حجاج کرام کے لئے تعلیمات - خطبہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 23 ذوالقعدہ 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں " حجاج کرام کے لئے تعلیمات" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی چیز کو پیدا کر کے اسے مقام عطا کرنا اللہ تعالی کے اختیار میں ہے، تو اللہ تعالی نے بیت اللہ کو انتہائی معزز بنایا اور اس کو حرمت والا قرار دیا، لوگوں کو حج بیت اللہ کی دعوت دی اور آج تک لوگ حج کے لئے دیوانہ وار چلتے آ رہے ہیں، حج اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے، یہ صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، اور حدیث نبوی کے مطابق صاحب استطاعت شخص 5 سال کے عرصے میں بیت اللہ کی دوبارہ زیارت نہ کرے تو وہ محروم ہے، حج کی بدولت انسان کے صغیرہ و کبیرہ تمام گناہ دھل جاتے ہیں، نیز حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حج کے لئے صرف پاکیزہ مال ہی خرچ کریں؛ کیونکہ اللہ تعالی پاک مال ہی قبول فرماتا ہے، دوسرے خطبے میں انہوں نے حرمت والے مہینوں کی جانب توجہ دلائی اور ان کا خصوصی احترام کرنے کی تاکید کی، اور یہ بھی بتلایا کہ نبی ﷺ کے حج کے علاوہ سب عمرے ذوالقعدہ میں ہوئے تھے، آخر میں حجاج کی خدمت اور انہیں سہولیات پیش کرنے میں شریک سب افراد کے لئے خصوصی دعا بھی فرمائی نیز حجاج کو امن و امان اور راحت قائم رکھنے کے لئے مکمل تعاون کی تاکید بھی کی۔

پی ڈی ایف فائل کیلیے کلک کریں۔

خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، وہی پناہ مانگنے والوں کو پناہ دیتا ہے، اللہ کی جانب بڑھنے والوں کے لئے اللہ تعالی نے جنتیں تیار کی ہوئی ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ عرش پر مستوی ہے، اللہ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں جناب محمد -ﷺ- اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ نہ تو بے راہ ہوئے نہ ہی راہ سے بھٹکے، آپ اپنی خواہش کے مطابق بولتے بھی نہیں تھے آپ کی ہر بات وحی ہوتی تھی، آپ نے پیغام رسالت کی تبلیغ کر دی، امانت پہنچا دی اور امت کی خیر خواہی کرتے ہوئے تقوی اپنانے کا حکم دیا۔ اللہ تعالی آپ پر آپ کی آل ، صحابہ کرام اور خواہش نفس سے بچ کر آپ کی تابعداری کرنے والوں پر رحمت نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

بہترین کلام؛ اللہ کا کلام ہے، اور بہترین سیرت جناب محمد بن عبد اللہ ﷺ کی سیرت ہے، جبکہ بد ترین اعمال تاویل کرنے والے جاہل گمراہ اور نابلد بدعتیوں کے اعمال ہیں۔

اللہ کے بندو!

میں آپ سب سامعین اور اپنے آپ کو تقوی اپنانے کی تاکیدی نصیحت کرتا ہوں، یہ اللہ تعالی کی گزشتہ و پیوستہ تمام لوگوں کو نصیحت ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} یقیناً ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی تھی سب کو یہی تاکیدی نصیحت کی کہ تقوی الہی اپناؤ۔ [النساء: 131]

مسلم اقوام!

