بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی ضروری کیوں؟ عبدالمتین اخونزادہ

تعلیم و تزکیہ کار انبیاء کرام ہیں۔ قرآن حکیم کا آغاز ’’اقراء‘‘ پڑھنے، سمجھنے، اخذ کرنے، قبول کرنے اور اپنے آپ کو بدلنے و سنبھالنے کے ہیں۔ ’’تزکیہ‘‘ نشوونما اور پاکیزگی اختیار کرنے اور قبول کرکے مسلسل جاری و اہتمام رکھنے کو کہتے ہیں۔ لمحہ موجود میں دنیا کی رنگینی و چاہت اور تمام تر آسانیاں اور راحتیں علم و ٹیکنالوجی کے باعث ہیں یعنی آج علم کے مفہوم و معنی میں ٹیکنالوجی و سائنسی ضروریات و نکتہ نظر بھی شامل ہیں اور تزکیہ‘‘ و تربیت کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔

تعلیم کے تناظر میں دو باتیں21 ویں صدی میں جانے و سمجھے بغیر ہم بحیثیت قوم ترقی و پیش رفت نہیں کر پائیں گے۔

الف: علم، معاشی ضروریات کے لئے ضروری نہیں بلکہ علم کا سارا مزاج و طریق کار معاشی ہوگیا۔ یا معیشت کا نظامِ کار سارا تعلیم و ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہوگیا جسے "Knowledge Beside Economy" کہتے ہیں اس پر بے شمار دلائل موجود ہیں۔ جس پر مشتمل پاکستان کے نامور ماہر تعلیم و سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمان اکثر لکھتے ہیں اور بھرپور بیانیہ رکھتے ہیں۔

ب: علم کا دارومدار سارا ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوتا جارہا ہے، اس اہم تر بیانیہ کو ایک خوبصورت کہانی اور سات سیڑھیوں پر مشتمل نکات اساتذہ کرام اور والدین کے لیے بدلتی ہوئی دنیا میں (ٹیچر بدلتی دنیا میں) تربت و کراچی سے نثار موسیٰ دشتی نے بیان کیا ہے۔ نثار موسیٰ دشتی کی کتاب ہر استاد اور والدین کو لازماً پڑھنی چاہیے۔

اساتذہ کرام کی تعلیمی ترقی و نشوونما اور مادی سہولتیں راحتیں، بلوچستان جیسے سنگلاخ اور دور دراز صوبے میں زیر بحث ہیں۔ اساتذہ نے تکریم و اثر رکھنے کا پہلو خود ہی غالب رکھنا ہے۔ سخت گرم موسم میں پچھلے شام خشک ہوا کے جھرکوں میں، کوئٹہ کے عدالت روڈ پر احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہوئے سینکڑوں مرد و خواتین پروفیسرز، ٹیچرز، کلرکس اور گریڈ 20 سے درجہ چہارم کے محکمہ تعلیم کے ملازمین سے مکالمہ ہوا۔

بلوچستان ایجوکیشنل ایمپلائز ایکشن کمیٹی کے قائدین پروفیسر آغاء زاہد، حاجی حبیب الرحمان مردانزئی، اور دیگر قائدین سے تبادلہ خیال ہوا۔ میرے ساتھ نوجوان طالب علم لیڈر صابر خان پانیزئی تھے۔ اس بھرپور احتجاجی کیمپ میں شام ڈھلنے کے باعث خواتین پروفیسرز و لیکچررز اور ٹیچرز و انتظامی آفیسران جاچکے تھے۔ ان کی آراء، خدشات اور اُمیدیں و غم، سوشل میڈیاپر سنی گئی۔ آپ بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

8، 10 صفحات کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں محکمہ تعلیم حکومت بلوچستان کے نصف درجن تنظیموں نے اپنے احتجاجی تحریک کی ضرورت، پس منظر، مرحلہ وار اقدامات اور 15 انتہائی مناسب مطالبات کے ساتھ، اپنے محکمے اور صوبے میں تعلیمی صورتحال کا گہرا تجزیہ و خوبصورت پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ بلوچستان میں اس وقت مخلوط صوبائی حکومت (باپ یعنی بلوچستان عوامی پارٹی، پی ٹی آئی، اے این پی، بی این پی، عوامی اور ایچ ڈی پی) نے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی ہیں۔

