فیس بک کے لکھاری ۔۔۔ زارا مظہر

فیس بک پر لکھنے والوں کو پرنٹ میڈیا پر چھپنے والے کچھ قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ۔۔۔ اور بڑی حقارت سے انہیں فیس بکی دانشور کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ فیس بک پر رسائی کی وجہ سے ہر کوئی لکھاری بن بیٹھا ہے۔

میرا یہ کہنا ہے کہ فیس بک پر سنجیدہ لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔۔ (چولیات مستثنیٰ ہیں ) جہاں پر آپ کی تحریر کی رسائی ہر عالم اور جاہل تک بےحد آ سان ہے ۔۔۔ فیس بک پر لکھنے والے ہر طرح کے قاری کو سہتے ہیں۔

یہ بالکل ایسے ہی سمجھا جائے جیسے پردۂ اسکرین پر کام کرنے والے اور اسٹیج پر لائیو پرفارم کرنے والے ہوتے ہیں ۔۔۔ آپ کے قاری اسی وقت کمنٹس میں آپ کی تحریر کو پاس یا فیل کی سند عطا کر دیتے ہیں ۔۔ اور کبھی کبھی فلاپ کی بھی۔

معیاری پرنٹ میڈیا میں تحریر کو دس نظروں سے گزار کر قبولیت بخشی جاتی ہے ۔۔۔ اس کے بعد عام قاری کے حوالے کی جاتی ہے ۔۔۔ مگر وہی کامیاب ہوتا ہے جس کی تحریر میں دم ہوتا ہے۔

فیس بک پر بھی ہزارہا لکھنے والے ہیں، بلاشبہ اردو کی پیڈ نے بے تحاشا لکھاری پیدا کیے ہیں ۔۔۔ مگر قبولیت اسے ہی ملی جس کی تحریر میں دم تھا ۔۔

میں ذاتی طور پر دونوں جگہوں پر لکھتی ہوں اور یکساں پذیرائی ملتی ہے ۔۔۔ مگر دو وجوہات کی بنا پر مجھے فیس بک پر لکھنا زیادہ پسند ہے ۔۔۔ ایک تو میری پہچان یہیں سے بنی ۔۔۔ یہیں سے ایک سیڑھی پرنٹ میڈیا کی طرف مڑ گئی ۔۔۔ دوسرے قاری کے براہِ راست رابطے میں ہوں ۔۔۔ جو بھی لکھا جاتا ہے فورا ہی پتہ چل جاتا ہے کہ تحریر کہاں تک قاری کے دل میں جگہ بنا پائی۔

یہ امر دیگر ہے کہ فیس بک تقریبا ہر پاکستانی استعمال کرتا ہے تو آ پکی تحریر زیادہ لوگوں تک رسائی رکھتی ہے ۔ لوگ کتاب یا اخبار خرید کر پڑھنے سے اجتناب برتتے ہیں ۔۔ بڑے سے بڑے کالم نگار اور اخبار نویس اپنے پرنٹ میڈیا کے کالمز اور تحاریر فیس بک پر شیئر کرتے ہیں تاکہ تحریر زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کر سکے ۔۔

سمجھ لینا چاہیے کہ آ نے والا اگلا دور سوشل میڈیا کا ہی ہوگا ۔۔۔ اور یہاں پر لکھنے والے خواتین و حضرات کی تخلیقی صلاحیت چَھپنے والوں سے ہرگز کم نہیں ۔۔۔ انہیں حقارت سے دیکھنا بند کر دیجئے.

Comments

زارا مظہر

زارا مظہر

زارا مظہر نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے، شاعری سے شغف ہے۔ دل میں چھوٹے چھوٹے محسوسات کا اژدھام ہے جو سینے جو بوجھل پن کا شکار رکھتا ہے، بڑے لوگوں کی طرح اظہاریہ ممکن نہیں، مگر اپنی کوشش کرتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.