اللہ تعالی جو چاہے پیدا فرماتا ہے اور جسے چاہے اپنا چنیدہ بنا لیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے فرشتوں اور انسانوں میں سے پیغمبر چنے، سارے سال کے مہینوں میں سے رمضان کو فضیلت عطا فرمائی، بیت اللہ کو چنیدہ بنایا تو اسے لوگوں کے لئے اللہ کی عبادت کے واسطے بنایا جانے والا پہلا گھر قرار دیا، بیت اللہ کو شرف بخشا ، اسے لوگوں کے بار بار آنے کی جگہ اور پر امن بنایا، اللہ تعالی نے یہاں برکت ودیعت فرمائی اور اسے قبلہ قرار دیا، اللہ تعالی نے اسے تیار کروایا اسے حرمت والا بنا کر اس کی عظمت میں اضافہ فرمایا، اور اسے بنیادی منسک بھی قرار دیا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ} اللہ تعالی نے حرمت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے لئے ٹھہرنے کی جگہ بنایا۔[المائدة: 97]

اللہ تعالی نے اس کی حدود کی نشاندہی فرمائی اور اسے بیت العتیق سے موسوم فرمایا، اللہ تعالی نے زیارت بیت اللہ کی دعوت دی اور ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا: {وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ} لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں وہ آپ کے پاس پیادہ، اور ہر دبلی پتلی سواری پر آئیں گے جو ہر دور دراز کی گھاٹی سے آئیں گی۔[الحج: 27]

تو اللہ تعالی کے لیے مسلم اقوام تلبیہ پکار اٹھیں:  (لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ)

اللہ کے بندو!

اسلام میں عقیدہ، عبادات، اخلاقیات، اور معاملات سب چیزیں شامل ہیں، اسلام کی بنیاد 5 اساسی ارکان پر ہے، جیسے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اسلام کی بنیاد 5 چیزوں پر ہے: اللہ کی وحدانیت کا اقرار، اقامت نماز، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے اور حج) متفق علیہ

لوگو!

بلا شبہ اللہ تعالی نے تم پر حج فرض کیا ہے اس لیے فوری طور پر حج کی ادائیگی کرو، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا } ترجمہ: بیت اللہ کے سفر کی استطاعت رکھنے والے لوگوں پر اللہ کے لئے حج بیت اللہ فرض ہے۔[آل عمران: 97]

حج زندگی بھر کی عبادت، تکمیل دین اور ارکان اسلام کا تتمہ ہے، حج کے دوران ہی اللہ تعالی کا یہ فرمان نازل ہوا: {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا } ترجمہ: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، نیز تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا ہے۔[المائدۃ: 3]

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (اللہ تعالی فرماتا ہے: جس شخص کو میں صحت مند جسم دوں اور اس کا معاش بھی وسیع کر دوں اس کے باوجود اس پر پانچ سال گزر جائیں اور وہ میری طرف نہ آئے تو وہ یقیناً محروم ہے۔) اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔

اس لیے اللہ تعالی کے فرائض اور حج بیت اللہ ادا کرو، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ } ترجمہ: حج اور عمرہ اللہ تعالی کے لئے مکمل کرو۔[البقرۃ: 196]

یہ بھی پڑھیں:   حجاج کرام اور مکہ و مدینہ کی حرمت - خطبہ مسجد نبوی

اللہ کے بندو!

حج واجب رکن ہے اور یہ مؤکد فرض بھی ہے، قرآن کریم میں فرضیتِ حج کی صراحت موجود ہے ، حج افضل ترین عبادات میں شامل ہے، حج کا شمار عظیم ترین اور جلیل القدر نیکیوں میں ہوتا ہے، حج درجات میں بلندی کا باعث ہے، حج خطائیں مٹاتا ہے اور گناہوں کو دھو ڈالتا ہے، حتی کہ کبیرہ گناہ بھی حج سے دھل جاتے ہیں، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: (جو شخص اللہ کے لئے حج کرے اور دوران حج بیہودگی اور فسق سے بچا رہے تو وہ اس دن کی کیفیت میں واپس لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔) بخاری

امام ترمذی نے ایک روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کی اور اسے صحیح بھی قرار دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (حج اور عمرے تسلسل سے کرو؛ کیونکہ یہ دونوں غربت اور گناہوں کا ایسے ازالہ کر تے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے اور چاندی میں سے میل کچیل الگ کر دیتی ہے، اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔)

صحیح مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے افضل ترین عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ پر ایمان ) " پوچھا گیا پھر؟ " تو آپ ﷺ نے فرمایا: (جہاد فی سبیل اللہ) "پوچھا گیا اس کے بعد؟" تو آپ ﷺ نے فرمایا؛ (حج مبرور)

مسلم اقوام!

