حسن و خوشی سے نفرت اور جمالیاتی حس کی کمی - امیر حمزہ

ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں عورت کو لولی پاپ سے تشبیہ اور اس کو ڈھانپ کر رکھنے کو ترجیح دی جاتی ہے. اس کو پاکیزگی کے نام پر فیشن سے دور رکھا جاتا ہے. یہی لوگ پھر جنت کے پاکیزہ حوروں کو بےلباس کر کے پیش کرتے ہیں اور ان کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں. گھر بیٹھی حور تو ان کو نظر نہیں آتی، جس کو خدا نے انتہائی نزاکت سے تراش کر حسن و جمال سے بھرپور پیدا کیا ہے، جس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر انسان جنت کی حور کو بھی بھول جائے. لیکن حسن کو محسوس کرنے کے لیے بھی جمالیاتی حس کی ضرورت ہے. یہاں جمالیاتی حس کم اور جنسی ہوس زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اپنی بیوی کے سوا ان کو ہر لڑکی اچھی لگتی ہے.

جہاں دنیا میں خوبصورت تصاویر، فن کے نمونوں اور مجسموں سے شہراہوں و شہروں کو سجایا جاتا ہے، وہاں ہمارے ہاں ٹینک، تھوپ، میزائل، فوجی، بندوق وغیرہ شاہراہوں پر خوف و دہشت کی علامت ظاہر کرتے ہیں. جنگی تیاروں کو اہم شہراہوں پر نصب کر کے لوگوں کی اجتماعی سوچ کو بھی جنگجو بنا دیا گیا ہے. یہاں فن کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی، مجسمہ سازی کو گناہ جبکہ فنکار کو ایک فارغ انسان سمجھا جاتا ہے. آرٹ کی نمائش دیکھنے چند ہی لوگ جاتے ہیں جبکہ فوجی نمائش میں ٹینک، میزائل اور بم دیکھنے کے لیے ہر کوئی بےتاب و بے قرار رہتا ہے. ہر کسی کی کوشس ہوتی ہے کہ وہ چھ ستمبر کے روز کسی فوجی نمائش کا ٹکٹ حاصل کر لے. اب تو سعودی ولی عہد کی بھی کوشس ہے کہ میوزک کنسرٹس اور آرٹس نمائش کا انعقاد کیا جا سکے.

ہمارے ہاں سکول اور کالجوں میں طالب علموں کو چند کہانیوں اور چند مغالطوں کے سوا کچھ نہیں سکھایا جاتا. نہ ان کو پہننے کا سلیقا سیکھایا جاتا ہے اور نہ معاشرے میں جوبصورتی لانے کی سوچ ڈالی جاتی ہے. ان کو پینٹنگ کی ایک کلاس دی جاتی ہے جس میں پاکستان کا نقشہ و میزائل بنانا سرفہرست ہوتا ہے. باہر ممالک میں بچوں کو ہر قسم کے فن سے ہم آہنگ کیا جاتا ہے تاکہ ان کے ذہن خوشگوار ماحول میں آگے بڑھیں.

ہمارے ہاں تہوار بھی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ انسانوں پر بوجھ بن جاتے ہیں، خوشی و جمال کا تو ان سے تعلق ہی نہیں ہوتا، اگر ہوتا بھی ہے تو بچوں کی حد تک. عید پر غریب نئے کپڑے اور جوتے خریدنے کے لیے پریشان ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ نہ خریدے تو گلی محلے میں بدنامی ہوگی. عید کی نماز اور اپنوں کے پاس عید کی حاضری صرف ایک فرض و ذمہ داری بن چکی ہے. نئے کپڑوں کے علاوہ، حسن و جمال تو ویسے ہی جانوروں کے خون میں لت پت ہو کر انتڑیوں کی شکل میں جگہ جگہ مل جاتا ہے جس سے یہاں کے لوگوں کا صفائی کے حوالے سے ذوق کھل کر سامنے آ جاتا ہے.

اس ملک کے باسی یا تو حسن، جمال و خوشی کے احساسات سے واقف نہیں، یا کچھ مجبوریوں اور غلط فہمیوں کی وجہ سے خود ان احساسات سے منہ موڑ لیتے ہیں. وجہ جو بھی ہو، یہاں جمالیاتی حس و لطف کا فقدان ہے.