قرآن فہمی اور جدید سائنسی نظریات - پروفیسر جمیل چودھری

ُآج کی تحریر میں یہ جائزہ لیاجائے گا کہ سائنس کیا ہے اور کیا سائنسی نظریات قرآن فہمی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ ڈاکٹر ذاکر نائک اوربہت سے دوسرے مفکرین تو سائنسی نظریات کو کھلم کھلا قرآن کا مفہوم جاننے اور سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کچھ حضرات ایسے ہیں جو مائنس اور فلسفہ سائنس کی گہرائیوں سے واقف ہیں۔ وہ قرآن فہمی کے لیے سائنسی منہاج کو فائدہ مند تسلیم نہیں کرتے۔

اس فریق کے مؤقف کو سمجھنے سے پہلے ہم یہ دیکھیں گے کہ دراصل سائنس ہے کیا؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہم مسلم جدیدیت پسندوں کے بجائے مغرب کے ان سائنسدانوں اور فلسفیوں کے خیالات کو دیکھیں گے جو اس شعبہ کی اساسیات سے واقف ہیں۔ سائنس جن کے علم وتجربے، رویے اور تہذیب وتاریخ کا رواں دواں حصہ ہے۔ بڑے سائنس دان کہتے ہیں کہ سائنس کبھی قطعی، حتمی اور حقیقی علم مہیا نہیں کرتی، وہ کسی جزو کا بھی جزوی علم دیتی ہے۔ سائنس دان کائنات کو ایک کل یا وحدت میں نہیں دیکھ سکتے۔ وہ اس صلاحیت سے قاصر ہیں۔ اس کائنات کو مختلف حصوں، خانوں، اجزاء، اور ٹکڑوں میں بانٹ کر دیکھتے ہیں۔ لہذا سائنس دان کل کا علم حاصل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ فائین مین جیسا دور جدید کا بڑا سائنسدان کہتا ہے۔ "اس جزوی علم پر جو کسی ایک جزو کے بھی نہایت جزوی حصے کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کی بنیاد پر انسانی فطرت اور کائنات کو پہچاننے کا دعویٰ کرنا ایک لغو دعویٰ ہے۔"

سائنس کا سفر، قیاس،گمان، مفروضات اور اندازوں کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ کوئی سائنس دان سائنسی نتائج کو حتمی اور قطعی تسلیم نہیں کرتا۔ کوانٹم میکانکس جو سائنس کی دنیا میں علم کے سیل رواں کا نیا دروازہ ہے۔ جس کے بارے عمومی رائے یہی ہے کہ یہ نظریہ سائنس کے ہر مسئلے، ہر مشکل کو بیان کرنے اور اصول و قوانین وضع کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود بہت سے معاملات میں اور سائنسی امور میں یہ رہنمائی کرنے سے قاصر ہے۔ اس قانون کی موجودگی کے باوجود بہت سے امور، اندازے، قیاس اور گمان پر طے کیے جاتے ہیں۔ کسی سائنس دان کو یہ معلوم نہیں کہ جوہر (Atom) کے مرکز میں کیا عمل اور رد عمل ہو رہا ہے۔ اور اس کی حرکیات کیا ہیں؟ ابھی تک مرکزہ کے اندر کی تفصیلات اندازوں پر مشتمل ہیں۔ مرکزہ (Nucleus) کے اندر کچھ سال پہلے تک الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران موجود ہوتے تھے۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ ایک نیا پارٹیکل فوٹون بھی موجود ہے۔ کل کلاں تحقیقات کے بعد کسی اور ذرے کا بھی اضافہ کیاجاسکتا ہے۔

