پوسٹ ٹرتھ سیاست - طارق رحمان

پوسٹ ٹرتھ سیاست کے طالبعلموں کیلیے ایک دلچسپ فینو مینا ہے ۔2016 کے اختتام پر آکسفورڈ ڈکشنری میں شامل ہونے والے لفظ پوسٹ ٹرتھ Post Truth کو ورڈ آف دی ائیر قرار دیا گیا ۔ پوسٹ ٹرتھ سے مراد آج کل لوگوں کا یہ رجحان ہے کہ وہ حقائق اور دلائل کو پس پشت ڈال کر وقتی ہیجان میں جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں بالادست قوتیں اس جذباتیت کو استعمال کرتی ہیں ۔ سچ ابھی جوتے ہی پہن رہا ہوتا ہے اور جھوٹا آدھی دنیا کا چکر لگا کر واپس آجاتا ہے ۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی پوری الیکشن کمپین پوسٹ ٹرتھ کا شاہکار تھی ۔ انتہائی ہوشیاری سے الیکشن سے محض 36 گھنٹے قبل پوپ کی ٹرمپ کیلیے حمایت کا جھوٹا اعلان کردیا گیا امریکہ اور اٹلی کا ٹائم ڈفرنس پھر وٹیکن سٹی کا اپنا پیچیدہ طریقہ کار جب تک ووٹر تک پوپ کی تردید پہنچتی ٹرمپ کا جادو چل چکا تھا۔ ہیلری کے بارے میں یہ بات دھڑلے سے اڑادی گئی کہ وہ داعش کی سہولت کار ہیں وہ تردید کرتی رہ گئی لیکن جب پورے معاشرے میں ہیجان برپا ہو تو عقل کی بات کون سنتا ہے ۔
ٹرمپ کے علاوہ انڈیا میں مودی کی فتح برطانیہ میں بریکسٹ ریفرنڈم کے نتائج۔ عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی کہانیاں یہ سب پوسٹ ٹرتھ کے مظاہر ہیں۔
پوسٹ ٹرتھ کی وجہ روایتی اشرافیہ اور برسوں سے جیتنے والے سیاسی چہروں سے بیزاری قرار دی گئی ہے . ہیلری کلنٹن روایتی سیاسی اشرافیہ کی نمائندہ ہیں۔ کانگریس ۔ شریف فیملی اور بھٹو فیملی وغیرہ بھی نقش کہن کی علامتیں ہیں انسے مایوس لوگوں کی ایک بڑی تعداد تبدیلی کی پکار پر لبیک کہ چکی ہے ۔ پھر ہر جگہ ایک نیا ووٹر ابھر رہا ہے اسے بے وقوف بنانا آسان ہے بس مخالف روایت سیاستدانوں کو منہ بھر کے گالیاں دیں یہ ناسمجھ جذباتی ہیجان میں مبتلاء ہو کر مفت میں منصوبہ سازوں کیلیے ایندھن بن جائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں:   آمریت سے بغاوت کرنے والوں کو سلام - ایم سرورصدیقی

تین سو ڈیم ۔ایک کروڑ نوکریاں ۔پچاس لاکھ گھر۔ بیرون ملک سے آنے والے 2 سو ارب ڈالر ۔ اوئے نواز شریف ۔ نواز شریف کی انڈیا میں ۳۰۰ فیکٹریاں ، ۳۰۰ ارب ڈالر ،ایک ہزار ارب روپے روز کی کرپشن ۔ سیسلین مافیا ۔ گاڈ فادر ۔ پناما کیس ۔
یہ الیکشن کے ایشوز تھے ۔
آپ کسی انصافی بھائی سے آج کل ان ایشوز پر بات تو کریں وہ احمقوں کی طرح آپکی شکل دیکھے گا یا اچھے اچھے انکل نما بزرگ مریم نواز کی عمر ۔ لباس یا ان کی شادی کے بارے میں وہ درفطنیاں کریں گے کہ آپ کو تحریک انصاف کا ترجمان بابا کوڈا یاد آجائے گا
آج پاکستان میں پڑھے لکھے پرجوش نوجوانوں کو فردوس عاشق اعوان۔ پرویز الٰہی ۔ عثمان بزدار۔ فواد چوہدری۔ اعظم سواتی۔ جہانگیر ترین۔ مراد سعید اور شیخ رشید۔ پرویز خٹک جیسے فراڈیوں کا دفاع کرتے دیکھتا ہوں تو یقین آجاتا ہے کہ ہمارے ہاں بھی پوسٹ ٹرتھ کا داؤ چل چکا ہے ۔

افسوس یہ ہے کہ پوسٹ ٹرتھ کی بنیاد جھوٹ پر ہے اپنے فالوور کو مسلسل ہیجان اور جوش میں مبتلاء رکھنا اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت گذر جاتا ہے اور لوگوں کوجب احساس ہوتا ہے کہ مسائل جوں کے توں ہیں اور انکو بے وقوف بنادیا گیا ہی اس وقت تک بے وقوفوں کی ایک نئی کھیپ تیار ہو چکی ہوتی ہے
پوسٹ ٹرتھ سوسائٹی کو کھوکھلا کردیتا ہے پوری پوری نسلیں پوسٹ ٹرتھ کی نذر جاتی ہیں اپنی سخت جانی کےباوجود آج کےامریکہ اور انڈیا میں انتشار شروع ہوچکا ہے دورکیوں جائیں اپنے الطاف حسین پوسٹ ٹرتھ کا ہی تو نتیجہ تھے جس کا کڑوا پھل ہم اہل کراچی آج تک کھا رہے ہیں