پورے ملک کی طرح بلوچستان میں بھی خاموشی، بے چینی، حبث اور عدم اعتماد کی کیفیت ہیں۔ اگر کوئی حکومت اپنا مُدعا و ایجنڈا اور اصلاحات و کرنے کے کام، اپنے عوام میں کلیئر نہیں کر پاتے تو عوامی حمایت اور طرز حکومت میں شرکت کم ہوتی ہیں۔ پاکستان میں پی ٹی آئی اور بلوچستان میں ’’باپ‘‘ کی صورت میں نوابوں و سرداروں اور مقتدرہ کے دونوں حصوں سول و ملٹری بیوروکریسی کے پسندیدہ حکومت، اس مشکل سے دو چار ہیں۔

تعلیمی ایمرجنسی کیا ہے؟ ایجنڈا و لائحہ عمل کیا ہے کیا ہونا چاہئے۔ بلوچستان کے مخلوط حکومت میں دیگر محکموں و فیلڈز کے تحت پرائمری و سیکنڈری اور ہائر ایجوکیشن کا ایجنڈا و طریق کار بھی پر اسرار اور نامعلوم ہیں؟؟؟ بلوچستان کوالٹی ایجوکیشن، مقاصد تعلیم اور دور جدید کے ہنر و Skills کے حوالے سے تعلیمی تباہی کے دہانے پر ہیں۔ یونیسیف الف اعلان اور تمام تعلیمی سروے یہی بتاتے ہیں۔

صوبے میں ’’تعلیمی ایمرجنسی‘‘ کے ذریعے تعلیمی بہتری کے مقاصد کیسے حاصل ہونگے؟؟؟ جبکہ محکمہ تعلیم کے اپنے ایک لاکھ اساتذہ کرام اور ملازمین مطمئن نہیں ہیں اور مئی سے جون و جولائی کے گرم ترین سہ ماہی میں تعلیم و تدریس اور تحقیق و تدبر کے بجائے احتجاجی کیمپوں اور چوک چوراہوں پر احتجاج و فریاد کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

’’چارٹر آف ڈیمانڈ‘‘ کے پہلے دومطالبات وفاقی اداروں اور دوسرے صوبوں سندھ اور پنجاب کی طرح کنونس الاؤنس اور ہاؤس ریکوزیشن کی ادائیگی ہیں۔ اس ضمن میں بلوچستان کے ساتھ، سندھ، پنجاب اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں و ریمارکس کے حوالہ بھی دیے ہیں۔ گویا بیوروکریسی اور عوامی نمائندے اساتذہ کرام کی بات نہیں سمجھ پاتے اس لئے ججز کے اعلیٰ خدمات و خیالات کی ضرورت پیش کیا جاتا ہے۔ تیسرے مطالبے میں کالجز اور سکول کے اندر پروفیسرز اور اساتذہ کرام کو اپ گریڈ کرنے کی استدعا ہے۔

چوتھے مطالبے میں کالے قانون سے نجات کی فریاد ہیں ہر وہ قانون اور ایکٹ، جو عملدرآمد کرنے والے گروہوں و فریقین کے اطمینان و مشاورت سے نہیں بنایا ہوں متنازعہ ہوپاتا ہے۔ صوبے کے تعلیمی تباہی و زبوں حالی کے احساس کے پیش نظر سابقہ صوبائی حکومت نے لازمی سروس قانون، محکمہ تعلیم میں لاگو کرنے کی سعی لا حاصل کی۔ کیا صوبے کی پارلیمانی پارٹیاں پی ایل ایم ن و کیو، نیشنل پارٹی اور پشتونخواہ میپ، اساتذہ کرام اور معزز پروفیسرز حضرات کو مطمئن اور آباد رکھنے میں ناکام رہے جس میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، جیسے پڑھے لکھے نرم خو مڈل کلاس سیاستدان اور محمود خان اچکزئی، نواب ثناء اللہ خان زہری شامل تھے اب ’’باپ‘‘ کے صدر و دانشور وزیر اعلیٰ نواب جام کمال خان، اصغر خان اچکزئی، سردار یار محمد رند اور عبدالخالق ہزارہ و اسد بلوچ کا امتحان ہیں؟؟؟

پانچویں مطالبے میں 2006ء سے 1600 پرموشن کوٹہ کی مختص آسامیاں زیر التواء ہیں۔ چھٹا مطالبہ ہائیر ایجوکیشن الاؤنس کا برحق و حالات کے مطابق ضرورت مندانہ مطالبہ ہیں کیا صوبے کے لیکچررز و پروفیسرز ایوسی ایشن آج کے جدید دنیا میں اس امر کا اہتمام و انتظام کرسکتے ہیں کہ ہائیر ایجوکیشن الاؤنس کی ماہانہ 15000 کی منظوری سے وہ تیسرا حصہ یعنی صرف 5000 روپے اپنے ذاتی ترقی Self Development اور خود شناسی و دنیا شناسی پر خرچ کریں گے اس لئے کہ دنیا بدل رہی ہے اور ہم پرانے عہد کے پرسودہ و قدیم تصورات کے ساتھ جینے پر بضد ہیں؟

