گلاب چھپا کر کیا بچ پائیں گے؟ مدیحہ مدثر

موسم بہار اپنے جوبن پر تھا اور فضا معطر تھی۔ ہم اپنی سہیلی کے ساتھ کالج کے لمبے کوریڈور سے گپیں مارتے ہوئے واٹر کولر کی طرف رواں دواں تھے۔ پانی کی بوتلیں بھرنے کے بعد بائیں طرف بنے چھوٹے سے احاطے پہ نظر پڑی تو ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور خوشی سے ادھر چھلانگ لگا کر لگے آوازیں دینے ۔۔۔ نورین ۔۔۔ نونی بات تو سن ۔۔۔ افففف کتنے پیارے اور بے تحاشہ لال گلاب۔

اب ہم پرجوش ان کو توڑنے کے لیے اور سہیلی ڈرتے ہوئے تنبیہ کرے کہ ''مدیحہ پتہ ہے ناں! فائن ہے پھول توڑنے پہ۔'' ارے دوپہر کا وقت ہے کوئی نہیں دیکھ رہا یار آؤ ناں۔ ہم کہاں باز آنے والے تھے۔ ہم پہ بھروسہ کیے اس نے بھی قدرے نیچے بنے ہوئے احاطے میں چھلانگ لگائی۔ ابھی چند پھولوں پہ ہی شب خون مارا تھا کہ کوریڈور میں قدموں کی آواز نے ہمارے سانس ساکن کر دیے۔ ہم نے درزیدہ نگاہوں سے نورین کو اور نورین نے خونخوار نگاہوں سے ہمیں دیکھا، کیونکہ عقب میں بائیو کی لیکچرار ہماری طرف آ رہی تھیں۔ اچانک ہم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اوپر چڑھ کر پھولوں والا ہاتھ آگے کر کے مخالف سمت تیز تیز چلنا شروع کر دیا۔

اچانک پیچھے سے آواز آئی، سٹوڈنٹس! ادھر آئیں۔ کہا تھا ناں تمہیں مدیحہ، پکڑے جائیں گے۔ نورین نے دانت پیستے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔ ارے مس نے ہمارے چہرے نہیں دیکھے، سپیڈ تیز کر دو، بالکل نہیں پکڑے جائیں گے۔ نادر مشورہ دے کر ہم نے سپیڈ تیز کی ہی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی، مدیحہ ادھر آئیں۔ نورین کا قہقہہ اتنا بےساختہ تھا کہ وہ چاہ کر بھی نہ روک پائی اور ہم جہاں تھے وہیں تھم کر رہ گئے۔ پھولوں کا ننھا سا گلدستہ ہمارے ہاتھ میں جرم کے ثبوت کے طور پہ موجود تھا۔

مس ہمارے سر پہ پہنچ چکی تھیں اور ہمیں اپنی طرف رُخ موڑنے کو کہہ رہی تھیں۔ ہم نے ان کی طرف رخ موڑا اور اب کی بار پھولوں والا ہاتھ ہماری کمر کے پیچھے تھا۔ مس بولیں ہاتھ آگے کریں، ہم نے ڈرتے ڈرتے مس کا چہرہ دیکھا، جہاں دبی دبی سی مسکراہٹ تھی۔ تھوڑا حوصلہ پا کر ہاتھ آگے لائے اور فورًا سے سوری بول دیا۔ بری بات، کیوں توڑے پھول، فائن دیجیے گا اب۔یہ کہہ کر وہ تو پلٹ گئیں اور ہم واپسی پہ کھلکھلاتے ہوئے ہاسٹل کی سمت روانہ ہوئے۔

آج سالوں بعد یہ تحریر کرتے ہوئے بار بار آنکھیں بھیگی ہیں۔ جانے کیوں؟ سوچ رہی ہوں کہ دنیا کی رنگینیاں بھی تو سرخ گلابوں جیسی دلکش اور اپنی طرف کھینچنے والی ہوتی ہیں اور اللہ تعالی نے بھی حد بتا کر فائن بتایا ہوا ہے۔ اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم چپکے سے گلاب چھپا کر اللہ کی پکڑ سے بچ جائیں گے۔

ٹیگز