب کیا۔ مشرقی بیت المقدس کے رہائشی اس ننھے دہشت گرد پر الزام ہے کہ اس نے اپنے گھر کے قریب سے گزرتی فوج کی ایک گاڑی کی طرف پتھر اچھالے تھے۔

اس موقع پر آلہ جرم یعنی وہ پتھر بھی بطور ثبوت وہاں موجود تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق وہ ڈھیلا ننھے کی ہتھیلی سے بڑا تھا بلکہ اس کے لیے یہ روڑا دونوں ہاتھوں سے اٹھانا بھی ممکن نہیں۔ وہ تو خیریت رہی کہ پوچھ گچھ کے دوران محمد کا باپ ربیع بھی موجود تھا اس لیے کہ سارجنٹ کی خوفناک شکل دیکھ کر ننھے میاں رونے لگے، سوالات کا جواب کیا دیتے۔

ربیع سے تحقیقات کاروں کو بتایا کہ پتھراؤ کے وقت میرا بچہ اپنی ماں کے ساتھ گھر میں تھا۔ ہنگامے کا شور سن کر میری اہلیہ اسے اپنی گود میں لے کر باہر آئی تو دیکھا کہ محلے کے کئی بچے فوج کی گولیوں سے زخمی تھے، جنھیں اٹھانے کے لیے محمد کی ماں نے اسے گود سے اتارا توشاید وہ چلتا ہوا ان لڑکوں کے قریب چلاگیا ہوگا جو فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے تھے۔ ننھے میاں کو اگلے ہفتے دوبارہ طلب کیا گیا ہے اور وہ اس دوران بلا اجازت شہر سے باہر نہیں جا سکتے۔

احباب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اسرائیلی قوانین کے تحت 12 سالہ 'دہشت گرد' کو عاقل و بالغ سمجھا جاتا ہے یعنی عمر قید و پھانسی سمیت ہر قسم کی سزا دی جا سکتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */