ذوالحجہ کے دس دنوں کی فضیلت اور اہمیت

ذوالحجہ کے دس دن سب سے بہترین دن ہیں اسی لیے اللہ جلّ شانہ کے ہاں ان دنوں میں عملِ صالح کا ایک بڑا مرتبہ ہوتا ہے، لہٰذاان دنوں میں عملِ صالح کرنا اللہ کے ہاں باقی دنوں سے زیادہ افضل و اعظم اور محبوب ہوتا ہے۔ امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا: ’’باقی دنوں میں کوئی بھی عمل ان دنوں کے عمل سے زیادہ افضل نہیں ، صحابہ نے پوچھاکہ جہاد بھی نہیں ؟آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: جی ہاں ! جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جواپنی جان اور اپنا مال ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہے اور واپسی میں کچھ بھی ساتھ نہیں لاتا ‘‘۔

اس میں ہرعملِ صالح پر برانگیختہ کرنا ہے چاہے وہ عمل ظاہر ہو یا باطن ، واجب ہو یا مستحب ۔اور یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ عملِ صالح کے کئی مراتب و درجات ہوتے ہیں۔ اب افضل عمل کو تلاش کرنا عقل و خِرد رکھنے والوں کا کام ہے، اور حدیثِ نبوی ﷺسے یہی بات آشکار ہے کہ سب سے افضل عمل جس کے ذریعے بندۂ مؤمن ان دنوں اور باقی دنوں میں اپنے پروردگار کا قرب حاصل کرتا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے فرض کردہ اعمال میں مشغول و منہمک ہونا ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ کے طریق سے آپﷺ نے حدیثِ قدسی میں ارشاد فرمایا: ’’میرا بندہ کسی بھی چیز سے میرا قرب حاصل کرتا ہے تو اس میں میرے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو میں نے اس پر فرض کیا ہے‘‘۔ پس ان دنوں میں واجب کی ادائیگی اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور فضیلت کا باعث ہے بجز ا س واجب کے جو ان دنوں کے علاوہ میں ادا کیا جائے ۔ ان مبارک دنوں میں سب سے پہلا نیک عمل جسے مومن بندہ بجا لائے وہ واجبات کی ادئیگی ہے اور ان میں سب سے پہلے ارکان اسلام ہیں جن پہلا نمبر دو شہادتوں کا ہے جو اللہ کے لئے اخلاص ،ا س کی محبت ، تعظیم اور آپﷺپر ایمان لانے اور آپﷺکی اتباع اور ہر اس چیز کی محبت جس سے اللہ اور اس کے رسول محبت کریں، اس سے جڑی ہوئی ہے۔

اس کے بعد باقی ارکان اسلام آتے ہیں جن میں نماز، روزہ زکاۃ اور حج ہیں اوراسی طرح مخلوق کے حقوق یعنی حقوق العباد کی ادائیگی کی کوشش کرنا جس میں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کو ان دنوں ان چیزوں سے باز رکھنا ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے۔ پس عام دنوں میں حرام سے بچنے کے بجائے ان دنوں میں بچنا اللہ کے نزدیک زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے پس فرائض کی ادائیگی اور حرام سے اجتناب کے بعد چاہئے کہ عام نیکیوں کی طرف بڑھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ حدیث قدسی ہے کہ: ’’بندہ نوافل کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں پس جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنے اور اس کی آنکھ بن جاتاہے جس سے وہ دیکھے اور اس کا ہاتھ بن جاتاہوں جس سے وہ پکڑے اور اس کا پاؤں بن جاتاہوں جس سے وہ چلے اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور اسے عطاکروں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں ضرور اسے پناہ دوں گا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا اور اس کی حقیقت…! رانا اعجاز حسین چوہان

ایام تشریق میں اور ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں اللہ کا ذکر کرنا تمام اعمال حسنہ میں زیادہ افضل ہے، بلکہ اللہ کا ذکر کرنا ان دنوں کا خاص شعار اور علامت ہے اور ان دنوں کو اللہ نے اپنی کتاب میں ’’الأیام المعلومات‘‘ اور ’’الأیام المعدودات ‘‘ کہا ہے جیسا کہ فرمایا (ویذکراسم اللہ فی أیام معلومات علی رزقناھم من بھیمۃ الأنعام) اور یہ بھی کہا (واذکروااللہ فی أیام معدودات) امام بخاریؒ نے ابن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ایام معلومات سے مراد ذوالحجہ کے دس دن ہیں اور ایام معدودات سے مراد ایام تشریق ہیں۔ یہی تفسیر صحابہ کی ایک جماعت اور تبع تابعین نے کی ہے باقی یہ اور بات ہے کہ ان دنوں کا افضل عمل اللہ کا ذکر ہے اس کی تائید عبداللہ بن عمرؓ کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ آپﷺنے فرمایا:’’کوئی بھی دن اللہ کے نزدیک ان دس دنوں سے زیادہ عظیم نہیں اور نہ ہی کوئی اس کے نزدیک ان دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے پس ان دنوں میں تہلیل و تکبیر اور تحمیدکی زیادتی کرو‘‘۔ اسی طرح امام احمدؒ اور ان کے علاوہ اور محدثین نے نبیشہ الھذلی کی حدیث نقل کی ہے کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا کہ یہ دن کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں ۔

اسی لئے ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمردونوں حضرات ان دن دنوں میں بازاروں میں اور لوگوں کے مل بیٹھنے کی جگہوں کی تکبیر پڑھتے ہوئے نکلتے اور ان کا مقصد تکبیر کے علاوہ کچھ نہ ہوتا یہ دونوں تکبیر پڑھتے اور ان کی تکبیر کی وجہ سے لوگ بھی تکبیر پڑھتے ۔پس تکبیر ، تہلیل اور تحمید افضل اذکار میں سے ہے جس سے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے۔ اس کے علاوہ اور اذکار بھی ہیں جو بندے کے لئے عام دنوں میں بھی مشروع ہیں جیسے صبح و شام کے اذکار ، سونے اور جاگنے کے اذکار ، مسجد میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے اذکار، نمازوں کے بعد کے اذکار ، بیت الخلاء میں جانے اور باہر نکلنے کے اذکار وغیرہ۔ پس تکبیر اور ذکر بالاتفاق ان دنوں میں مشروع ہے جو کہ بہترین اعمال میں سے ہے بلکہ یہ جہاد غیر متعین سے زیادہ افضل ہے جیسا کہ ابن عباس کی حدیث ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی بھی عمل ان دنوں میں کئے جانے والے عمل سے زیادہ بہتر نہیں، صحابہ نے پوچھا نہ ہی جہاد ؟ فرمایا: نہ ہی جہاد، سوائے اس بندے کے جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرتے ہوئے نکلے پس ان میں کسی بھی چیز کے ساتھ واپس نہ لوٹے‘‘۔

پس افضل ذکر جو ان دنوں میں مشروع ہے وہ تکبیر ہے حدیث ابن عمرؓ میں آپﷺکے اس قول کی وجہ سے ’’پس ان دنوں میں تکبیر ، تہلیل اور تحمید میں زیادتی کرو‘‘ اور صحابہ کے اقوال کی وجہ سے اور جوصحیح حدیث میں آیا ہے جو حضرت سلیمانؓ سے منقول ہے :’’تکبیر پڑھو اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر کبیرا‘ ‘ اور جو ابن مسعود کے بارے میں آیا ہے کہ آپؓ کہا کرتے تھے ’’اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبرلا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد‘‘ اس کے علاوہ اور روایات بھی اس کے بارے میں منقول ہیں لیکن آپ ﷺسے تکبیر کا کوئی متعین صیغہ ثابت نہیں ہے پس جس بھی صیغے سے تکبیر پڑھی جائے ادا ہوجائے گی۔ان دنوں میں جو ذکر مشروع ہے وہ دو طرح کا ہے پہلا ذکر ِ مطلق ہے اور یہ ذوالحجہ کا مہینہ داخل ہوتے ہی شروع ہوجاتاہے اور ذوالحجہ کی تیرہ تاریخ جو کہ ایام تشریق کا آخری دن ہے اس دن تک جائے گا اور یہ ذکر مطلق ہے کیونکہ یہ کسی بھی چیز سے مقید نہیں ہے بلکہ یہ کسی بھی لمحہ ، کسی بھی وقت ، کسی بھی حال میں ، کسی بھی جگہ کھڑے ، بیٹھے ، لیٹے ، بازار میں ، مسجد میں کہیں بھی کہا جاسکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   ذوالحجہ کا پہلا عشرہ نیکیاں اور اجرو ثواب - ڈاکٹر فرحت ہاشمی

امام بخاری ؒ عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ منیٰ کے دنوں میں تکبیر پڑھتے تھے اپنے چلنے کی جگہ میں ان دنوں میں تکبیر پڑھتے تھے۔ دوسرا ذکر مقید ہے اور اس کا وقت فرض نمازوں کے بعد ہے اور علماء کے اس بارے میں کئی اقوال ہیں بعض نے اسے نمازوں کے بعد عام کیاہے اور بعض نے اسے نوافل کے علاوہ فرض نمازوں سے خاص کیاہے اور بعض نے جماعت کی نماز سے اس کی تخصیص کی ہے اور بعض نے اسے مقیم کے لئے خاص کیا ہے ظاہر یہ مطلق نمازوں کے بعد مشروع ہے فرض ہو یا نفل ، باجماعت ہو یا منفرد ، عورت ہو یا مرد ، حالتِ اقامت ہو یا سفر مطلقاََ نمازوں کے بعد مشروع ہے اور یہ سب اس کا خلاصہ ہے جو صحابہ سے نقل کیا گیا ہے اوراسی مذہب کو امام بخاری ؓ نے اختیار کیا ہے ۔ تکبیر مقید کا وقت غیر حاجی کے لئے یومِ عرفہ کی فجر سے شروع ہوتاہے اور ذوالحجہ کی تیرہ تاریخ (جو کہ ایام تشریق کا آخری دن ہے) کی عصر تک ہے اور یہی قول عمر، علی ، ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے منقول ہے

اور قدیم اورجدید محقیقین (اہل علم) کی ایک جماعت نے اسی قول کو ترجیح دی ہے جبکہ حاجی کے لئے مناسکِ حج کی ادائیگی میں مشغولیت کی وجہ سے اس کا وقت قربانی کے دن کی ظہر سے شروع ہوتاہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ تکبیر کا وقت یوم عرفہ کی فجر سے ایام تشریق کے آخری دن تک ہے اور اس میں غیر حاجی کے لئے تکبیر مقید اور تکبیر مطلق ایک جیسی ہیں جبکہ حاجی کے لئے قربانی کے دن کی ظہر سے ایام تشریق کے آخری دن تک اس کا وقت ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا میں تکبیر کو عام کریں تاکہ ہمارے دل اللہ کی محبت اور اس کی عظمت سے بھرجائیں اور اسی پر ہمارا یقین اور توکل ہے ، یہ آواز اور پکار کتنی میٹھی ہے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر