کہانی ایک قربانی کے بکرے کی - عائشہ تنویر

دادی اماں کی بے چینی قابل دید تھی۔ لاؤنج کے دروازے کے سامنے وہ گویا سراپا انتظار بنی بیٹھی تھیں۔ ماہین کی بیوقوفی ہی تھی جو تازہ تازہ پینٹ کئیے ناخنوں پر پھونک مارتی اپنے کمرے سے نکل کر ان کے سامنے چلی آئی۔ دادی نے اسے دیکھتے ہی آواز دی تھی۔ " فون تو کرو بٹیا اپنے باوا کو ۔ اتنی دیر ہو گئی، اب تک نہیں آئے۔ میرا تو دل دھڑک رہا ہے ۔" دادی اماں سینے پر ہاتھ دھرے خدشات سے پُر لہجے میں کہہ رہی تھیں۔ "دل تو سب کا دھڑکتا ہے دادی، اس میں فون کرنے کی کیا بات ہے۔" ماہین نے حیرت بھری معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے سوال کیا۔

دادی نے بےاختیار ہاتھ ہٹاتے اسے گھورا۔ " پوری ماں پر گئی ہو، مجال ہے جو کوئی بات پہلی بار میں سن لو۔" " امی تو کہتی ہیں کہ میں پھپو جیسی ہوں، میسنی اور گھنی۔" شرارت سے چمکتی آنکھوں کے ساتھ اس نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑے تھے۔ اس توڑ پھوڑ کے اثرات دادی اماں کے چہرے پر واضح دکھائی دیے تھے۔ انہوں نے ماہین کو کچھ کہنے کو بیوقوفی گردان کر دل ہی دل میں بہو کی خبر لینے کا پختہ ارادہ کیا۔ "میں جاؤں دادی اماں۔" کوئی مزیدار سا ردعمل نہ ملنے پر ماہین نے وہاں سے جانے کا قصد کیا۔ "ہاں جاؤ اور اپنا کمرہ سیٹ کر دو۔ اس کی ضرورت کا سامان رکھوا دو۔ تمہارے باوا کے ساتھ آتا ہی ہوگا ابھی۔" اب کی بار حیران، پریشان، پشیمان ہونے کی باری ماہین کی تھی۔ چہرے سے چھلکتی معصومیت اور آنکھوں میں چمکتی شرارت یکدم غائب ہوئی تھی۔ وہ بوکھلا کر بولی۔ "اپنا کمرہ؟ میرے کمرے میں رہے گا وہ، تو میں کہاں رہوں گی۔ کیسی باتیں کرتی ہیں آپ ؟"

دادی اماں نے غصے سے اسے گھورا۔ "جہاں مرضی رہو۔ چار دن کے مہمان کے لیے ایسی باتیں بنا رہی ہو۔ اللہ کی رحمت ہے بھئی۔ ارے تم لوگوں کی تو اوقات ہی نہیں تھی کہ وہ تمہارا مہمان بنتا، وہ تو میں ہوں جو آج وہ یہاں آ رہا ہے۔" ماہین کی معصومانہ انداز میں کہی سب باتوں کا غصہ انہوں نے اک ساتھ نکال دیا تھا۔ وہ سب بھول بھال دادی کے پاس بیٹھ کر ان کا ہاتھ تھام کر غصہ ٹھنڈا کرتے ہوئے بولی۔ "میں کوئی اس کی شان میں گستاخی تو نہیں کر رہی۔ میں تو صرف یہی کہہ رہی تھی کہ میرے کمرے میں رہنا ضروری نہیں، وہ باہر ۔۔" اس کی بات کے دوران ہی باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی تھی۔ دادی جان اس کا ہاتھ جھٹک کر جلدی سے کھڑی ہو گئیں۔ بے تابی ان کے انداز سے نمایاں تھی۔

"جلدی سے مجھے تیل پکڑاؤ۔ میں دروازے میں ڈالوں۔ اپنی اماں کو بھی بلاؤ کہ اسے ہار ڈال دے، پھر بعد میں کہے گی کسی نے مجھے پوچھا ہی نہیں۔" وہ ہدایتیں دیتیں بمشکل چل کر دروازے کے پاس گئی تھیں۔ ماہین اندر بھاگ گئی۔ اندر سے ماہین تیل کی بوتل لے کر اور ماہین کی امی رنگ برنگا ہار پکڑے نکلی تھیں۔ لاؤنج کا دروازہ کھلا اور ایک بکرے کی رسی پکڑے خوش باش بہت سے افراد اندر داخل ہوئے۔ دادی نے دروازے کے کنارے پر تیل ڈالا اور امی نے بکرے گلے میں ہار ڈالا۔ مہمان خصوصی آ گیا تھا۔ وہی مہمان خصوصی جس کے لیے گھر میں ایمرجنسی نافذ تھی۔
------------------------