ساتواں مطالبہ ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء ہے ظاہر ہے کہ معزز اساتذہ کرام نے بھی بیمار ہونا ہے۔ آٹھواں نکتہ مطالبہ نہیں بلکہ اپنے کردار و فرض شناسی کے بدولت انتظامی آفیسران و اداروں کو جرأت مداخلت نہیں ہونا چاہیے، اس لیے میں درخواست کروں گا کہ معزز پروفیسرز و ٹیچرز حضرات، اپنی تعلیمی و اخلاقی سطح کو بلند فرمائے۔ اپنے اداروں کے وقار اور مقصد وجود کو فعال بنائے تب ضلعی انتظامی آفیسران اور شخصیات و اداروں کی بے جاء مداخلت کا راستہ خود والدین و قانون روک دے گا۔

نواں مطالبہ محکمہ تعلیم میں سینئر پوسٹوں پر جونیئرز کی تعیناتی ہیں سینئرز اساتذہ کرام اور پروفیسرز کو لمحہ موجود کے Skills اور تعلیمی دنیا کے بدلتے ضروریات و ٹیکنالوجی سے اپنے آپ کو آگاہ اور لیس کرنا ہوگا۔ دسواں مطالبہ بلوچستان پیکیج کے اساتذہ کرام کو منتقل کرنے کی استدعا ہے۔ گیارواں مطالبہ محکمہ تعلیم میں منسٹریل اسٹاف کی بروقت پروموشن ہیں۔

بارھواں بنیادی مطالبہ تعلیمی ترقی اور جدید دنیا کے تعلیمی آلات و وسائل کے استعمال کا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو اپنے وزراء کرام کی ٹیم، سیاسی جماعتوں، بیوروکریسی اور سول سوسائٹی کے ساتھ ملکر تمام چھوٹے بڑے تعلیمی ادورں کی بنیادی ضرورت اور حالاتِ جدیدہ کے وسائل و آلات کی فراہمی کی جنگی بنیادوں پر ایک ششماہی میں کرنا چاہئے ورنہ آج کے آٹومیشن ایچ اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی ایج کے بچے 18 ویں صدی کے سکولوں و کالجوں میں پڑھنے والے نہیں ہیں۔

تیرھواں مطالبہ کالجز میں بی ایس پروگرام کا آغاز اور ایم فل / پی ایچ ڈی کے سلسلے میں بی پی ایل اے نے صرف اور صرف سالانہ ایک کروڑ روپے کا ریسرچ فنڈ کا مطالبہ کیا ہے صوبائی حکومت کو احساس کرتے ہوئے از خود ماہانہ ایک کروڑ سے ریسرچ فنڈ کا آغاز کردینا چاہیے تھا۔ آخری دو مطالبے کوئٹہ میں پروفیسرز گیسٹ ہاؤس کے قیام اور یوٹیلٹی الاؤنس کا ہے۔

بلوچستان ایجوکیشنل ایمپلائز ایکشن کمیٹی کے قائدین اور ایک لاکھ اساتذہ کرام ملازمین احتجاج کے چوتھے مرحلے میں بہ امر مجبوری 15 جولائی کو وزیر اعلیٰ ہاؤس اور سول سیکرٹریٹ کے سامنے ہاکی چوک پر مستقل دھرنے و احتجاج کرنے جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

صوبائی حکومت کو معاملات سنجیدگی سے لینے چاہیے تھے تمام اضلاع میں احتجاج، دھرنے اور بھوک ہڑتال کیمپوں کے معنی یہ ہیں کہ ہر ممبر صوبائی اسمبلی کے گھر و آبائی شہر میں آواز و مطالبات پہنچانے و سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیا صوبے کے ممبران اسمبلی اور وزراء کرام اساتذہ کرام اور پروفیسرز کی فریاد و آواز کو نہیں سمجھ پائے ہیں؟

اساتذہ کرام کے دھرنے سے مثبت مذاکرات اور خوش آئند پیش رفت کا آغاز ہونا چاہیے۔ انتظامی طور پر سہولت و رعایت کا نکتہ نظر پیش نظر رہنا چاہیے۔ محکمہ تعلیم کو تعلیمی ایمرجنسی کی وضاحت دینی چاہیے نہ کہ اساتذہ کرام و پروفیسرز کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش۔ محکمہ تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کے دونوں سیکرٹریز انتہائی نفیس و زیرک انتظامی آفیسران ہیں ان کی ٹیم میں با صلاحیت و معاملہ فہم آفیسران شامل ہیں۔ چیف سیکرٹری کی سربراہی میں مثبت و ٹھوس سفارشات اور لمحہ موجود کے تعلیمی ترقی کے ضروریات کے پیش نظر اقدامات وزیر اعلیٰ کی منظوری سے اُٹھنے چاہیے۔

