اصل دشمن ! - احسان کوہاٹی

غلام مصطفی بلیدی کے وڈیو کلپ نے صبح سویرے سیلانی کا دل مسوس کر رکھ دیا ،اس نے سچ لکھا تھا کہ اگرآنسو روک سکتے ہیں تو یہ وڈیو کلپ دیکھنے کے بعد روک کر بتائیے گا، سیلانی تو پورا وڈیو کلپ ہی نہ دیکھ سکا اسکی آنکھوں کے گوشے نم ہوتے چلے گئے ،.

ایسے مناظر تو چڑیا گھروں میں ہوتے ہیں ،لوہے کی باڑھ کے پیچھے انسانوں سے مانوس ہرن ،زیبرے ، ریچھ ، بندر قریب چلے آتے ہیں اور پنجرے کی دوسری جانب پاپ کارن ،مونگ پھلی کے چوگے مارتی اشرف المخلوق ان بے زبانوں کی طرف پاپ کارن مونگ پھلی اچھال اچھال کر خوش ہوتی ہے ، وہ بے زباں ان پر لپکتے ہیں اور یہ خوشی سے مسکرانے لگتے ہیں ،چاکلیٹس کھلا کر قہقہے لگاتے ہیں تصاویر کھینچتے ہیں اور سیلفیاں بناتے ہیں ،یہ اتنی عام سی بات ہے کہ کوئی ان کا نوٹس بھی نہیں کرتا آپ بھی نہیں کریں گے لیکن اگر اس منظر میں چڑیا گھر کی جگہ فوڈ پارک قسم کی کوئی جگہ رکھ دی جائے اوریہاں دنیا کی مہذب ترین اقوام میں شمار ہونے والے گوروں کو بٹھا دیا جائے جواپنی گرل فرینڈز بوائے فرینڈز اور فیملی کے ساتھ من پسند کھانے کھا رہے ہوں ،مشروبات پی رہے ہوں اور ان کے سامنے زرا پرے کچھ ایسی خواتین کھڑی کر دی جائیں جو آنکھوں میں بھوک اور التجا لئے انہیں دیکھ رہی ہوں توآپ کہیں گے کہ یہ بھی کوئی عجیب بات نہیں ،ایسا تو یہاں راولپنڈی اور کراچی کی فوڈ اسٹریٹس اور اسلام آباد کی میلوڈی فوڈ پارک میں بھی ہوتا ہے ،کتنوں کو مجبوری ہاتھ پھیلائے سامنے لے آتی ہے لیکن یہاں ان مجبوروں کے سامنے کوئی پیزا اور گوشت کے ٹکڑے اچھال اچھال کر نہیں پھینکتا وہاں ایسا ہی ہو رہا تھا جانے یورپ کا کون سا ملک اور کون سا شہر تھا جہاں فوڈ پارک قسم کی جگہ پر خوش باش گورے بیٹھے برگر پیزے ٹھونس رہے تھے اور سامنے کھڑی مجبور خواتین انہیں دیکھ رہی تھیں کہ ان کے دل ”پسیجے“ اور انہوں نے ان کی جانب کھانے پینے کی اشیاء پھینکنا شروع کردیں جیسے کوئی کتوں اور جانوروں کے لیے پھینکتا ہے۔

