انساني تہذيب کي خونيں نقشہ گری - ناصر فاروق

واحد انساني تہذيب انتہائي غير انساني حالات سے دوچارہے۔ چار جانب سے فساد اور فتنے فنا کے درپے ہیں۔ عرب نسل پرست، فارس نسل پرست، يہودي نسل پرست اور مغرب مال پرست بہ يک وقت حملہ آور ہیں۔ خون آشام حلب کے مشرق سے مغرب ميں ڈوبتے سرخ افق تک، اور بد نصيب بغداد کي گليوں سے انقلابي استنبول کے چوراہوں تک ناحق خون ارزاں ہوچکا ہے۔ اس انساني بحران ميں نسل پرستوں اورمال پرستوں کي حيثيت اور کیفیت مشرق وسطي کي بڑي ہولناک تصوير واضح کر رہي ہے، تاہم صورتحال کا عمومي تجزيہ تصوير کا جزوي، جانبدارانہ، جذباتي، اور ميلاني رخ سامنے لا رہا ہے۔ بات مگر مکمل تصوير کے بنا بے وزن اوربے نتيجہ نظر آ رہي ہے۔ چنانچہ مکمل خاکہ سمجھنا ناگزير ہے۔

درجہ بندي ہو سکتي ہے۔ سب سے پہلے صورتحال پر سب سے زيادہ اثرانداز يہودي نسل پرستوں کا ذکر ہو سکتا ہے۔ يہ سمجھتے ہیں کہ اعلٰي ترين انساني نسل ہیں، جبکہ ديگر انساني نسلیں کمتر، ماتحت، اور رذيل ہیں۔ يہ سمجھتے ہیں خدا کے چہيتے ہیں، کسي کوجوابدہ نہیں ہیں۔ يہ سمجھتے ہیں کہ انبياء کي اولاديں ہیں، اس ليے انسانوں پر حاکميت ان کا حق ہے۔ حاکميت کي حکمت عملي کا عنوان 'صہيونيت' ہے۔ حاکميت کي اقتصادي حکمت عملي عالمي معاشي نظام کا انتظام ہے۔ حاکميت کي سياسي حکمت عملي طاقتورممالک ميں طاقتور لابي ازم ہے۔ حاکمیت کی پروپیگنڈہ حکمت عملی عالمی ذرائع ابلاغ کا استعمال ہے۔ حاکميت کي جغرافيائي حکمت عملي 'عظيم تر اسرائيل' کا قيام ہے۔ يہ 'عظيم تراسرائيل' مکمل وضاحت سے کليہ، نظريے، عقيدے، ارادے، اور اعلان سے آگے بڑھ کر مشرق وسطٰي کي زميني حقيقت بن رہا ہے۔ اس کے خدوخال اور حکمت عملي 'عوديد ينون منصوبہ' میں بيان ہوئي ہے۔ گریٹر اسرائیل کا تصور ہمیشہ سے صہیونی ایجنڈے کی منزل ہے، بانی تھیوڈورہرزل نے کہا تھا، ''ریاست اسرائیل دریائے نیل کے کناروں سے دریائے فرات تک پھیلی ہے۔'' تفصيل يہ ہے کہ اسرائيل کے پڑوسي ملکوں کے حصے بخرے کيے جائیں۔ مثلا شام، لبنان، عراق، اور ديگر ملکوں کے اتنے ٹکڑے کر ديے جائیں، کہ 'عظيم تراسرائيل' کي جغرافيائي توسيع اور سياسي حاکميت يروشلم سے مدينہ تک عملا قائم ہو سکے۔ ان ملکوں کي تقسيم در تقسيم کے لیے نسلي اور فرقہ ورانہ تعصب اور نفرت کا ايندھن استعمال کيا جائے۔ اسے ممکن بنانے کے لیے معاشي ماتحت قوتوں کي جنگي مشنريز کا سہارا ليا جائے۔ شیعہ، سني، عربي، فارسي، دروزي، کرد، يزيدي، ترکماني، اور علوي کي ٹکڑياں نقشے کے ٹکڑے ٹکڑے کر ديں۔ اس تعصب اور نفرت کا فروغ مرکزي ذرائع ابلاغ کے ذريعہ ممکن بنايا جائے۔

