کیا رانا سانگا اور راجہ داہر ہمارے ہیرو ہیں؟ ابوبکر قدوسی

حیرت مجھے ہوئی جب اس نے طمطراق سے خود کو رانا سانگا سے جوڑا، اور داہر پر فخر کیا۔ یہ نام نہاد دھرتی کے سپوت کہ جن کو محمد بن قاسم ایک آنکھ نہیں بھاتا، غزنوی ان کو چور لٹیرا لگتا، بلبن ظالم ڈاکو، اور احمد شاد ابدالی حملہ آور۔ تاریخ مگر مسخ کرتے ہیں یا ادراک ہی نہیں رکھتے۔ بہت فخر سے خود کو راجپوت کہتے ہیں، کبھی داہر سے نسبت کرتے اور کبھی رانا سنگرام سنگھ سے نسب جوڑتے۔ ان سے پوچھیے کہ خود یہ راجپوت کہاں سے آئے؟

یہ سطور لکھنے والا خود جنجوعہ نسل سے تعلق رکھتا ہے کہ جو راجپوتوں کی ایک شاخ ہے۔ راجپوت اور بہت سی دیگر ذاتیں بنیادی طور پر آریہ نسل سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور آریہ نسل کے لوگ مقامی نہیں بلکہ بیرونی حملہ آور ہی ہیں۔ اس میں اختلاف ہے کہ یہ کہاں سے آئے، کوئی انھیں بابل کی سرزمین سے آمدہ قرار دیتا ہے اور کوئی ایرانی سرزمین سے۔ سکندر رومی کی آمد سے پہلے یہ آریہ ادھر آ کے رچ بس چکے تھے۔ بنیادی طور پر کاشتکار نسل تھی لیکن ہندوستان کے مقامی ان سے بھی گئے گزرے تھے کہ جھٹ سے غلام ہو گئے۔ خود یہ آریہ کاشتکار بھی کوئی ایسے بہادر نہ تھے۔ یہی وجہ ہے جب یہ غالب ہو گئے تو اور راجے مہاراجے بن گئے۔ کوئی رانا بنا کوئی رنگڑ ، کوئی راجہ ہوا اور کوئی جاٹ۔ لیکن اس کے بعد جب افغانوں نے یکے بعد دیگرے ان پر چڑھائی کی تو یہ ڈھیر ہوتے چلے گئے۔ اچھا دل چسپ امر یہ ہے کہ جب بھی کوئی بیرونی حملہ آور یہاں آیا تو کامیاب ہوا۔ اور جو پچھلا کامیاب تھا، وہ مقامی آبادی کا حصہ بن چکا تھا۔ اس پر یہاں کی "لسی" کا خمار چڑھ چکا تھا۔ گنگا جمنا کی تہذیب کا جادو چل چکا تھا۔ کہولت اور تن آسانی بدن میں رچ بس چکی تھی۔ گندمی رنگ کا جادو اور گندم کا خمار مست کیے دے رہے تھے۔ سو وہ سابقہ کامیاب بھی اس بار جوتے چھوڑ کے بھاگا۔ اب اگلا کامیاب بھی یہی قصہ دہراتا اور کچھ عرصے بعد کمیاب ہو جاتا۔

ہندوستان کی مقامی آبادی کہ جو یہاں کے اصل باشندے تھے، دراوڑ کہلاتے تھے۔ مجھے نہیں خبر کہ چولستان کے موجودہ صحرائی قلعے کے نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے لیکن یہی لفظ دراوڑ ان اصلی ہندوستانی باشندوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھیل بھی انہی دراوڑوں کی بچی کھچی نسل ہے، جو نیم برہنہ ابھی بھی ہند کے شمال مشرقی علاقوں میں پہاڑوں پر پائے جاتے ہیں۔ ان مقامی ہندوستانی باشندوں کے رنگ نسبتا کالے تھے جبکہ آریائی نسل سرخ و سپید۔ یہ حملہ آور جب ادھر آئے تو انہوں نے مقامی باشندوں کو خوب تہہ تیغ کیا۔ اور وہ مظلوم آگے لگ کے بھاگتے چلے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو مشرقی ہند کے افراد کی رنگت گہری نظر آئے گی، اور جوں جوں مغربی ہند کی طرف بڑھتے چلیں جائیں رنگت کھلتی جائے گی۔ ان آرائیوں نے کہ جو ہمارے بھی اجداد تھے، ظلم و ستم کا بازار تو گرم کیا، لیکن ویسی نسل کشی نہ کر پائے کہ جو "مہذب یورپین " نے امریکہ اور آسٹریلیا کی مقامی آبادی کے ساتھ کی۔

یہ آریہ کچھ ہی عرصے میں اس ہندوستان میں رچ بس گئے۔ یہاں کی آب و ہوا نے ان کو اپنا اسیر کر لیا۔ ادھر کے دریاؤں، سبزہ زاروں، پہاڑوں، میدانوں اور وادیوں نے ان کو اپنے حسن کا مجاور بنا لیا اور وہ یہیں کے ہو کے رہ گئے۔ نسلیں نسلوں میں مل گئیں، اختلاط نے گندمی رنگ کو جنم دیا۔ اب کوئی کالا تھا اور بہت کالا، کوئی گورا اور کوئی گندمی اور گاڑھا گندمی۔ سب رنگ اس زمین کے رنگ تھے۔