نہیں ان مہذب ملکوں میں کتوں بلیوں اور خنزیروں کے بھی حقوق ہیں یہ لوگ انہیں بھی بسکٹ اور راتب پلیٹ میں رکھ کر دیتے ہیں اس طرح اچھال اچھال کر نہیں پھینکتے، وہ مجبور خواتین جانے کس کس کی بھوک لئے اس فوڈ پارک میں جمع تھیں وہ اچھالے گئے کھانے پر ایک ساتھ لپکیں بنچوں پر بیٹھے دنیا کی اس مہذب قوم نے صرف چڑیا گھر میں کھانے کی چیزوں پر اس طرح سے جانوروں کولپکتے دیکھا تھا یہ ان کے لئے نیا منظر تھا وہ اس سے محظوظ ہونے لگے ،پھر ایک کے بعد ایک ان مجبوروں بے کسوں کی جانب کچھ نہ کچھ اچھالتا یہ اس خیرات پر لپکتیںاور یہ قہقہے لگا نے لگتے اس منظر کو کیمرے کے میموری کارڈ میں محفوظ کرنے لگتے،یہ خوشحال لوگ خیرات پھینکتے ہوئے اس طرح کا شور کرتے جیسے فٹبال اسٹیڈیم میںمخالف ٹیم کے گول کی جانب بڑھتے ہوئے رونالڈو کا حوصلہ بڑھانے کے لئے تماشائی کورس میں شور کرتے ہیں ۔۔۔کس قدر چھوٹی بات ہے ناں ! جاننا چاہیں گے یہ چھوٹی بات کن سے کی جارہی ہے؟ دل پر ہاتھ رکھ لیجیے یہ ،میری اور آپکی مائیں بہنیں بیٹیاں ہیں ،ان کے جسم پر پڑے عبائے ،ان کے ڈھکے ہوئے سر چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہم کون ہیں ۔۔۔ غالبا یہ شام کی وہ مظلوم مائیں بہنیں ہیں جنہیں اب ہجرت پر افسوس ہے یہ زندگی کے اس رخ سے ناواقف تھیں انہیں علم نہیں تھا کہ زندگی اس روز کے لئے بچ رہی ہے جب ہر گھڑی مرنا ہوگا ۔

غلام مصطفٰی بلیدی کی اس وڈیو نے سیلانی کی طبیعت بوجھل کر دی اس کے ذہن سے وڈیو کے مناظرکسی چھپکلی کی طرح چپک گئے تھے یہ بار بار آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے، متکبر گورے کورس کے انداز میں شورمچاتے ہوئے انہیں متوجہ کرتے اور کھانے کی کوئی چیز ان کی جانب اچھال دیتے وہ اسے اٹھانے کو لپکتیں اور یہ قہقہے لگاتے۔۔۔سیلانی ذہن میں رینگتی ان چھپکلیوں کو جھٹکنے کی جتنی بھی کوشش کرتا ناکام رہتا سرزمین شام میں دنیا کا بڑا سانحہ رونما ہوا ہے ،وہ اپنی آنکھوں سے شامی مہاجرین کا حال دیکھ آیا ہے جو مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو کاروں میں گھومتے تھے وہ آج فٹ پاتھوں پر جوتے گھسیٹ رہے ہیں ۔۔۔سیلانی ان چھپکلیوں کو جھٹک رہا تھا جب پروفیسر رندھاوہ کی کال آئی
”ہاں بھئی ! لکھاری صاحب کافی کے ساتھ آئرش کیک چلے گا؟“
”سر! میں آجاوں گا لیکن کچھ کھانے کا موڈ نہیں ہے “
”میں تمہیں بلانا ہی تو چاہ رہا ہوں ویسے ہی آجاو.

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کی نگہداشت - لطیف النساء

اور پھر شام کوسیلانی پروفیسر صاحب کے بے ترتیب گھر پہنچ گیا وہ اپنی اسٹڈی روم میں کسی کتاب کی تلاش میں بڑبڑاتے ہوئے ملے ،سیلانی کو دیکھ کر سلام کلام کئے بغیر ہی بولے ”کبھی آئرش کیک کھانے کا اتفاق ہوا ہے ؟“

سیلانی کے نفی کے جواب پر کہنے لگے ”تو پھر تم ایک نعمت سے محروم رہے ہو “انہوں نے ملازم سے سیلانی کی پسند یدہ بلیک کافی اور کیک لانے کے لئے کہا اور ریڈنگ گلاس کو گلے کا ہار بناکر دور کی عینک ناک پر رکھ کر بولے ”معاملہ کیا ہے چپ چپ کیوں ہو؟

سیلانی نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا”سر ! ایک وڈیو دیکھی جس نے صبح سے طبیعت بوجھل کر رکھی ہے “ سیلانی نے انہیں پوری بات بتائی تو پروفیسر صاحب نے پرسوچ ہنکارہ بھرااور گویا ہوئے”ناصر کاظمی نے کہا تھا
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاوں گھنی ہوتی ہے ۔۔۔
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے،