اس مہنگائی کے دور میں بکرا خریدنا کون سا آسان تھا۔ جاوید صاحب نے اپنی حیثیت کے مطابق گائے میں حصہ ڈالا تھا۔ ٹیپو نے بکرا لانے کی ضد کی تو دادی اماں کی محبت جوش میں آ گئی۔ انہوں نے اپنے کڑے بیچ کر یہ شاندار بکرا منگوایا تھا۔ جو اب ماہین کی ہزار مخالفت کے باوجود اس کے کمرے میں رہائش ہذیر تھا اور ماہین؟ اسے بکرے کے سامنے کون پوچھتا۔ بکرے کی میں میں، ٹیپو کے خراٹے اور دادی اماں کے ٹہوکوں سے بچنے کے لیے وہ سامان باندھ کر چند دن کے لیے اپنی انہیں میسنی مگر عزیز پھپو کے گھر رہنے چلی گئی تھی۔ امید تو اسے تھی کہ اسے ناراض ہو کر جاتے دیکھ کر کمرا خالی ہو جائے گا لیکن ہائے حسرت ۔۔۔۔ بکرے کے معاملے میں دادی اماں کسی پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھیں۔ چوری کے ڈر سے وہ نہیں چاہتی تھیں کہ بکرا پورچ میں باندھا جائے یا زیادہ لوگوں کو ان کے صاحبِ بکرا ہونے کا علم ہو۔

اسی لیے ان کی ہدایت کے مطابق بکرا سیدھا گھر کے اندرونی حصے میں لایا گیا۔ مگر بکرے میاں کو کسی کا ڈر نہیں تھا۔ انہوں نے گھر کے اندر آتے آتے اس قدر شور مچایا تھا کہ پورا محلہ بکرے کی آمد سے باخبر ہو گیا تھا۔ اس سال یہ پورے محلے کا واحد بکرا تھا۔ سو سب ہی اسے دیکھنے کے شوق میں ان کے گھر جمع ہو گئے۔ بکرا کو بٹھانے کے لیے کمرے میں سے کارپٹ نکال دیا گیا ہے۔ ایک طرف ریت کا ڈھیر ڈال کر اس پر بکرا بٹھایا اور پاس ہی کرسی ڈالے دادی جان خود بیٹھ گئیں۔ اب عید تک ان کا شاید یہیں پہرے داری کا ارادہ تھا۔ کبھی جذباتی ہو کر اسے دوپٹے سے ہوا دینے لگتی ہیں۔ تو کبھی پیار سے ہاتھ پھیرتی ہیں یا کنگھے سے بکرے کی زلفیں سنوارتیں۔

گھر کے تمام لوگ دادی جان کے احکامات پر عمل کرتے بکرے میاں کی خدمت کے لیے بھاگ دوڑ میں مصروف تھے۔ پینے کے لیے پانی کا ٹب بھروا کر رکھوانے کے ساتھ دادی نے لال شربت کی بوتل بھی منگوا لی تھی۔ بھئی بکرے کا بھی دل ہے۔ ذائقہ بدلنا چاہے تو ۔۔ تب ہی دروازہ کھلا اور ٹیپو چارہ لے کر اندر داخل ہوا۔۔ فخریہ انداز میں اس نے ہاتھ میں پکڑا چارہ دادی کے سامنے کیا۔ " دیکھیں دادی جان، کیا شاندار چارہ لایا ہوں۔ " دادی نے اس کے فخریہ چہرے کو استہزاء سے دیکھا اور ہاتھ سے چارہ پیچھے ہٹاتے ناک چڑھائی۔ "تیرا تو دماغ خراب ہے ٹیپو، کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرتا۔ یہ گھاس پھونس کھائے گا میرا راجا۔ اس کے لیے سیب لے کر آ۔ جوشاندہ بھی لا کر رکھ، شربت سے زکام نہ ہو جائے۔"

ٹیپو تپ گیا۔ دادی نے کب سے اسے دوڑا رکھا تھا۔ بکرے کو گلی میں سیر کروانا تو دور کی بات تھی، اسے ڈھنگ سے بکرا دیکھنے کا موقع بھی نہیں مل رہا تھا۔ "شربت، جوشاندہ، سیب، کیا کیا ڈھیر لگانا ہے۔ یہ بکرا ہے یا بادشاہ۔۔" دادی نے اسے گھور کر تصیح کی۔ "بادشاہ نہیں راجا۔" جی ہاں، دادی نے اس کا نام راجا ہی تجویز کیا تھا۔ ٹیپو پاؤں پٹختا باہر نکلا۔ آخر راجا کے لیے سیب بھی تو لانے تھے۔

