ان کے بوڑھے۔ افشاں نوید

ان کے بوڑھوں کو پی ایچ ڈی کے مقالوں کا عنوان بنایا جاسکتا ہے۔جان دار تھیسز تیار ہوسکتا ہے۔ایک تقابلی جائزہ تیار ہونا چاھئے۔ وہاں بہت عمر والے بوڑھے زیادہ تعداد میں نظر آتے ہیں۔۔وہاں اوسط عمر بیاسی برس ہے۔۔شائد ہمارے یہاں اتنی عمر کے بزرگوں کو ہم سماج سے کاٹ دیتے ہیں اسلئے ان کی ہر وقت ہرجگہ موجودگی میرے لئے تعجب خیز ہوتی تھی۔

وہ بڑی سہانی شام تھی سڈنی میں شہرہ آفاق ہاربر برج پر سورج ڈھل رہا تھا۔کئ درجن بوڑھے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے خراماں خراماں ٹہل رہے تھے، کافی شاپ پر چسکیاں لے رہے تھے، اپنے خاص مشروبات کی بوتلیں سامنے رکھے یادرفتہ کو شائد آوازیں دے رہے تھے۔ بوڑھوں کے لباس دیکھ کر سوچتی تھی کہ شاپنگ یہ خود ہی کرتے ہونگے کیونکہ انکو کہاں بیٹوں، پوتوں کی نعمتیں حاصل ہیں۔ بہت باوقار ڈریسنگ۔ جوان ہوں یا بوڑھے سب کے لباس ایک جیسے۔ اسی برس کی عمر کا کوئی مرد یا عورت سفید بالوں کے ساتھ اسٹک کا سہارا لئے نظر نہیں آئے گا ۔ اب یہ تو نہیں پتہ کہ بیوٹی سیلون کی خدمات حاصل کرتے ہیں یا خود ہی ماہر ہیں ۔ یہاں پر خدمات ہیں بہت مہنگی۔ پاکستانی حساب سے چار پانچ ہزار روپے تو حجامت کے لئے درکار ہوتے ہیں بال بھی اتنے ہی مہنگے ڈائی ہوتے ہیں۔۔ باقی سروسز بھی ارزاں ۔ بھئ بوڑھے بڑی کٹ میں نظر آتے ہیں ۔ طبعیت شاداں وفرحاں ہوتی ہے۔ جینے کی امنگ ملتی ہے۔فٹنس کا ساری زندگی خیال رکھا جاتا ہے ۔جم، یوگا کلچر کا حصہ ہے اس لئے وہ جوانی کی مشقت بھی تازہ لہو کی صورت میں چہرے پر دوڑ رہی ہوتی ہے۔

پھر بات ہوگی انکے معیارزندگی کی کہ پلوشن سے پاک ماحول، ارے بھئ انکا ہمارا کھانا پینا ہی دیکھ لو انکو سب خالص ملتا ہے علاج مفت وغیرہ وغیرہ۔ اس سے کب انکار ہے مگر بات سماجی رویوں کی بھی ہے ۔ ہم اپنے بوڑھوں کو احساس دلاتے ہیں انکے بڑھاپے کا۔ ہم بزرگوں سے ملکر کب پوچھتے ہیں کہ ان کے مشاغل کیا ہیں؟ ہمارے پاس کون سی ٹپس یوتی ہیں انکے بوجھل پن کو کم کرنے کی ۔ سماج میں ہم اپنے بزرگوں کو اس طرح تنہا کرتے ہیں کہ ظلم کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ پکنک کے مقامات ، خریداری کی جگہوں سے بوڑھوں کا کیا واسطہ ۔ سب کچھ تو گھر بیٹھے مل جاتا ہے باہر نکلیں گے تو گر نہ جائیں ۔ ھڈی ٹوٹ گئ تو؟؟؟ پہلے ہی بھربھری ہو گئ ہیں ھڈیاں۔ یہ ھڈیاں بھی خوب طلسماتی شے ہیں ۔ہماری تو چالیس برس میں بھربھری وہاں اسی برس میں بھی سیدھے کھڑے ہیں۔ ہم احباب کے گھر جائیں وہاں کوئی بزرگ رحمت کا سایہ ہے۔اول تو ہم جزوی سلام دعا ہی کریں گے کیونکہ ہمارے انکے گفتگو کے مشترکات کیا ہونگے یہ سوال ایک فاصلہ ہی رکھے گا۔ پھر ہم انکے بلڈ پریشر ، شوگر، دواؤں سے آگے بات ہی نہیں کریں گے۔ ان کو مزید آرام کا مشورہ دے کر اپنی محبت کے تابوت میں ایک مزید کیل ٹھونک دیں گے۔

