حج عبادت بھی تربیت بھی‎ - پروفیسر زید حارث

ہر با شعور مسلمان اپنی زندگی میں اللہ کے گھر کی زیارت اپنے لیے باعث شرف سمجھتا ہے اور حج کرنا اپنے دین کی تکمیل کا جز گردانتا ہے۔ یقینا حج بیت اللہ اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پہ ہے، ان میں سے ایک ہر صاحب استطاعت مسلمان پہ اللہ کے گھر کا حج کرنا ہے۔ (صحیح بخاری)

ہمارے معاشرے میں حج کا بڑھتا ہوا رجحان یقینا خوش آئند ہے، لیکن اس حج سے پیدا ہونے والے اثرات بھی اسی تیزی سے معاشرے سے مفقود ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اللہ کے گھر کا حج ایسی عبادت ہے جو ایک انسان کی کو عبادت کے ساتھ ساتھ تربیت کے بھی کئی ایک مواقع فراہم کرتا ہے۔ انسان کی جسمانی و روحانی تربیت کا یہ ایک خوبصورت موقع ہے۔ یہ ایک ایسی عظیم اور منفرد عبادت ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ اس کے فوائد بے شمار ہیں۔ دینی و دنیاوی فوائد، مالی و معاشی فوائد، سماجی و معاشرتی فوائد، ان فوائد کو سمیٹنے کا تعلق یقینا انسان کے ارادے و محنت کے ساتھ ہے۔ آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

(1) حج اسلامی اخوت و بھائی چارے کی ایک تربیت گاہ ہے۔ تمام مسلمان ایک لباس، ایک جگہ، ایک ہی وقت میں اللہ کی عبادت کے مقصد کے ساتھ جمع ہو کر اس بات کا ثبوت دے رہے ہوتے ہیں کہ ہم اللہ کے حکم پہ اپنی رنگ و نسل اور مسلکوں و جماعتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی وحدت کو قائم کر سکتے ہیں۔ لیکن یہی مسلمان جب حج سے واپس آتے ہیں تو کلمہ توحید کو ایک جانب میں رکھ کر مسلکی و جماعتی تقسیم اور رنگ و نسل کی تقسیم کو بنیاد بنا کر مسلم معاشرے میں طوفان کھڑا کرنے اور انتشار بپا کرنے میں وہ کردار ادا کرتے ہیں جو ایک سلیم الفطرت انسان کو کسی صورت بھی زیب نہیں دیتا۔

(2) حج ایک مسلمان کی زندگی سے تکبر کو ختم کرنے کی ایک بہترین تربیت گاہ ہے۔ ایک حاجی شخص اپنے زرق و برق والے لباس کو اتار کر صرف دو سفید سادہ چادروں کو اپنے جسم پہ اوڑھ کر اللہ کی بڑائی کا مسلسل اعتراف کرتا ہے۔ ہر بڑا و چھوٹا، امیر و غریب، بادشاہ و وزیر، اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر، اپنی مسکنت و تذلل اللہ کے آگے پیش کرکے اس بات کی تصویر ہوتا ہے کہ ہر قسم کی بڑائی و عظمت کا مالک صرف اللہ رب العالمین ہے۔ پھر یہی مسلمان حج سے فارغ ہوتے ہی اپنی ذات اپنی قوم اپنے ملک کو بنیاد بنا کر تکبر و بڑائی کا وہ بیج بوتے ہیں جو مسلمانوں میں طبقاتی تقسیم کو ترویج دے کر اسلامی اخوت و بھائی چارے کی بیخ کنی کر دیتا ہے۔