ٹیپو کے جانے کے بعد دادی اماں ابھی راجا کی طرف متوجہ ہوئی ہی تھیں کہ امی اندر داخل ہوئیں اور دادی سے مخاطب ہوئیں۔ "اماں راجا صاحب جاگ رہے ہیں تو محلے داروں کو بھیجوں۔ سب دیکھنے کو بے قرار ہیں۔ پورے محلے میں بس ہم عید پر بکرا قربان کریں گے۔" دادی فخریہ مسکرائی۔ "اب ان پڑوسنوں کو منع کرنا بھی مشکل ہے۔ کوئی بددعا ہی نہ دے دیں راجا کو۔ ایک، ایک کر کے بھیجنا اور مرچیں تیار رکھنا، سب کے جانے کے بعد نظر اتارنی ہوگی راجا کی۔ جب تک میں سورتیں بھی پڑھ کر پھونک دوں۔" دادی نے مکمل لائحہ عمل سمجھایا۔ امی نے برسوں دادی کے ساتھ گزارے تھے سو فوری بات سمجھ گئیں اور بنا بحث کیے باہر نکل گئیں۔

تھوڑی دیر بعد ایک محلے دار خاتون اندر داخل ہوئیں۔ دادی کے پاس آنے کے بجائے وہ تعریفی لہجے میں بولتی ہوئی سیدھا بکرے کے پاس جانے لگی تھیں۔ "واہ بھئی، بکرا تو بہت ۔۔۔" دادی نے ناگواری سے ان کی بات کاٹی۔ "بکرا نہیں، راجا نام ہے اس کا۔ اور ادھر آ کر بیٹھو، گندے ہاتھ نہیں لگانا اسے۔ بیمار پڑ گیا تو۔" محلے دار خاتون کو ایسی امید نہ تھی۔ پاس پڑا سینی ٹائزر تو انہوں نے دیکھ لیا تھا، لیکن ان کا خیال تھا کہ یہ بکرے کو ہاتھ لگانے کے بعد استعمال کرنا ہے۔ قدرے برا تو لگا مگر دادی کو کیا کہتیں، سو منہ بناتے ہوئے بیٹھیں اور رازدارانہ انداز میں بولیں۔ "ایف بی آر والے سب جگہ گھوم رہے تھے خالہ، مگر میں نے بالکل نہیں بتایا کہ آپ کے گھر بکرا ہے۔" دادی بکرے کی تعریف کے بجائے ایسی بد شگونی کی خبر سن کر کچھ جھنجھلائیں۔ "اے، ہٹاؤ ایف بی آر کو، فائلر ہیں ہم۔ خرید کر لائے ہیں۔ چوری نہیں کیا ہے بکرا۔" دادی کی جھنجھلاہٹ نے خاتون کے دل کو سکون پہنچایا۔ وہ ذومعنی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں۔ "پھر بھی حساب تو دینا ہوگا، اتنے پیسے کہاں سے آئے۔" دادی نے حسرت سے اپنی خالی کلائیوں پر ہاتھ پھیرا۔ پھر ذرا اکڑ کر بولیں۔ "اے زمانہ بدل گیا تو کیا ہوا۔ جدی پشتی رئیس ہوا کرتے تھے ہم۔ اپنا خاندانی زیور بیچا ہے میں نے۔ یہ موٹے کڑے تھے میرے جہیز کے مگر میں نے سوچا میرے بچوں کو حسرت رہ جائے گی بکرے کی قربانی کرنے کی۔ اپنی زندگی میں آخری بار بکرے کی قربانی کروا جاؤں پھر ان بیچاروں کی حیثیت کہاں۔ جاوید تو حصہ ڈال لے، وہی غنیمت ہے۔ دراصل ہماری بہو ہی فضول خرچ ہے۔ بس کپڑے ،جوتے بنا لو، قربانی کے لیے پیسے جوڑنے کا کوئی ہوش نہیں۔۔"

دادی اماں کی داستان چل رہی تھی کہ ٹیپو گھبرایا ہوا اندر داخل ہوا۔ "دادی، دادی! ایف بی آر والے ابو کو پکڑ کر لے جا رہے ہیں۔" دادی اماں گھبرا کر کھڑی ہوگئیں۔ "کیوں بھئی، وہ کہاں سے آ گئے۔ منڈی کا ٹیکس، بکرے کا ٹیکس، انکم ٹیکس، سب کچھ تو دے دیا۔ ساری جمع پونجی لگا دی، اب کیا باقی رہ گیا ہے۔" ٹیپو نے دونوں خواتین کو دیکھا اور بےبسی سے بولنا شروع ہوا۔ "وہ کہہ رہے ہیں کہ بکرا لگژری آئٹم ہے۔ اس کی قربانی کے لیے پہلے اجازت نامہ لیتے ہیں۔ اور باہر لائن لگی ہے بکرا دیکھنے والوں کی، تو انہوں نے اسے کاروباری خرید میں شامل کر کے ایک ٹیکس اور لگا لیا ہے کہ آپ ٹکٹ سے کما بھی سکتے ہیں۔ بکرے کی کھال کو فروخت کر کے چمڑہ بھی بن سکتا ہے۔ اس پر الگ ٹیکس ہے۔" ٹیپو تفصیل بتاتا جا رہا تھا اور دادی اماں دل پر ہاتھ رکھ کر کرسی پر ڈھے گئیں۔ "اب تو کوئی اور زیور بھی نہیں بچا۔"
------------------------

جس کی قسمت میں سکھ ہو، اسے ہر جگہ ملتا ہے۔ جی، ٹھیک پہچانا، ہم راجا کی بات کر رہے ہیں جو تھانے میں ایک طرف کھڑا مزے سے چارہ کھا رہا ہے۔ دو، چار سپاہی اپنے بچوں کو دکھانے کے لیے شوق سے بکرے کی تصاویر لینے میں لگے ہوئے ہیں۔ موضوع گفتگو یہ ہے کہ اگر سر اجازت دیں تو اپنے گھر بکرا لے جا کر بچوں کو خوش کر دیں۔ بچے گلی میں سیر کروا کر خوشی اور اس کی خدمت کر کے ثواب حاصل کر لیں گے۔ بعد میں بکرا دوبارہ یہیں آ جائے گا۔

دوسری طرف تھانیدار کے سامنے ٹیپو اور اس کے ابو جاوید صاحب بیٹھے ہیں۔ ٹیپو پریشان چہرہ لیے دونوں کی بات سن رہا ہے۔ جاوید صاحب لجاجت بھرے لہجے میں تھانیدار سے درخواست کر رہے ہیں۔ "سر میں سارے جرمانے، ٹیکس سب جمع کروا دوں گا، آپ بکرا تو گھر لے جانے دیں۔" تھانیدار نے انگلیوں سے رقم کا اشارہ کرتے بظاہر عاجزی سے جواب دینا شروع کیا۔ "صاب جی، تنگ تو میں نے کبھی کسی کو کیا ہی نہیں۔ ایف بی آر کا کیس نہ ہوتا تو میں "انڈر دا ٹیبل" ہی حل کر دیتا مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایف بی آر والوں نے عدالت سے اسٹے لے لیا ہے۔ اب اس عید پر بکرا ذبح نہیں ہو سکتا۔ آپ عید کی چھٹیوں کے بعد عدالت میں اپنا کیس لڑ کر بکرا حاصل کر لیے گا۔ ابھی قربانی کے لیے حصہ ڈال لیں گائے میں۔"

تھانیدار کی لمبی تقریر نے جاوید صاحب کے چہرے پر لرزہ طاری کر دیا۔ انہوں نے بمشکل گلے سے آواز نکالی۔ "بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ عید کے بعد بکرا میرے کس کام کا ہے ۔ میری والدہ نے اپنے سونے کے کڑے بیچ کر بکرا لیا ہے۔ اس وقت ہم یہاں بیٹھے ہیں اور وہ اس شاک کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہیں۔ اب تو زہر لینے کے پیسے بھی نہیں ہیں ہمارے پاس اور آپ پھر سے گائے میں حصہ ڈلوا رہے ہیں۔ پلیزآپ میرے بیٹے کو رکھ لیں مگر بکرا دے دیں۔"

بات کرتے کرتے اختتام میں انہوں نے جذباتی ہو کر ٹیپو کی طرف اشارہ کیا۔ ٹیپو کا منہ کھلا رہ گیا۔ "ابو جی" مگر یہاں ٹیپو کی سن کون رہا تھا۔ تھانیدار نے اس کے بھونچکا ہوئے چہرے کے تاثرات سے لطف لیتے ہوئے قہقہہ لگایا۔ "اس کا مجھے کیا فائدہ جناب، اس کی تو قربانی ہی جائز نہیں ہے۔ آپ گھر جائیں، سکون کریں۔ جو ہونا تھا، ہو گیا۔ اب عید کے بعد ہی کچھ ہوگا۔" جاوید صاحب کے چہرے کے تاثرات رونے والے ہو گئے تھے۔ "بکرے کی قربانی نہیں ہوگی تو عید کیسے منائیں گے ہم۔" تھانیدار نے مسکراتے ہوئے جملہ کسا: "بکرے کی نہ سہی، آپ کی تو قربانی ہو گئی۔ اب عید آپ کی جگہ بکرا منا لے گا۔" ابو نے صدمے کے عالم میں اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے وہ بھی ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئے۔ ٹیپو اپنا سر پکڑے اس لمحے کو کوس رہا تھا، جب بکرا لینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