انکار ڈرامہ پر تبصرہ - راحیلہ چوہدری

آج کل ہم ٹی وی پہ چلنے والا ڈرامہ سیریل ”انکار“ اپنی جاندار کہانی کی وجہ سے بے حد مقبول ہے۔ ظفر معراج نے اپنے قلم سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ کہانی کے کرداروں اور ڈائیلاگز کو صفحہ قرطاس پر اتارا ہے اور کاشف نثار نے اسے بڑی خوبصورتی سے ڈائریکٹ کیا ہے۔ ڈرامے کے سارے کرداروں نے اپنا اپنا کردار بڑے احسن طریقے سے نبھا یا ہے۔ ڈرامے کی کہانی ڈرامے کے تین مرکزی کرداروں ہاجرہ الیاس، شایان ملک اور ریحان چوہدری کے گرد گھومتی ہے۔

ڈرامے کی ساری خوبصورتی باپ اور بیٹی کے مضبوط رشتے میں موجود ہے۔ باپ اور بیٹی کے درمیان اعتماد، یقین، دوستی اور محبت کا ایک ایسا گہرا تعلق دکھایا گیا ہے۔ جو مڈل کلاس گھرانوں میں عموما نہیں پایا جاتا۔ ڈرامے کی دوسری خاص بات یہ ہے کہ باقی سارے والدین کے منفی اور مثبت کردار بہت احسن طریقے سے لکھے اور دکھائے گئے ہیں۔ اس ڈرامے کی تیسری خاص بات یہ ہے اس میں معاشرہ، والدین اورخاص طور پر نوجوانوں کے لیے بہت بڑے بڑے اور اہم سبق ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید سورۃ انفال کی آیت نمبر 28 میں فرماتے ہیں۔ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں۔“ ڈرامے کی کہانی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ بچوں کی غلطیوں اور گناہوں کی سزا والدین بھگت رہے ہیں۔ ڈرامے میں ریحان چوہدری کا باپ وجاہت چوہدری جو ایک بہت بڑا جاگیردار اور سیاست دان دکھایا گیا ہے۔ پیسے سے نہ عزت خرید سکتا ہے، نہ ذہنی سکون اور نہ بیٹے کی تربیت۔

دوسری طرف شایان ملک کا باپ جو ایک بیورو کریٹ ہے۔ اپنے اکلوتے بیٹے کو اتنا پیسہ ہونے کے با وجود ایک با مقصد زندگی نہیں دے سکتا۔ اس نوجوان یعنی شایان ملک کے پاس اتنی دولت اور جوانی کا بہترین وقت ہوتے ہوئے ایک لڑکی کو حاصل کرنے اور اس کے خیالوں میں گم رہنے کے سوا اس کے پاس کوئی اور کام نہیں۔ شایان ملک کا کردار والدین کے لیے بڑا توجہ طلب ہے۔ ہر نوجوان جب عمر کے اس حصے میں ہوتا ہے اس کے خیالات شایان ملک سے مختلف نہیں ہوتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کی گھُٹی میں غض بصر کی آیات کو شامل کر دیا جائے۔اللہ تعالیٰ سورۃ النور میں فرماتے ہیں: ”اے نبیؐ!مومن مردوں سے کہو کے اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے با خبر ہے۔“

ڈرامے کی تیسری قسط میں دکھایا گیا ہے کہ ہاجرہ الیاس (ہیروئن)یونیورسٹی میں سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی ہوتی ہے اور کہہ رہی ہوتی ہے کہ میرا تعلق ایک مڈل کلاس گھرانے سے ہے اتنی بڑی یونیورسٹی میں پڑھانے کی خواہش میرے ابا کی تھی۔ اندرون شہر کے جس محلے سے میں آتی ہوں۔ مجھے اپنے محلے سے خود چادر لے کر نکلنا پڑتا ہے اور یہ منافقت مجھے اپنے ابا کے لیے کرنی پڑتی ہے۔ کیونکہ وہ میرے لیے اکیلے محلے والوں سے نہیں لڑ سکتے۔ ہم مڈل کلاس لوگوں کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہی یہی ہے منافقت۔ میرے ابا کہتے ہیں عورت کا پردہ اس کی نیت میں ہے اس کی ادا میں ہے۔اس کے بعد دوستوں میں اپنے کلچر اور ویلیوز کو پرموٹ کرنے کی بات شروع ہو جاتی ہے کہ پرانے وقتوں میں گھروں کے دروازے کھلے ہوتے تھے۔ اور ایسی تربیت تھی کہ عورت کی طرف کوئی بری نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں۔”اے نبیؐ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے کہہ دو جب گھروں سے باہر نکلیں تو اپنی چادر کے پلو اپنے چہروں پر لٹکا لیا کریں“۔