جيسے جيسے مسلمان بستيوں سے خون رس رہا ہے، ويسے ويسے اسرائيل کي ناجائز بستياں سرزمين بيت المقدس پر قبضہ جما رہي ہیں۔ ساري عالمي توجہ مگرشام، عراق، اور ترکي پر ہے۔ بيت المقدس پرقبضہ سے اب تک پانچ لاکھ سے زائد يہودي دو سو تيس نئي ناجائز بستياں آباد کر چکے ہیں، اور مزيد بہت سي مسلمان بستياں برباد کرچکے ہیں۔ ايران کے پريس ٹي وي کو انٹرويو Israel, biggest force behind wars in Middle East: Analyst میں امريکي دانشور کيون بيرٹ اور آئن وليم نے اس جانب اشارہ کيا ہے۔ کيون بيرٹ نے باليقین کہا ہے کہ مشرق وسطي میں جنگي صورتحال کے پيچھے سب سے بڑي قوت تل ابيب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صہيونيوں نے پورے مغرب کو اسلام سے تہذيبي تصادم میں جھونک ديا ہے۔

اسرائيل کي توسيع کا ايجنڈا تيزي سے آگے بڑھانے کا ايک اور بندوبست نئے امريکي صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کر ديا ہے۔ صہيوني قانون دان ڈيوڈ فرائيڈمین تل ابيب میں امريکا کا سفير مقرر کر ديا گيا ہے۔ فرائيڈمین ناجائز يہودي آبادکاري کا علي الاعلان حامي و معاون ہے۔ باقاعدگي سے ناجائز آبادکاروں کي ويب سائٹ Arutz Sheva کے لیے لکھتا ہے۔ وہ نظرياتي طور پر صہيوني وزيراعظم نيتن ياہو کا داياں بازو ہے۔ ڈيوڈ فرائيڈمين کا باپ مورس فرائيڈمين امريکا ميں Temple Hillel کا رابي تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا صہيوني داماد جيرڈ کوشنرمغربي کنارے کي ناجائز آباد کاري پر خطير رقم چندہ کر چکا ہے۔

غرض 'عظيم تر اسرائيل' کا خونیں نقشہ مغربي کنارے سے حلب، اور بغداد سے سينائي، اورصنعاء سے مدينہ کي جانب پيش قدمي کررہا ہے۔ اس نقشہ میں خون بھرنے والا دوسرا مؤثرگروہ مغرب ہے۔ يہ روس، امريکا، اور نام نہاد نیٹو پر مشتمل ہے۔ يہ مالي، معاشي، اور نظرياتي مجبوريوں اور مفادات کے مارے ہیں، صہيونی ہدايات کے پابند ہیں۔ آرتھوڈکس روس، پروٹيسٹنٹ امريکا صليبي محاذآرائی کے گمان میں صہيوني سپاہي بنے ہوئے ہیں۔ یہ اسرائيل کي جنگي مشنريز ہیں، يہ مسلمان آبادیوں پر بربادیوں کا دہشتناک موسم بن چکے ہیں۔

فارس نسل پرست تيسري قوت ہیں، يہ عملا صہيوني ايجنڈے کا ايندھن بن رہے ہیں۔ يہ خودفريبي سي خودفريبي ميں مبتلا ہیں۔ يہ سمجھتے ہیں علاقائي شیعہ بالادستي حاصل کر سکیں گے، بالخصوص جبکہ عراق وشام کي حکومتیں بھي امريکا اور روس کي عنايات ہیں۔ ايران اورحزب اللہ بشارالاسد علوي اقتدار بچانے کے لیے ناقابل تلافي جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ تہران من و عن صہيوني ايجنڈے پر چل رہا ہے، دانستہ نادانستہ معاون و مددگار ہے۔ الميہ يہ ہے کہ ايک غلط فہمي نے تہران کودجل میں ڈال ديا ہے کہ روس اور امريکا الگ الگ اورمخالف ايجنڈے پرچل رہے ہیں، ايسا ہرگز نہیں ہے۔ امريکا اور روس صرف صہيوني ايجنڈے پر چل رہے ہیں۔ آج حلب جل رہا ہے، صنعاء راکھ ہو رہا ہے، اور موصل سلگ رہا ہے۔ کل جب صہيوني ايجنڈا آگے بڑھے گا، تہران کا ایجنڈا خاک و راکھ کردے گا۔ ايک خوش فہمي يہ ہے کہ روس اور بشارالاسد ايران کا توسیع پسند منصوبہ کامیاب بنائیں گے، ايسا بھي ہرگز نہیں ہوگا۔ عالم يہ ہے کہ ايران کے وزيردفاع حسین دہقان نے امريکا کو خبردار کيا ہے کہ اگرٹرمپ انتظاميہ نے نيوکلئير معاہدے سے ہٹ کردوسرا رستہ اختيار کيا، اور ايران سے جنگ چھيڑي، تواسرائيل اور چھوٹي خليج رياستيں تباہ کرديں گے۔ يقينا ايران کوخدشہ ہے کہ اسرائيل تہران کا توسیع پسند ايجنڈا ہضم نہیں کرسکتا، مگرحقیقت یہی ہے کہ ايران روسي افواج کے ساتھ ساتھ صہيوني ايجنڈے پر شاداں و فرحاں چلاجا رہا ہے۔ البتہ ایران گریٹر اسرائیل کے نقشے میں شامل نہیں، چنانچہ براہ راست تباہ کاری سے محفوظ ہے۔

