اہل مذہب اور کارزار سیاست - نصراللہ گورایہ

نئے جہان اور دنیائیں ہمیشہ نئی فکر سے تعمیر ہوتی ہیں۔ اور نئی فکر کے لیے آزادی اظہار ناگزیر ہے۔ بقول اقبال


جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود

کہ سنگ وخشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا


لیکن یہاں پر ایک تاریخی مغالطے کی درستی بہت ضروری ہے کہ آزادی اظہار کا مطلب ’’مطلق آزادی‘‘ ہرگز نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اقبال دوبارہ ہماری رہنمائی کرتے ہیں:


گو فکر خداداد سے روشن ہے زمانہ

آزادی افکار ہے ابلیس کی ایجاد

ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار

انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ


اقبال اپنے علم اور فہم و فراست سے جانتے تھے کہ دنیا کی ساری ترقی فکر کی جولانیوں کا حاصل ہے، لیکن اسلامی فکر انہیں یہ بتلاتی ہے کہ جس چیز کو مطلق آزادی فکر کہا جاتا ہے، اس کا مظاہرہ سب سے پہلے ابلیس نے کیا تھا۔ لیکن ابلیس کی آزادی فکر کا کیا مفہوم ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے حضرت آدم ؑ کو سجدے کے لیے کہا تو اس نے انکار کیا۔ اس سے جب انکار کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ میں آگ سے بنا ہوں، جبکہ آدم ؑ کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے اور آگ مٹی سے بہتر ہے۔ چنانچہ برتر کم تر کو سجدہ نہیں کر سکتا لیکن یہ کہتے ہوئے ابلیس بھول گیا کہ اصل چیز آگ اور مٹی کا موازنہ نہیں بلکہ ’’حکم الٰہی‘‘ ہے۔ ابلیس خدا کے مقابلے پر اپنی رائے لے کر کھڑا ہو گیا۔ یہ مطلق آزادی فکر ہے اور اسلام کے دائرے میں کسی بھی مسلمان کو یہ آزادی ہرگزمطلوب نہیں ہو سکتی۔ ابلیس کے انکار کی دوسری آزادی یہ تھی کہ اس نے خدا کے علم کو اپنے علم سے کمتر جانا، حالانکہ مٹی اور آگ دونوں کا خالق صرف ایک اللہ ہے اور صرف اللہ کو معلوم تھا کہ مٹی اور آگ میں برتر کیا ہے اور کم تر کیا ہے؟ لیکن ابلیس نے آگ کی برتری کا اعلان اس انداز میں کیا کہ جیسے وہ خدا سے بہتر جانتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی یہ کائنات، اس کی بو قلمونی اور رنگا رنگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس میں حضرت انسان کی ہر ضرورت کو پیدا کیا، کچھ کو ظاہر کیا اور کچھ کو آسمانوں اور زمین کی تہہ میں چھپا دیا تاکہ ہم اس کے دیے ہوئے علم سے اس کو تلاش کر سکیں۔ لہذا جب سے یہ دنیا معرض وجود میں آئی ہے تو ایجادات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے جو روز وشب جاری و ساری ہے اور اسی کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا:


آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں

محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی


اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کی ساری ضروریات کا پورا خیال رکھا، وہاں پر انسان کی روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی آخرالزمان ﷺ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اور رسول بھیجے جن کا مقصد فقط انسانوں کو اللہ کی طرف بلانا اور دنیا پر اللہ کی حکمرانی کو قائم کرنے کی پوری کوشش اور سعی کرنا تھا۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں یہ شرف حاصل ہے کہ ہمیں ’’امت وسط‘‘ اور ’’ امت خیر‘‘ کے القابات رب کائنات کی طرف سے عطا ہوئے۔ ہمارے پیغمبر ﷺ کی پوری شریعت اور قرآن عظیم الشان آج بھی ہماری رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