اللہ تعالی خود بھی پاک ہے اور پاک مال ہی قبول فرماتا ہے، اس لیے حج کا ارادہ رکھنے والا حرام سے بچے اور اپنا حلال مال ہی حج کے لئے خرچ کرے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (لوگو! اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ ہی قبول فرماتا ہے، اور اللہ تعالی نے مومنوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جس کا رسولوں کو حکم دیا اور فرمایا: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُّوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ } ترجمہ: اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو، بیشک میں تمہاری کارکردگی کو جانتا ہوں۔[المؤمنون: 51] اسی طرح فرمایا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُّوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ } ترجمہ: اے ایمان والو! ہم نے جو پاکیزہ چیزیں تمہیں عطا کی ہیں ان میں سے کھاؤ۔[البقرۃ: 172]پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو سفر میں بکھرے اور پراگندہ بالوں کے ساتھ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے "یا رب! یا رب" کی صدائیں لگا رہا ہو؛ حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا ، اور اس کا بدن حرام سے پروان چڑھا تو اس کی دعا قبول کیسے کی جائے؟) مسلم

اللہ تعالی مجھے اور آپ سب کو ان لوگوں میں شامل فرمائے جو باتیں غور سے سن کر بہترین باتوں پر عمل کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں وہ نوازشیں اور عنایتیں اسی کی ہیں، وہی بھلائی کی رہنمائی فرماتا ہے اور راستہ دکھاتا ہے، اس نے راہ راست واضح فرمائی اور سمجھ عطا کی، اللہ تعالی نے حج کو افضل ترین اعمال میں شامل فرمایا۔

مسلم اقوام!

آپ حرمت والے مہینوں سے گزر رہے ہیں، اللہ تعالی نے انہیں حرمت والا قرار دیا ہے، ان کی شان دیگر مہینوں سے بلند فرمائی، اور ان کے دوران ظلم کرنے سے روکا، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ} ترجمہ: بلا شبہ جس دن سے آسمان و زمین کو اللہ نے پیدا فرمایا اس وقت سے مہینوں کی تعداد اللہ تعالی کے ہاں بارہ ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، یہی دین محکم ہے، چنانچہ ان مہینوں میں ظلم مت کرو۔[التوبہ: 36]

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: (بیشک زمانہ اپنی اسی حالت میں لوٹ آیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دن تھی، سال 12 مہینوں کا ہے اور ان میں سے چار حرمت والے ہیں تین مسلسل: ذوالقعدہ، ذو الحجہ ،محرم اور مضر قبیلے کا رجب جو کہ جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

(یہ کون سا مہینہ ہے؟)

"ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، اس پر آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ آپ اس مہینے کا نام بدل دیں گے"

تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (کیا یہ ذوالحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟)

"تو ہم نے کہا کہ: بالکل"

اس کے بعد آپ ﷺ نے پوچھا: (یہ کو نسا شہر ہے؟)

"ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، اس پر آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ آپ اس شہر کا نام بدل دیں گے"

تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (کیا یہ حرمت والا شہر مکہ نہیں ہے؟)

"تو ہم نے کہا کہ: بالکل"

اس کے بعد آپ ﷺ نے پوچھا: (یہ کو نسا دن ہے؟)

"ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، اس پر آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ آپ اس دن کا نام بدل دیں گے"

تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: (کیا یہ یوم النحر قربانی کا دن نہیں ہے؟)

