خوش رہنے والے بچوں کی سات عادات (1) - نیر تاباں

مرکزی خیال انگریزی کتاب The Seven Habits of Happy Kids سے لیا گیا
۱۔ بچوں کا اپنے لئے مصروفیت ڈھونڈنا
Be proactive
سکرین بند ہوتے ہی اگر بچے "میں بور ہو رہا ہوں" کا راگ الاپتے ہیں تو آپ انہیں مختلف کام کرنے کا آئیڈیا دے سکتے ہیں۔ جیسے پتھر پینٹ کر لیں، شیشے کا گلدان پینٹ کر لیں جسے کچھ دن بعد دھو کر دوبارہ پینٹ کر سکیں، کاغذ کی کشتیاں جہاز بنانا، بلبلے بنانا، کتاب پڑھنا، اچھلنا کودنا، سائکلنگ۔۔۔ سب کچھ شامل ہے۔

والدین کا یہ فرض نہیں کہ چوبیس گھنٹے بچوں کو انٹرٹین کریں اور میں نے باقاعدہ ماؤں کو گلٹی محسوس کرتے اور شرمندہ ہوتے دیکھا ہے کہ بچے بور ہو رہے ہیں تو گویا والدین کا قصور ہے۔ ہر گز نہیں! والدین آئیڈیا دے سکتے ہیں لیکن اپنی مصروفیت ڈھونڈنا اور بوریت کو دور کرنا اسی کا کام ہے جو بور ہو رہا ہے۔
* یہ بات بچے کو بتا دیجیے کہ بور وہ ہو رہا ہے تو اس بوریت کو دور کرنا اسکا اپنا کام ہے۔
* انہیں ذمہ داری لینا سکھائیے۔ بیزار ہیں تب بھی، خوش ہیں، ناخوش ہیں تب بھی۔ اس سب کی ذمہ داری کہیں نہ کہیں انہی پر آتی ہے۔ ابھی سے بچوں کو پتہ ہو کہ اپنی فیلنگز اور مسائل کے لئے دوسروں کو الزام دینا ٹھیک نہیں کہ بھائی نہیں کھیل رہا، ماما کام لگی ہوئی ہیں اور میں بیچارہ!

* اپنی زندگی کا چارج خود سنبھالیں اور خود کو وکٹم یعنی مظلوم سمجھنا چھوڑ دیں۔
تو بچے کیا کریں؟
* کسی کے لئے کچھ اچھا کریں۔ جیسے ڈاکیے کے لئے شکریہ کا خط، خالہ کے لئے کارڈ، پودوں کی دیکھ بھال، پرندوں کو کھانا دینا
* کچھ ایسا کریں جو پسند نہ ہو یا جسکا خوف سا دل میں ہو۔ جیسے کوئی نیا دوست بنانا، کلاس میں ہاتھ کھڑا کرنا، باتھ روم صاف کرنے میں ماما کی مدد کرنا
* موڈ خراب ہو تو بالکل خاموش رہنے کی عادت ڈالیں۔ جب بہتر محسوس کریں تب اپنی بات اچھے طریقے سے کریں۔ یہ مینرز سوشل میڈیا کے لئے بھی بچوں کو سکھائیں۔ غصے میں کامنٹ یا پوسٹ بالکل نہ کریں۔ وہی بات بعد میں اچھے طریقے سے کہہ جا سکتی ہے۔
* جب غلطی کریں، کہے بغیر سوری بولیں۔ اس انتظار میں نہ رہیں کہ جب کہا جائے گا تبھی کہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدارا! اپنے بچوں کو سمجھیں - عبدالباسط ذوالفقار

۲۔ پہلے سے منصوبہ بندی کر کے رکھنا
بچوں کو شروع سے ہی اختتام کو مد نظر رکھ کر کام کرنا سکھانا ہو گا۔ عیدی ملی، پاس ہونے پر پیسے ملے۔ اب کیا کرنا ہے؟ کیا سارے خرچ کر دینے ہیں؟ کیا سبھی جمع کر لینے ہیں؟ سب خرچ کر دئیے تو کیا ہو گا؟ جمع کرتے رہے اور خرچ نہ کیے تو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہے؟ تین خط کے لفافوں پر اخراجات، سیونگ، صدقات لکھ لیجیے اور انجام کو سامنے رکھ کر بچوں کو فیصلہ کرنے میں مدد کریں۔
پیسوں کی طرح وقت کو ضائع کرنے کے نقصانات پر بھی بات کی جائے۔ اگر ہر وقت پڑھتے رہیں تو کیا فایدہ کیا نقصان؟ اگر کھیل تماشے میں لگے رہیں اور پڑھائی اور ٹیسٹ کی تیاری نہ کریں تو کیا ہو گا؟ انجام پر نظر ہونا کیوں ضروری ہے، یہ بتائیے۔

مسلمانوں کے لئے تو خاتمہ بالخیر اور روزِ قیامت نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں ہونا ضروری ہے اس لئے بھی اختتام کو نظر میں رکھنا سکھانا ہے۔
تو بچے کیا کریں؟
رات کو ہی صبح کے کپڑے، کتابیں، پانی کی بوتل، بیگ وغیرہ سیٹ کر کے رکھیں۔
تین گولز لکھیں اور لکھ کر سامنے ہی لٹکائیں۔ سوچیں کہ بڑا ہو کے کیا بننا ہے؟ اس کے مطابق پلین کریں
کوئی ایک چیز ایسی سوچیں جس میں اچھے نہیں اور بہتری کی گنجائش ہے۔ اس پر کام کرنا شروع کریں۔ یہ کچھ بھی ہو سکتا ہے جیسے روز کا ہوم ورک روز کرنا، دانتوؓں کی صفائی ٹھیک سے کرنا، امی ابو کی بات پہلی بار سننا۔۔۔

جاری ہے

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.