عرفان صدیقی کی گرفتاری، چند سادہ سوال جواب - محمد عامر خاکوانی

سوال : کیا کرایہ داری قانون پر لوگوں کو ہتھکڑی لگا کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے؟ کیا یہ عام روایت ہے؟

جواب : نہیں، ہرگز نہیں۔ اس قانون کے تحت مکان کرایہ پر دینے سے پہلے پولیس میں اندراج کرنا چاہیے، مگر ایسا نہ ہونے پر اس نوعیت کی سخت ترین کارروائی نہیں کی جاتی۔ عام طور سے یہ پراپرٹی ڈیلر کی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ کرایہ نامہ سائن کرانے کے ساتھ کرایہ دار کو ساتھ لے جا کر تھانے میں اندراج کرا دیتا ہے۔ فارمیلیٹی ہے یہ، اس میں کوئی ایسا سنگین مسئلہ نہیں جس پر طوفان کھڑا ہوجائے۔ کبھی پراپرٹی ڈیلر کی غفلت سے تاخیر ہوجاتی ہے تو چھوٹا موٹا مسئلہ بن جاتا ہے، عام طور پر پولیس ڈیلر کو تنبیہ کر دیتی ہے، مالک مکان کو بھی تنبیہ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ آئندہ احیتاط کیجیے گا۔

سوال :اس کیس میں انوکھا کام کیوں کیا گیا؟
جواب : اس لیے کہ عرفان صدیقی صاحب کو پھانسنا، انہیں جیل بھیجنا، تنگ کرنا، ذلیل کرنا مقصود تھا۔ عام طور پر ایسے کام نوجوان بیٹے کیا کرتے ہیں، اس کیس میں مگر عرفان صدیقی صاحب کے صاحبزادے کو پکڑنے کے بجائے بزرگ صحافی کو اٹھایا گیا ہے۔ مقصد وہی جو ابھی اوپر بیان ہوا۔

سوال : عرفان صدیقی صاحب نے قانون کی خلاف ورزی کی، اس پر لوگ شور کیوں مچا رہے ہیں؟ کیا صدیقی صاحب قانون سے بالاتر ہیں، انھیں جوابدہ نہیں ہونا چاہیے؟
جواب: عرفان صدیقی صاحب بھی ملک کے باقی لوگوں کی طرح قانون کے آگے جواب دہ ہیں، وہ قانون سے بالاتر نہیں۔ تنقید اور شور اس لیے اٹھا کہ بادی النظر یعنی دیکھنے ہی میں یہ واضح طور پر ایک ظالمانہ اقدام لگ رہا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ مقصد ن لیگ کے ایک رہنما، میاں نواز شریف کے ساتھی کو تنگ کرنا، شکنجے میں جکڑنا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس قسم کے معمولی کیسز میں کیا ہوتا ہے؟ آج جب اس عام کیس کو دانستہ غیر معمولی بنایا گیا تو اس کے پیچھے موجود وجوہات ہر ایک کو نظر آ رہی ہیں۔ یہ ظلم اور فسطائیت ہے۔ اسی لیے اس کی مذمت کی جا رہی ہے اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو تحریک انصاف کے حامی ہیں، اور جنھوں نے عمران خان کو ووٹ دیا۔ انھیں بھی احساس ہو رہا ہے کہ یہ زیادتی ہوئی ہے، اس کی مذمت کرنی چاہیے ۔

یہ بھی پڑھیں:   اقوام متحدہ میں، ’’پہلی مرتبہ‘‘؟ آصف محمود

سوال : صدیقی صاحب کون سے دودھ کے دھلے ہیں، وہ بھی نواز شریف، مریم نواز کی تقریریں لکھتے رہے، اپنا قلم ان کی حمایت میں استعمال کرتے رہے وغیرہ وغیرہ۔
جواب : پاکستان پینل کوڈ یعنی تعزیرات پاکستان میں نواز شریف، مریم نواز کی تقریریں لکھنا قطعی طور پر کوئی جرم نہیں ہے، کوئی بھی شخص یہ کام کر سکتا ہے۔ ایسا کرنے والے پر کسی بھی قسم کا جھوٹا، جعلی کیس نہیں ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی معمولی جرم میں ہتھکڑیاں ڈال کر ذلیل کرنے کی گنجائش ہے۔ باقی یہاں دودھ کا دھلا کوئی بھی نہیں۔ ہر ایک کو اپنے گریبان میں جھانکتے رہنا چاہیے۔ بہادر شاہ ظفر کا ایک شعر ہے کہ جب اپنی خرابیوں پر نظر پڑی تو پھر نگاہ میں کوئی برا نہ رہا۔

