اگر یہ صحیح ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟ حبیب الرحمن

7پاکستان کی 1947 کی تاریخ کے آئینے میں اگر جھانک کر دیکھا جائے تو کراچی شہر کی آبادی آج کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس وقت جو بھی آبادی تھی اس کا ستر فیصد گوٹھوں میں آباد تھا۔ ساحل سمندر کے ساتھ مچھیرے آباد تھے جن کا انحصار مچھلی کی تجارت پر تھا۔ سمندر سے فاصلے پر آباد، آبادی زیادہ تر کاشت کاری کرتی تھی اس لئے کہ ملیر ندی اس وقت پانی کی دولت سے مالامال تھی جس کی وجہ سے اس کے کنارے کنارے میلوں دور تک میٹھا پانی پایا جاتا تھا۔ باغات یہاں کی بڑی دولت تھے جن میں امرود کے باغات بہت نمایاں تھے۔ اس سے دور دیگر گوٹھ مال مویشی بھی پالتے تھے اور ضروری اشیا کی تجارت کرتے تھے۔

شہر میں رہنے والے دیگر تجارتی سامان اور درآمد و برآمد سے وابستہ تھے۔ صنعتیں تھیں لیکن وہ بہت بڑے پیمانے پر نہیں تھیں لیکن پاکستان بننے کے بعد اچانک کراچی شہر پر آبادی کا ایک بہت بڑا بوجھ آن پڑا لیکن یہ آنے والے کسی کیلئے بوجھ نہیں بنے بلکہ انھوں نے کراچی کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ وہ شہر جو کبھی صرف مچھیروں کی آماجگاہ تھا، صنعتوں کا ایک بہت بڑا منبع بن گیا، زندگی بدل گئی، اونٹ گاڑیاں اور گدھاگاڑیاں بند ہو گئیں اور ان کی جگہ ہلکی اور بھاری مال بردار گاڑیوں نے لے لی۔ سائیکل رکشوں اور گھوڑا گاڑیوں کی جگہ آٹو رکشوں، ٹیکسیوں، منی بسوں اور بسوں نے لے لی۔ اسکول بن گئے، کالج کھل گئے اور یونیورسٹیاں قائم ہوگئیں۔ بڑے بڑے فلاہی ادارے بنے، ہسپتال بنے اور بیشمار تعمیرات ہوئیں اور دیکھتے دیکھتے یہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب بن گیا۔

یہی نہیں بلکہ یہ دنیا کے چند بڑے بڑے شہروں میں شامل ہوگیا۔ پاکستان کے تمام شہروں کے مقابلے میں یہاں روزگار کے اتنے مواقع مہیا ہو گئے کہ پورا پاکستان کراچی میں دوڑ دوڑ کر آنے لگا اور اس کی چند ہزار کی آبادی کروڑوں سے تجاوز کر گئی ۔ کراچی کی جانب پاکستان کے ہر صوبے اور شہر سے آنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور اگر دیگر شہروں میں ترقی کی رفتار اسی طرح سست روی کا شکار رہی تو ہوسکتا ہے ایک کراچی ہی آبادی کے لحاظ سے آدھے پاکستان سے بھی زیادہ ہو جائے۔

اس ساری صورت حال سے ہوا یوں کہ وہ لوگ جو یہاں کے اصل رہائشی کہلاتے ہیں یا وہ کئی صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں وہ اس حد تک اقلیت میں جا چکے ہیں کہ اب وہ شاید کبھی اس شہر میں وہ حیثیت حاصل نہ کر سکیں جو ہر شہر کی مقامی آبادی کو حاصل ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ ایک المیہ تو یہ ہے کہ وہ اقلیت کا شکار ہوئے لیکن اس المیہ سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ وہ بہت سارے معاملات میں نئے آنے والوں سے کوسوں دور رہ گئے۔ ان میں سے اب بھی یقیناً بہت سارے ایسے خاندان ہیں جو نئے آنے والوں سے دسیوں گنا خوشحال ہیں لیکن دو معاملات ایسے ہیں جو ان کو کبھی نئے آنے والوں سے آگے نہیں نکلنے دیں گے جس میں ایک تعلیم سے دوری ہی نہیں بہت زیادہ دوری اور دوسری اہم ترین بات یہ کہ ان کی واضح اکثریت اپنی پرانی بود و باش کو بدلنے کیلئے قطعاً تیار نہیں۔ اسی طرح پرانے اسٹائل میں رہنا، اسی طرح مکانات بنانا، پان اور گٹکوں، سگریٹ اور بری لتوں میں مبتلا رہنا اور شہروں میں آکر آبادہونے سے اجتناب جیسی روایتوں نے انھیں نئے آنے والوں سے بہت ہی مختلف بنا دیا جس کی وجہ سے یقیناً وہ احساس محرومی کا شکار نظر آتے ہیں۔

