مداح سراہی - زرینہ انصاری

کپتان وزیراعظم پاکستان تین روزہ امریکی دورہ مکمل کرکے باحفاظت واپس اپنے وطن لوٹ آئے۔ اسے ہمارے ملک کی روایت کہیں یا مجبوری کہ ہر آنے والے حکمران کو امریکہ کی یاترا پر جانا ضروری ہے۔ پہلے تو حکمران اکیلے جاتے تھے لیکن اب حفاظتی طور پر آرمی چیف کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں کہ اگر ان کو بات سمجھ میں نہ آئے تو آرمی چیف ان کو سمجھا سکیں۔

ہر بار کی طرح اس بار بھی وہی سجدہ ریزیاں، وہی جھکی جھکی نظریں اور وہی ہدایات کا پلندہ لیکر واپسی. ایسے موقع پر بهلا حواریان کپتان کیوں نا پرجوش ہوں سوشل میڈیا پر دھرنا دیکر بیٹھ گئے ہیں اور یقینا الیکٹرانک میڈیا بھی کچھ پیچھے نہیں رہا۔ وزیراعظم نے نہ ہی اسمبلی کو دورہ امریکہ کا ایجنڈا بتایا اور نہ ہی عوام سے کوئی وعدہ کیا کہ عافیہ کو واپس لائیں گے؟ شکیل آفریدی پر کوئی ڈیل نہیں کریں گے؟ وغیرہ وغیرہ، ویسے حواریان کپتان کو ان باتوں سے کوئی غرض نہیں بلکہ وہ تو ایک پلیٹ بریانی ووٹرز کو اس میں ہی الجھا کر رکھنا چاہتے ہیں، دیکھو خان کتنا چارمنگ ہے جبکہ ساٹھ برس کا آدمی کتنا چارمنگ ہوسکتا ہے یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ خان کی سادگی دیکھو لوکل جہاز میں بہت کم ٹیم کو لیکر امریکہ گیا جبکہ ابھی کچھ ماہ قبل ہی پورا جہاز بھر کر عمرہ ادا کرنے گئے تھے پھر آگے ایک اور سادگی دیکھئے کہ جہاز سے اتر کر ٹرین پر سفارت خانے تک گئے۔

اگلی سادگی ملاحظہ ہو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے اور ہاتھ میں تسبیح سبحان اللہ۔۔۔
مداح سراہوں نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ کے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال پاکستانی کمیونٹی نے کیا، کیوں کہ امریکہ اپنے غلاموں کا استقبال نہیں کرتا کیوں کہ غلام صرف حکم بجانے کے لیے ہوتے ہیں ان کی بھلا کیا عزت۔ آرمی چیف کا استقبال کیسے ہوا؟ 21 توپوں کی سلامی، پاکستانی کمیونٹی نے سو گاڑیوں کا پروٹوکول دے کر خان صاحب کو خوش کردیا خان ویسے بھی پوری بارات لیکر چلنے کے عادی ہیں اور اگر سڑکیں چھوٹی ہو تو پھر خان صاحب ہیلی کاپٹر کا استعمال بھی کرلیتے ہیں۔ خان کپتان کی بہت سی باتیں اچھی ہیں لباس کا سادہ اور پروقار ہونا اچھی شخصیت کی علامت ہے اور امید ہے کہ وہ اپنی پوری قوم کی توقعات پر پورے اتریں گے وہ صرف تحریک انصاف کے وزیر اعظم نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں اگر وہ واقعی عظیم ہیں جیسا کے ان کے حواریان کہتے ہیں تو پھر عظیم لیڈر تو وہ ہوتا ہے جو اپنے ملک اور اپنی عوام کے لیے دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے امریکہ میں قیام کے دوران پاکستانی نزاد امریکی تاجروں کے وفد سے ملاقات کوئی اچھوتی بات نہیں،

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

چلیے یہ بھی مان لیا کہ خان صاحب کو پچھلی حکومت کی طرح تاجروں سے مل کر اپنا بزنس نہیں چمکانا اور نہ اپنی فیملی کو ساتھ لیجا کر شاپنگ کرانے کا کوئی شوق ہے اور ان کے مداح تو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ پچھلی حکومت اپنی پوری فیملی کو اپنے ساتھ لیکر جاتے تھے مگر ہمارا لیڈر خاتون اول کو بھی ساتھ لیکر نہیں جاتا حالانکہ خاتون اول کو ساتھ نہ لیجانا کوئی فخر کی بات نہیں بلکہ لیجانا فخر کی بات ہے کہ پاکستان کی خاتون اول بھی باصلاحیت ہے اور اپنے ملک کی خواتین کی ترجمان ہے لیکن جناب ان مداح سراہوں کو کون سمجھائے کہ جناب اپنے لیڈر سے عقیدت ضرور رکھیں مگر اپنے ملک کا مفاد عزیز تر ہونا چاہیے کیونکہ عظیم قوم کے لیڈر بھی عظیم ہوتے ہیں اس لیے اپنی آواز کو سچائی کی آواز بنائیں اور پوچھیں اپنے وزیراعظم پاکستان سے کہ بتاؤ امریکہ سے واپسی میں ہمارے لئے کیا لیکر آئے ہو "کلاوہ کچھ ڈھیلا کیا یا مزید کسا جائے گا؟"