ذوالحجہ کا پہلا عشرہ نیکیاں اور اجرو ثواب - ڈاکٹر فرحت ہاشمی

رمضان المبارک کے بعد ذوالحجہ کا مہینہ اسلامی مہینوں میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، یہ مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ ذوالحجہ کا پہلا عشرہ نیکیوں اور اجرو ثواب کے اعتبار سے عام دنوں کے مقابلے میں بہت اہم ہے جس کی فضیلت قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔

قرآن مجید میں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے ان کی قسم کھائی ہے۔ ”قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی “(الفجر:2-1)اکثر مفسرین کے نزدیک ” لیال عشر“ سے مراد ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان دس دنوں میں اپنے ذکر کا خاص حکم دیا ہے ۔ ارشاد فرمایا: ” اور معلوم دنوں میں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کریں “(الحج: 28) ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ان معلوم دنوں سے مراد عشرہ ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔ (صحیح بخاری)ان دس دنوں میں کئے جانے والے اعمال اللہ تعالیٰ کو دیگر دنوں کی نسبت زیادہ محبوب ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ” کسی بھی دن کیا ہوا عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں میں کئے ہوئے عمل سے زیادہ محبوب نہیں ہے، انہوں (صحابہؓ) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، آپ نے فرمایا : جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ہاں مگر وہ شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلے اور کچھ واپس لے کر نہ آئے“(سنن ابوداﺅد) ان دنوں میں سے نواں دن عرفہ کا ہے۔ یہ وہ عظیم دن ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ جس میںاللہ تعالیٰ عرفات کے دن سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے“(صحیح مسلم)

اس کا آخری اور دسواں دن یوم النحر یعنی قربانی کا دن ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے فضیلت والے دن یوم النحر (قربانی کا دن) اور یوم البقر (گیارہ ذوالحجہ ، قیام منیٰ) “ ہیں (مسند احمد) ۔ عشرہ ذوالحجہ اہل ایمان کیلئے نیکیاں کرنے اور اجرو ثواب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ حج کے علاوہ ذیل اعمال کا اہتمام کرنا خاص اجر حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا!” کوئی دن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا عمل اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے تحلیل (لا الہ الا اللہ“ تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمدللہ) کہو۔“۔(مسند احمد)امام بخاریؒ نے بیان کیا کہ ” ان دس دنوں میںابن عمرؓ اور ابوہریرہ ؓ تکبیر پکارتے ہوئے بازار نکلتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیرات کہنا شروع کردیتے“ ۔ (صحیح بخاری) صحابہ کرامؓ سے مختلف تکبیریں پڑھنا ثابت ہے ، مثلاًاللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ،واللہ اکبر اللہ اکبر، وللہ الحمد (مصنف ابن ابی شیبہ) روزہ 9 ذوالحجہ کو روزہ رکھنا باعث ثواب ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا :” گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے . “ ایک اور روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ” رسول اللہ ﷺ 9 ذوالحجہ ، یوم عاشور اور ہر ماہ میں سے تین دن روزہ رکھتے تھے “ (سنن ابوداﺅد) (نوٹ : حاجی میدان عرفات میں روزہ نہیں رکھے گا ۔ قربانی عشرہ ذوالحجہ کی آخری مگر اہم ترین عبادت قربانی ہے ۔ قربانی کا لفظ قرب سے نکلا ہے ۔ اصطلاحاً قربانی سے مراد ”وہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے حصول کیلئے جانور ذبح کرنے کی شکل میں 10 ذوالحجہ سے13 ذوالحجہ تک کیا جاتا ہے“۔ مقاصد قربانی ٭ اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا : خالصتاً اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ، اس سے محبت کے اظہار و اعتراف کے طور پر اپنے آپ کو ہر طرح کی ریاکاری سے بچاتے ہوئے جانور ذبح کرنا ہی قربانی کا اصل مقصد ہے۔قرآن مجید میں نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا : ” اپنے رب کیلئے نماز پڑھ اور قربانی کر“ (الکوثر:2)
ایک اور جگہ فرمایا ! ” کہہ دیجیے بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا ، میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لئے ہے“ (الانعام: 162)

تقویٰ کا حصول تقویٰ ایک مسلمان کی شان اور اس کے مومن ہونے کی علامت ہے۔ اللہ کی خاطر قربانی کرنے سے اصل مقصود اسی تقویٰ کی صفت کو نشوونما دینا ہے، نہ کہ ایک دوسرے پر فخر جتانا یا مقابلہ بازی کرنا لہٰذا اس سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے وقت ، اللہ کی مکمل اطاعت کا جذبہ دل میں نہ ہو تو جانوروں کا خون بہانا، گوشت تقسیم کرنا اور خود کھانا محض ایک بے روح عمل ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں!” اللہ کو نہ جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کاخون، اسے صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔“ اہمیت قربانی ٭قربانی کا حکم آدم ؑ سے لیکر رسول اللہ ﷺ تک تمام آسمانی شریعتوںمیں رہا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔” ہم نے ہر امت کیلئے ایک طریقہ عبادت (قربانی) مقرر کر رکھا ہے، وہ اس پر چلنے والے ہیں“۔قرآن مجید میں بہت خوبصورت انداز میں ابراہیم ؑ کی قربانی کا ذکرکیا گیا ہے۔یہ نہ صرف ابراہیم ؑ خلیل اللہ کی سنت ہے بلکہ نبی کریم ﷺ نے عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کو اپنی سنت قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” بیشک اس دن ہم پہلا کام یہ کرتے ہیںکہ نماز (عید) ادا کرتے ہیں پھر واپس پلٹتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں، جس شخص نے ایسا ہی کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا“(متفق علیہ)۔