بات کو یہاں تک لاکر میں گوادر کی تازہ ترین صورت حال بیان کرنا چاہوں گا اور پھر کراچی اور گوادر کا تجزیہ ایک اور انداز میں کرکے قارئین کے سامنے یہ سوال رکھوں گا کہ ماضی میں کراچی کی مقامی آبادی کے ساتھ جو ہوا کیا گوادر کی آبادی کے ساتھ بھی وہی کچھ ہونے والا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو کیا غلط ہے؟

"دی بلوچستان پوسٹ" رپورٹ کے مطابق جو معلومات شائع ہوئی ہیں وہ گوادر کی مقامی آبادی کیلئے نہایت تشویشناک ہیں۔ گوادر جو پاکستان کی ایسی قدرتی بندرگاہ ہے جو نصیب سے ہی کسی کسی ملک کو ملتی ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے اسے جس بے رحمی کے ساتھ نظر انداز کیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ صرف بندر گاہ کو ہی نہیں، اگر دیانتدارانہ بات کی جائے تو پورے بلوچستان سے جس انداز میں چشم پوشی سے کام لیا گیا وہ ایک سنگین جرم ہے جبکہ پورا بلوچستان ہر قسم کی معدنیات کے علاوہ سونے، چاندی، تانبے اور یورینیم کے ذخائر سے لدا پڑا ہے اور اس کے پاس ہزار میل سے بھی زیادہ طویل سمندر ہے جس میں کراچی اور گوادر کی طرز کی بیسیوں بندگاہیں بنائی جا سکتی ہیں لیکن پاکستان کی بد قسمتی ہے کہ اس نے ان پوشیدہ اور عیاں خزانوں سے اپنے آپ کو مستفید نہیں کیا۔

میں جس جانب بار بار لوٹ کر آنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ "دی بلوچستان پوسٹ" کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پانچ لاکھ چینی باشندوں کی آبادکاری کے منصوبے پر گوادر سمیت بلوچستان بھر میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، بلوچ آزادی پسند تنظیمیں گوادر پورٹ منصوبے کے شروع ہونے سے ہی وقتاً فوقتاً کہتی آرہی ہیں کہ یہ منصوبہ بلوچوں کی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی پاکستان اور چین کی مشترکہ بھیانک سازش ہے۔ دی بلوچستان پوسٹ کے نامہ نگار "شہداد بلوچ" کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں لندن میں منعقد ہونے والی تقریب میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی نے گوادر میں مکانات تعمیر کرنے کا 500 ملین ڈالرز کے منصوبے کا اعلان کیا ، منصوبے کے پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ چینی باشندوں کے لئے مکانات تعمیر کئے جائینگے جو ممکنہ طور پر 2021 تک گوادر میں باقاعدہ طور پر آباد ہوجائینگے۔ چائنہ پاک ہلز کے نام سے یہ رہائشی منصوبہ چائنہ پاک انویسٹ منٹ کارپوریشن اور ٹاپ انٹرنیشنل انجینئرنگ کارپوریشن کے اشتراک سے بنے گا، اس رہائشی منصوبے کی وجہ سے چین اور پاکستان کے پیشہ ور لوگوں کی لاکھوں کے حساب میں آبادکاری ہوگی۔