تاریخ اسلام پر اگر نظر ڈالی جائے تو خلافت راشدہ کے تیس سال کے بعد اگرچہ حکمرانوں کے انتخاب کا طریقہ کار تو بدل گیا، لیکن جو ادارے نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانوں میں قائم ہوئے تھے، بدستور تھوڑے بہت زوال کے ساتھ خلافت عثمانیہ تک قائم رہے۔ اسلام کا تعزیراتی نظام اپنی اصل شکل میں موجود رہا، یہاں تک کہ برصغیر پاک و ہند میں بھی التمش نے 1256ء میں فقہ حنفی کے تحت عدل و انصاف کا نظام رائج کیا، جو کہ 1857ء تک مسلسل چلتا رہا۔ ’’مجلہ عدلیہ‘‘ خلافت عثمانیہ کی وہ قانونی دستاویز ہے جو اسلامی نظام عدل و انصاف کو اپنے زیر نگیں علاقوں میں نافذ کرتی تھی۔ جس میں تمام جرائم، سزاؤں اور تفتیش کے طریقہ کار وغیرہ کا ذکر موجود ہے۔ یہ عدالتی و تعزیراتی نظام 1924ء تک خلافت عثمانیہ کے زیرنگیں علاقوں میں اپنی کسی نہ کسی شکل میں نافذ رہا۔ اسلام کا معاشی نظام جس میں سود کی حرمت اور بازار (مارکیٹ) کی آزادی شامل ہے، یہ بھی آخری وقت تک موجود رہا۔ دنیا بھر میں 1694ء کے بنک آف انگلینڈ کے قیام کے بعد سودی نظام نے اپنے نیچے گاڑے، لیکن خلافت عثمانیہ اس کے شر سے محفوظ رہی۔ دنیا بھر کے تمام معیشت دان اس بات پر متفق ہیں کہ آخری آزادانہ تجارت اور استحصال سے پاک معیشت کا نظارہ دنیا نے خلافت عثمانیہ کے دور میں دیکھا۔ مسلمانوں کا نظام تعلیم موجود رہا، زکوٰۃ اور صلوٰۃ کا نظام برقرار رہا۔

امت مسلمہ کی حیثیت سے ہماری یہ خوش نصیبی ہے اور ہماری اس خوش بختی کا تذکرہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب عظیم الشان میں بھی فرمایا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدہ:3) ترجمہ:’’آج ہم نے تم پر تمھارے دین کو مکمل کیا اوراپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا اور تمھارے لیے دین اسلام کو پسند کیا۔‘‘ قرآن عظیم الشان میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا تذکرہ کیا کہ جن کو وہ دنیا میں حکمرانی (نیابت الہی) عطا کرتا ہے تو وہ کیا کارنامے سرانجام دیتے ہیں، یعنی حکومت کے فرائض اللہ تبارک و تعالیٰ بیان کر رہے ہیں: الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (الحج:41) ترجمہ: ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز قائم کریں، زکوۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   بوتل کے جن پر کون قابو پائے گا - خالد ایم خان

یہ وہ بنیادی کام ہیں کہ مسلمانوں کی حکومت جہاں بھی قائم ہوگی، آغاز ان کاموں سے ہوگا، اور اللہ کی بتائی ہوئی ترتیب کو بھی ٹھیک رکھنا ہوگا، جیسا کہ خلیفہ ٔ اول سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے انتہائی نازک موقع پر اس ترتیب کو ٹھیک رکھا تھا۔ اب جو حکومت بھی یہ کام کرے گی، اس کو مذہبی حکومت کہا جائے گا یا سیاسی حکومت، مذہب سے الگ کریں گے یا مذہب کے ساتھ جوڑیں گے۔ کیا ریاست اسلام سے پہلے سرکاری یعنی ریاستی سطح پر کفالت یتیم، مسکین، بیوہ اور غریب کا کوئی نظام موجود تھا؟ کیا اس سے پہلے دنیا کے بدترین معاشی نظام (سود) پر کسی نے پابندی لگائی تھی؟ آج پوری دنیا اقوام متحدہ سمیت نشے کے خلاف جدوجہد کرتی ہے مگر جب ریاست کا مذہب اسلام بنا تو ہر قسم کے نشے پر پابندی بھی لگی اور سزا بھی مقرر ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمان وہ واحد قوم ہے کہ جس کے نوے فیصد سے زائد لوگ شراب نوشی اور دیگر نشہ نہیں کرتے۔ قوانین کی ایک طویل فہرست ہے جو اس وقت سامنے آئی کہ جب اسلام ریاست کا مذہب بنا اور اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ یہ تمام قوانین، اصول و ضوابط اور نظام ہائے زندگی جو نفاذ کا پورا ایک طریقہ کار رکھتے ہیں، کیا اسلام میں کسی ریاستی اختیار کے بغیر ہی نافذ کر دیے گئے تھے؟ کیا ریاست مدینہ کے بعد اسلام پورے جزیرہ نما عرب میں نہیں پھیلا؟ کیا وہ پولیٹیکل یا سیاسی اسلام نہیں تھا۔ ہمارے یہ جدید دانشور ابن خلدون کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے، وہی ابن خلدون سیاست کا تذکرہ اپنے مقدمے میں یوں کرتا ہے: فالسیاسۃ و الملک ھی کفالۃ الخلق و خلافۃ اللہ فی العباد و تنفیذ احکامھم فیہ ترجمہ: (’’سیاست اور حکومت مخلوق کی نگہداشت اور ان کے مفاد کی کفالت کی ضمانت ہے، یہ سیاست اللہ کی نیابت ہے اس کے بندوں پر اسی کے احکام نافذ کرنے میں۔‘‘)