ان شامیوں پر بڑا سخت وقت ہے مجھے تو ڈر ہے کہ یورپ کی تہذیب انہیں کھا نہ جائے ،برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے باپ دادا بھی کبھی مسلمان تھے وہ برطانیہ آئے اور وہاں کے رنگ میں رنگتے چلے گئے۔۔۔اسی لئے میں کہتا ہوں اپنے پاکستان کی قدر کرو پاکستان ہے تو ہم ہیں اس وقت پاکستان پر کئی سمتوں سے حملہ ہو چکا ہے ، تہذیبی طور پر ہم مسخر ہونے کے قریب ہیں ، معاشی طور پر کمزور سے کمزور ہوچکے ہیں اور اب نوبت یہ آگئی ہے کہ نیا ازار بند بھی لینے جاوتو ٹیکس دینا پڑے گا لیکن اس سے بھی بات بننا مشکل ہے کیوں کہ قرضہ بہت ہے اسکی ساری ذمہ داری اشرافیہ پر ہے مجھے ڈر ہے کہ ہمارے معاشی حالت تہذیبی تصادم اور پھٹا پرانا نظام انصاف ہمیں اس حال کونہ پہنچا دے جو تم نے وڈیو میں دیکھا ہے“

یہ کہہ کر پروفیسر صاحب نے گھڑی دیکھی اور اپنے ملازم کو آواز دی ”سہراب صاحب کہاں ہو بھئی “ پروفیسر کا موڈ جب اچھا ہوتا تو سہراب کو اسی طرح پکارتے ہیں، سہراب تھوڑی دیر میں کافی اور پلیٹ میں رکھاکیک لے آیا ،سیلانی نے کافی کا مگ لیا اور پروفیسر صاحب کی طرف تکنے لگا پروفیسر صاحب نے خود ہی کیک کاٹ کر سیلانی کی طرف بڑھایا اور کہایہ آئرش کیک میرے ایک دوست کی آئرش مسز نے بنا کر بھیجا ہے، کیک اچھا اور خوش ذائقہ تھا لیکن سچی بات ہے سیلانی کا جی نہیں چاہ رہا تھا اس نے پروفیسر صاحب کا دل رکھنے کے لئے تھوڑا سا کیک لے لیا، پروفیسر صاحب کہنے لگے ”ہمیں ایسی اشرافیہ چاہئے جو پاکستان کے لئے خودغرض ہو۔۔۔ اورایسا نظام انصاف درکار ہے جس میں جج کی فل اسٹاپ کے آگے نقطہ لگانے کی کسی کے باپ کی بھی مجال نہ ہو دیکھو اسرائیل ! چھوٹا سا ملک ہے عمر میں بھی ہم سے چھوٹا ہے آبادی میں بھی اور رقبے میں بھی ، ہم سینتالیس کو آزاد ہوئے اور چودہ مئی 1948ئ کو بطور ریاست اسکے قیام کا اعلان کیا گیا ہم میں اور ان میں ایک بات اور مشترک ہے کہ ہم بھی مذہبی نظریاتی اساس رکھتے ہیں اور وہ بھی“ یہ کہہ کر پروفیسر صاحب نے پوچھا
” تمہارا کبھی یہودیوں سے ملنا جلنا رہے ہے ؟“
سیلانی کے انکار پر کہنے لگے میرے حلقہ ءاحباب میں کئی یہودی ہیں ،ان کے نزدیک انسانوں کی دو اقسام ہیں ایک یہودی اور دوسرے غیر یہودی ۔۔۔ایک یہودی دوسرے یہودی پرکسی کو فوقیت نہیں دیتا لیکن جب یہی یہودی اسرائیل میں ہوتے ہیں توسب ایک ہوتے ہیں ان کا ایک سسٹم ہے مجال ہے کوئی یہودی اس سسٹم سے باہر ہاتھ پاؤں نکالے “
وہ کافی کی چسکی لینے لگے اور سیلانی کو مخاطب کیا”میرا ایک یہودی دوست لندن میںبزنس آئیڈیاز بیچتا ہے اسکے والدفارن سروس میں تھے اوروہ پاکستان میں رہ چکے ہیں وہ بھی اپنے بچپن کے دو سال یہاں اسلام آباد میں گزار چکا ہے میری اس سے فون پر بات ہو رہی تھی وہ باتوں باتوں میں مجھ سے کہنے لگا پاکستان اگر اپنی اشرافیہ کو کنٹرول کر لے تو بچ سکتا ہے ورنہ آنے والے دن اچھے نہیں لگتے وہ مجھے کہنے لگا آپ پاکستانی عجیب ہو قرضے مانگتے پھرتے ہو سخت ترین شرائط پر قرضہ لیتے ہو اور پھر بادشاہوں کی طرح دو نوں ہاتھوں سے پیسہ لٹاتے ہو، اس نے جانے کہاں پڑھ لیا تھا یا کسی نے بتا دیا تھا وہ مجھے بتانے لگا تمہارے وزیر اعظم اورصدر سرکاری خزانے سے بیس بیس نجی دورے کرتے ہیں اور لاکھ لاکھ ڈالر ٹپ میں دے دیتے ہیں ،یہ سب کیسے ممکن ہوجاتاہے کوئی انہیں روکتا کیوں نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر یہ نام سنتے ہی دل غم سے پھٹ پڑتا ہے۔-علی رضا