سوال : کیا شور اس لیے ہے کہ اس بار ایک صحافی گرفت میں آیا؟
جواب: نہیں اس لیے کہ ایک بزرگ اہل قلم کو ناجائز طور پر نشانہ بنایا گیا۔ بزرگ افراد ویسے بھی ہر زندہ سماج میں بہت سی مراعات کے مستحق ہوتے ہیں، اگر اس کا تعلق علم و ادب کے شعبے سے ہو تو ان کی توقیر مزید بڑھ جاتی ہے۔ صدیقی صاحب ایک صاف ستھری، بہت اچھی ساکھ رکھنے والے صحافی رہے ہیں، ان پر کوئی مالی بدعنوانی کا دھبا نہیں۔ وہ اس درجہ محتاط ہیں کہ جب مشیر بنائے گئے تو اخبار میں کالم لکھنا چھوڑ دیا کہ اب سرکاری عہدے کے ساتھ غیر جانبداری کے ساتھ لکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ حد درجہ احتیاط اور ایک مثبت مثال قائم کی تھی۔ ان کے دور میں اہم علمی اداروں پر بہترین تقرر ہوئے، جیسے اردو سائنس بورڈ پر ناصر عباس نئیر جیسے نامور محقق، نقاد، اردو لغت بورڈ پر عقیل عباس جعفری جیسے نابغہ روزگار علمی شخصیت، مجلس ترقی ادب میں ڈاکٹر تحسین فراقی، مقتدرہ میں افتخار عارف وغیرہ کی تعیناتی ہوئی۔ صدیقی صاحب کی سیاسی سوچ، فکر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں عرفان صدیقی صاحب سے شدید اختلاف ہے، ہم ان کے نقطہ نظر کو درست نہیں سمجھتے، ان کی شریف خاندان کی حمایت سے بھی اختلاف رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب مگر یہ نہیں کہ صدیقی صاحب کو یوں عبرت کی مثال بنانے کی کوشش کی جائے۔ یہ غلط ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تقریر تو اچھی، بہت اچھی تھی - فیض اللہ خان

سوال: یہ سب کچھ کیون کیا گیا اور اس پر کیا ردعمل دینا چاہیے؟
جواب: یہ مقدمہ والا ایشو تو ہرگز نہیں، صدیقی صاحب کو سیاسی مؤقف کی سزا دی گئی ہے۔ اس لیے کہ وہ ن لیگ میں ہیں، جن سے عمران خان اور ان کے جماعت کے لوگ شدید نفرت کرتے ہیں۔ حکومت میں یہ ہیں، انتظامیہ ان کی ہے تو یہ ہر قسم کی فسطائیت روا رکھ سکتے ہیں۔ اس لیے ان کے اس رویے کی مذمت ہونی چاہیے۔ ہم نے تحریک انصاف کی حمایت کیا اس لیے کی تھی کہ وہ فسطائیت اور ظلم کرے؟ ہرگز نہیں۔ ہم تو ایسا بالکل نہیں چاہتے تھے۔ ہم تو چاہتے تھے کہ وہ ظالمانہ نظام بدلے۔ انھوں نے تو اسی نظام کا ایک عمرانی ماڈل پیش کر دیا۔ یہ غلط ہے۔ اس لیے ہم اس کی مذمت اور مخالفت کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کو اصولی بنیاد پر یہ بات کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ اس قسم کے اقدامات سے احتساب کا پورا عمل متاثر اور مشکوک ٹھیرے گا۔ اس سے جینوئن ملزموں کے حوالے سے بھی شک وشبہ پیدا ہوگا۔ اس لیے بھی مذمت کرنی چاہیے کہ یہ انسانی ضمیر اور شعور کا مسئلہ ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • خوش کر دیا محترم خاکوانى صاحب۔ وہى پرانا مدلل اور متوازن لہجه واپس آ گیا