اسی طرح مذہب کا اختلاط ہوا۔ آریہ ابراہیمی شریعت کی بچھڑی بھیڑیں تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام کو نبی مانتے تھے لیکن شرک میں مبتلا ہو چکے تھے۔ پس منظر میں بابل کے دیوتا اور پیش منظر یعنی ہندوستان میں مقامی شجر و حجر کو خدا بنانے کی روایت۔ بس یہ منظر تھا کہ: ''خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو''، سو مذہب کا ایک نیا ملغوبہ تیار ہوا، جس میں برہما ایک بڑے خدا تھے، سرسوتی ایک بڑی دیوی اور باقی خداؤں کی فوج ظفر موج۔ بہت عرصہ پیشتر ایک عمدہ کتاب چھپی تھی "ارمغان وید"، اس میں اس سب پر بہت عمدہ تحقیق تھی۔

بہت مختصر انداز میں ممکن حد تک اس دیش ہندوستان میں موجود ان رانگوں، سانگوں اور ان کی ذریت کا ماضی آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو ایسا آسان کام نہیں کیونکہ یہ کوئی دو چار برس یا دو چار صدیوں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ قبل مسیح سے شروع ہو کر معلوم تاریخ تک جاتا ہے۔ ان آریاؤں کے قافلے صدیوں تک آتے رہے اور فتح یاب رہے۔ پھر اس کے بعد افغانوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ جنھوں نے اس آریہ نسل پر غلبہ حاصل کیا۔ اب اتفاق یہ کہ محمود غزنوی سے شروع ہو کر یہ سلسلہ مغلوں تک پہنچتا ہے۔ اور اب کہ یہ تمام حملہ آور مسلمان تھے۔ لیکن ان سب کے حملے کشور کشائی کے لیے، سلطنت کی وسعت یا مال غنیمت کے واسطے۔ اب اگر "اتفاق" سے ان کا مذھب اسلام تھا تو اس میں اسلام کا کیا قصور؟

جن راجوں، رانوں، سنگھوں اور راجپوتوں کی طرف ہم خود کو جوڑتے ہیں، کیا وہ اس دھرتی کے فرزند تھے؟ کیا وہ بیرونی حملہ آور نہ تھے؟ ان کا مذہب کیوں زیر بحث نہیں آتا؟ مقامی آبادی پر ان کےظلم سامنے کیوں نہیں لائے جاتے؟

آج کوئی اٹھتا ہے اور راجہ داہر کو اپنا ہیرو بنا لیتا ہے اور کوئی رانا سانگا کو۔ لیکن اس بات کا کوئی ذکر نہیں کرتا کہ خود رانا سانگا اس "دھرتی ماں" کا غدار تھا۔ رانا سنگرام سنگھ کہ تاریخ اسے رانا سانگا کے نام سے یاد کرتی ہے، چتوڑ کا مشہور راجپوت سردار تھا۔ اس کے جسم پر تلوار اور نیزوں کے زخموں کے اسی نشان موجود تھے، جی اس بہادر نے بابر کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی ترغیب دی تھی۔ لیکن کمال یہ ہے کہ اسے یہ بات پسند نہ تھی کہ بابر ہندوستان پر قبضہ کر لے۔ ہے نا اعلی پائے کی "غیرت"۔ چنانچہ جب بابر ابراہیم لودھی کو پانی پت کے میدان میں شکست دے کر شمالی ہند کا بادشاہ بن گیا تو رانا نے اس کے مقابلے کی ٹھانی اور 1527ء میں کنواہہ کے مقام پر مقابلہ کیا، شکست کھائی اور میدان جنگ سے بھاگ گیا۔ اس واقعے کے دو سال بعد فوت ہو گیا۔ اسی طرح داہر کا قصہ ہے اور دیگر دوسرے راجوں اور رانوں کا کہ جنہوں نے ہمیشہ عربوں یا افغانوں سے شکست کھائی۔ دیس کی حفاظت نہ کر سکے، آج ان کو کچھ لوگ ہیرو بنا کے مسلمان فاتحین کو لٹیرا اور ڈاکو کہتے ہیں۔

دیکھیے اگر تو آپ مذہب دشمنی میں ایسا کہتے ہیں لیکن سہارا وطنیت کا لیتے ہیں تب بھی آپ غلط ہیں۔ اگر آپ وطن کی محبت میں ایسا بولتے ہیں تب بھی بے کار۔ کیونکہ کہا یہ جائے گا کہ ایک پرانے قابض کو نئے اور باصلاحیت فرد نے شکست دے کر قبضہ کر لیا۔ مشہور عربی مقولہ ہے ''الناس علیٰ دین ملوکہم'' یعنی لوگ اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں۔ جیسا حکمران ہوتا ہے ویسی اس کی رعایا ہوتی ہے۔ سو نئے فاتح کا مذہب بھی اپنے اثرات چھوڑتا گیا۔

Comments

ابوبکر قدوسی

ابوبکر قدوسی

ابوبکر قدوسی معروف اشاعتی ادارے مکتبہ قدوسیہ کے مدیر ہیں۔ تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ مجلہ الاخوہ کے مدیر رہے۔ اسلامی موضوعات سے دلچسپی ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.