دی بلوچستان پوسٹ کے نمائندے شہداد بلوچ نے اس بارے میں گوادر کے صحافی رسول بخش سے جب پوچھا کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں چینی باشندوں کی آبادکاری کو کیسے دیکھتے ہیں ، جس پر ان کا کہنا تھا ہمارے شہر کی آبادی 1998 تک محض 85,000 تھی اور گوادر پورٹ بننے کے بعد شہر کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، حالیہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق گوادر کی آبادی 263,514 ہوگئی ہے.پانچ لاکھ چینی باشندوں کے علاوہ پنجاب اور دیگر علاقوں سے لوگوں کو یہاں آباد کرنے کے بعد بلوچ اقلیت میں بدل جائینگے ۔ماہی گیری کے شعبے سے منسلک مقامی مچھیرے ”داد رحیم“ نے دی بلوچستان پوسٹ کے نامہ نگار سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ منصوبے کے افتتاح کے وقت حکمرانوں نے ہمارے تعلیم و ترقی کےلئے بلند و بانگ دعوے کئے تھے کہ ہمارے بچوں کو ٹیکنیکل تعلیم دیکر گوادر پورٹ میں ملازمتیں دی جائینگی اور ماہی گیروں کے لئے ”فشر مین ٹاون “ بنایا جائیگا، نہ تو ہمارے بچوں کو ٹیکنیکل تعلیم دی گئی، نہ ملازمتیں ملیں اور نہ ہی ہم ماہی گروں کے لئے گھر بنائے گئے، ہمیں ہماری سرزمین سے بیدخل کر کے چینی اور دوسرے لوگوں کو آباد کیا جارہا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے اشتیاق احمد جو گزشتہ کئی سالوں سے گوادر میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں، انکا کہنا تھا کہ پلاٹوں کی قیمتیں بڑھیں یا کم ہوں، خریدار ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ ہمارے نمائندے نے پوچھا کیا خریدار بلوچ ہیں؟ تو انکا کہنا تھا کہ نہیں، خریدنے اور فروخت کرنے والے دونوں بلوچ نہیں ہیں، اکثریت کا تعلق پنجاب، خیبرپختونخوا اور کراچی سے ہے کچھ غیر ملکی بالخصوص چین سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ہیں۔

اب جو بات میں کہنے جا رہا ہوں وہ کچھ یوں ہے کہ کراچی میں مقامی آبادی اقلیت کا شکار ہوئی وہ ایک المیہ ضرور تھا اور ہے لیکن مقامی آبادی کا مسلسل وقت کے ساتھ نہیں دوڑنا ان کیلئے ہر قسم کی ترقی کی دوڑ سے بہت پیچھے رہ جانے کا سبب بن گیا اور وہ تاحال اس دوڑ میں شریک ہونے کیلئے تیار نہیں۔ یہی کچھ گوادر کی بلوچ آبادی کے ساتھ ہونے جا رہا ہے لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ کراچی کے بلوچ تو کراچی کو درجہ بدرجہ بڑھتے دیکھ کر بھی اپنے آپ کو بدلنے کیلئے تیار نہ ہوئے لیکن گوادر کے بلوچوں کو ہم نے گوادر کی تقدیر کا شریک بنانا ہی پسند نہیں کیا۔

ممکن ہے میں کچھ زیادتی سے کام لے رہا ہوں لیکن کیا منصوبے چند گھنٹوں میں بن جایا کرتے ہیں؟ جس گوادر کو پورٹ بنانے کا خیال پاکستان کو آیا ہے وہ بہت عرصے پہلے آیا تھا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ گوادر کے منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے بلوچستان کے لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ مقامی لوگوں کو ہر قسم کی ضروری تربیت دیں گے تاکہ انھیں اس پراجیکٹ کے ہر شعبے میں جاب مل سکے لیکن بعد میں ان کے ساتھ وعدہ خلافی کی گئی اور ان کو عملاً اس پراجیکٹ سے دور کر دیا گیا۔ اگرایسا (دانستہ یا نادانستہ) نہیں کیا جاتا اور حسب وعدہ منصوبے کے خیال کے ساتھ ہی مقامی آبادی میں سے ہر قسم کے ہنر مند لوگ، بڑی تعداد میں تربیت دینے کے بعد لے لیے جاتے تو آج اور آنے والے دنوں میںہزاروں مقامی لوگ بر سر روز گار ہو سکتے تھے۔ میں اب بھی یہی کہونگا کہ وقت ابھی نہیں گزرا ہے اور ہنگامی بنیادوں پر اس نیک کام کو شروع کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ میں تمام اہل قلم سے گزارش کرونگا کہ وہ اس سلسلے میں آواز اٹھائیں تاکہ اگر ماضی میں کوئی چوک ہو گئی ہے تو آنے والے مستقبل میں اس کا ازالہ کیا جا سکے۔ امید ہے کہ میری اس بات پر توجہ دی جائے گی اور اس سلسلے میں بھی لکھنے والے اپنا اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے۔