(3) آسانی و تیسیر اسلام کی بنیادی خصوصیات میں سے ہے اور اسلام کی کوئی عبادت مشقت و تکلیف پہ مبنی نہیں ہے۔ کسی عبادت کے ذریعے لوگوں کو امتحان میں ڈالنا مقصود نہیں، عبادات دراصل ایک مسلمان کی تربیت کے لیے فرض کی گئیں ہیں نا کہ ان سے کوئی جسمانی یا ذہنی امتحان لینا مقصود تھا ۔نماز و روزے و زکوٰۃ اور حج کے احکامات کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے ۔ تو یہ بات بلکل واضح ہے کہ چند حدود قیود کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان کو جس طرح آسانی ہے وہ اللہ کی عبادت کر سکتا ہے ۔
حج میں بھی دس ذوالحجہ کو جو چار کام(بال کٹوانا یا منڈوانا، قربانی کرنا، کنکریاں مارنا، بیت اللہ کا طواف کرنا) حاجی کے ذمہ لگائے گئے اس میں تقدیم و تاخیر پہ کوئی سختی نہی کی گئی بلکہ جو بھی سوال کرنے آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أفعل ولا حرج کر لو کوئی حرج نہیں۔

(4) حج کی عبادت عورت کے احترام و اکرام کا ایک شاندار مظہر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا ۔ اللہ کے رسول میرا نام فلاں اور فلاں غزوے میں لکھ دیا گیا ہے۔ اور میری بیوی حج کا ارادہ رکھتی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد جیسے فریضے میں شمولیت کا ارادہ کر لینے کے باوجود اس بات کو ترجیح دی کہ ایک مسلم عورت کی حفاظت اس کے حقوق اور اس کی دل جوئی اور اس کے ارادہ عبادت کو جہاد پہ مقدم کرتے ہوئے حکم صادر فرما دیا کہ عورت کا حج کا ارادہ تیرے جہاد کے ارادے سے افضل ہے۔ اور مزدلفہ سے واپسی منی کی طرف دس ذوالحجہ کا سورج طلوع ہونے کے بعد حاجیوں کو نکلنے کا حکم ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں اور کمزور لوگوں کو رات کو ہی مزدلفہ سے رخصت فرما دیا تا کہ یہ صبح کی گرمی اور رش کی تکلیف سے محفوظ اگلے مقام تک پہنچ کر عبادت کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تربیتِ اولاد اور دعا - نسیمہ ابوبکر

(5) حج کا سفر اور بالخصوص مناسک حج ایک مسلمان کو اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ وہ اپنے تمام معاملات کو اللہ کے آگے پیش کرے اور اسی سے ان مسائل کے حل کی دعا کرے ۔ اور دعا کو اپنی زندگی میں اپنی روزانہ کا معمول بنا لے۔ ہم غور کریں تو یہ بات بلکل واضح نظر آتی ہے کہ مناسک حج میں چھ مقامات پہ دعا مسنون ہے۔ طواف، سعی کے دوران ،صفا و مروہ پہ، عرفہ،مشعر حرام، چھوٹے اور بڑے جمرات کو کنکریاں مارنے کے بعد، اور ان کے علاوہ سارا سفر ہی دعا کی قبولیت کا وقت ہے۔

(6) حج کی عبادت درس اعتدال دیتی ہے۔ امت اسلامیہ اعتدال اور توازن کی امت ہے۔ دین اور دنیا، عبادات اور معاملات میں اعتدال ایک حسن ہے اور یہ اعتدال ہی اسلام کی ایک امتیازی خوبی بھی ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دوران حج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پہ سوار حالت میں مجھ سے فرمایا کہ میرے لئے بھی (جمرات کو مارنے کے لیے)کنکریاں اکٹھی کر لے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سات کنکریاں اکٹھی کر لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کنکریوں کو اپنی ہتھیلی مبارک میں اچھال رہے تھے اور فرما رہے تھے ان جیسی (چنے کے دانے کے برابر سائز کی)کنکریاں مارنا۔پھر فرمایا اے لوگو دین میں زیادتی و غلو کرنے سے بچ جاؤ یقینا تم سے پہلے لگوں کو دین میں زیادتی و غلو نے ہی ہلاک کیا۔ ( مسند احمد) کنکریاں مارنے میں بھی سائز بڑا کرنا غلو ہے اور جو لوگ عبادات میں اتنا آگے گزر جاتے ہیں کہ حقوق العباد ہی بھول جاتے ہیں تو یقینا یہ بھی غلو ہے جو باعث سعادت نہیں باعث وبال ہے۔ اعتدال و میانہ روی ہی ہر کام کا حسن ہے۔

