مری میں ’خلافتِ عباسیاں‘ اور عباسی صاحب ۔ عبدالخالق بٹ

نئے سفر کا ہر اک موڑ بھی نیا تھا مگر

ہر ایک موڑ پہ کوئی صدائیں دیتا تھا

نیا سفر،۔۔۔ اجنبی رستہ ۔۔۔ موڑ پہ موڑ۔۔۔۔ گاڑی کی چیخیں نکل رہی ہیں، جنہیں’ صدائیں ‘ کہا گیا ہے۔۔۔۔ شاعر یقیناً کوہالہ جانے کے لیے مری سے ’بارو بار‘ والے رستے پر ہے۔اس راہ میں اتنے موڑ آتے ہیں کہ بندہ منزل پر پہنچ کر بھی احتیاطاً دو چار موڑ مُڑ جاتا ہے۔

اسلام آباد سے کوہالہ جائیں تو رستے میں ایک مقام ’ باسیاں ‘ آتا ہے۔ پہلی دفعہ نام پڑھ کر خیال آیا کہ شائد کسی دل جلے کو یہاں روٹیاں ’ تازیاں ‘ نہیں ملیں، سو اُس نے انتقاماً اس جگہ کو ’ باسیاں ‘ مشہور کردیا۔ پھر گمان گزرا کہ پنجابی میں’ جماہی ‘ کو ’ باسی ‘ کہتے ہیں۔ممکن ہے اہل علاقہ سستی اور کاہلی کے مارے ہوں اور وقت بے وقت ’باسیاں‘ لیتے ہوں۔ یوں اجتماعی باسیوں کا نتیجہ ’ باسیاں ‘ کی صورت میں نکلا ۔ ہمیں قابلِ اطمینان جواب نہیں ملا، ہم نے راہ بدل لی۔ اب ہم مری کے درمیانی رستے پر سفر کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک سفر میں ہمیں ’ بیروٹ کلاں ‘ کے نزدیک ایک خضر صورت بزرگ ملے۔ وہ بزرگ نہیں جن سے محتاط رہنے کا مشورہ الطاف حسین حالیؔ دے گئے ہیں :

اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت

حوروں کا مقابلہ حسن - عبدالخالق بٹ
باز خاں اور عمران خاں-عبدالخالق بٹ

یہ سعدی شیرازی والے بزرگ ہیں۔ ایسے لوگوں کی بزرگی کا تعلق عمر سے نہیں عقل سے ہوتا ہے: ’بزرگی بہ عقل است نہ بسال‘۔۔۔۔ موصوف دِکھنے میں اپنی عمر سے پورے چھ ماہ چھوٹے لگتے ہیں۔وہ بھی چھ ماہی حجامت بنوانے پر،۔۔۔۔وہ اس قابلِ رشک صحت کا راز شرم و حیا اور خالص غذا بتاتے ہیں۔ فی زمانہ یہ دونوں چیزیں نایاب ہیں اس لیے ان کی طبیعت بھی گڑ بڑ رہتی ہے۔ خیر بزرگوار ہمارے حق میں سچ مچ خضر ثابت ہوئے کہ ہماری الجھن کو سلجھن میں بدل دیا۔
’’ باسیاں ‘ در اصل ’ عباسیاں ‘ کے بگاڑ کا نتیجہ ہے‘۔ بزرگ نے دُور خلا میں گھورتے ہوئے آ گاہی بخشی۔
’بگاڑ کے نتائج تو اور بھی بہت تھے۔ملبہ ’باسیاں‘ ہی پر کیوں گرا ‘۔ ہم نے تاریخ کاورق پلٹنے کی کوشش کی۔
’بغداد‘ اُجڑا تو ’ عباسیاں ‘ آباد ہوا ‘۔ بزرگ یوں گویا ہوئے جیسے: ’دیکھ رہے ہوں کسی اور زمانے کا خواب‘۔
ہم نے حیرت سے پوچھا: ’گویا مری میں عباسیوں کی آمد ’خلافتِ عباسیاں‘ کی بحالی کی کوشش تھی‘؟۔۔۔۔ہماری اس بات پر انہوں کچھ یوں سر ہلایا جیسے اگلے خلیفہ وہی ہوں۔
’پھر مری کو درالخلافہ ڈکلیئر کیوں نہیں کیا؟ ‘۔۔۔ ہمارا تجسس بڑھا۔
جواب میں انہوں نے جو آگاہی بخشی اس کی صداقت سے انکار ممکن نہیں۔۔۔۔ کہنے لگے: ’ مری میں عباسیوں کو عددی کمی کا سامنا تھا۔ یوں پہلے مرحلے میں عباسیوں کی’ افزائش نسل ‘پر توجہ دی گئی۔۔۔۔ مری کا موسم راس آیا۔ ہر بلندی اور گھاٹی سے عباسی یوں برآمد ہونے لگے گویا : ’ کُھل گئے یاجوج و ماجوج کے لشکر تمام ‘۔۔۔۔ دبدبے کا یہ عالم کہ مری آنے والے سیاح بھی نام کے ساتھ احتیاطاً ’عباسی‘ لکھنے لگے‘۔

