اقلیتوں کے مذھبی تہواروں میں شرکت کرنی چاہئے یا نہیں؟ وسیم گل

کسی مسلم ریاست میں آباد غیر مسلم اور کافر مسلمانوں کے پاس نبی ص کی امانت ھوتے ھیں اور اس امانت کی جان' مال' عزت و آبرو کی حفاظت نہ کرنے والے مسلمانوں پر رسول اللہ ص قیامت کے روز خود مدعی بنیں گے۔

اگر مسلمان انفرادی طور پر اور مسلم معاشرے اجتماعی طور ایسی فضاء تشکیل دے لیں کہ ان کے درمیان بسنے والے غیر مسلم و کافر کو احساس تحفظ حاصل ھو اور اسے یہ یقین ھو کہ مشکل وقت میں یہ مسلم افراد اور ریاست انکی مدد کو پہنچیں گے تو پھر انکے مزھبی تہواروں میں شرکت و عدم شرکت کا سوال غیر اھم و غیر متعلق ھو جاۓ گا۔ دنیا کے ھر ملک میں مختلف مزاھب کے لوگ آباد ھیں اور ضروری نہیں کہ ھر جگہ اور ھمیشہ ایک مذھب کے ماننے والے لازمی طور پر دوسرے مذاہب کے مذھبی تہواروں میں شریک بھی ھوں۔

میں یہ باتیں ذاتی تجربہ کی بنیاد پر لکھ رھا ھوں۔ گزشتہ بیس سال سے حصول تعلیم اور پیشہ ورانہ زمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران دنیا کا شائد ھی کوئ مذھب ایسا ھو جس کے ماننے والوں سے عارضی یا مستقل واسطہ نہ پڑا ھو۔ کوشش رھی کہ ان کے ساتھ کھلی دوستانہ گپ شپ ھو' ان کے معاملات و مسائل میں جہاں تک ممکن ھو انکی مدد کی جاۓ' ان کی سماجی خوشیوں میں شرکت' ان کی مشکلات میں انکے ساتھ ممکنہ حد تک کھڑا ھوا جاۓ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی رسمی عبادات کی ادائیگی اور دوران بحث مناسب طریقے سے اسلام کو بطور رحمت پیش کرنے سے نہ ہچکچایا جاۓ اور نہ ہی غیر ضروری طور پر ان کے عقائد پر حملہ آور ھوا جاۓ۔ یعنی دین کے معاملے کسی مداہنت کے بغیر احسن طریقے سے اپنی دینی کمٹمنٹ کا اظہار کیا جاۓ اور ساتھ ساتھ اپنی انصاف پسندی کا بھی۔
یہ کام تھوڑا مشکل رھا ھے لیکن اس کا فائدہ بے پناہ ھوا ھے۔ آپ بھی ٹرائی کریں۔ ممکن ھے آپ کو ایسا کرتے ھوۓ اپنا کچھ وقت دینا پڑے' کچھ وسائل صرف کرنے پڑیں' کچھ جزبات کی قربانی دینا پڑے لیکن ایسا کرنے سے آپ کو کبھی اس پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کہ ان کے مذھبی تہواروں میں شرکت کرنی ھے یا نہیں کرنی؟ جو لوگ آپ کو اپنا سچا دوست اور غم خوار تسلیم کر لیں اور جان لیں کہ اسلام آپ کے لئے پہلی اور آخری محبت ھے تو یہ سوال خود ان کے لئے غیر متعلق ھو جاۓ گا۔

Comments

وسیم گل

وسیم گل

وسیم گل ٹیلی کام کے شعبے سے وابستہ ہیں اور مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اسائنمنٹس کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.