عمران خان کے دورہ امریکہ کا مثبت پہلو - حبیب الرحمن

وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کے دورہ امریکہ کے دوران سب سے اہم بات کشمیر ایش اٹھانا رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بےشمار مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ یہ مسائل کا انبار ہی ہے جس کی وجہ سے اس قسم کے دوروں میں ہر سربراہ مملکت نفسی نفسی کر رہا ہوتا ہے اور اس کی گفتگو کا سارا محور پاکستان اور اس کے مسائل ہی بن کر رہ جاتے ہیں، اس تکرار میں کشمیر کا مسئلہ ذہن سے یا تو محو ہوجاتا ہے یا پاکستان کے باقی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اتنا وقت ہی نہیں بچ پاتا کہ کشمیر پر کچھ بات کر لی جائے۔

وزیراعظم پاکستان نے امریکی صدر سے ملاقات کے دوران یقیناً پاکستان کو درپیش خطرات اور مسائل کا ذکر لازماً کیا ہوگا لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ایسے اہم موقع پر کشمیر کے سلگتے ایشو کو بھی فراموش نہیں کیا اور امریکی صدر سے اس بات کی خواہش ظاہر کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ پاکستان کی اس امن کوشش کو سراہتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کرنے میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ پیشکش پیر کو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر کی۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے کی گئی پیشکش پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور انڈیا کے مابین ثالثی کا کردار ادا کریں، وہ (وزیر اعظم پاکستان) اپنی جانب سے انڈیا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن بد قسمتی سے انڈیا نے کشمیر کے مسئلے کے حل میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنے کے امکان کو رد کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے بیان پر انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ "انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرے اور اس معاملے پر انڈیا کی مستقل پوزیشن یہی رہی ہے کہ پاکستان سے مذاکرات اسی وقت ممکن ہوں گے جب وہ سرحد پار ہونے والی دہشت گردی ختم کرے"۔

کشمیر کے سلسلے میں انڈیا مسلسل "میں نہ مانوں" کی گردان میں ہی اٹکا ہوا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کا کشمیر کے مسئلہ کو اٹھانا ایک مستحسن قدم سہی لیکن براہ راست امریکی صدر سے ثالثی کا کردار کرنے کی پیشکش کو قبول کرنا شاید کسی طور مناسب بات نہیں تھی۔ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں میں گزشتہ 70 دہائیوں سے شامل ہے۔ اگر پاکستان اس مسئلے کو کسی اور ڈمانڈ میں اٹھاتا ہے تو اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں پہلے سے موجود قراردادیں "رد" سمجھی جاسکتی ہیں۔ کشمیر اب دو یا تین ممالک کا مسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ اقوام متحدہ میں قراردادیں پیش ہونے کی وجہ سے اقوام عالم کا مسئلہ بن چکا ہے اور تمام اقوام کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو پیش کی گئیں قراردادوں کے مطابق حل کریں۔ وزیر اعظم کا اخلاص نیت اپنی جگہ اور صدر ٹرمپ کی پیشکش کو بھی ہم غیر مخلصانہ نہیں سمجھتے ہوئے بہتر یہی خیال کرتے ہیں کہ کشمیر جیسا سلگتا اشو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق ہی حل ہو ورنہ ممکن ہے کہ یہ اشو ہمیشہ ایک متنازع مسئلہ بن کر رہ جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   اور آپشنز، بس ایک ہی آپشن ہے - پروفیسر جمیل چودھری

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ چند دن یا چند ماہ پہلے پیدا نہیں ہوا ہے بلکہ 70 دہائیوں پر مشتمل ہے۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکہ کا اس بارے میں ایک عرصے سے یہ موقف رہا ہے کہ یہ ایک دو طرفہ مسئلہ ہے جو دونوں ملکوں کو باہمی رضا مندی کی سطح پر حل کرنا چاہیے۔ لہٰذا اچانک صدر ٹرمپ کا اس مسئلہ پر یو ٹرن غور طلب بھی ہے۔ اس لئے بقول شاعر اس بات پر اس لئے بھی غور کر لینا چاہیے کہ