(7) حج نفوس کا تزکیہ اور دلوں کی گندگی صاف کر کے اطمینان جیسی خوبصورت دولت سے مالا مال کرتا ہے اور اس دولت کا حصول تب ہی ممکن ہے جب ایک حاجی حج کے دوران مشقت و تھکاوٹ کا،بدانتظامی کا، کسی ایجنٹ کی خیانت کا،لوگوں کی بدسلوکی کا رونا رونے کی بجائے اپنی زبان کو مسلسل اللہ کی یاد سے تر رکھے۔ اور اپنی زبان و دل کو اللہ کے ذکر کے ساتھ اتنا مضبوط جوڑ لے کہ دنیا کی ہر مصیبت اس کے لئے آسان ہو جائے۔اسی لئے جب ہم غور کرتے ہیں تو تمام مناسک حج میں ہر فرض کی ادائیگی کے ساتھ اللہ کے ذکر کا حکم قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 198سے 203 تک اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ عرفات سے واپسی پہ مزدلفہ سے واپسی پہ اور حج کے اختتام پہ اور ایام تشریق میں اللہ کا ذکر کرو۔عبادت کی فضیلت اور اس کے درجات اور اس کا اجر و ثواب اور اس کی تاثیر کا اللہ کے ذکر سے گہرا تعلق ہے۔ مسند احمد میں ایک روایت ہے معاذ بن انس الجھنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ایک بندے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا حاجی زیادہ اجر والا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مے فرمایا اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والا۔

(8) سفر حج وہ مبارک سفر ہے جس میں ایک مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق معاہدہ کر کے زاد راہ باندھ لیتا ہے لیکن وہ اس خطے میں رہائش اور کھانے اور سفر کی سہولیات سے بلکل ناواقف ہوتا ہے لیکن اللہ پہ توکل کرتے ہوئے اپنا مال ،جان، عزت اللہ کے سپرد کرتے ہوئے اللہ پہ بھروسہ توکل کر کے سفر کرتا ہے۔اود یہ حج ہمیں توکل کا صحیح مفہوم بھی سمجھاتا ہے اور توکل کی اصل حقیقت سے روشناس کرواتا ہےکہ توکل ہر گز یہ نہیں کہ آپ ہاتھوں پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور کوشش نہ کریں اور اسباب تلاش نہ کریں اور کہتے رہیں کہ یہ میرا توکل ہے۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ اہل یمن حج کرنے کے لیے آتے تو کوئی سامان (کھانا )وغیرہ ساتھ نہ لے کر آتے پھر وہاں لوگوں سے مانگتے اور کہتے کہ ہم تو توکل کرنے والے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔اور تم زاد راہ لیا کرو یقینا بہترین زاد راہ تقوی ہے۔ (البقرہ 197)

یہ بھی پڑھیں:   تربیتِ اولاد اور دعا - نسیمہ ابوبکر

اسباب کے استعمال کے بغیر توکل کرنا خلاف فطرت اور خلاف شریعت ہے۔ اپنی محنت اور اپنی صلاحیت خرچ کرنے کے بعد انسان اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کر دے تو یقینا پھر اللہ ضرور مدد کرتا ہے۔ سنن ترمذی میں حدیث ہے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: اگر تم اللہ پہ اس طرح بھروسہ کر لو جس طرح بھروسہ کرنے کا حق ہے تو یقینا وہ تمہیں اسی طرح رزق دے جس طرح وہ پرندوں کو رزق دیتا ہے وہ صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کے وقت پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔ تو اس حدیث میں بھی توکل کی یہ تعریف سمجھائی گئی کہ توکل پرندوں والا اور تلاش بھی ویسے ہی کرنی چاہیے۔