آپ ﷺ نے مزید فرمایا: (یقیناً تمہاری زندگیاں، دولت اور عزت تمہارے لیے اسی طرح حرمت والی ہیں جیسے آج کا دن تمہارے اس شہر اور اس مہینے میں حرمت والا ہے، اور تم یقیناً اپنے رب کو ملو گے اور وہ تم سے تمہاری کارکردگی کے متعلق پوچھے گا۔ خبردار! میرے بعد گمراہ مت ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگو، خبردار! حاضر افراد غیر حاضر لوگوں تک بات پہنچا دیں، ممکن ہے کہ جسے بات پہنچے وہ میری بات سننے والے سے زیادہ سمجھ رکھنے والا ہو۔ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟) متفق علیہ

ماہ ذوالقعدہ حرمت والے مسلسل مہینوں میں سے پہلا مہینہ ہے، اسی میں نبی ﷺ نے عمرے ادا کیے، چنانچہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: (رسول اللہ ﷺ نے 4 عمرے کئے اور حج کے عمرے کے علاوہ چاروں ہی ذوالقعدہ میں تھے: حدیبیہ کا عمرہ ذوالقعدہ میں تھا کہ مشرکوں نے آپ کو عمرہ کرنے سے روک دیا، آئندہ سال بھی عمرہ ذوالقعدہ میں کیا کہ اب آپ کا مشرکین سے صلح کا معاہد ہو چکا تھا، جعرانہ میں غزوہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے بعد والا عمرہ، اور حج کے ساتھ والا عمرہ۔) متفق علیہ

یہ بھی پڑھیں:   حجاج کرام اور مکہ و مدینہ کی حرمت - خطبہ مسجد نبوی

اللہ کے بندو!

حج کا موسم نیکی، اطاعت، اور سخاوت کا موسم ہوتا ہے۔ حج جود و سخا اور خرچ کرنے کا موقع ہے، اسی لیے حجاج کو پانی پلانا اور بیت اللہ کی تولیت دورِ جاہلیت میں بھی باعث فخر سمجھی جانے والی اشیا میں شامل تھی، لوگ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، اسلام نے آ کر اسے برقرار رکھا، چنانچہ نبی ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو منی کی راتیں مکہ میں گزارنے کی اجازت اسی وجہ سے دی تھی، پھر نبی ﷺ پانی پلانے والوں کے پاس آئے اور ان سے پانی طلب کر کے نوش فرمایا، اس کے بعد آپ ﷺ زمزم کے کنویں پر آئے تو سقایہ پر مامور لوگ پانی پلا رہے تھے اور کام کر رہے تھے، انہیں دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا: (خوب محنت سے کام کرو؛ یقیناً تم نیک عمل کر رہے ہو) آپ ﷺ نے مزید فرمایا کہ: (اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تمہیں ازدحام کا سامنا ہو گا تو میں بھی اتر کر رسی کو یہاں رکھتا) اور آپ ﷺ نے اپنے کندھے کی جانب اشارہ فرمایا۔ بخاری

اللہ تعالی کا احسان ہے کہ حرمین شریفین کی خدمت کا موقع مملکت سعودی عرب کو دیا۔ زائرین حرمین ، حجاج اور معتمرین کے لئے ضروری خدمات کی فراہمی اور مناسک کی ادائیگی میں سہولیات پیش کرنے کا موقع دیا، اسی طرح تمام زائرین کی امن و سلامتی کے بندوبست کے لئے لازمی اقدامات کی توفیق دی، اس پر اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں اور ذمہ داران کو حرمین شریفین اور زائرین حرمین کی خدمت پر بہترین ، وافر، کامل، مکمل اور اعلی اجر و ثواب سے نوازے۔

اللہ کے بندو!

آپ اللہ تعالی کے محبوب ترین خطے میں ہو، آپ انتظام و انصرام، خدمات اور دیکھ بھال پر مامور افراد کے دست و بازو بنیں، اللہ تعالی ہماری اور آپ کی عبادات قبول فرمائے، ہمیں اور آپ کو توفیق سے نوازے۔

بیت اللہ کے حجاج کرام!

