25 جولائی… تبدیلی کا دن؟ خورشید ندیم

آج پاکستان کے عوام نے زبانِ حال سے بتانا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ تبدیلی یا 'تبدیلی‘ کی تبدیلی؟
اگر آج لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں، عوام اپوزیشن کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے گھروں سے نکلتے اور جلسہ گاہوں کا رخ کرتے ہیں تو یہ اس بات کا اظہار ہو گا کہ انہوں نے موجودہ سیاسی بندوبست کو مسترد کر دیا ہے‘ جسے 25 جولائی 2018ء کو مسندِ اقتدار حاصل ہوئی۔ اگر وہ اپوزیشن کے احتجاج سے بے نیاز رہتے ہیں تو یہ عوام کی طرف سے اعلان ہو گا کہ ابھی ان کا پیمانۂ صبر لبریز نہیں ہوا۔ ابھی امید کا چراغ روشن ہے۔
احتجاج اِس وقت اپوزیشن کے لیے بقا کا سوال تو ہے ہی، اس کی قومی ذمہ داری بھی ہے۔ جب جمہوری اقدار رو بہ زوال ہوں۔ جب آزادیٔ رائے کی قدر کو مجروح کیا جا رہا ہو۔ جب ذمہ دار ادارے متنازع بنا دیے جائیں۔ جب عوام پر معاشی ظلم کا سلسلہ طویل ہو جائے تو یہ اپوزیشن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ عوام کی آواز بنے اور اُن اقدار کی حفاظت کا علم اٹھائے، جن کو تحفظ دیے بغیر کوئی معاشرہ مہذب نہیں بن سکتا۔

وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد، عمران خان صاحب نے ایک دن بھی یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ اختلاف رکھنے والوں کو قوم کا حصہ سمجھتے اور ان کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ کروڑوں انسان جو پاکستان کے شہری ہیں اور جو نواز شریف، بھٹو خاندان، مولانا فضل الرحمن یا محمود اچکزئی جیسے سیاست دانوں کو اپنا راہنما مانتے ہیں، خان صاحب کی نظر میں نا قابلِ التفات ہیں۔ ان کے جذبات کی کوئی اہمیت ہے نہ ان کے خیالات کی کوئی قدر۔
اِس وقت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں تحریکِ انصاف کے مخالف اراکین کی تعداد، تحریکِ انصاف کے اراکین سے کم نہیں۔ تحریکِ انصاف کی کامیابی پر تو شکوک کے سائے منڈلا رہے ہیں لیکن 2018ء کے انتخابات میں جو نون لیگ یا پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوا، کیا وہ عوامی نمائندہ نہیں ہے؟ صاف دکھائی دیتا ہے کہ حکومت ان کے وجود کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ بجٹ میں اپوزیشن کی کوئی ایک ترمیم قبول نہیں کی گئی۔

اپوزیشن کو جلسوں کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ مریم نواز نے منڈی بہاؤالدین کا قصد کیا تو جلسہ گاہ میں پانی چھوڑ دیا گیا۔ فیصل آباد جلسے کا ارادہ کیا تو ایم پی او 16 نافذ کر دی گئی۔ نون لیگ کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ جلسے کرنے پر نون لیگ کے سرکردہ رہنمائوں کے خلاف مقدمات قائم کر دیے گئے۔ سیاسی قیدی کا تصور پھر سے زندہ کر دیا گیا۔ یہ ایسی سیاسی جماعت کے دور میں ہو رہا ہے جو برسرِ اقتدار آنے تک، سول نا فرمانی کو اپنا جمہوری حق سمجھتی تھی‘ جو 126 دن کے دھرنے کو جمہوریت کا تقاضا قرار دیتی تھی۔ جو کھلے عام پاکستانیوں کو کہتی رہی کہ وہ بجلی کے بل ادا نہ کریں۔
یہی نہیں، حکومت ذرائع ابلاغ کو پابند کرتی ہے کہ وہ اپوزیشن کے جلسوں کی خبر نشر نہ کریں۔ ریگولیٹنگ اتھارٹی کی طرف سے ایسی ہدایات جاری ہوتی ہیں جو جمہوری روایات اور اقدار سے متصادم ہیں۔ خان صاحب جلسوں میں اپوزیشن کو للکارتے اور اپنے کنٹینر کی پیشکش کرتے ہیں۔ امریکہ میں تو انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپوزیشن کے جلسوں کی رونق بڑھانے کے لیے اپنے کارکن بھیجنے کو تیار ہیں۔ یہ بظاہر بے خوفی کا اظہار ہے لیکن عملاً خوف اتنا ہے کہ نون لیگ کا جلسہ دکھانے کی اجازت نہیں۔ اب تک نون لیگ کے ہر اہم رکن اسمبلی کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہو چکا۔