کیا یہ سیاسی اسلام نہیں ہے؟ خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق ؓ، جن کے بارے میں اللہ کے پیغمبر کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے کہ ’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا‘‘، اور جن کی خدمات کو دنیا کا ہر مؤرخ بلا تفریق رنگ و نسل تسلیم کرتا ہے۔ ان کا یہ قول اقامت دین کی اہمیت کو واضح کر دیتا ہے: واللہ ما یزع اللہ بسلطان اعظم مما یزع بالقرآن ترجمہ: ’’اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ حکومت کے ذریعے سے برائیوں کا جو سد باب کرتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو قرآن کے ذریعے سے کرتا ہے۔‘‘ (کنزالاعمال)

گزشتہ طویل عرصے سے ''اسلام کا سیاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں'' کے نظریے کو ایک Slow Poisoning کے ذریعے سے ہماری آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں اتارا جا رہا ہے اور بظاہر یہ نعرہ لگتا بھی بہت خوبصورت ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یا مذہب کی کوئی ریاست نہیں ہوتی۔ اپنے اس نظریے کی ترویج و اشاعت انقلاب فرانس کے آس پاس فلسفیوں، مؤرخوں اور دانشوروں نے زور و شور سے کی۔ والٹیر اور روسو جیسے لوگ اس کے سرخیل تھے اور دلیل یہ دی گئی کہ اگر کاروبار ریاست میں مذہب کو شامل کر دیا جائے تو وہ قتل و غارت گری اور خون ریزی کا سبب بنتا ہے۔ دو تین صدیاں مذہب کو ریاست سے الگ کرنے میں لگ گئیں، تقریباً 1900ء تک یہ کام مکمل ہو گیا اور مذہب کومغربی ریاست سے دھکے مار کر نکال دیا گیا۔ بیسویں صدی سیکولر اور جمہوری ریاستوں کی صدی تھی کیونکہ مذہب کو دیس بدر کر دیا گیا تھا۔ 1901ء میں دنیا کے نقشے پر یا تو سیکولر جمہوری ریاستیں تھیں یا پھر ان کی کالونیاں، فرانس، برطانیہ اور ہالینڈ یہ تھیں تین جمہوری سیکولر ریاستیں اور ان کے ظلم و استبداد کے نیچے دنیا بدترین غلامی، بے پناہ غربت و افلاس اور شدید ترین استحصال سے دوچار تھیں۔ پوری دنیا پر ان تینوں سیکولر جمہوری ریاستوں کی عملداری تھی اور ان کی سرپرستی امریکہ بہادر پوری شان و شوکت سے کر رہا تھا۔ دنیا میں مذہب کے نام پر کوئی ریاست وجود نہیں رکھتی تھی، کاروبار سلطنت سے مذہب کو خیر باد کہا جا چکا تھا۔ اس پورے عرصے میں اس جھوٹ کو اتنی شدت کے ساتھ بولا گیا کہ مسلم ممالک میں بھی لوگوں نے اس کو سچ سمجھنا شروع کر دیا کہ کارزار سیاست تو ایک الگ میدان ہے اور مذہب ایک پرائیویٹ معاملہ ہے۔ ہمارے بہت سے پڑھے لکھے حضرات بھی اس تاریخی مغالطے کا شکار ہو جاتے ہیں اور موجودہ دور میں تہذیب مغرب کی روشنی اتنی تیز ہے کہ آنکھیں بعض اوقات چندھیا جاتی ہیں۔ چونکہ پراپیگنڈے کے سارے ذرائع ان کے پاس ہیں لہذا جس کو چاہیں وہ بریکنگ نیوز ،چار ٹاک شوز اور چند کالمز کے ذریعے غلط یا صحیح، انسانیت دوست یا دہشت گرد ثابت کر دیں، یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کے مسائل کا حل، ناکہ سیاست ! - شیخ خالد زاہد