سائنسدان تمام سائنسی نظریات تجربات کے بعد قائم نہیں کرتے۔ بہت سے سائنسی نظریات، قیاس،گمان، وجدان، اور اندازے پر قائم کیے جاتے ہیں۔ سائنس مشاہدات کے ذریعے آگے بڑھتی ہے لیکن آگے بڑھنے کے باوجود سائنس یہ کہنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ "Wheather it is right or wrong but we know that it is a little wrong or at least incomplete" یہ الفاظ اس صدی کے آئن سٹائن نوبل انعام یافتہ سائنسدان فائن مین کے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ یہ جانتے ہیں کہ 2 ہزار سال تک ارسطو کے تراشیدہ یونانی سائنس کے نظریے زمین و زماں اور مکان کی حرکت سے متعلق مستعمل و مسلط رہے۔ پوری دنیا کے علمی حلقوں بشمول مذہب، سائنس اور فلسفے کا اس پر اجماع رہا۔ تب تک زمین ساکن اور سورج و چاند گردش میں تھے۔ لیکن پھر کوپرنیکس،گیلی لیو اور نیوٹن کے آتے آتے حرکت و زمان کے متعلق تمام نظریات بدل گئے۔ کوپرنیکس اور گیلی لیو دونوں کو عیسائی پادریوں نے پھانسی تو دے دی۔ لیکن وہ پھانسی پر چڑھنے سے پہلے کہہ گئے تھے کہ ہماری پھانسی کے باوجود زمین سورج کے گرد کروی شکل میں حرکت کرتی رہے گی۔گیلی لیو نے کیپلر سے مل کر ایک دوربین بھی بنالی تھی۔ وہ عیسائی فادرز کو دوربین کے ذریعے زمین اور چاند کی حرکات کو دکھانا چاہتاتھا لیکن پادری جنھوں نے غلطی سے یونانی سائنس اور فلسفے کو اپنے مذہب کا حصہ بنا لیا تھا۔ وہ اس کی دوربین کے قریب آکر مشاہدہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔گیلی لیو کی پھانسی کی معافی صدیوں بعد رومی پوپ نے 1983ء میں آ کر مانگی۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسہ ڈسکورسز اور علم الکلام کے جدید مباحث - ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

نیوٹن کے قوانین حرکت نے2 ہزار سال کی تاریخ بدل دی لیکن صرف 2 سوسال بعد آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے نیوٹن کے قوانین کو غلط ثابت کر دیا۔ نظریہ اضافیت کئی سال تک دنیا پر حکمرانی کرتا رہا۔ لیکن 1920ء کے بعد کوانٹم میکانکس کے نظریات پھیلنا شروع ہوئے اور آئن سٹائن کے آخری زمانے تک اس کی ترتیب دی ہوئی اپنی معروف مساوات E=mc2 پر سوالات اٹھنے شروع ہوگئے تھے۔ کوئی زمانہ تھا کہ اسے خدائی مساوات کہا جاتا تھا۔ لیکن ذراتی طبیعات نے آکر ماضی کے نظریات کو غلط ثابت کر دیا۔ پہلے زمان و مکان کے نظریے کی اہمیت تھی، بعد میں اس میں ثقل کی قوت بھی شامل کر لی گئی۔

دوستو! ہم دیکھتے ہیں کہ سائنس ہر وقت بدلتی رہتی ہے۔ اکثر کہاجاتا ہے کہ سائنس کا علم معروضی ہے۔ سائنسی علم کے بارے ایک مفروضہ یہ تھا کہ اس عظیم مشاہداتی علم کا ادراک جو تجربے کے ذریعے سے حاصل ہوتاہے۔ انھی حالات، اسباب اور شرائط کے ساتھ کسی بھی سائنسی تجربے کو دنیا بھر میں ہر جگہ کوئی بھی شخص بلالحاظ نسل، زبان اور رنگ دہرا سکتا ہے۔ اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج کسی دوسرے علاقے میں ہونے والے تجربے جیسے ہی ہوں گے۔ لیکن فائن مین کہتا ہے "This is simply not true,it is not a fundamatal condition of science."

