’’حرفِ محرمانہ‘‘ خورشید ندیم

برسوں کی فکری ریاضت کا حاصل ''حرفِ محرمانہ‘‘ کی صورت میں میرے سامنے ہے۔
بیرسٹر ظفراﷲ خان کے روز و شب کا میں ایک مدت سے گواہ ہوں۔ ''کبھی سوز و سازِ رومی، کبھی پیچ و تابِ رازی‘‘۔ بظاہر امورِ دنیا میں مصروف، بباطن غور و فکرمیں محو۔ دست بکار، دل بیار۔ زندگی کا راز یہی ہے۔ یہ راز اگر کھل جائے تو زندگی سہل ہو جاتی ہے اور با مقصد بھی۔ آدمی اس دنیا میں جیتا ہے لیکن اس کا دل کہیں اور اٹکا رہتا ہے۔
'' حرفِ محرمانہ‘‘ جگ بیتی بھی ہے اور آپ بیتی بھی‘‘۔ ظفراﷲ خان نے اپنے تجربات و مشاہدات کو ایک فکری آہنگ دیا تو معلوم ہوا کہ وہ سب کچھ جو انہوں نے اپنے تجربات و مشاہدات سے کشید کیا ہے، وہی اس امت کی کہانی ہے۔ جو ان پر بیتا، وہ اس امت پر بیت چکا۔
مدرسے سے حصولِ علم کا جو سفر شروع ہوا، اس کا ایک فیصلہ کن پڑاؤ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد تھی۔ پھر سٹی یونیورسٹی لندن۔ مسافر کو چین نہیں تھا۔ اسے کہیں اور پہنچنا تھا۔ پھر یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ اور ایک دن وہ بیرسٹری کے لیے لنکنز ان جا نکلا۔ قانون کی تعلیم حاصل کر لی تو انسانی حقوق کی تفہیم کا خیال ہوا۔ یوں ہیگ، جنیوا اور آکسفورڈ کا رخ کیا۔

مسافر کا ایک قدم علم کی دنیا میں تھا تو دوسرا عمل کے میدان میں۔ علم کی حلاوت میسر تھی تو تلخیٔ ایام کا جام بھی ہاتھ میں رہا۔ ڈی ایم جی گروپ میں پہلی پوزیشن لی اور انتظامیہ کا حصہ بنے۔ اس سے الگ ہوئے تو ایک دن معلوم ہوا کہ وزیرِ قانون بن گئے۔ درمیان کے بہت سے مراحل کا ذکر کیا تو یہ داستان طویل تر ہو جائے گی۔ قصہ کوتاہ، علم و عمل کی داستان ایک فکری بیانیے میں ڈھلی تو ''حرفِ محرمانہ‘‘ وجود میں آئی۔ زندگی کے تجربات اور علمی مراکز کی یاترا نے ایک آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا۔
مذہب کا معاملہ یہ ہے کہ اپنے جوہر میں وہ ایک ما بعدالطبیعاتی تصور ہے۔ باایں ہمہ انسان کا مادی وجود بھی ایک حقیقت ہے۔ مادہ مستقل بالذات تو ہے لیکن اپنی صورتیں تبدیل کرتا ہے۔ یوں ارتقا اور تشکیلِ نو مادی زندگی کے ناگزیر تقاضے ہیں۔ ما بعدالطبیعات میں ارتقا نہیں ہے۔ خالق اور انسان کا جو تعلق آدم کے عہد میں قائم ہوا، اپنے جوہر میں آج بھی ویسا ہی ہے۔ اس میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں آ سکی۔
آدم طبیعات اور ما بعدالطبیعات میں تطبیق کی جس آزمائش میں ڈالے گئے، ابنِ آدم بھی صدیوں سے اسی آزمائش میں ہے۔ اس کے مادی مطالبات اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں اور خالق کے ساتھ اس کے تعلق کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں۔ دونوں حقیقی ہیں اور دونوں کی نفی ممکن نہیں۔ ان مطالبات میں تطبیق کی کوشش میں، ناگزیر ہے کہ انسان افراط و تفریط کا شکار ہو جائے۔ انسان ہر لمحے اس آزمائش سے گزرتا ہے اور بے بسی کے عالم میں اپنے رب کو پکارتا ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ جو کلمات آدم اور حوا کو ان کے پروردگار نے سکھائے آج بھی وہی ابنِ آدم کی ڈھارس بندھاتے ہیں ''پروردگار! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، اگر تو ہماری مغفرت نہ فرمائے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم ضرور نامراد ہو جائیں گے‘‘۔