اس وقت مغرب کی بالادستی اتنی ہمہ گیر ہے کہ بظاہراس کا مقابلہ کرنا ناممکن سا دکھائی دیتا ہے، لیکن کچھ دیوانے ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ قوت عطا فرمائی ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں، وہی اس وقت سب سے زیادہ عتاب کا شکار بھی ہیں، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، چاہے ان کا نام کو ئی سا بھی ہو، ریڈیکل اسلام یا پولیٹیکل اسلام کے نام پر اصل ہدف اور ٹارگٹ یہی لوگ ہیں۔ باقی تو بس اللہ ہو! اللہ ہو! مغربی ذہن سے سوچنا، مغرب کی نظر سے دیکھنا، مغرب کی نظر سے پرکھنا، وہاں سے جو آئے وہی مستند اور معتبر ٹھہرے، ان حالات میں لوگوں کا متاثر ہونا کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔

امام غزالی ؒاسلامی تاریخ کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنی خود نوشت ’’المنقذ من الضلال‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’جب میں نے اپنے ماحول میں موجود مذہبی فکر پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے اپنے زمانے کی مذہبی تعبیرات میں نقائص نظر آنے لگے اور میرے اندر ان تعبیرات کے حوالے سے تذبذب پیدا ہو گیا‘‘ اس تذبذب نے رفتہ رفتہ ذہنی مسئلے کی صورت اختیار کر لی اور غزالی اعصاب شکنی کا شکار ہو کر ایک دفعہ بستر سے لگ گئے۔ وہ دو چار ماہ نہیں بلکہ کئی سال اس کیفیت کا شکار رہے لیکن اس صورتحال میں بھی وہ مسلسل غور و فکر کرتے رہے اور بالآخر انھیں وہ صراط مستقیم نظر آئی جس پر چل کر وہ امام غزالی ؒ کہلائے۔ وہ تو خیر موجودہ دور میں تاریخ اسلام سے عدم واقفیت، قرآن و سنت اور فقہ سے عدم دلچسپی، مغربی مفکرین اور مغربی تہذیب کا چڑھتا ہوا جادو ہے کہ ہمارے بہت بڑے طبقے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ کیونکہ تاریخ کے ایک مرحلے پر مغرب نے کہا کہ مذہب کی پوری روایت خلاف عقل ہے، اور اب ہم اپنی زندگی گزارنے کے لیے کسی آسمانی ہدایت کے محتاج نہیں، اب ہماری عقل اور ہمارا انسانی علم ہمیں جو کچھ بتائے گا ہم وہی کریں گے۔ اسی وجہ سے ہمارے نوجوانوں کی تحریروں میں جو پچھلے چند مہینوں سے مختلف بلاگ کی زینت بنتی رہی ہیں، میں یہ چیزبہت نمایاں نظر آئے گی لہذا فکر اگر خام ہو تو انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ فکر کی پختگی آئے گی کہاں سے؟ ہر ملت کی ایک تہذیب اور تاریخ ہوتی ہے اور ہر تہذیب و تاریخ کی کچھ مبادیات ہوتی ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان مبادیات اور ان مبادیات کی تعبیر کے علم کو حاصل کرے، اسے سمجھے اور اسے جذب کرے۔ انسان جب یہ کرتا ہے تو اس کی شخصیت اور فکر میں پختگی اور استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اور یہی پختگی اور استحکام غزالی کو امام غزالی ؒ، اقبال کو مصور پاکستان اور سید مودودیؒ کو وہ مقام عطا کرتی ہے کہ زمانے جن پر رشک کرتے ہیں۔ لہذا معاملہ ترکی کا ہو یا مراکش کا ہمارے لیے اُسوہ قرآن و سنت ہی ہیں اور یہیں سے وہ روشنی ملے گی جو ان شاء اللہ دنیا کو منور کر کے رہے گی اور جب تک ریاست مذہب کے تابع نہیں ہوگی ظلم و استبداد کا یہ نظام چلتا رہے گا۔ میرے نزدیک تو سیاست اور ریاستی امور کو چلانے کا حق صرف مذ ہبی لوگوں کو حاصل ہے۔ باقی تو بس مٹی کی دھول ہے کیوں کہ کارزار سیاست تو نظریاتی لوگوں کا میدان ہے اور جن کا کوئی نظریہ ہی نہ ہو تو ان کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ لہذا نظریاتی سیاستدان "Ideologue Politician" اکیسویں صدی کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ اور یہی وہ میدان ہے جہاں پر معرکہ آرائی پوری شدت سے جاری ہے، لہٰذا جب تک ریاست کو مذہب کے تابع نہیں کیا جاتا، انسانیت اس ظلم و جبر کے نظام تلے سسکتی اور تڑپتی ہی رہے گی۔ اہل مذہب کو بھی چاہیے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات کی نزاکتوں کا پور اادراک کریں تا کہ دنیا کو اسلا م کے معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام کی برکتوں سے مالا مال کیا جا سکے۔

(نصراللہ گورایہ اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظم اعلی ہیں)