بلاول چی گویرا، مریم ملالئی اور معرکہ سینیٹ کی روداد - صہیب الدین کاکاخیل

سلطانی جمہور کے دعوے کرنے والے جن لوگوں کو کل سینیٹ چیئرمین کے عدم اعتماد والے معاملے پر شدید شرمندگی اور سبکی اٹھانی پڑی ہے، ان سے ہماری دلی ہمدردی ہے، اور دعا ہے کہ اب وہ ضمیر فروش سیاسی مداریوں کے بچھائے ہوئے جمہوریت کی بالادستی اور سویلین سپرمیسی کے جھوٹے سراب سے باہر نکل آئیں گے ۔ ان کی تخیلاتی، رومانوی اور افسانوی دنیا میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک عظیم جنگ چھڑی ہوئی ہے، اورگھمسان کا رن ہے۔ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کا لشکر ہے جس کے جلو میں فوج، عدلیہ، نوکر شاہی، میڈیا، حکمران جماعتیں اور پتہ نہیں کیا کیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادت میں بے سروسامان سیاسی جماعتیں ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا لشکر اس عزم کے ساتھ کھڑا ہے کہ ہر عظیم سے عظیم قربانی دیں گے، لیکن جمہوریت اور سویلین بالادستی کا جھنڈا گاڑ کر رہیں گے۔

اس جنگ میں بلاول زرداری انھیں چی گویرا اور مریم نواز میوند کی ملالئی نظر آتی ہے۔ ان کے خیال میں اس عظیم جنگ میں دو ہی قوتیں ہیں، ایک حق کی دوسری شر کی ۔ جو اس جنگ میں خاموش ہے، یا دونوں سے اختلاف کرکے تیسری سوچ رکھتا ہے، وہ سب دراصل "شر" اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہا ہے۔ ان کو امید ہے کہ عنقریب "حق" پرستوں کا لشکر بے سرو سامانی میں غالب آجائے گا ۔

سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ایک اہم مورچہ تھا جس کو ''اہل حق'' نے ہر حال میں فتح کرنا تھا۔ بظاہر اس مورچے کی فتح ''اہل حق'' کے لیے نسبتًا آسان تھی کیونکہ اس محاذ پر انھیں کافی افرادی برتری حاصل تھی۔ بظاہر اہل حق کا قافلہ پرعزم تھا۔ اہل حق کی قیادت بلاول بھٹو چی گویرا اور مریم ملالئی میوند کے ہاتھ میں تھی۔ ان سمیت دیگر رہنما تقریروں سے اس مورچے کو فتح کرنے والے دستے کی بالخصوص اور ان سے امیدیں وابستہ رکھنے والوں کے بالعموم جذبات گرما رہے تھے۔ ان کو اپنی فتح بالکل سامنے نظر آرہی تھی۔ راستوں کی سختیاں اور مصیبتیں ان کے لیے اب لیلیٰ کی زلفوں کی تاروں جیسے لگ رہی تھیں۔ بس وہ بیتاب تھے کہ کب میدان سجے۔ ان کا بس چلتا تو جمعرات کے بجائے بدھ کی رات کو ہی میدان سجا لیتے، لیکن مجبور تھے کہ میدان کے بھی کچھ اصول تھے۔ ہر اول دستے سے زیادہ جذباتی حالت میں فیس بک کے محاذ پر بیٹھے ان کے وہ سرفروش تھے، جنھیں صرف اور صرف فتح نظر آ رہی تھی۔ چی گویرا اور میوند کی ملالہ کی انقلابی گفتگو کے کلپس اور پوسٹ دھڑادھڑ شیر کیے جا رہے تھے۔ جذبات تھے کہ خون میں گردش کرتے ہوئے رگوں سے ابلنے کے قریب تھے۔