جرمنی کے بڑے فلاسفر کانٹ نے اپنی کتاب "تنقید عقل محض" میں عقل اور طبیعات کی حدود واضح کردی تھیں، کہ محدود عقل لامحدود کائنات اور ماورائے عقل امور کو نہیں پاسکتی۔ جہاں عقل کا دائرہ ختم ہوگیا اس دائرے سے باہر کے امورمیں عقل عاجز، درماندہ، پسماندہ اور ناکارہ ہے۔ محدود عقل کے تجربات اور محدود مشاہدات سے اخذ کردہ نتائج بھی محدود پیمانے پر درست ہوسکتے ہیں۔ سورج اور چاند کو صدیوں سے گردش کرتا ہوا دیکھ کر قدیم سائنس ہمیں بتاتی رہی کہ زمین ساکن اور سورج گردش میں ہے۔ اس نظریے کو کوپرنیکس نے آکر معرض سوال بنایا۔ اور گیلی لیو نے آکر اسے مکمل طور پر ردکردیا۔ جدیدیت پسند مفکرین کی یہ بھی رائے ہے کہ سائنس نفس کو موضوع بناتی ہے۔ نفس سائنس کے دائرے سے باہر کی چیز ہے کیونکہ اسے تجربہ گاہ میں جانچا نہیں جاسکتا۔ وہ سائنس جو زندگی سے ایک آدھ ٹکڑا نوچ سکتی ہے، کُل کا علم نہیں رکھتی۔ جب ایک کُل کو اجزاء میں تقسیم کیا جا سکتا ہے تو وہ اپنی روح، طاقت، حقیقت اور جوہر کھو دیتا ہے۔ وہ کچھ اور ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ماڈرن ہونا دنیا میں آگے بڑھنے کی علامت ہے؟ سید مستقیم معین

سائنسی طریقہ علم سے مذہب کی تردید و توثیق کا کام لینا غیر علمی رویہ ہے۔ اگر کوئی علم سائنسی بنیادوں پر ثابت نہ ہو سکے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ علم نہیں ہے۔ فائن مین جیسے بڑے سائنس دان نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ جو چیز سائنس سے ثابت نہ ہو وہ چیز بری ہو اور اس کا وجود ہی نہ ہو۔ محبت بھی سائنس سے تو ثابت نہیں ہوتی لیکن ہرکوئی اس کے لئے کوشش اور جدوجہد کرتا رہتا ہے اور اپنی زندگیوں میں سکون لانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

قرآن مجید کی تفہیم میں سائنس جیسی بدلتی، غیر قطعی اور غیر حتمی شے کو استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ یہ بات کہ سائنسی نظریات کچھ عرصے کے بعد بدلتے رہتے ہیں۔ اس کی اوپر کئی مثالیں دی گئی ہیں۔ فلکیات سے متعلق ایک مثال بالکل جدید ہے۔ صدیوں سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ سورج کے گرد 9 سیارے گردش میں ہیں۔ لیکن2007ء میں ناسا نے یہ اعلان کر دیا کہ Pluto نامی سیارہ موجود نہیں۔ یوں سیاریوں کی تعداد 8 رہ گئی۔ اس کے بعد2013ء میں اعلان کیاگیا کہ سورج کے گرد 5 مزید سیارے گردش میں ہیں، اس طرح اب موجود سیاروں کی تعداد13ہوگئی۔ اس سے آپ بدلتے ہوئے سائنسی نظریات کو واضح طور پر جان سکتے ہیں۔

قرآن اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی وحی ہے۔ اکثر سائنسی ماہرین کے نزدیک اﷲ اور وحی بےمعنی الفاظ ہیں۔ پھر قرآن کے تصورات زندگی بعد موت، جنت و دوزخ، عذاب قبر، اور بےشمار دیگرتصورات، عقل یعنی سائنسی علوم سے ثابت نہیں کیے جا سکتے۔ قرآن نہ سائنسی کتاب ہے اور نہ ہی اسے سائنسی نظریات سے سمجھنے کی کوشش کوئی بہتر کوشش شمار ہوسکتی ہے۔ قرآن کو شروع میں ہی صحابہ کرام نے نقل کر لیا تھا اور یہی نقل آگے سے آگے منتقل ہوتی آ رہی ہے۔ قرآن مجید کو صحابہ کرام نے نبی اکرم ﷺ سے سمجھا اور پھر ان سے تابعین نے اور یوں بات آگے چلتی رہی۔ آج کل اس طریقہ کو تفسیر ماثور کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائک اور دوسرے جدید مفکرین کو بھی صحابہ کرام اور تابعین کے طریقے پر قائم رہنا چاہیے۔ بدلتے ہوئے اور ارتقاء پذیر سائنسی نظریات کو قرآن فہمی سے دور ہی رکھنا بہتر ہے۔ میں نے دو قسطوں میں دونوں نقطہ ہائے نظر بیان کر دیے ہیں۔