آپ کو فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے توفیق ملی اور آپ نے ہر چیز اس کے لئے لٹا دی، اس لیے اب آپ حج کی ادائیگی، تکمیل، اور قبولیت کے لیے بھر پور محنت کریں، حج کے احکام سیکھ لیں، اپنے آپ کو بیہودگی، فسق اور لڑائی جھگڑے سے بچائیں: {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ } ترجمہ: حج کے مہینے معلوم ہیں؛ جو بھی ان میں حج کا پختہ ارادہ کر لے تو وہ حج میں بیہودگی، فسق اور لڑائی جھگڑا نہ کرے۔[البقرۃ: 197]

آپ سکینت اور وقار اپنائیں، ازدحام کی صورت میں رحمدلی کا مظاہرہ کریں، دھکم پیل سے بچیں، کمزور ساتھیوں کا خیال رکھیں، کیونکہ تمہیں روزی اور مدد انہی کی بدولت عطا کی جاتی ہے۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: (رسول اللہ ﷺ نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور عرفات سے روانہ ہو گئے، آپ نے قصواء کی نکیل کو اتنا کھینچا ہوا تھا کہ اس کا سر آپ کے پالان کی لکڑی کو چھو رہا تھا، اور آپ ﷺ دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: لوگو! آرام سے چلو، لوگو! آرام سے چلو۔ آپ ﷺ جب بھی کسی پہاڑی ٹیلے پر پہنچتے تو نکیل ڈھیلی کر دیتے اور اونٹنی اوپر چڑھ جاتی، یہاں تک کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔) مسلم

یا اللہ! حجاج کرام کا حج قبول فرما، یا اللہ! حجاج کرام کا حج قبول فرما، یا اللہ! جو بھی حجاج کی خدمت اور راحت کے لئے اپنا حصہ ڈالے اس کے لئے ڈھیروں اجر و ثواب لکھ دے۔

یا اللہ! یہ تیرے بندے اور مہمان، تیرے گھر کا حج کرنے والے بڑے دور دراز کے علاقوں سے آئے ہیں، انہوں نے اپنے علاقے کو چھوڑا، اپنے مال و دولت کو چھوڑا، یا اللہ! ان پر رحم فرما، ان کا تیری طرف یکسو ہو جانا، تیرے سامنے کھڑے ہونا قبول فرما، یا اللہ! ان کی کد و کاوش قبول فرما اور اس میں مزید بہتری پیدا فرما، یا اللہ! ان کے درجات بلند و بالا فرما۔ یا اللہ! ان کے حج کو مبرور بنا، ان کی محنت کی قدر فرما، اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔

یا اللہ! تمام حجاج کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ فرما دے، یا اللہ! تمام حجاج کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ فرما دے، یا اللہ! تیری رحمت کے صدقے انہیں اپنے اپنے علاقوں میں صحیح سلامت اور اجر و ثواب کے ساتھ واپس لوٹا، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما۔ یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! انہیں حرمین شریفین اور زائرین کی خدمت پر بہترین اجر سے نواز۔

یا اللہ! اس ملک کی خصوصی حفاظت فرما، یا اللہ! اس ملک کی خصوصی حفاظت فرما، یا اللہ! اس ملک کو ہر قسم کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! اس ملک کو پر امن بنا ، یا اللہ! جو بھی اس ملک کے خلاف برے ارادے رکھے اسے ذلیل و رسوا فرما دے، یا اللہ! اس کی مکاری اسی کی تباہی کا باعث بنا دے۔

یا اللہ! اس ملک کی اور سارے اسلامی ممالک کی حفاظت فرما۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی ایس حدیث کے بعد ایم ایس تفسیر مکمل کر چکے ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.