بائیں ہاتھ سے کھانے کے کلچر کا فروغ، تھوڑا خیال کیجیے - پروفیسر محمد عاصم حفیظ

کرکٹ سپر سٹار شعیب اختر پاکستان کی آن لائن فوڈ ڈلیوری سب سے بڑی ایپلیکیشن فوڈ پانڈا کے برانڈ ایمبیسڈر ہیں۔ روایتی کھانوں کے اس اشتہار میں انھیں بائیں ہاتھ سے سموسہ کھاتے دکھایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے انتہائی سیانے دانشوروں کے نزدیک یقینا یہ کوئی بہت بڑی بات نہیں ہوگی۔ لیکن کیا کھانے کا اشتہار بناتے ہوئے دینی و ثقافتی روایات کا تھوڑا بہت خیال نہیں رکھنا چاہیے۔

دائیں ہاتھ سے کھانا سنت نبوی اور باعث ثواب عمل ہے۔ لیکن اگر آپ فوڈ پانڈا کے مختلف اشتہارات دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ بائیں ہاتھ سے کھانے کو باقاعدہ پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ شعیب اختر دائیں ہاتھ سے تیز باؤلنگ کرتے تھے اور عموماً جو سیدھے ہاتھ سے باؤلنگ کریں، وہ باقی امور میں بھی اس ہاتھ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب اس اشتہار میں پتہ نہیں کس ہدایت پر انھوں نے بائیں ہاتھ سے کھانے کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح اگر آپ فوڈ پانڈا کے فیس بک پر موجود مختلف ویڈیو اور گرافکس اشتہارات کو دیکھیں تو ان میں بائیں ہاتھ سے کھانے کا رجحان کافی زیادہ ہے۔

ہو سکتا ہے یہ سب انجانے میں ہوا ہو، لیکن پھر بھی تھوڑا سا خیال کرنا چاہیے۔ اگر سنت نبوی اور دینی روایت کی نہ بھی پرواہ کریں تو پھر بھی ہماری معاشرتی روایات میں بائیں ہاتھ سے کھانے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ فوڈ کمپنیوں کو چاہیے کہ اپنی اشتہار بازی میں اس بارے تھوڑا سا خیال کریں۔ کہیں جانے انجانے میں وہ سنت نبوی کی خلاف ورزی کے ساتھ معاشرتی روایات کی ہی نفی نہ کر رہے ہوں جس سے خود ان کی مشہوری کو نقصان پہنچے گا۔ بائیں ہاتھ سے کھانا تو میڈیکلی بھی مناسب نہیں کیونکہ ہمارے ہاں پاکی پلیدگی کا بھی تصور موجود ہے۔

مانا کہ یہ بہت بڑی بات نہیں اور یہ دانشوری بھی تسلیم کہ اس چھوٹی سی بات کا بتنگڑ نہیں بنانا چاہیے لیکن پھر بھی اگر تھوڑا سا خیال کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ اس سے پہلے کریم ٹیکسی سروس، چائے اور کئی دوسری ایڈز میں بھی دینی و سماجی روایات کی تضحیک کی گئی تو ان کے خلاف سخت عوامی ردعمل کے بعد کمپنیوں کو یہ اشتہارات ہٹانا پڑے تھے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ فوڈ پانڈا والے اس کا خیال کریں گے تاکہ ان کی شہرت کو نقصان نہ پہنچے۔