ابھی پچھلے مہینے اسرائیلی وزیر اعظم کی بیوی سارہ پرپندرہ ہزار ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے جانتے ہواس پرالزام کیا تھا صرف یہ کہ اس نے سرکاری باورچی ہوتے ہوئے باہر سے پسند کے کھانے منگوائے اور بل سرکاری خزانے سے ادا کیا،اسکی اس بات پرمیں تو شرمندہ ہوگیا اور موضوع بدل دیا ویسے کیا یہ سچ ہے ہمارے بادشاہوں نے اسی طرح دورے کئے ہیں؟“

”بدقسمتی سے یہی سچ ہے آصف زرداری صاحب نے اپنے دور میں بیرون ملک کے 134دورے کئے ، 48 دورے ذاتی نوعیت کے تھے انہوںنے ان دوروں میں مجموعی طور پر دو کروڑ روپے ٹپ میں دیئے میاں صاحب نے مقابلے میں تین کروڑ روپے ٹپ اور چار کروڑ کے تحائف دیئے زرداری صاحب بات بات پر دبئی اور میاں صاحب لندن جاتے تھے انہوںنے لند ن کے 22 دورے کئے بیس ذاتی تھے زرداری صاحب نے دو کروڑ روپے ٹپ دی تھی تو میاں صاحب نے تین کروڑ روپے ٹپ میں دیئے۔۔۔اب کپتان صاحب اور انکے کھلاڑیوں کاپتہ تو انکے جانے کے بعد چلے گا یہاں تو اقتدار کے خاتمے کے بعد ہی کڑے دن شروع ہوتے ہیں لیکن کپتان کو توجہ تو دینی ہوگی کفائت شعاری کے اعلان کے باوجود وزیر اعظم کا آنا جانا ہمیں خاصا مہنگا پڑتا ہے.

وزیر اعظم کے ایک دن کے آنے جانے کا خرچ ایک لاکھ یومیہ اور تین کروڑ انہتر لاکھ روپے سالانہ ہے جو پچھلے برس سے انتالیس لاکھ زیادہ ہے وزیر اعظم ہاوس کے اسٹاف اورگھرکے اخراجات کے لئے اکیس کروڑ ساٹھ لاکھ روپے رکھے گئے ہیں یہ رقم گذشتہ برس سے کم ہے لیکن اس میں مزید کمی ہونی چاہیے“۔

سیلانی کی باتوں پر پروفیسر صاحب حیران رہ گئے ان کے ہاتھ میں پکڑا کافی کا مگ لبوں تک کا سفر نہ کر سکا وہ حیرت سے سیلانی کو تکتے ہوئے کہنے لگے ”ابھی بھی اس طرح کے اخراجات ہو رہے ہیں ۔۔۔۔اوہ نو! کپتان کو چیک کرنا ہوگا ہاتھ کھینچنا ہو گا، بے شک ہماری فوج بہت پروفیشنل ہے ہم اٹامک پاور ہیں لیکن بہترین بندوق بھی گولی مانگتی ہے اورمفت میں تو سردرد کی گولی بھی نہیں ملتی۔۔ ۔بھئی تم لکھنے والے ہو لکھو پاکستان ہے تو ہم ہیںاس وقت ہماراصل ا دشمن ہمارے یہ اخراجات ہیں ، پاکستان ڈیفالٹ ہوا تو ہماری بہترین بندوقیں لاٹھیوں سے زیادہ کس کام کی رہیں گی، غربت بے روزگاری یہاں بھی وہی مناظر دکھا دے گی جو تم دیکھ کر آرہے ہو“
”اللہ نہ کرے “سیلانی کے منہ سے بے اختیار نکلا اور وہ بوڑھے پروفیسر کے پر تفکر چہرے کی جانب دیکھنے لگا اور دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.