(9) حج ایک مسلمان کو اس بات کا درس دیتا ہے کہ دین کے لیے اپنا گھر چھوڑنا اور اللہ کی رضا کے لئے اپنے وطن کو خیرباد کہہ دینا،اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اپنے رشتہ داروں کی جدائی برداشت کرنا زندگی کا ایک امتحان ہے۔ کچھ لوگ یہ سب کچھ دنیا کی زینت کو حاصل کرنے یا بڑھانے کے لیے کرتے ہیں اور بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ایسی کوئی بھی قربانی صرف اللہ کی رضا کے لیے پیش کرتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا اپنی بیوی اور چھوٹے سے بچے کو بے آب و گیاہ زمین میں چھوڑ دینا اور پھر اللہ کا حکم تسلیم کرتے ہوئے ان کی جدائی کو برداشت کرنا ایک ایسا عظیم عمل تھا کہ جس کے بعد بیت اللہ کی تعمیر ہوئی۔ اسی توکل و یقین کا اعلی نمونہ پیش کرنے کے بعد ہی قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے زمزم جیسے مبارک پانی کا اجراء ہو گیا۔ یقینا بعض اوقات ایک شخص کی قربانی آنے والی کئی نسلوں کے لئے رستے بنا دیتی ہے۔ اور یقینا قربانی کبھی ضائع نہیں ہوتی ۔ قربانی دینے والے کے اخلاص کی بنیاد پہ نتائج کو پھل لگتا ہے۔

(10) عرفہ کے دن ہونے والا خطبہ حجۃ الوداع اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسلمان کی عزت اور جان اور مال بہت زیادہ قیمتی ہے۔ ہمارا معاشرہ انسانی قتل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ زمینوں ل،فصلوں، رشتوں، ذاتی رنجشوں اور غیرت کے نام پہ ہونے والے قتل کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو اسلام اور بالخصوص حج کی تربیت کے منافی ہے۔ ہماری مجالس بہتان بازی سے آلودہ ہوتی ہیں ہماری زبانیں کسی مسلمان پہ کیچڑ اچھالنے سے بلکل پرہیز نہی کرتیں۔ہم۔کسی مسلمان کا گریبان پکڑنے اور اس پہ منہ پہ طمانچہ رسید کرنے اور اس کے ساتھ جھگڑنے میں بلکل تاخیر نہیں کرتے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حج کے مبارک موقع پہ فرمایا تھا۔ یقینا تمہارے خون تمہارے مال تمہاری عزتوں کی حرمت اس طرح ہے جیسا کہ مکہ شہر میں اس مہینے اور اس (عرفہ) کے دن کی حرمت ہے۔ اور تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پہ حرام ہیں۔

(11) انسان کا وطن اور اس کا گھر اور اس کے رشتہ دار اللہ کی نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں کی قدر کرنا ان کا حق ادا کرنا ان سے خیانت نہ کرنا یہ بھی دین کا ایک اہم جزء اور انسانیت کا ایک اہم تقاضا ہے۔ یقینا جب انسان سفر حج سے واپس اپنے گھر کو لوٹتا ہے تو مکہ کی محبت کے باوجود، مدینہ سے لگاؤ رکھنے کے باوجود مدینہ میں موت کی دعائیں اور تمنا رکھنے کے باوجود ہر حاجی اپنے وطن اور گھر کی طرف واپسی کا حریص بھی ہوتا ہے اور مشتاق بھی۔ یہ وہ محبت ہے جو اللہ نے ہر انسان کی فطرت میں رکھی ہے۔ واپس پہنچ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس کے گھر کا حج اسی کو نصیب ہوتا ہے جس کو وہ ذوالجلال و الاکرام توفیق دیتا ہے، اور رشتہ داروں کو اکٹھا کر کے ایک دعوت کرنا بھی مسنون عمل ہے۔