آج تک کبھی کہا ہم نے خاندان کے کسی بزرگ سے کہ اس ویک اینڈ پر تیار رھئیے گا فلاں پارک چلیں گے۔نئے ریسٹورنٹ کا افتتاح ہواہے وہاں کھانا کھائیں گے اور گپ شپ لگائیں گے۔
فلاں آپ کو بہت یاد کررہے تھے چلیں رشتہ داروں کے گھر چکر لگاتے ہیں اس ہفتہ۔۔۔۔ کوئی نئ کتاب انکو تحفہ میں دیں۔ کسی پڑھی ہوئی کتاب پر ان سے ڈسکس کریں۔ پچھلے ہفتہ ٹاپ ٹرینڈ کیا رہے ٹوئیٹر پر ان سے شئیر کریں۔ اپنی صحت کا کبھی کوئی ایک گھنٹہ انکی ضعیفی میں رنگ بھر دیں۔ انکو صرف دوا نہیں چاھئے، ہم چاھئیں۔ میرے ضعیف، معذور ماموں ہیں رشتہ کے۔ انکو کبھی کال کرو تو کہتے ہیں اب تو فون کرنے کی بھی فرصت نہیں کسی کے پاس۔ ہمارےلئے تو تم سب کی آوازیں ہی انرجی ڈرنک ہیں بیٹا۔
جو خاتون ملبورن کرکٹ اسٹیڈیم میں ملی تھیں انھوں نے بتایا کہ 1956میں انھوں نے ورلڈ کپ دیکھا تھا اور اگلے برس انکی شادی ہوئی۔۔انکی ٹی شرٹ، میچنگ کا مفلر ، ناخنوں پر ھلکے رنگ کی کیوٹکس۔لپ اسٹک۔موز کی چمک کے ساتھ سلیقہ سے کی ہوئی کنٹورنگ۔۔بہت خوشگوار احساس ہوا مل کر۔۔

ہمارا سماجی رویہ یہ ہے ہم ستر کے پیٹے کی کسی خاتون کو اتنا تیار دیکھ کر اگر کہیں گے نہیں تو سوچیں گے ضرور۔۔۔اپنی عمر کا لحاظ نہیں۔ بہو ، بیٹیوں ہی کا خیال کریں۔ اس عمر کے یہ شوق ہماری تو سمجھ میں نہیں آئے۔ سمجھتی ہیں عمر چھپا لیں گی ان حرکتوں سے؟ جینے کا حق سب کو ہے۔ زندوں کی طرح جینا زندگی ہے۔ کسی کے لائف اسٹائل میں مداخلت کا حق ہمیں کس نے دیا؟؟ جو سفید کپڑے پہنے اس کی مرضی، جو شوخ رنگ پسند کرتا ہو اسکی مرضی۔ ان چیزوں کا اکرام سے کیا تعلق ۔ ستر برس کے آدمی کو سفید شلوار قمیض ہی پہننا چاھئے۔ ہاں وہ پسند کریں تو درست لیکن اگر کوئی پینٹ پہنے ٹائی لگائے اس کو پورا حق ہے ۔ ہمیں اپنے بزرگوں کو سماجی دائروں میں لانے انکی بودوباش میں جدت پیدا کرنے پر سوچنا چاہئے ۔ یہ درست کہ ہم الحمدللہ اولڈ کئیر نہیں بھیجتے بوڑھوں کو مگر کنارے تو ہم نے بھی لگایا ہوا ہے۔