ہر اول دستے کے 65 سرفروشوں نے بدھ کی دوپہر کا کھانا ڈٹ کر بلاول چی گویرا کی میزبانی میں کھایا۔ چی کے گفتار و افکار نے سرفروشوں کے جذبات کو اتنا بےقابو کردیا کہ ڈکار لینا بھی بھول گئے۔ اس جذباتی کیفیت نے ان کے ہاضمے کے نظام پر خوشگوار اثر ڈالا۔ بغیر ڈکار کے دوپہر کا کھانا ہضم کرکے رات کے عشائیے پر ''اہل شر'' کے اہم مورچے کو فتح کرنے والے دستے کے کماندار حاصل بزنجو کی دعوت پر پہنچے۔ یہاں پر اہل حق کی تمام قیادت نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ عجیب سماں تھا، جذبات تھے، احساسات تھے، امیدیں تھیں، نئی صبح کی سورج طلوع ہونے اور نوید سحر کا انتظار تھا۔ میوند ملالا کی نظمیں تھیں، چی کے افکار تھے۔ ملالئی اور چی کے روشن ماتھوں میں انقلاب کی جھلک تھی۔ مولانا فضل الرحمٰن کو مفتی محمود، اسفندیار ولی کو ولی خان، کماندان حاصل بزنجو کو غوث بخش بزنجو، محمود خان کو عبدالصمد خان کی قبروں میں خوشی سے بے چین روحوں کا تصور ہی خوشی سے سر شار کر رہا تھا کہ بس کل ان کی خوابوں کو تعبیر کچھ ہی دیر میں ملنے والی تھی۔ اس پوری جذباتی فضاء میں پتہ ہی نہ چلا کہ رات کیسے کٹی۔ اتنی جلدی تو فراق کی شب بھی نہیں کٹتی، لیکن اس رات کے سامنے شب فراق کی کیا حیثیت، آنکھوں آنکھوں باتوں باتوں میں کٹ گئی۔ پتہ اس وقت لگا جب مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے آواز لگائی، چلیں میرے گھر ناشتہ تیار ہے۔ 65 جانثاروں کو خوشگوار حیرت ہوئی کہ ایک بار پھر بغیر ڈکار کے رات کا کھانا کیسے ہضم ہوگیا؟ وہ اسی خوشگوار سوچ میں تھے کہ اسفندیار ولی خان گویا ہوئے: مبارک ہو مبارک ہو، بس ہم جیت کے قریب آگئے، منزل قریب ہے۔ مجھے باچا خان اور ولی خان بابا کی وہ پیشینگوئی یاد آگئی کہ جب سویلین سپرمیسی اور جمہوری بالادستی کی اصل اور فیصلہ کن جنگ ہوگی تو اہل حق کے ہر اول دستوں کا ہاضمہ ایسے ہی تیز ہوگا، بغیر ڈکار کے سب کچھ ہضم کر جائیں گے۔ کاش آج بابا زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ ان کی آرزو پوری ہوگئی۔ یہ کہتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگئے، آواز فرط جذبات سے رندھ سی گئی۔ محمود خان نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ بلوچستان میں بابا کے سپاہی اسٹیبلشمنٹ کی بغل بچہ حکومت کا حصہ، یہاں بابا کے سپاہی میدان میں، میاں افتخار نے حالات کو بھانپتے ہوئے نعرہ لگایا، ''نر ولی جمدے ولی بابا ولی بابا ولی'' اور ناشتے کی طرف چل پڑے۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنے گھر میں شکست - محمد احمد

سب نے ڈٹ کر ناشتہ کیا، اتنا ڈٹ کر کہ ناشتہ کم پڑ گیا، کیوں نہ کم پڑتا، اسفندیار صاحب نے ولی خان بابا کی بشارت جو سنائی تھی۔ اس لیے سب نے مزید ڈٹ کر کھایا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اسفندیار ولی کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ ایسی حساس بشارتیں کھلے عام جانبازوں کو نہیں سناتے کہ یہ قیادت کی باتیں ہوتی ہیں۔ 73 کی آئین میں اس حوالہ سے خاص ذکر ہے۔

اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ قربانی اور ایثار کا مظاہرہ محاذ فیس بک اور ٹوئٹر کے جانثاروں نے کیا۔ دو دن سے نہ کھانا نہ پینا نہ آرام، بس مسلسل "اہل شر" کی پوسٹوں کی فائرنگ اور ٹویٹس کی بمباری کا بےجگری سے مقابلہ کر رہے تھے۔ ویسے بھی ان کے حوالے سے ولی خان بابا کی کوئی پیشین گوئی نہیں تھی اور نہ ہی مولانا کو 73 کے آئین میں اس حوالے سے کوئی ذکر ملتا تھا۔ اس لیے بھوکے پیاسے ہی سب گزارا کر رہے تھے۔ نہ صرف مقابلہ کر رہے تھے بلکہ ان کو پسپا کرنے سے زیادہ اس سوچ میں گم تھے کہ سینیٹ کا مورچہ فتح کرکے "اہل شر" کے ساتھ کیا فاتحانہ سلوک کریں گے۔ کن ٹرینڈز، پوسٹس اور سٹیٹس سے اہل شر کی دھلآئی کریں گے۔ جیت کا احساس اور یہ تصور ہی انھیں مدہوش کیے جا رہا تھا۔ خصوصاً جماعت اسلامی کے ووٹ نہ دینے کے فیصلے پر تو انھوں نے خصوصی تیاری کی تھی، جدید سے جدید آٹو میٹک ٹرینڈز، ریپڈ پوسٹس کا ذخیرہ جمح کیا ہوا تھا۔

ادھر ناشتے سے فارغ ہوتے ہی 65 سرفروش حملے کی تیاری میں لگ گئے۔ کماندار حاصل بزنجو کو جیت کا پورا یقین تھا۔ حفظ ما تقدم محاذ پر نکلنے سے پہلے اس نے درزی سے نئی شیروانی اور مٹھائی والے سے آرڈر کا پوچھا، دونوں نے اوکے رپورٹ دی۔ ظاہر ہے انھوں نے مفتوحہ مورچے کا اختیار نئی شیروانی میں سنبھالنا تھا۔ 65 سرفروش کماندار بزنجو کی قیادت میں سینیٹ ہاؤس (میدان جنگ) پہنچے۔ وہاں بلاول چی، مریم ملالہ، مولانا، اسفندیار ان کا حوصلہ عزم اور جذبات بڑھانے کے لیے موجود تھے۔ میاں افتخار ایک ایک جانباز کا حوصلہ بڑھا رہے تھے اور سرگوشی میں ڈکار کا پوچھتے کہ کیا تو نہیں؟ انھیں اس بات کا غم تھا کہ کہیں کوئی ڈکار کر گیا تو بابا کی پیشین گوئی فیل ہوجائے گی۔ یہی غم اسفندیار ولی کو بھی تھا۔ ان کا پریشان چہرہ دیکھ کر شہباز شریف نے دریافت کیا کہ خان صاحب کیوں پریشان ہیں؟ اسفندیار ولی نے کہا یار وہ ولی بابا کی پیشین گوئی کا میں نے وقت سے پہلے بتا دیا تھا، اب مجھے ڈر ہے کہ مولانا یا محمود خان نے ہاضمے کا چورن نہ ملا دیا ہو، ولی خان بابا کی پیشین گوئی اور مجھے جھوٹا ثابت کرنے کے لیے۔ شہبازشریف نے کہا کہ خان میں نے تو تمھاری پیشین گوئی کے آسرے پر دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا ہے، تاکہ فائنل معرکہ کے لیے جانباز پوری قوت میں ہوں۔ اس کے ساتھ ہی 65 جانبازوں کو اشارہ کیا اور سب کھانے کی میز پر بیٹھ گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنے گھر میں شکست - محمد احمد

بس یہ آخری ملاپ تھا۔ اس کے بعد 65 جانباز بزنجو کی قیادت میں اس ہال کے اندر چلے گئے، جہاں انہوں نے جنگ لڑنی تھی۔ جبکہ چی بلاول، مریم ملالہ، مولانا، نجومی اسفندیار سب لوگ ان کو نم آنکھوں سے الوداع کہہ کر رخصت کر رہے تھے۔