چوتھی قوت عرب نسل پرست ہیں، جو دراصل کمزور اور ماتحت ہیں۔ یہ سعودی عرب اور خلیج ممالک پر مشتمل ہیں۔ یہ بالواسطہ طور پر صہیونی ایجنڈے کا ایندھن ہیں۔ یہ امریکا کی لائن پر چلتے ہیں۔ یہ بادشاہت کی خاطر ہر اسلامی تحریک کچل دینا چاہتے ہیں، جبکہ شیعہ و فارسی بالادستی سے بچاؤ کے لیے جنگجو گروہوں کی بھرپور معاونت بھی کرتے ہیں۔ یہ ایک جانب مصری فرعون السیسی کی تائید کرتے ہیں، دوسری جانب اخوان المسلمون کی قید وبند پر بغلیں بجاتے ہیں۔ یہ صرف ایک ہی امتیاز اور خاصیت کے حامل ہیں۔ یہ خادمین حرمین شریفین ہیں، حجاز مقدس کے منتظم ہیں۔ سو عالم اسلام کی توجہ کا مرکز ہیں۔ لٰہذا، صہیونی ایجنڈے کا آخری ہدف ہیں۔

ترکی کا کردار واحد امید ہے، مگر مشکل میں ہے۔ ایک جانب سیکولر ماضی اور حال ہے، دوسری جانب انقلابی حال اور اسلامی مستقبل کا سوال ہے۔ ايک جانب نيٹو اور روس کي منافقانہ معاونت کي آڑ میں دہشت ناک سازشوں کا سامنا ہے، دوسري جانب اندروني و بيروني سلامتي کے تحفظ کا گھمبير سوال ہے۔ ايک طرف شامي پناہ گزينوں کي عظيم کفالت کا ذمہ ہے، دوسي طرف کرائے کے دہشت گردوں کا گھيراؤ ہے اور بم دھماکے ہیں۔ ايک طرف روسي سفير کا قتل اور امريکہ کي سفارتي قطع تعلقي کي چالبازياں ہیں، دوسري جانب مثبت پيش قدمي میں مکمل تنہائي ہے۔ ہردوجانب سے اسلامبول چومکھي جنگ لڑ رہا ہے۔ گريٹر اسرائيل کي خونیں نقشہ گري میں واحد رکاوٹ ہے۔

مشرق وسطٰي کي موجودہ صورتحال میں امکانات اور خدشات ناقابل بيان ہیں، قابل بيان يہاں صرف رسول خدا صلي اللہ عليہ والہ وسلم کي احاديث مبارکہ ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: عقر دار المؤمنین بالشام (نسائی :۳۵۶۱) ''(فتنوں کے دور میں) مومنوں کا ٹھکانا شام ہوگا''۔
رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: سَيَصِيرُ الْأَمْرُ أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ، فَقَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ، فَقَالَ: عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِيَرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيَرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ، فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ وَاسْقُوا مِنْ غُدَرِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِه (مسند احمد: ۱۷۱۳۰) ''عنقریب معاملہ اتنا بڑھ جائے گا کہ بے شمار لشکر تیار ہو جائیں گے چنانچہ ایک لشکر شام میں ہوگا، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ، ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے عر ض کی یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر میں اس زمانے کو پاؤں تو مجھے کوئی منتخب راستہ بتا دیجئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام کو اپنے اوپر لازم کر لینا، کیونکہ وہ اللہ کی بہترین زمین ہے، جس کے لئے وہ اپنے منتخب بندوں کو چنتا ہے، اگر یہ نہ کر سکو تو پھر یمن کو اپنے اوپر لازم کر لینا، اور لوگوں کو اپنے حوضوں سے پانی پلاتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اہل شام اور ملک شام کی کفالت اپنے ذمے لے رکھی ہے۔''

رب کعبہ انساني تہذيب کے مسکن مشرق وسطٰي، بالخصوص اہل شام اور اہل يمن پر رحم فرمائے۔ آمين