قرآن میں "زنابالجبر" کی "مقررہ سزا" کیوں نہیں ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ایک محترم دوست نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اسلامی قانون کے بنیادی ماخذ قرآن میں ریپ کو بطور علاحدہ جرم اور اس کی واضح متعین سزا درج نہ ہونے کی کیا وجہ یا حکمت ہو سکتی ہے ، جب کہ با لرضا کو صراحتا جرم اور اس کی متعین سزا درج ہے ، خاص طور پر جب کہ بادی النظر میں بالجبر بالرضا سے زیادہ سنگین نوعیت کا جرم معلوم ہوتا ہے اور اس ضمن میں یہ بھی پیش نظر رہے کہ ریپ کا جرم کوئی نیا نہیں بلکہ قدیم دور سے ہی چلا آ رہا ہے تو یعنی ایسا بھی نہیں کہ اسلام کے آمد کے زمانہ میں دنیا ریپ کے عمل سے ، اس کے تصور اور اس کے وجود ہی سے ناواقف تھی۔

میرے نزدیک یہ سوال اس وجہ سے اٹھا ہے کہ قرآن و سنت میں جن جرائم کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں، انھیں "بدترین جرائم" اور ان کی سزاوں کو "انتہائی سزائیں" مان لیا گیا ہے۔ اگر اس کے بجاے ان جرائم کو "چند مخصوص جرائم" اور ان کی سزاوں کو "ان مخصوص جرائم کی مخصوص سزائیں" مان لیں، جیسا کہ فقہاے کرام ہمیشہ سے مانتے آرہے ہیں، تو یہ سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں ، یہ سوال رہتا ہے ،جو بالکل ہی مختلف نوعیت کا سوال ہے، کہ ان چند جرائم کی یہ مخصوص سزائیں کیوں مقرر کیا گئیں؟ یہ بحث کسی اور وقت کے لیے چھوڑ دیتے ہیں ۔
گنتی کے ان چند جرائم کے علاہ وہ جتنے بھی جرائم ہیں ان کے لیے سزائیں مقرر کرنے کا اختیار حکومت کو دیا گیا ہے جو اسلامی قانون کے عمومی قواعد (general principles of Islamic law) کی روشنی میں ان کی سزا مقرر کرسکتی ہے۔ اسے "سیاسۃ شرعیۃ" (administration of justice in accordance with Islamic law) کہا جاتا ہے۔
ذرا غور کریں تو یہی عقلی طور پر بہترین آپشن ہے۔ Rape کے جرم کو دیکھیے۔ دفعہ 375 میں اس کی جو تعریف پیش کی گئی ہے اس کی رو سے صرف جبراً sexual intercourse کی صورت میں ہی اس سزا کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ جرم کی دیگر شنیع قسمیں اور صورتیں، جیسے anal sex, oral sex, insertion of foreign elements وغیرہ اس تعریف میں نہیں آتیں۔ ان میں صرف anal sex کو دفعہ 377 کے تحت الگ مستقل جرم (unnatural lust) قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے لیے بھی intercourse ضروری ہے!

بھارت میں دلی کے واقعے کے بعد جو تفصیلی قانون سازی کی گئی ہے اور جرم کو انواع میں تقسیم کرکے ہر نوع پر الگ الگ سزا مقرر کی گئی ہے، اس کا بنیادی تصور بہت حد تک اسلامی قانون کے قواعد سے ہم آہنگ ہے۔
یاد رکھیے کہ یہ معاملہ صرف rape کی حد تک ہی نہیں ہے۔ قرآن و سنت میں اور بھی کئی شنیع جرائم کی سزا مقرر نہیں کی گئی۔ سب سے بڑی مثال تو ربا ہے جسے کھانے والے کے خلاف قرآن نے اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے اعلانِ جنگ کیا ہوا ہے لیکن اس کی کوئی "مقررہ سزا" نہیں ہے۔ کیا سود کھانے والے کے خلاف "فوجی کارروائی" یا "جنگی اقدام" کیا جائے گا؟ کیا یہ قانونِ جنگ کا مسئلہ ہے؟ فوجداری قانون کا نہیں؟
مولانا اصلاحی نے "فساد" کی تمام قسموں کو آیتِ حرابہ کے تحت سزا دینے کا جو تصور دیا اس سے یہ مسئلہ حل ہوتا نہیں بلکہ اور گھمبیر ہوجاتا ہے، جس پر الگ بحث کی ضرورت ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.