معیشت کے حالات بھی ہمارے سامنے ہیں۔ چند دن پہلے 'دنیا ٹی وی‘ پر کامران خان شو میں، کراچی سٹاک ایکسچینج کے بارے میں چشم کشا رپورٹ دکھائی گئی۔ اس کے مطابق، جب سے نون لیگ کی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کیا گیا، کراچی کا بازارِ حصص، زوال کے راستے پر سرپٹ دوڑ رہا ہے۔ 24 مئی 2017ء میں کے ایس ای 52478 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔ آج اس میں تیس ہزار پوائنٹس کی کمی آ چکی ہے۔ 2017ء میں ایک سو ارب ڈالر کا کاروبار ہو رہا تھا۔ آج چالیس ارب ڈالر پر ہے۔ ہر شے کا بھاؤ گر چکا۔ ایشیا کی بہترین سٹاک ایکسچینج، کامران خان کے الفاظ میں دنیا کی بد ترین مارکیٹ بن چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ جس ملک میں جمہوری روایات، سیاسی و سماجی ارتقا، میڈیا کی آزادی اور معیشت کا یہ حال ہو، اگر وہاں کی اپوزیشن خاموش بیٹھے گی تو کیا یہ قومی جرم نہیں ہو گا؟ یہ دلیل اب دم توڑ چکی کہ حکومت کو وقت دیا جائے۔ جو حکومت خود حزبِ اختلاف کو جینے کا حق دینے پر آمادہ نہیں، وہ کس منہ سے یہ مطالبہ کر سکتی ہے کہ اُس کو وقت دیا جائے؟ اس لیے اس حکومت کے خلاف اٹھنا اپوزیشن کا آئینی حق تو ہے ہی، اب اس کا قومی فریضہ بھی بن چکا ہے۔

آج مسئلہ یہ نہیں کہ ملک کے مسائل شتابی سے کیوں حل نہیں ہو رہے۔ میں جانتا ہوں کہ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمتی۔ حکومت سے میرے نزدیک ابتدا میں دو توقعات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ سیاست و معیشت میں اگر زوال ہے تو رک جائے۔ کم از کم ترقیٔ معکوس نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ معاشرہ فکری و سیاسی ارتقا کے راستے پر آگے بڑھے۔ امکانات کے دروازے کھلے رہیں۔ امید کے چراغ روشن رہیں۔
موجودہ حکومت ان دونوں توقعات پر پورا اترتی دکھائی نہیں دے رہی۔ معیشت کے باب میں کوئی ایک نشانی ایسی نہیں جو بہتری کی خبر دیتی ہو۔ جو کچھ ہے، وعدہ فردا ہے۔ دوسری طرف ترقیٔ معکوس کا عمل جاری ہے، جن کے بعض شواہد کامران خان نے ہمارے سامنے رکھے۔ کہیں سے کوئی اچھی خبر نہیں۔ نہ بازارِ حصص سے نہ کھلی منڈی سے۔ روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں۔ براہ راست سرمایہ کاری میں باون فی صد کی کمی آ چکی۔ یہ خان صاحب کے اس دعوے کی تردید ہے کہ لوگ ماضی میں کرپشن کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں کرتے تھے۔ رہا سیاسی و فکری ارتقا، تو جہاں بات کہنے کی اجازت نہ ہو، وہاں کیسا ارتقا اور کون سا ارتقا؟

سماجی سطح پر انتہا پسند گروہوں نے پہلے ہی آزادیٔ رائے کو سلب کر رکھا ہے۔ اس کیفیت میں لوگ ریاست کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ ایسے گروہوں سے نجات دلائے گی۔ بجائے اس کے کہ ریاست ایسے گروہوں سے نجات دلاتی، وہ رہی سہی آزادی کو بھی ختم کر رہی ہے۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ ملک کو جمہوری و فکری ارتقا کے بجائے فسطائیت کے راستے پر ڈال دیا گیا ہے‘ جو ایک جمہوری حکومت کے حقِ اقتدار پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
اگر آج ملک میں سیاسی آزادی ہوتی۔ بات کہنے کی اجازت ہوتی تو میں اس نقطہ نظر کا وکیل ہوتا کہ اس حکومت کو، مشکوک کامیابی کے باوجود، اپنا دورانیہ پورا کرنے دیا جائے۔ جب حکومت ابتدائی مطالبات پورا نہیں کر سکی تو پھر اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ جبر کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مجھے اندیشہ ہے کہ تصادم کا راستہ کھل سکتا ہے۔ حبس کی فضا میں تو لُو بھی غنیمت ہوتی ہے۔

کیا اس ملک کے عوام اس مقدمے کو درست مانتے ہیں؟ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی گاڑی کا کانٹا بدل دیا گیا ہے؟ کیا ان کی نظر میں آزادیٔ رائے کی کوئی قیمت ہے؟ کیا وہ فکری و سیاسی آزادی کی قدر جانتے ہیں؟ کیا وہ باخبر ہیں کہ دبائو کی وجہ سے معاشرے کس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ آج اپوزیشن کی کال پر عوام کے جواب سے ہمیں ان سوالات کے جواب مل جائیں گے۔
25 جولائی 2018ء کو ایک تبدیلی کی بنیاد رکھی گئی۔ 25 جولائی2019ء کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ تبدیلی کتنی حقیقی تھی؟