ایک اور روایت میں نبی کریم ﷺ نے نمازعید کے بعد قربانی کرنے کو اہل اسلام کی سنت قرار دیتے ہوئے فرمایا:” جس نے نماز (عید) سے پہلے ذبح کیا تو اس نے اپنے لئے ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی مکمل ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کو پالیا“(صحیح بخاری)۔ رسول اللہﷺ نے ہمیشہ اس سنت ابراہیمی پر عمل کیا۔ انسؓ بیان کرتے ہیں:” نبی اکرم ﷺ دومینڈھے ذبح کیا کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھے ذبح کرتا ہوں“(صحیح بخاری)۔ قربانی کے بارے میں آپ کا اہتمام اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ حجة الوداع کے موقع پر آپ نے حج کی قربانی کے سو اونٹ ذبح کرنے کے ساتھ ساتھ عیدالاضحی کی قربانی کے لئے اپنی طرف سے ایک بکری اور ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔ (صحیح بخاری) ٭رسول اللہ ﷺ نے امت کو بھی قربانی کرنے کی تاکید فرمائی۔ مخنف بن سلیم ؓ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں تھے تو آپ نے فرمایا:” اے لوگو! ہر سال ہر گھر والوںپر قربانی ہے‘ ‘ (جامع ترمذی)۔ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے لوگوںکے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” جو وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے“(مسند احمد)۔صحابہ کرام ؓ بھی اتباع رسول ﷺ میں قربانی کا اہتمام فرماتے۔ ابوامامہ بن سہل ؓ نے بیان کیا ہے۔

” ہم مدینہ میں اپنے قربانی کے جانوروں کو پرورش کرکے موٹاکرتے تھے اور مسلمان (دیگر) بھی اسی طرح انہیں پال کر موٹا کرتے تھے“(صحیح بخاری) کچھ دیگراہم باتیں ٭بکرا،دنبہ، بھیڑ وغیرہ کی قربانی ایک ہی شخص کرسکتا ہے لیکن گائے کی قربانی میں سات افراد اوراونٹ کی قربانی میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں ( جامع ترمذی)۔ قربانی کرنے والا ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد بالوںاور ناخنوں کو نہ کاٹے۔ (صحیح مسلم) مسافر بھی قربانی کرسکتا ہے۔ (صحیح بخاری)سب گھر والوںکی طرف سے ایک قربانی کرنا کافی ہے۔ (مستدرک حاکم)کسی رشتہ دار دوست یا تمام مسلمانوں کی طرف سے بھی قربانی کی جا سکتی ہے (صحیح مسلم)۔ مرحومین کی طرف سے بھی قربانی کی جا سکتی ہے (مسند احمد)۔کسی رشتہ دار، دوست یا اجتماعی قربانیوں کا اہتمام کرنےوالے اداروںکے ذریعے قربانی کروانا درست ہے۔ قربانی کے جانور کی شرائط نبی کریمﷺ نے امت کو قربانی کیلئے دو دانت کا جانور ذبح کرنے کی تلقین فرمائی۔ جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” قربانی میں ذبح نہ کرو مگر مسنہ (جو ایک برس کا ہو کر دوسرے میں لگا ہو) البتہ جب تم کو ایسا جانور نہ ملے تو دنبہ کا جذعہ (دنبہ کا وہ بچہ جو ایک سال کا ہو) ذبح کرو“(صحیح مسلم)

نوٹ: یہ اجازت صرف دنبے کے بچے کیلئے ہے بکری کے بچے کیلئے نہیں۔ خصی اور غیر خصی دونوں قسم کے جانوروں کی قربانی کرنا سنت سے ثابت ہے۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے۔” یقینا رسول اللہ ﷺ کے پاس دو سینگوں والے، چتکبرے، بڑے بڑے خصی مینڈھے لائے گئے۔ آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو پچھاڑا اورفرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے نام سے، اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ محمدﷺ اور ان کی امت کی طرف سے جنہوں نے تیری توحید کی گواہی دی اور میرے پیغام کو پہنچانے کی شہادت دی۔“(مجمع الزوائد)ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے:” رسول اللہ ﷺ سینگوںوالے، غیر خصی مینڈھے کی قربانی کرتے تھے، اس کی آنکھیں، منہ اور ہاتھ پاﺅں سیاہ ہوتے تھے“(سن ابوداﺅد) درج ذیل عیوب والے جانوروں کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔یک چشم ہونا، بیمار ہونا، لنگڑا پن نمایاں ہونا، ہڈیوں میں گودانہ ہونا، کانوں کا آگے، پیچھے، لمبائی یا چوڑائی سے کٹ کر لٹک جانا (یا کانوں میں سوراخ ہونا)، جانور میں ان عیوب سے بڑا عیب ہونا۔ (مسند احمد)