محاذ فیس بک اور ٹوئٹر پر موجود سرفروش جن میں پٹواری، جیالے، ولی کمانڈوز، طالب، سب کی جذباتی حالت انتہا کی حدوں کو چھو رہی تھی۔ لیکن سب سے زیادہ نازک حالت جماعتی مکتبہ فکر سے وابستہ ان چند دانشوروں کی تھی جو ببانگ دہل جماعت اسلامی کی اجتماعی دانش کو چڑیا کے دماغ سے تشبیہ دے کر قافلہ اہل حق میں شامل تھے، اور جماعت کی اپنی آزاد پالیسی اور فیصلے کو اہل شر کی درپردہ تعاون سے تعبیر کر کے اپنی قیادت پر تبرہ کر رہے تھے۔ نون لیگی اور جیالے بھی ان پر حیران تھے کہ واہ کیا جذبہ ہے، ہماری خاطر اتنی سرگرمی، ہم سے دو قدم آگے، پتہ نہیں اپنی جماعت کے ساتھ ہوتے تو کیا حال کرتے، (حالانکہ اپنی جماعت میں اکثر بےحال ہی ہوتے ہیں)۔

اب معرکہ شروع ہوا۔ جنگ کی پہلی سیٹی بجی، 65 جانباز یک قدم یک زبان کھڑے ہوکر آگے بڑھے۔ بس ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنا شروع ہو گئے، بس اب جیت اور اہل حق میں چند قدم کا فاصلہ تھا۔ادھر جیو نیوز نے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا اعلان کیا، ادھر سب جیت کا جشن منانے کے لیے اٹھ کر کھڑے ہئے۔ مجاہدین محاذ فیس بک اور ٹوئٹر نے خوشی اور جیت کی کی ٹویٹیں اور پوسٹیں لوڈ کر لیں، بس شیئر کا بٹن دبانے کی دیر تھی۔ سب کی سانسیں رکی ہوئی تھیں، دل بے قرار تھے۔ مگر یہ کیا ہوا؟ اچانک اعلان ہوا کہ ''اہل حق'' کے 65 جانبازوں کا حملہ ناکام ہوگیا، کیونکہ عین موقع پر 65 میں سے 14 جانبازوں کو ڈکار آگیا اور بازی پلٹ گئی۔ باقی 51 بھی ہاؤس باختہ ہوئے کہ یہ کیا ہوگیا۔

محاذ مجاہدین فیس بک اور ٹویٹر گم سم ہوگئے۔ ہوش تب آیا جب کسی نے چیخ کر کہا کہ میر جعفر اور میر صادق ہیں یہ چودہ ڈکارنے والے۔ کماندان بزنجو کو اپنا آپ ٹیپو سلطان شہید محسوس ہونے لگا اور انھوں نے تاریخی قول پڑھا میں "جیت کر بھی ہار گیا"، شیری رحمان نے ٹوکا "بابا ہار کر بھی جیت ہار کر بھی جیت"، ایسا بولو لیکن بزنجو کو احساس ہوگیا تھا، اس لیے فورا بولے کہ میر جعفر اور میر صادق ''اہل شر'' کے جنرل فیض سے ملے ہوئے تھے، لیکن میر صادق اور میر جعفر 14 ڈکارنے والے نہیں، بلکہ ان کی پارٹی قیادت تھی جس کی سرخیل مریم ملالئی اور چی بلاول تھے۔ جنھوں نے پہلے ہی دن سے ہاضمے (ڈیل) کا چورن جیب میں رکھا تھا اور جیسے ہی معاملات فائنل ہوئے، خود بھی چٹکی چاٹ لی اور 14 کو بھی چاٹنے کا حکم دے کر لمبی ڈکار لے کر یہ جاہ وہ جاہ۔

اب آپ بتائیں کہ کھسیانی بلی تو کھمبا نوچ لیتی ہے۔ کھسیانا انقلابی دانشور جماعتی جماعت اسلامی کو نہیں نوچے تو کیا کرے۔ ایسے میں انھیں گلزار عالَم کا مشہور انقلابی نغمہ " دروغجنہ، دروغجنہ " اپنے کانوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ان کا انٹی اسٹیبلشمنٹ خوابوں کا تاج محل چور چور ہوگیا ہے اور چور چور کرنے والے بھی وہ جن کو یہ معمار سمجھ رہے تھے۔

(صہیب الدین کاکاخیل اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلی ہیں)