گویا انسان کا معاملہ روزِ اوّل سے وہی ہے جسے اقبال نے بیان کیا ہے: ڈالا گیا ہوں آگ میں مثلِ خلیل۔ اسے آگ کو بجھانا ہے اور ساتھ ہی خلیل اﷲ ہونے کے تقاضے بھی پورے کرنے ہیں۔ سادہ لفظوں میں اﷲ کا بندہ رہتے ہوئے مادی زندگی کے مطالبات پورے کرنا ہیں۔ زندگی ارتقا پذیر ہے اور ہر لمحے تشکیلِ نو کا تقاضا کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ لمحۂ موجود میں یہ مطالبات کون سے ہیں اور ہم انہیں کیسے پورا کر سکتے ہیں؟ کیا طبیعات اور ما بعدالطبیعات میں تطبیق پیدا کی جا سکتی ہے؟
''حرفِ محرمانہ‘‘ اس سوال کا مفصل جواب ہے۔ یہ مسلم معاشرے کی تشکیل نو کا ایک جامع نصاب ہے۔ اس میں کم و بیش ان تمام سوالات کو موضوع بنایا گیا ہے، جن کے جواب تلاش کیے بغیر، تعلق بااﷲ قائم رکھا جا سکتا ہے نہ تعلق بالدنیا۔ اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ ایک میں یہ بتایا گیا ہے کہ دورِ جدید کی مسلم فکر کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ دوسرے حصے میں اس سوال کا جواب ہے کہ اس فکر کی تشکیل نو کیسے ممکن ہے؟ یوں ایک طرف ان فکری غلطیوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو مادی اور روحانی راہ کی ترقی میں مزاحم ہیں۔ دوسری طرف اس لائحہ عمل کا بیان ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مسلم تشخص کی حفاظت کرتے ہوئے، مادی زندگی میں کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ مصنف کے نزدیک یہ فکری غلطیاں کیا ہیں۔ چند کا ذکر کرتا ہوں:
٭ شریعت اور فقہ میں فرق ہے۔ شریعت تبدیل نہیں ہوتی اور فقہ مستقل نہیں ہوتی۔ مسلم تاریخ میں فقہ کو زیادہ اہمیت دی گئی جس سے ایک قانون پرستانہ (Legalistic)نقطہ نظر پیدا ہوا۔ اس سے اسلام کے اخلاقی، معاشرتی اور روحانی پہلو نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

٭ عقلیت مخلوقاتِ عالم میں انسان کا امتیاز ہے۔ مسلم روایت میں عقلیت وحی سے متصادم نہیں بلکہ اس میں شامل ہے۔ یہ روایت عقل کو ایک بڑی حقیقت کا جزو سمجھتی ہے۔
٭ اسلام کا سیاسی تصور مشاورتی اور جمہوری ہے۔ کچھ لوگ غیر حقیقی شریعت پر مبنی ایک ہمہ مقتدر خلیفہ کے تصور کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہماری ضرورت ایسے سیاسی نظام کی ہے جو مشاورتی ہو۔
٭ سائنس اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرتکز کیے بغیر دنیا میں باوقار حیثیت حاصل نہیںکی جا سکتی۔
ان کا علاج کیا ہے؟ ظفراللہ خان کے نزدیک:
٭ مذہبی تعلیم کا نظام اصلاح و تجدید کا متقاضی ہے۔
٭ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے مسلم معاشروں میں ایک تحریک برپا کرنے کی ضرورت ہے۔
٭ عورتوں کے باب میں مسلمانوں کا رویہ غیر اسلامی اور قدامت پسندانہ ہے۔ اسے تبدیل کرنا لازم ہے۔
٭ قرآن مجید کسی عداوت کے بغیر ہمہ گیر مذہبی یک جہتی کو مقدس سمجھتا ہے۔ اقلیتوں کے معاملے میں اس اصول کو سامنے رکھنا ہو گا۔

٭ اسلام شریعت اور تزکیۂ نفس یا تصوف پر زور دیتا ہے۔ تصوف نے بیرونی اثرات کو قبول کیا ہے جس کی وجہ سے وہ اسلامی روحانیت سے ہم آہنگ نہیں رہا۔
٭ غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں سے جدید شہریت تقاضا کرتی ہے کہ وہاں کے قوانین کی پاس داری کریں۔ دعوت اور مصلحت کا تقاضا ہے کہ وہاں کے معاشرے سے خوش گوار تعلقات رکھے جائیں۔
یہ نتائج فکر ہیں جن کے تفصیلی دلائل 570 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں موجود ہیں۔ یہ کتاب اصلاً انگریزی میں لکھی گئی۔ یہ اس کا اردو ترجمہ ہے۔
ظفراللہ خان اگر مدرسے اور لنکنز ان جیسے تعلیمی اداروں سے براہ راست واقف نہ ہوتے تو یہ تجزیہ نہ کر سکتے۔

اگر وہ ا علیٰ انتظامی اور سیاسی عہدے پر نہ رہے ہوتے تو سیاست و ریاست کے مسائل کو اس دقتِ نظر سے نہ سمجھ سکتے۔ اگر انہوں نے مشرق و مغرب کے معاشروں میں قیام نہ کیا ہوتا تو ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ نہ ہوتے۔ اسی لیے میں اس آپ بیتی کو جگ بیتی کہتا ہوں۔ جن مراحل سے وہ گزرے، مسلم سماج کا ہر رکن، اگر سب نہ سہی تو ایسے چند مراحل سے ضرور گزرا ہے اور ان مسائل کا حل چاہتا ہے جو اسے درپیش آتے ہیں۔
مسلم معاشروں کو ایک طرف آخرت میں جواب دہی کے احساس کو زندہ رکھنا ہے اور دوسری طرف اس مادی دنیا میں بھی اسبابِ حیات تلاش کرنے ہیں‘ جو مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ ابنِ آدم آج بھی، نوعیت کی تبدیلی کے ساتھ، اسی امتحان سے گزر رہا ہے جو آدم کو درپیش تھا۔ 'حرفِ محرمانہ‘ سیدنا آدم کی دعا کی شرح ہے۔ اللہ کی نصرت کے ساتھ اس زندگی کو بدلنے کی خواہش اور اپنی غلطیوں کا اعتراف!