کازیاں دا منڈا-عبدالخالق بٹ
آگ اورخون کا آلاؤ-عبدالخالق بٹ

اتنا کَہ کر خاموش ہوگئے۔۔۔۔ پھر ایک گہری ہُوک بھری اور سلسلہ کلام آگے بڑھایا :۔۔۔۔ مگر جب اعداد و شمار کا پلہ ’بنو عباسیاں‘ کے حق میں ہوا تو جونیئرز نے ’ جیسا ہے جہاں ہے ‘ کی بنیاد پر اپنی اپنی خلافت کا عَلم بلند کردیا۔ اب جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔۔۔۔انتشار کے اس سمندر میں ’ باسیاں ‘ ایسا ہی ایک جزیرہ ہے‘۔
بزرگوار کی ’خلافت بیتی‘ سن کر بے اختیار انہیں ’ خلیفہ عباسی‘ پکارنے کا جی چاہا، مگر ’حجامت‘ کے ڈر سے خاموش ہوگئے ۔ اب ہم انہیں ’عباسی صاحب‘ کہتے ہیں۔
ایک روز عباسی صاحب نے بذریعہ ’واٹس ایپ‘ انگریزی پر اردو کی برتری سے متعلق خوبصورت تحریر بھیجی۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ بلاشبہ اس تحریر کو پڑھنے کے صحیح حقدار ہم ہی ہیں۔ ورنہ اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں شعبۂ اردو کا سربراہ بھی خود کو ’ آئی ایم دی ہیڈ آف دی اردو ڈپارٹمنٹ ‘ کَہ کر متعارف کرواتا ہو کس کے پاس اردو پڑھنے کا وقت ہے۔۔۔۔ پھر ہم نے خود اس موضوع پر لکھنے کا عندیہ دیا۔ اس سے آگے جو کچھ کام کی باتیں ہیں اس کا محرک عباسی صاحب کو سمجھا جائے۔
یوں تو بچے سب کو پیارے ہوتے ہیں اور اپنا بچہ سب ہی کو اچھا لگتا ہے۔ یہاں تک کہ جانوروں میں بھی یہ جذبہ پایا جاتا ہے۔جانوروں کے بچوں کے جدا جدا ناموں کے حوالے سے اردو میں عربی کی شان پائی جاتی ہے۔’ پنڈت برج موہن دتاریہ کیفی ‘ کے مطابق:
’بکری کا بچہ/میمنا۔۔۔۔بھیڑ کا بچہ / برّہ ۔۔۔۔ ہاتھی کا بچہ / پاٹھا ۔۔۔۔ اُلو کا بچہ / پٹّھا ۔۔۔۔ کُتیا کا بچہ / پِلاّ ۔۔۔۔ بلی کا بچہ / بلونگڑہ ۔۔۔۔ گھوڑی کا بچہ/ بچھیرا(بچھیری)۔۔۔۔ گائے کا بچہ/ بچھڑا (بچھیا) ۔۔۔۔ بھینس کا بچہ/ کٹڑا (کٹڑی) ۔۔۔۔ مرغی کا بچہ/ چوزہ ۔۔۔۔ ہرن کا بچہ/ ہرنوٹا (چکارا) ۔۔۔۔سانپ کا بچہ/ سنپولا ۔۔۔۔ سُور کا بچہ/گھیٹا‘۔

’احمقوں اور جاہلوں کا جنگل‘- عبدالخالق بٹ
’’اونٹوں کی شتربانی‘‘-عبدالخالق بٹ

خود کئی جانوروں کے نام ان کی مخصوص عادتوں اور مشابہتوں کے مرہون منت ہیں۔ جیسے ’ نیولا ‘: یہ نام اسے نیو (بنیاد) کھودنے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔۔۔۔۔ ’خرگوش‘: چونکہ اس کے گوش (کان)،۔۔۔ خر(گدھے) جیسے ہوتے ہیں اس لیے اسے خرگوش کہتے ہیں۔۔۔۔’ شتر مرغ ‘: یہ سب سے بڑا مرغ (پرندہ) ۔۔۔ اپنی بلند قامتی اور شتر (اونٹ) جیسی گردن کی وجہ سے ’شترمرغ‘ پکارا جاتا ہے۔
چوہے کا احوال بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ سنسکرت میں چور کو ’ ’موش‘ کہتے ہیں۔ چونکہ چوہا بھی چوری چھپے گھر میں آتا اور چیزیں کھاجاتا ہے، لہٰذا اس نسبت سے چوہے کو بھی سنسکرت میں مُوش اور موشک کہتے ہیں۔ سنسکرت کے زیر اثر چوہا فارسی زبان میں بھی’ موش ‘ ہے۔ پھر یہی موش انگریزی میں mouse ہے۔انگریزی کے علاوہ بھی کئی یورپی زبانوں میں یہ’ موش ‘ لہجوں کے اختلاف کے ساتھ پایا جاتا ہے۔
سب سے بڑے زمینی جانور ’ ہاتھی ‘ کے نام پر غور کریں۔ سید سلیمان ندوی ؒ نے ہاتھی کی اصل ’ ہستی ‘ بتائی ہے، مزید وضاحت نہیں کی ۔ ہمارے نزدیک یہ جانور اپنے اُس ’ ہاتھ ‘ کی وجہ سے ’ ہاتھی ‘۔۔۔۔۔(یعنی ہاتھ والا )۔۔۔۔۔ کہلاتا ہے جسے سونڈ کہتے ہیں۔ یہ سونڈ اس کے لیے ہاتھ کا کام دیتی ہے۔
اس سے قبل کہ مضمون چڑیا گھر بن جائے ہمیں اجازت دیں۔آئندہ نشست میں ’عباسی صاحب ‘ کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بٹ صاحب آپ کے تازہ سلسلہ مضامین بشمول مضمون ھذا پر تعریف نہ کرنا بخیلی کی انتہا ہوگی۔
    اب تو استادانہ رنگ گہرا ہوتا جا رہا ہے ۔ ماشاءاللہ
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    کہتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ مزید کیا زور کی ضرورت ۔۔۔ یہ بھی امت مسلمہ کی اوقات سے کہیں بڑھ کر ہے۔