سرزمینِ مصر پر معرکہ حق و باطل - شہباز رشید بہورو

مصر کی سرزمین تاریخ انسانی کے اہم ترین واقعات سے عبارت رہی ہے۔ یہ سرزمین معرکہ خیر و شر کا میدان، قدیم اعلیٰ تہذیب و تمدن کا مسکن، بادشاہوں کا تخت گاہ، اور متعدد پیغمبروں کا جائے ولادت اور دعوت و تبلیغ کا مرکز رہی ہے۔ اس سرزمین نے سر کشی کے ماتھے، نافرمانی کے زندہ پتلے، ظلم کے استعارے، غفلت کے پردے، تکبر کے قارون، انسانی خباثت کے بدترین نمونے، آمریت کی بدترین شکلیں اور وعدہ برخلافی کی بدترین مثالیں دیکھنے کے ساتھ ساتھ فرمانبرداری کے ستارے، عزیمت کے استعارے، حق کے شیدائی، عدوئینِ باطل، توحید کے علمبردار، شہادت کے دیوانے اور حبِ الٰہی کے پروانے اپنی پیٹھ پر محو سفر پائے ہیں۔ اسی سرزمین کے افتخار صلاح الدین ایوبی نے جن طاقتوں کو خاک میں ملایا اور ہوا میں تحویل کیا، وہی طاقتیں گذشتہ ایک صدی سے اس کی مٹی کو زہر آلود اور ہوا کو بدبودار کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں مصر تقریبا ایک صدی سے نیک لوگوں کے خون سے نہلایا گیا۔ مصر میں نیک لوگوں کے اس لہو نے کبھی قاہرہ کی سڑکوں کو ،کبھی جیل کی کی کال کوٹھریوں کو،کبھی تختہ دار کو اور کبھی تحریر سکوائر کو رنگینہے۔ا۔شہداء کے اس پاک لہو نے مصر کی دینی و مذہبی تاریخ کے انسائیکلوپیڈیا میں ایک نیا باب بعنوان عزیمت و عظمت کا قائم کیا ہے جو تاقیامت حق کے علمبرداروں کے لئے ایک تحریک فراہم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔

مصر میں حق کی طاقت سے باطل کو چور چور کرنے والی تحریک اخوان المسلمین کے جذبہ ایمانی سے معمور افراد ہیں جو مسلسل لگ بگ ایک صدی سے حق کے ہمراہ باطل کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔جدید مصر میں اخوان المسلمین کے امام حسن البنائ معرکہ حق وباطل میں حق کے علمبردار بن کر بیسویں صدی کے اوائل میں ابھرتے ہیں ۔بہت ہی کم عرصے میں مصر کے طول و بلد میں آپ کی برپا کردہ تحریک پھیل جاتی ہے ۔آپ کی سحر بیانی اور پرکشش شخصیت نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے ،آپ کا خلوص ،آپ کا پختہ نظریہ اور آپ کا مضبوط ایمان لوگوں کے اندر آپ کی دعوت کو مقبول بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے آپ کی تحریک دورجدید میں ایک نمایاں ترین تحریک کا مقام رکھتی ہے ۔اس تحریک میں جو سب سے بڑا وصف دیکھنے کو ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کے کو دیگر تحریکات اسلامی کے مقابلے میں سخت ترین آزمائشوں کے لئے چنا ہے ۔اخوان المسلمین نے ان آزمائشوں میں عزیمت و استقامت کا جو مظاہرہ کیا وہ دورِ صحابہ کی یاد دلاتا ہے ۔جس طرح سے حضرت بلال نے رسولؐ کی وفات کے بعدمسجد نبویؐ میں آذان دی تھی تو مدینہ میں بسنے والے تمام صحابہ کرام کو دور نبوی کی یاد نے بے تاب کیا تھا۔اسی طرح سے اخوان المسلمون کی ایثار و قربانی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو دورِ صحابہ کی یاد میں بے تاب کیا ہے ۔زینب الغزالی مرحومہ کی کتاب "زندہ کے شب وروز" پڑھ کر کچھ ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ انسان کو اس دور جدید میں جہاں ہر طرف مادیت چھائی ہوئی ہے پاک نفوس کے وجود کا کامل یقین حاصل ہوتا ہے۔

امام حسن البنا اور سید قطب شہید کی شہادت سے لیکر محمد مرسی شہید کی شہادت تک عزیمت و استقامت کا وہ مظاہرہ دیکھنے کو ملا ہے کہ ان پاک نفوس کی قدر و منزلت کا سکہ دل پر جم جاتا ہے ۔ان شہدائ نے اپنے ایمان، نظرئے ، ضمیر اور کردار کو کسی بھی قیمت پر فروخت نہیں کیا حالانکہ مادی حرص کا سارا سامان ان کے سامنے آراستہ کیا ہوا تھا لیکن سیادت اور مال و زر کا لالچ ان کے سامنے فقیر و حقیر بن کر قعرِ مزلت میں ڈوب گیا۔ان کے بدلے مصر میں ہی نام نہاد اسلام پسند گروہوں نے حب دنیا اور کراہت موت کا زندہ نمونہ پیش کیا اور جدید فرعون کی کیبنٹ میں بیٹھ کر ہامان کا رول ادا کیا اور تا حال کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے منصب کو بچانے میں سب کچھ کر گذر چکے ہیں ۔اپنی ایمانداری، اپنا ضمیر اور اپنا دینی وقار سب کچھ داو پر لگا کر من مانی تاویلات کے ذریعے دل کو خوش رکھنے کے لیے یہ خیال اچھا ہے غالب کے مصداق اپنا رول ادا کر رہے ہیں ۔کیا ایک عاقل انسان کو یہ سوجھتا نہیں ہے کہ شہید محمد مرسی نے زندان کے درو دیوار کو اس لئے پسند کیا کہ آپ کسی بھی قیمت پر اسلامی افکار و نظریات کو عملی طور پر مشکوک نہیں کرنا چاہتے، آپ کسی بھی قیمت پر فرعون کی دعوائے خدائی کو قبول نہیں کرنا چاہتے، آپ کسی بھی قیمت پر معرکہ حق وباطل میں جھکنا نہیں چاہتے اور بات پھر چاہنے ہی تک نہ رہی بلکہ آپ نے عملی طور یہ سب کچھ کر دکھایا اور شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔

دنیا بھر کی عوامی رائے اگر صحیح اور مفصل پس منظر میں حاصل کی جائے تو یقیناً دنیا کی اکثریت محمد مرسی شہید کو سلام پیش کرے گی۔ شہید محمد سی کے جنازہ نے پھردوبارہ سے مصر کی جدید تاریخ میں امام حسن البنائ اور سید قطب شہیدکی شہادت کی یاد کو تازہ کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قدیم فرعون کے مقابلے میں مصر کے جدید فراعنہ نے ظلم وجور کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔جدید فراعنہ کی فہرست میں موجودہ فرعون ہامان کی روش پر چلنے والی جماعتوں کے ساتھ مل کر مصر میں اسلامی انقلاب کے چراغ کو بجھانے پر تلا ہوا ہے لیکن ہونا وہی ہے جو ہمارے رب کو منظور ہے۔

هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ

ترجمہ: وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو