خوش رہنے والے بچوں کی سات عادات (3) - نیر تاباں

۶۔ اتفاق میں برکت ہے : بچوں کو ٹیم ورک کی عادت ڈالی جائے۔ شروع سے ہی والدہ کیساتھ صفائی کروائیں، والد کیساتھ باہر لان میں گھاس کاٹیں۔ انہیں بتایا جائے کہ مل کر کام کرنے سے مزہ بھی آتا ہے ، کام جلدی بھی ہو جاتا ہے، اور کام میں برکت بھی ہوتی ہے۔ مل کر کام کرنا اللہ کو بھی پسند ہے، اسی لئے تو مسجد کی با جماعت نماز کو اکیلے نماز پڑھنے پر اتنی فوقیت ہے۔

تو بچے کیا کریں؟ دوسروں کی خامیاں نکالنے کے بجائے انکی خوبیاں نوٹ کریں۔ اپنے آپ کو ہر فن مولا بھی نہ سمجھیں، نہ بالکل ہی لُوزر سمجھیں کہ مجھے تو کچھ آتا ہی نہیں۔ اپنی خوبیوں اور strenghts پر نظر رکھیں۔ اچھی ٹیم کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں، یہ سوچا جائے۔ اور جب بھی ٹیم ورک ہو، ان خصوصیات کو مد نظر رکھیں اور پریکٹس کریں۔ بری ٹیم کس وجہ سے بری ٹیم کہلاتی ہے؟ ان وجوہات کو مد نظر بھی رکھا جائے اور ان سے پرہیز بھی کیا جائے۔

دوستوں کیساتھ مل کر کسی پراجیکٹ پر کام کریں۔ بالفرض محلے کی صفائی کا کام۔ اب کام بانٹیں۔ جس کے سوشل سکِلز اچھے ہیں وہ محلے والوں سے بات کرے۔ جو کمپیوٹر میں تیز ہے وہ فلائر ڈیزائن کرے۔ تخلیقی ذہن والا یہ سوچے کہ فلائر میں لکھنا کیا ہے۔ یوں پراجیکٹ پر ٹیم ورک کیا جائے۔
۷
۔ اعتدال : اسلام میں میانہ روی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ عبادات تک بھی اعتدال سے تجاوز نہ کریں۔ انبیا سے محبت اور عقیدت بھی یہود و نصاری کی طرح نہ ہو جو حدود سے بڑھ جائے۔ زندگی کا ہر معاملہ ہی اعتدال کا متقاضی ہے۔ بچے کھیل میں ایسے مگن ہوں کہ نیند ہی نہیں پوری ہو رہی، کمپیوٹر لگا لیا تو بھوک پیاس کا ہوش ہی نہیں، یہ غلط ہے۔ یاد رہے کہ جسم، دل، دماغ، اور روح گاڑی کے چار پہیوں کی مانند ہیں۔ جو ایک پہیہ توازن سے ہٹا، زندگی کی گاڑی ڈگمگانے لگے گی۔ جس بھی چیز میں حد سے تجاوز کریں گے، اسکا اثر جسم، دل، دماغ، یا روح پر کس طرح پڑے گا۔ چاہے وہ رات کو دیر تک جاگنا ہے، یا سکرین کا بے جا استعمال، یا اسراف، یا کنجوسی، بہت زیادہ وقت دوستوں کو دینا، یا پھر گھر میں ہی مقید ہو رہنا اور لوگوں سے ملنا چلنا پسند ہی نہ کرنا۔۔۔ ہر دو ایکسٹریمز کے درمیاں کا راستہ چننا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے،جنت کے پھول- ڈاکٹر ساجد خاکوانی

تو بچے کیا کریں؟ مسلسل دو راتیں وقت پر سونے کی کوشش کریں۔ اور پھر دیکھیں کہ موڈ پر، نمازوں پر، تعلقات پر، کام پر اسکا کیا اثر پڑتا ہے۔ پورا ہفتہ ہر روز کم از کم بیس منٹ کوئی بک پڑھیں۔ اور سکرن ٹائم میں سے کم از کم بیس منٹ گھٹا دیں۔ کسی ایک ایسے بندے سے بات کریں، ملاقات کریں، کھیلیں جس کے ساتھ بہت عرصے سے تعلق کچھ نظر انداز ہو رہا ہے۔

قدرتی مناظر کیساتھ وقت گزاریں۔ چاہے چاند دیکھنے چھت پر چلے جائیں، ہو سکے تو کہیں ہریالی میں، کہیں پانی کے پاس، اور سوچیں کہ مجھے کیا کرنا پسند ہے۔ جب قدرت میں جائیں تو شعوری کوشش کریں کہ اسکی تصویریں نہیں کھینچنی، نہ ہی کوئی سٹیٹس اپڈیٹ کرنا ہے۔ صرف اور صرف اپنی خوشی اور سکون کے لئے قدرت میں وقت گزاریں۔

ٹیگز

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.