خوش رہنے والے بچوں کی سات عادات (2) - نیر تاباں

۳۔ اہم کام پہلے کئے جائیں : اکثر کھیل میں لگ کر بچے کرنے کے کام پسِ پشت ڈال دیتے ہیں جس سے بعد میں انہیں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عموما اپنی پسند کی چیز پہلے کی جاتی ہے چاہے کھیل ہو یا پڑھائی میں اپنی پسند کے سبجیکٹ کا انتخاب۔ بچوں کے اندر شروع سے ہی یہ چیز ڈالنی ہو گی کہ اہم کام پہلے کر لئے جائیں چاہے مشکل ہی کیوں نہ لگیں۔ بعد کی مشکل سے تو بچا ہی جا سکتا ہے، فوری طور پر بھی ذہن پر سے بوجھ کم ہو جاتا ہے۔

تو بچے کیا کریں؟ اپنی پہلی ذمہ داری اور اہم کام پہلے نمٹا لیں۔ جیسے پانی کی بوتل بھر کر فریج میں رکھنا، جاگنے کے بعد بستر ٹھیک کرنا، میتھ یا جو بھی مضمون مشکل لگتا ہے اسکا کام پہلے کر لینا۔ جو کام ذمہ داری ہیں انکو بغیر بحث کے کرنے کی عادت ڈالنا .کل کے اپنے کام کسی کے کہے بغیر خود ذمہ داری سمجھ کر کرنا۔ اسلئے ٹالتے نہ رہنا کہ جب ماما کہیں گی تب کر لیں گے۔ اب کی بار ہوم ورک میں جو سب سے مشکل کام لگے، اسے سب سے پہلے ختم کرنا۔
کوئی ایسا کام جو بہت عرصے سے ٹال رہے ہوں، اسکو ابھی کرنا۔ جیسے دراز کی صفائی، جیسے دادی نانی کے پاس بیٹھ کر گفتگو کرنا۔ جیسے کوئی کتاب پڑھنا جو کافی عرصے سے لی رکھی ہے۔
۴۔ سب کا بھلا، سب کی خیر : بچوں کو بتائیے کہ زندگی ہمیشہ "میں" کے گرد نہیں گھومنی چاہیے، نہ ہی ہر وقت دوسروں کی خوشی کی خاطر اپنا من مارنا چاہیے۔ زندگی "میں" اور "تم" کے بجائے "ہم" کے اصول پر ہو۔ کوئی ایسا درمیانہ راستہ ہو جس سے سب کا بھلا ہو جائے، یعنی win-win condition. یہاں مجھے حجرِ اسود کا واقعہ یاد آ رہا ہے۔ سبھی سردار چاہتے ہیں کہ انکے ہاتھوں سے پتھر لگایا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک چادر میں حجرِ اسود رکھتے ہیں۔ تمام سرداران اس چادر کو پکڑ لیتے ہیں اور نبی ؐ پتھر کو دیوارِ کعنہ میں نصب فرما دیتے ہیں۔ یہ ہے وِن وِن کنڈیشن! کوئی ایسا حل نکالا جائے جس سے سبھی کا فائدہ ہو جائے۔
تو بچے کیا کریں؟ ایک پورا دن کسی قسم کی شکایت اور رونی شکل سے پرہیز کریں۔ ایک گھنٹے کا ٹارگٹ بنائیں۔ اسے مکمل کرنے کے بعد اگلا گھنٹہ۔ پھر اگلا گھنٹہ۔ پھر ایک گھنٹہ اور! یوں ایک پورا دن۔

یہ بھی پڑھیں:   پھولوں کی حفاظت ۔ایمن طارق

اگلی بار جب کسی سے بحث یا جھگڑا ہو جائے تو کوئی درمیانہ حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں ۔ بھائی کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے۔ خود گیم کھیلنا چاہتے ہیں۔ پہلے ایک کام دونوں مل کر کر لیں، پھر دوسرا دونوں مل کے کر لیں ۔ یا پہلے کرکٹ کھیل لی جائے کہ بعد میں اندھیرا ہو جائے گا، بعد میں گیم جس وقت گھر رہنے کا وقت ہو۔ ایک پوسٹر بنایا جائے جس کے تین کالم ہوں۔ ایک کے اوپر "میں چاہتا ہوں" اور دوسرے پر "امی ابو چاہتے ہیں" لکھ لیا جائے۔ تیسرے کالم پر وِن وِن کنڈیشن لکھ لیں۔ جیسے: میں چاہتا ہوں کہ گیم کھیلوں۔ امی کہتی ہیں پڑھائی کرو۔ تیسرا کالم: پہلے کام ختم کر کے پھر گیم کھیل لی جائے۔ میں چاہتا ہوں بال ڈائے کرواؤں۔ امی کہتی ہیں نہیں کروانے۔ تو کوئی ایسا رنگ کروا لیا جائے جو بالوں کے رنگ سے بہت زیادہ مختلف بھی نہ ہو، لیکن شوق بھی پورا ہو جائے۔

۵۔ سنیں! بولنے سے زیادہ سننے کی عادت ڈالی جائے۔ بہت کم لوگ ہیں جو گفتگو کے آداب جانتے ہیں۔ کسی نے کہا میرے چچا بیمار ہیں، انہیں کینسر ہو گیا۔ سننے والا سرسری بات سن کر اپنی کہانی شروع کر دیتا کہ اف، مجھے پتہ ہے یار تم لوگ کتنی تکلیف میں ہو۔ پچھلے سال میرے ماموں کو بھی کینسر ڈائگنوز ہوا تھا ۔۔۔۔۔ اور پھر ڈیتھ، اور بعد کے مسائل تک کی کہانی سنائی جاتی ہے۔ ہر بات میں ایسا ہی ہے، کبھی نوٹ کیجیے گا۔ ہم لوگوں کو بس بات کہنا آتی ہے، گفتگو نہیں کرنا آتی جس میں لِننگ یعنی سننا، ایکنالج کرنا بہت اہم ہے۔ بچوں کو شروع سے ہی بتائیے کہ بیچ میں بات نہ کاٹیں، اور بولنے سے زیادہ سننے کی کوشش کریں۔ "میں بھی، میرے پاس بھی، میرا بھی۔۔۔" کوشش کریں کم سے کم ہو۔ '

یہ بھی پڑھیں:   ماَے نی ماَے - میمونہ بلوچ

تو بچے کیا کریں؟ ایک گھنٹہ بالکل بات کئے بغیر گزاریں۔ پڑھیں، کرافٹس بنائیں لیکن خاموشی سے۔ سوچیں کہ کس بندے سے بات کر کے اچھا لگتا ہے۔ وہ جو آپکی بات توجہ سے سنتا اور اسکو اہمیت دیتا ہے۔ سوچیں کہ کیا خصوصیات اس بندے کو اچھا لِسنر بناتی ہیں۔ اگلی بار کوئی اداس محسوس ہو تو پرخلوص طریقے سے اسکو کہیں کہ مجھے احساس ہے آپ فلاں بات کی وجہ سے اداس، پریشان ہیں۔ آپ چاہیں تو مجھ سے بات شیئر کر سکتے ہیں۔ یا پھر اپنی مدد کی پیشکش کیجئے۔

ٹیگز

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.