مجھ تک کب اس کی بزم میں آیا تھا دور جام

ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں


ہمیں یہ بات کسی طور فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ موزیوں کا ایک منھ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے کھانے اور دکھانے کے دانت ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے جہاں کشمیر کے مسئلے پر سیر حاصل بات کی وہیں افغانستان کا بھی ذکر کیا۔ امریکہ کا کردار ہمیشہ سے ہی چاپلوسانہ رہا ہے۔ افغان وار میں روس سے نمٹنے کیلئے وہ جس طرح پاکستان کے آگے بچھا جارہا تھا اور مجاہدین اسے خدائی مدد نظر آرہے تھے، مقصد براری کے بعد وہی سارے جہادی اس کی نگاہ میں شیطان صفت اور دہشتگرد بن گئے اور ان کو کچلا جانا اس کی اولین ترجیح قرار پایا۔ یہ بات اس ثبوت کیلئے کافی ہے کہ موزی موزی ہوتا ہے اور وہ کسی بھی وقت ڈسنے سے نہیں چوک سکتا۔ عمران ٹرمپ ملاقات کے دوران جہاں صدر ٹرمپ نے افغانستان میں بھی پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہا کہ "پاکستان اس وقت افغانستان میں ہماری بہت مدد کر رہا ہے"۔ وہیں یہ بھی فرمادیا کہ " اگر میں چاہتا تو یہ جنگ میں ایک ہفتے میں جیت جاتا مگر میں ایک کروڑ لوگوں کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا۔ ورنہ افغانستان صفحۂ ہستی سے مٹ جاتا۔ مگر میں وہ راستہ اپنانا نہیں چاہتا"۔ کیا اس "فرمان" میں رعونت اور کھلی دھمکی پوشیدہ نہیں؟۔ ایک جانب وہ پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں تو دوسری جانب اپنے اندر چھپی فرعون صفتی کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ یعنی ایک ایسا ملک جس کی نظر میں انسانوں کا قتل عام ایک تماشہ ہو اور انسانوں کا بہتا خون جس کیلئے وجہ تسکین و راحت ہو وہ یہ کہہ رہا ہو کہ مجھے انسانی جانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں افغانستان کو صفحہ ہستی ہی سے مٹا کر رکھ دیتا، کھلی دھمکی اور دھونس نہیں تو اور کیا ہے؟۔ ایسی ہی انسان دوستی پر برطانوی حکومت پر طنز کرتے ہوئے جوش ملیح آبادی نے اپنی ایک مشہور نظم میں کچھ یوں ارشاد فرمایا تھا کہ

افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دینے کے بعد، شہر کے شہر اجاڑ دینے اور انسانی خون کو پانی کی طرح بہا دینے کے بعد ٹرمپ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے انسانی جانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں پورے افغانستان کو خاک و خون میں نہلا کر رکھ دیتا۔ ٹرمپ کے اس انداز فرعونیت کے جواب میں عمران خان کا یہ فرمانہ کہ "افغانستان کے مسئلہ کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے"، ایک بہت مدبرانہ جواب ہے۔ اگر طاقت ہی ہر مسئلے کا حل ہوا کرتی تو آج امریکہ جیسا سر پُر غرور طالبان کے آگے مذاکرات کیلئے نہ جھکا ہوا ہوتا۔

گو کہ ایسا ممکن نہیں کہ صدر ٹرمپ یا امریکہ نے پاکستان کے سامنے اپنے لحاظ سے کوئی فہرستِ "ڈومور" نہ رکھی ہو کیونکہ صدر امریکہ کی دربار طلبی سے قبل امریکہ کے مسٹر "لنڈے" کافی دیر تک پاکستان ہاؤس میں عمران خان سے ملاقات کرتے رہے۔ ظاہر ہے کہ ملاقات تضیعِ اوقات یا ناونوش کیلئے تو ہوئی نہیں ہوگی لیکن مبصرین کا محتاط تبصرہ یہی ہے کہ مجموعی طور پر یہ ملاقات بہت حد تک مثبت رہی اور امریکہ کی جانب سے مزید فرمائشی پروگرام نہیں چلایا گیا۔ اس ملاقات کے پاکستانی سیاست اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ تو آنے والے ماہ و سال ہی کر سکیں گے اس لئے وقت کا انتظار کئے بنا کوئی اور راستہ بھی نہیں۔