ایک اینٹ بھی کچھ بننا چاہتی ہے - عارف انیس

کسی محل سرا کی دیوار کا حصہ، حرم پاک کا فرش، تاج محل کا گنبد، کسی مسجد قرطبہ کی دہلیز، وہ کچھ نہ کچھ بننا چاہتی ہے اور ہم تو پھر بھی انسان ہیں، ہمارے خواب ایک اینٹ سے تو بڑے ہوسکتے ہیں اور ایسے ہی کچھ اپنے خواب ہیں.

میری زندگی میں ایک خواب ہے، ایک چراغ ہے, ایک امید ہے اور ایک بس تم ہو!
خوبصورت لوگو، بہت شکریہ!
لندن گلوبل سمٹ 2019 میں، 'گلوبل مین آف دی ایئر' کا ایوارڈ جیتنے کے بعد آپ لوگوں کے ہزاروں پیغامات وصول ہوئے. آپ سب کے پیار کا شکریہ.
بہت سے لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ ایوارڈ کیا ہے. گلوبل مین اور گلوبل وومن، دو میگزین ہیں جو لندن سے شائع ہوتے ہیں اور پچاس، ساٹھ ممالک میں پڑھے جاتے ہیں. یہ ہر سال مختلف ممالک سے ان افراد کو اپنے پڑھنے والوں کے لیے نامزد کرتے ہیں، جو ان کے بقول کچھ خاص کر رہے ہوتے ہیں. پہلے مرحلے ملکی سطح پر انتخاب کیا جاتا ہے. میرے لیے نامزدگی حیران کن تھی کہ میرے مقابلے پر کئی عالمی شہرت یافتہ برطانوی مصنفین اور سپیکرز موجود تھے. مزید حیرت اس وقت ہوئی جب مئی میں مجھے برطانیہ کی جانب سے فاتح قرار دے کر اگلے مرحلے میں بھیج دیا گیا جس میں 14 یورپی ممالک کے ونرز کے ساتھ مقابلہ تھا جو 13 جولائی کو گلوبل سمٹ میں ختم ہوا، جہاں معلوم ہوا کہ 2019 کا گلوبل مین ایوارڈ میں نے جیت لیا ہے.

یہ سب میرے رب کا کرم ہے اور آپ احباب کی دعاؤں کا ثمر ہے. ورنہ، یہ کہانی، جو وادی سون سکیسر کے سنگلاخ پہاڑوں پر ایک گاؤں انگہ میں، تقریباً چالیس برس قبل شروع ہوئی تھی، ہرگز اتنی دلکشا نہ ہوتی. بارہ، تیرہ برس کی عمر تک میں ایک آجڑی ( چرواہا) تھا جو اپنی بکریوں کے ساتھ، کھدری (مقامی جنگل) میں گڑھے پھلانگتا پھرتا تھا. بڑے بھائی طارق انیس اور اپنی والدہ کے ساتھ کنوئیں سے پانی بھرنے جاتا تھا جو میلوں لمبا رستہ بنتا تھا. والد مرحوم فوج سے بحیثیت صوبیدار ریٹائرڈ ہو کر گاؤں آئے تھے اور سولین ماحول سے نباہ کرنے کی کشمکش میں تھے. تب یہ جاننے کی آرزو پیدا ہوئی کہ کیا ان پہاڑوں کے پار بھی کوئی دنیا ہے؟ اور اگر ہے تو اسے تسخیر کرنے کا کیا گر ہے؟ وہ کون سا اسم اعظم ہے جو کہ بند دروازوں اور مقدر کے تالوں کو کھولتا ہے.
مڑ کر دیکھوں، تو پتھر کا ہوجاؤں. کہاں کہاں، میرا ہاتھ تھام لیا گیا اور گرتے ہوئے کو سنبھال لیا گیا. در وا ہوتے چلے گئے، رستے کھلتے گئے. اسم اعظم کی برکت سے پتھر موم ہوتے چلے گئے. کئی نسلوں کا سفر، ایک ہی زندگی میں کٹ گیا.

