رابن ہوڈ اور فکس اٹ کے عالمگیر - محمد سمیع قائم خانی

مجھ سمیت ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ سیریل کے پہلی قسط میں ہی رابن ہوڈ بن کر ناٹنگھم میں ہیرو جانا جائے۔ فکس اٹ والے عالمگیر محسود صاحب جب ایک بربنائے سماجی کارکن تھے تب تو یہ الڑ بازیاں جچتی تھیں لیکن جب سے وہ ایک سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر مقننہ کے رکن بنے ہیں، انہیں یہ سب چھمک چھلیاں چھوڑ دینی چاہیے تھیں۔

جس حلقے سے وہ ایم این اے ہیں وہ علاقہ ایک ٹاؤن یا تحصیل سے بڑا علاقہ ہے جس میں کراچی کی مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس سب سے زیادہ رہتی ہے۔ چار لاکھ سے زائد ووٹرز ہیں 15 کروڑ تو وہ ترقیاتی فنڈ ہے جو پارٹی نے انہیں عوامی ٹیکس سے دیا ہے کہ جہاں چاہے حلقے میں خرچ کروالے اس کے علاوہ ایک ارب روپے تک کی اسکیم حکومتی رکن اسمبلی بے فکری سے لے سکتا ہے۔

جبکہ عالمگریر محسود صاحب نے اپنے حلقہ میں اتنا کام بھی نہیں کیا جتنا ایک محلہ کا کاؤنسلر کرلیتا ہے لیکن خواب اورکوشش پورے کراچی کا ٹھاکرے بننے کی ہے۔ ہونا تو یہ چاہے تھا کہ صاحب 90 دن، چھ ماہ اور پھر ایک سال میں اپنے حلقے کسی ایک آدھ بلاک کو اور پانچ سال بعد پورے حلقے کو کراچی کا مثالی حلقہ بناکر پیش کرتے اور کہتے یہ ہوتی عوامی خدمت، قیادت اور سیاست، اسی بناء پر عوام انہیں کراچی کا مئیر یا قائد مان لیتی۔

یا تو انہیں یقین نہیں کہ وہ منتخب ایم این اے ہیں بلکہ کراچی کے دوسرے ایم این اے ایم پیز کیطرح ایک لہر نے انہیں ایم این اے بنادیا یا پھر جس مقصد کے لئے ور جن راستوں سے ہوتے ہوئے ایم این اے بنے ہیں وہ مقاصد اور راستے اب بھول چکے ہیں۔

رابن ہوڈ ہمیشہ آخری قسط میں ہی ہیرو بنتا ہے، جلدی بازی کرنے والے تیسری یا چوتھی قسط میں جیب کترتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں اور پھر عوام بیچ چوک میں جوتے مارتی ہے یا منہ کالا کرنے کے بعد کھوتے پر بٹھا کر گاؤں کا چکر لگواتی ہے۔