کاجل والے کیوٹ سے بچے، لیکن ... - ڈاکٹر رضوان اسد خان

ہمارے یہاں بچوں کو سرمہ، کاجل وغیرہ لگانے کا کافی رواج ہے. یہ برصغیر اور عرب ممالک کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے. مرد و خواتین اسکو نظر کی تیزی اور آنکھوں کی خوبصورتی کیلئے صدیوں سے استعمال کرتے آئے ہیں. اور اسی لیے بہت سی مائیں اپنے بچوں کو بھی پیدا ہوتے ساتھ ہی سرمہ سے اسکی تزئین و آرائش شروع کر دیتی ہیں. کچھ نظر بد سے بچانے کیلئے لگاتی ہیں اور کچھ محض "بڑوں" کے کہنے پر.

تو آئیے قلوپطرہ کی خوبصورت "آنکھوں" سے "نظریں" بچا کر اسکے طبی پہلوؤں کو حدیث اور سائینس کا سرمہ لگا کر "دیکھتے" ہیں....
پہلے تو اسکے نام کا مسئلہ حل کر لیں کیونکہ مجھے تو آج تک سرمہ اور کاجل کا فرق ہی سمجھ نہیں آیا. عربی میں اسے "کحل" کہتے ہیں، ترکی میں "سورمے" اور فارسی میں "سرمہ" اور وہیں سے اردو میں بھی یہ لفظ در آیا ہے. بھارت میں دراوڑی زبان سے اسکے لیے لفظ "کاجل" مستعمل چلا آ رہا ہے جو اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے. انگریزی کا "الکحل" بھی اسی عربی لفظ "کحل" سے ماخوذ ہے. اب آپ پوچھیں گے کہ شراب اور سرمہ کا آپس میں کیا تعلق؟
تو جناب جمالیاتی تناظر میں شراب و شباب کے ازلی تعلق سے قطع "نظر"، کحل کو اسکے معدنی ماخذ "اثمد" یعنی اینٹیمنی
(Antimony/Stibnite) کو پیس کر اسی طریقے سے حاصل کیا جاتا جس طریقے سے اس دور میں شراب کیلئے الکحل کشید کیا جاتا تھا.
اور یہ اثمد ہی اصل سرمہ ہے، جیسا کہ سنن نسائى اور ابو داود وغيرہ ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: "تمہارے سرموں ميں سب سے بہتر سرمہ اثمد ہے، يہ نظر كو صاف كرتا اور بال اگاتا ہے" سنن نسائى حديث نمبر ( 5113 )؛سنن ابو داود حديث نمبر ( 3837 )مصنف ابن ابى شيبہ ميں انس رضى اللہ تعالى عنہ سے درج ذيل حديث مروى ہے: "نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنى دائيں آنكھ ميں تين بار اور بائيں آنكھ ميں دو بار سرمہ لگايا كرتے تھے" اس حديث كو علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 633 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسوقت مارکیٹ میں جو سرمہ جات دستیاب ہیں وہ اثمد یعنی Antimony کی بجائے سیسہ یعنی Lead کے معدنی ماخذ "گیلینا"(Galena) سے بنے ہیں. اور سیسہ انسانی جسم کیلئے ایک خطرناک دھات ہے. سرمہ میں موجود سیسہ خون میں شامل ہو کر کافی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے...

یہ بھی پڑھیں:   میرے من کا موتی - ام محمد سلمان

حاملہ خواتین میں بچوں کے پیدائشی نقائص کا باعث بن سکتا ہے. اسکے علاوہ حمل کے دوران بچے کی دماغی نشوونما پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے. پاکستان میں ایک تحقیق کے مطابق 84 میں سے 13 حاملہ خواتین کے ناخنوں میں سیسہ کی خطرناک حد تک زیادہ مقدار پائی گئی... بچوں میں بالخصوص، سیسہ خون کے خلیوں کو متاثر کرتا ہے اور خون کی کمی کا باعث بنتا ہے ... اعصابی نظام میں بیٹھ کر دماغ اور اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے. اس سے بچے میں چڑچڑا پن بھی پیدا ہوتا ہے اور ذہانت بھی متاثر ہوتی ہے.. گردے متاثر ہو سکتے ہیں.. جگر کو بھی نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے . .. اسکے علاوہ سرمہ کی صورت میں اسکے استعمال سے آنکھوں میں انفیکشن یا قرنیہ کی جھلی کے نقصان کا بھی اندیشہ رہتا ہے. لہٰذا سرمہ خریدتے وقت یہ تسلی کر لیں کہ کہیں اس میں سیسہ تو نہیں. لیکن ایک اور بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سرمہ کا ماخذ سیسہ ہو بھی تو اسکا ذکر پیکٹ پر نہیں کیا جاتا. ہمارا ھاشمی سرمہ جب امریکہ پہنچا تو اس کے تجزیے میں سیسہ کی خطرناک مقدار پائی گئی. تب سے امریکہ میں ہر قسم کا سرمہ بین ہے جبتک کہ یہ ثابت نہ کیا جائے کہ اسکا ماخذ "نیچرل" یا قدرتی جڑی بوٹیاں ہیں.
جی، اگر آپکو سرمہ لگانا ہی ہے تو یا تو خالص اثمد تلاش کریں یا پھر کسی قابل اعتماد حکیم کا قدرتی اجزاء سے بنا سرمہ ڈھونڈیں. ورنہ خوبصورتی سے زیادہ بچے کی صحت ضروری ہے.

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.