ٹیکنالوجی اور تیز رفتار و بدلتے ہوئے تعلیمی افکار و ضروریات کے ادراک کے لئے ٹاسک فورس بننا چاہئے۔ پری پرائمری اور سکولز کے نصاب پوری بدلنے کی ضرورت ہیں ٹیکسٹ بورڈ، پائیٹ اور بیکٹ کے نظام کار کو جدید دنیا کے طرز پر از سر نو آرگنائز ہونا چاہیے۔

ٹیکسٹ بورڈ اور یونیورسٹی کے امتحان کے نظام کو فرسودہ طریق کار اور نقل بازی کے چکر سے نکال کر تعلیمی مقاصد اور مقابلے کی صورت میں تشکیل نو ہونا چاہئے۔ خواتین اور طالبات کے لئے، ماحول کی سازگاری، مواقع کی فراہمی اور معاشرتی اقدار کے پیش نظر اقدامات ضروری ہیں۔ صوبے کے یونیورسٹیوں کا تعلیمی معاملات میں قائدانہ و فکری کردار ہونا چاہئے جب بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ کرام چند سال پہلے اپنے تنخواہوں اور تعلیمی ضروریات کے لئے کچکول اٹھا کر جناح روڈ پر آئے تھے تو پورے معاشرے اور سیاسی و تعلیمی برادری نے درد محسوس کیا تھا آج ایک درجن جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کی نزاکت میں اپنا قائدانہ رول ادا کریں۔

آخری نکتہ کے طور پر گزارش ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں ہمارے معاشرتی و سماجی ڈھانچے کی تبدیلی و اصلاح کار، تعلیمی نظام اور اساتذہ کرام کے رویے و محنت سے پیوستہ ہیں۔ اساتذہ کرام کی ذمہ داری بڑی ہے انہیں حالات کا ادراک کرتے ہوئے اپنے آپ کو اپنے تعلیمی اداروں کو اور اپنے معاشرے کے بدلنے کے لئے اپنے تعلیمی و ٹریڈ یونینز کے تصور و اسٹریکچر کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اس تبدیلی سے طلبہ و طالبات اور طلبہ تنظیموں کا کردار بدل جائے گا اور معاشرتی تبدیلی، جس کا ہم سب خواب دیکھتے ہیں آغاز ہوگا۔
یہ سوال ہر معزز استاد اور پروفیسر کو لازماً اپنے آپ سے کرنا چاہئے کہ مغربی و یورپی معاشرے اپنے طلبہ و نوجوانوں اور طالبات کو علم و ترقی کے منزل کوہ ہمالیہ تک لے جاتے ہیں۔ جہاں ایک معذور ترین شخص سٹیفن ہاکنگ (Stephen Howking) کس طرح پچاس سال ویل چیئر پر بیٹھ کر صرف آنکھیں جھپک کر دنیا کا عظیم ترین سائنس دان بنا؟ آپ Stephen Howking کی اسٹوری کو ’’گوگل‘‘ پر سرچ کریں یا کتب میں تلاش فرمائیں۔

اپنے آپ میں حوصلہ و عزم پیدا کرنے اور خود کو بدلنے و معاشرے کے مزاج و رویے کو سنبھالنے کے لئے تزکیہ و تربیت میں بلند کردار ادا کرنے والے مشہور زمانہ کتاب تبدیلی کے لئے موثر افراد کے سات عادات (Seven Habits of High effective people) اسٹیفن آر کوے (Stephen R. Covey) کے کتب و ویڈیوز ضرور دیکھنا و پڑھنا چاہیے۔ پاکستان میں سید قاسم علی شاہ کی کتاب ’’اپنی تلاش‘‘ اور ویڈیوز اور اختر عباس اعوان کی کتاب (قابل رشک ٹیچر) خرید کر ضرور مطالعہ فرمائے۔

قصہ مختصر صوبے کے اہل دانش و سیاسی لیڈروں اور محکمہ تعلیم کے آفیسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اساتذہ کرام کو عزت کا راستہ دیں اور مزید احتجاج کی صورت میں وقت کے ضیاع اور طلبہ و طالبات کے تعلیمی نقصان و اسلام آباد لانگ مارچ پر مجبور نہ کریں۔