بچوں کی تربیت - سمیہ سلیم

حضرت ابوسعید خدری ؓ اور حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو اللہ تعالیٰ اولاد دے تو چاہئے کہ اسکا اچھا نام رکھے ، اسکو اچھی تربیت دے اور سلیقہ سکھائے پھر جب وہ سن بلوغ کو پہنچ جائے تو اسکے نکاح کا بندوبست کرےاگر شادی کی عمر کے بعد بھی اسکا نکاح نہ کیا اور گناہ میں مبتلا ہوگیا تو اسکا باپ اس کا ذمہ دار ہوگا ۔

ہم اس عظیم دین کے پیروکار ہیں زندگی کے تمام گوشوں کے بارے میں ہمیں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔۔ اولاد رب العالمین کی طرف سے نہایت خوبصورت تحفہ ہے اس نعمت کی قدر تو وہی بہتر جان سکتا ہے جو اس سے محروم ہے ۔ ایک مسلمان جب صاحب اولاد ہوتا ہے تو اس پر تربیت اولاد کی بھاری ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے ۔ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی باپ نے اپنی اولاد کو کوئی عطیہ یا تحفہ حسن ادب اور اچھی سیرت سے بہتر نہیں دیا ۔۔
احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں تربیت اولاد کی کتنی اہمیت اور تاکید کی گئی ہے ۔۔ بچے کی پیدائش کے بعد اس کیلئے اچھے نام کا انتخاب کرنا اسکا حق ہے اسکے بعد بچے کی ایسی تربیت کرنا کہ وہ بڑاہو کر ایک باعمل مسلمان اور معاشرے کا مفید شہری ثابت ہو ، بحیثیت والدین اولین ذمہ داری ہے ۔۔

یہی ننھے پودے آگے جا کر تناور درخت بنتے ہیں اسلیے انکو خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بچپن ہی سے بچوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق مسنون طریقے ، دعائیں ، کلمہ ، نماز ، قرآن اور حدیث کی بنیادی تعلیم دی جائےتو بچوں کی بہترین تربیت ہوگی اور وہ ایک دن انشاءاللہ اللہ کے بہترین سپاہی اور پسندیدہ بندے اور بندیاں بن جائیں گے ۔۔ مگر زمینی حقائق کچھ یوں ہے کہ مائیں بچوں سے پیچھا چھڑانے کیلئے بہت چھوٹی عمر میں انہیں مونٹیسری ہاؤس میں داخلہ کروادیتی ہیں جہاں انہیں نہ حقیقی محبت ملتی ہے اور نہ ہی اسلامی اصولوں کے مطابق نگہداشت کی جاتی ہے نتیجتاً بچے ابتداء ہی سے غیر مسلموں کے طور طریقے دیکھتے اور سیکھتے ہیں اور اسی راہ پر چلنے لگتے ہیں ۔۔
بچوں کے ساتھ زیادہ سختی اور مار پیٹ کا رویہ اختیار کرنا درست نہیں بلکہ محبت ، پیار اور اخلاص کے ساتھ ان پر نظر رکھتے ہوئے تربیت کریں ۔ وہ آپ کے پاس محبت سے بیٹھے تو انہیں دھتکاریں نہیں ۔
بچوں کی تربیت صرف تعلیمی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی اقدار مثلاً ادب و احترام ، شرم و حیا ، ایمانداری ، سچائی ، وفاداری ، مہمان نوازی ، احساس ذمہ داری اور قربانی کا جذبہ جیسی صفات اپنے قول و عمل سے بچوں میں منتقل کرنا والدین کی ذمہ داری ہے ۔ اگر بچوں کی بات کو توجہ ، محبت اور اطمینان سے سن کر اس کا تسلی بخش جواب دیا جائے تو بچے بھی آپ کی بات سننے اور ماننے لگیں گے ۔

آج کے والدین تربیت اولاد کے حوالے سے اپنے فرض منصبی سے صرف نظر کرتے ہوئے شب وروز اپنے معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے،بےجا خواہشات کا غلام بنکر، بس زیادہ سے زیادہ حصول دولت کی فکر میں غلطاں ہوکر اپنے سے وابستہ رشتوں کو نظر انداز کرنے کے راستے پر گامزن ہے ۔
آسائشات و سہولیات سے تو صرف انسانی جسم راحت و سکون حاصل کرسکتا ہے جبکہ انسان محض جسم کا مالک نہیں بلکہ انسان روح و جسم کا مجموعہ ہے تو والدین اولاد کیلئے ضروریات زندگی اور سامان تعیش مہیا کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض پورا کردیا،نہیں.....آپ کے بچے آپکی توجہ اور محبت کے طلبگار ہیں تاکہ انکی روح بھی سرشار ہو تشنگی دور ہو صرف مادی ضرورت پوری کر کے اپنے آپکو بری الذمہ اور بہتر والدین سمجھنا آپکی بھول ہے حتی المقدور اولاد کی ضروریات و خواہشات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ انکو اپنی محبت کا احساس دلانا،انکے ساتھ وقت گزارنا،ان سے گفت وشنید کرنا اور انکے جذبات و مسائل کو سمجھ کر درست سمت رہنمائی کرنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے دنیا کی کوئی شے اسکا نعم البدل نہیں بن سکتی .....
اس پہلو کو آج ایک بڑی تعداد نظرانداز کر رہی ہے پھر یہی والدین بعد میں شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اولاد فرمانبردار نہیں عزت نہیں کرتے وقت نہیں دیتے یاد رکھیے جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے اگر آج اولاد کو اپنے کردار و عمل سے محبت ، عزت اور پیسوں سے زیادہ رشتوں کی اہمیت سے روشناس کروائیں گے تو کل یہی اولاد آپ سے بھی ویسے ہی محبت و عزت سے پیش آئے گی .....
آپ کتنے ہی بڑے تاجر یا ملازم ہو اپنی روز مرہ زندگی میں اپنے خاندان کے ساتھ گزارنے کیلئے کچھ وقت ضرورمختص کیجئے یہی میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بھی ہے اور مضبوط تعلقات کی بنیاد بھی .......