ایک چرواہے کے بیٹے نے گورنمنٹ کالج اور پنجاب یونیورسٹی سے نفسیات کی تعلیم بھی حاصل کر لی، پاکستان کا سب سے بڑا امتحان سی ایس ایس بھی پاس کر لیا. اپنے دیرینہ سیلف میڈ دوست میاں جہانگیر کے ساتھ ایک یونیورسٹی کا خواب بھی دیکھ لیا اور اسی دوران مجھے احساس ہوا کہ میں افسر بننے کے لیے پیدا نہیں ہوا، خدمت کی دستک دینے کے لیے دنیا میں آیا ہوں. میرا کام ان مجسموں کو تراشنا ہے جو ابھی چٹانوں میں بند تھے. ان خوابوں کا سفر پاکستان کے معروف موٹیویشنل سپیکر قیصر عباس کے ساتھ طے کیا. پاکستان میں، پرسنل ڈیویلپمنٹ کا سفر گھٹنوں کے بل چل رہا تھا، اور اس راستے پر ڈالنے والے ڈاکٹر صداقت علی تھے. سو بہترین سے سیکھنے کی تمنا میں مغرب کا قصد کر لیا.
گزشتہ دس برس میں آکسفورڈ، کیمبرج، ہارورڈ سمیت دنیا کے بڑے اداروں اور پرسنل ڈیویلپمنٹ سے وابستہ دیوتاؤں سے بھی سیکھا. پھر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ برطانیہ، آسٹریلیا، پولینڈ کے وزرائے اعظم اور امریکی صدور سے لے کر پندرہ سربراہان مملکت کے ساتھ گلوبل سطح پر سٹیج شئر کیا،

41 ممالک میں 75 سے زیادہ یونیورسٹیوں اور اداروں میں سیکڑوں تقریبات میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ، زندگی کو سمجھنے، سمجھانے کا موقع ملا. اللہ کے فضل وکرم سے چار سال قبل ایک ایسا وقت بھی آیا کہ ٹائم میگزین کی دنیا میں سب سے مؤثر ترین سو افراد کی فہرست میں سے بیس اپنے حلقہ اثر میں تھے. سوچا بھی نہ تھا کہ خواب یوں بھی سچے ہوسکتے ہیں. ان چار عشروں کا حاصل بس یہ آرزو ہے کہ اس ایک چراغ اور امید کو کسی طرح آگے پہنچا دیا جائے، جوت جگا دی جائے، زندگیوں کو پر مقصد جنون سے بھر دیا جائے اور تیشہ فرہاد سے رستے میں آنے والے پہاڑوں کو سرمہ بنا دیا جائے، کہ میرے قافلے میں لٹا دے اسے، لٹا دے ٹھکانے لگا دے اسے! یہ جنون اس وقت مزید متشکل ہوگیا جب اسے عظمیٰ انیس کی ہمرکابی بھی حاصل ہوگئی؛!
جب گلوبل مین ایوارڈ کا اعلان ہورہا تھا، اس وقت میں میلوں دور ڈاکٹر امجد ثاقب کے ساتھ اخوت یو کے کے لیے ایک اہم ذمہ داری سے نبردآزما تھا اور گورنر پنجاب اور چیف جسٹس لاہور ہماری برسوں کی کاوش کے نتیجے میں، بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے خصوصی بینچ کے قیام کا اعلان کررہے تھے!

حاصل کلام بس اتنا ہے کہ اگر وادی سون کا ایک چرواہا کسی پگڈنڈی پر چڑھ سکتا ہے تو آپ پر تو اللہ کا بہت فضل ہے. آپ کے بھی خواب سچے ہوسکتے ہیں. بس یو نیور گیو آپ. جب زندگی کا ہتھوڑا برسے اور لٹا دے تو پھر سے آٹھ کھڑے ہوں، وعدہ کیجئے کہ آپ تن کر کھڑے رہیں گے اور اپنے مقصد سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ یو آر پاسیبل اینڈ دا ٹائم از ناؤ!
چار عشروں کی زندگی میں کوئی بہت بڑی توپ نہیں چلائی گئی ہے. اپنے لیے کامیاب ہوجانا تو ویسے بھی کوئی خاص کوالیفیکیشن نہیں ہے. ہاں بس یہ ضرور ہے کہ کچھ آنکھوں میں رت جگے اور خواب کاشت کیے، خواب زادوں کا ایک اور قبیلہ ضرور پیدا کیا جو اپنی زندگی اجالے اور امید پھیلانے کے لیے وقف کر چکے ہیں. یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی.
یہ ایوارڈ ان تمام چرواہوں، مزدوروں، کسانوں محنت کشوں اور مولو مصلیوں کے نام ہے جن کی آنکھوں میں کل کے خواب جھلملاتے ہیں.
حتیٰ کی ایک اینٹ بھی کچھ بننا چاہتی ہے؟ بولو، تم کیا بن سکتے /سکتی ہو؟
‏خس خس جِناں قدر نا میرا، میرے صاحب نوں وڈیائیاں ؎
میں گلیاں دا روڑا کوڑا تے محل چڑھایا سائیاں ؎

Comments

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک

عارف انیس ملک معروف تھنک ٹینکر، بین الا قوامی سطح پر معروف ماہر نفسیات اور پاکستان سول سروس سے وابستہ ہیں۔ نفسیات، لیڈرشپ اور پرسنل ڈیویلپمنٹ پران کی تین عدد کتابیں شائع ہو کرقبول عام حاصل کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.