اگر اس آیت کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس ڈرامے میں آنے والا سارا عذاب ہی بے پردگی کی وجہ سے ہے۔ اس ڈرامے میں معاشرے کے لیے یہی سب سے بڑا سبق ہے مگر افسوس ہمارے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جا کے دیکھیں۔ نوجوانوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ یہاں پڑھنے نہیں بلکہ کوئی فیشن شو اٹینڈ کرنے آئے ہیں۔ انجوائے منٹ کے نام پر پتہ نہیں کیا کیا کہانیاں اللہ کے ہاں لکھی جا رہی ہیں۔افسوس کہ عصرِ حاضر کے والدین نے بچوں کی طرف سے اپنی آنکھیں بالکل بند کر لیں ہیں۔ بیٹیاں ننگے سر ان کی آنکھوں کے سامنے بن سنور کر نا محرموں کے ساتھ دن کا ایک بڑا حصہ گزار کر آتی ہیں اور انہیں محسوس ہی نہیں ہوتاکہ وہ اولاد جو انہیں جان سے زیادہ پیاری ہے وہ گناہ کا سبب بن رہی ہے۔ دیر سے شادیوں کا بڑھتا ہوا رحجان، زنا باالجبر کے بڑھتے ہوئے واقعات اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اسی بے پردگی کا نتیجہ ہے۔ افسوس کے آج کی عورت کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اس نے خود ہی مرد کوباہر اتنا خوبصورت نظارہ مہیا کردیا ہے کہ گھر سنبھالتی ہوئی عورت اب اس کے لیے کافی نہیں رہی۔ نبیؐ نے فرمایا: ”مؤمن غیرت مند ہوتا ہے۔“ افسوس دور دور تک پاکستان میں جس طرف نظر دوڑائیں۔ ہر طرف بے پردگی کا بازار سجا نظر آتا ہے۔ پتہ نہیں ان عورتوں کے شوہر، باپ اور بھائیوں کی غیرت کہاں ہے؟

مخلوط نظام تعلیم ہمارے معاشرے کی ایک مجبوری ہے۔ پیسے اور اداروں کی کمی کی وجہ سے والدین لڑکے اور لڑکیوں کہ اکٹھے تعلیمی اداروں میں پڑھانے پر مجبور ہیں۔لیکن بچوں کو دنیا کے پیچھے لگا دینا۔ان کی ہر جائز اور نا جائز بات کو پورا کرنا۔جوان ہوتے ہی ہر چیز کی آزادی دے دینا۔ان سب چیزوں میں کوئی مجبوری نہیں۔بچوں کو پیدا ہوتے ہی قرآن اور حدیث سے جوڑیں۔ تاکہ جب وہ یونیورسٹی میں جائیں تو قرآن ان کا بہترین ساتھی ہو اور وہ ہر جگہ ان کی رہنمائی کر سکے۔

آخر میں خاص طور پر نوجوان لڑکیوں سے ہمارا معاشرہ لڑکی کی عزت پہ آنے والی آنچ کو کبھی نہیں بھولتا ۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ ہاجرہ الیاس کی طرح ایسی کوئی غلطی مت کریں۔ جو آپ کے ساتھ ساتھ آپ کے گھر والوں کی بدنامی اور اللہ کی ناراضگی کا باعث بنے۔ زندگی میں سب لوگ چھوڑ جاتے ہیں۔ آخر میں صرف آپ کے گھر والے ہوتے ہیں، اللہ ہوتا ہے اور آپ کے اعمال ہوتے ہیں۔