مدرسہ ڈسکورسز اور علم الکلام کے جدید مباحث - ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

"علم الکلام کے جدید مباحث" کے موضوع پر اسلامی نظریاتی کونسل میں مدرسہ ڈسکورسز کے زیر اہتمام ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں متعدد اہل علم احباب نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔ برادر عمار خان ناصر کی دعوت پر بندے نے بھی اس میں شرکت کی۔ مختلف احباب نے موضوع سے متعلق مختلف پہلووں پر گفتگو کی، ان کی گفتگو سے اخذ ہونے والے چند اہم تاثرات یہاں گوش گزار کرنا چاہتا ہوں:
- کئی حضرات (مثلا جناب ثاقب اکبر، خورشید ندیم اور ماھان مرزا صاحب) نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ماضی کا فہم اسلام نئے دور میں متروک سمجھا جانا چاہیے۔ ثاقب اکبر صاحب نے اس مقدمے کو چند جزوی فقہی مسائل کی مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی (مثلا خاتون کی گواہی) اور اس بات پر زور دیا کہ نیا اجتہاد کرنا چاہیے۔ اس پر بس اتنا ہی عرض ہے کہ ضرور کیجیے جناب، کس نے روکا ہوا ہے؟ ثاقب اکبر صاحب نے ایسا اجتہاد نہ کرنے والوں کو "عقل دشمنی" سے بچنے کا مشورہ بھی دیا۔

خورشید ندیم صاحب نے اسی بات کے لیے ایک اصولی مقدمہ وضع کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کا اصل مطالبہ ایک متقی بندہ مؤمن سے یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان لائے۔ یہ جسے علم کلام کہتے ہیں یہ مذیب کا داخلی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ خارج سے پیدا ہونے والے مطالبات و چیلنجز کی بنیاد پر مذہبی اذہان کو مطمئن رکھنے کے لیے کھڑا کیا جاتا ہے۔ اگر خارج کے حالات و مطالبات بدل جائیں تو لازم ہے کہ ماضی کی پوری مذہبی علمی روایت (بشمول علم تفسیر) کو بھی ترک کردیا جائے اور اس کا بوجھ مذہب کے کاندھوں پر لادنا نہیں چاہیے۔ اس پر مختصر تبصرہ بس یہ ہے کہ خورشید صاحب کا فہم کلام ناقص ہے کیونکہ کلامی ایکٹیویٹی کسی بھی فکر کا خارجی نہیں بلکہ داخلی مسئلہ ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو کا حاصل یہ بنتا ہے کہ دین کسی چیز کا نام ہے ہی نہیں، یہ صرف خارج کا مرہون منت ہے۔

ماہان مرزا صاحب نے اسی مقدمے کو سائنسی نظریات کی روشنی میں "بصورت سوال" آگے بڑھایا کہ انسان کی ابتداء و حقیقت کے بارے میں ایک کہانی وہ ہے جو مذاہب بتاتے چلے آئے ہیں اور ایک کہانی جدید سائنسی علم بتا رہی ہے جسے "بگ ہسٹری" کا عنوان دیا گیا ہے۔ چنانچہ لازم ہے کہ اہل مذہب اس بگ ہسٹری کے تناظر میں اپنی کہانی کا یا تو از سر نوع جائزہ لیں اور یا پھر ان سوالات کا شافی جواب دیں۔ ماہان صاحب نے بگ ہسٹری کے تناظر میں اہل مذہب کے سامنے تو بڑے با معنی سوالات رکھے لیکن ان کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ خود اس بگ ہسٹری کے تناظر میں جدید انسان کے غیر مذہبی اخلاقی تصورات کی حیثیت کیا رہتی ہے؟ کیا بگ ہسٹری سے جنم لینے والے سوالات اہل مذہب کے لیے زیادہ معنی خیز ہیں یا خود اس نظریے پر ایمان رکھنے والے حضرات کے لیے؟

یہ بھی پڑھیں:   اہل مذہب اور کارزار سیاست - نصراللہ گورایہ

- دوسری تھیم جس کا اظہار متعدد شرکاء (بشمول اکرم ورک اور خالد مسعود صاحب) نے کیا وہ یہ تھی کہ فقہ و دین میں فرق کرنے کی ضرورت ہے (بعض لوگ اسے شریعت و دین کا فرق بھی کہتے ہیں)۔ فقہاء نے فقہ کے نام پر جو مسائل اخذ کیے وہ دین کو سمجھنے کی صرف ایک انسانی کاوش تھی نہ کہ بذات خود دین، دین صرف اس شے کا نام ہے جو خدا نے نازل کیا ہے۔ یہ دوسری بات دراصل پہلی ہی بات کا ایک منطقی تسلسل ہے بلکہ پہلی بات کا منطقی جواز ہے، یعنی نئی آراء قابل قبول بنانے کے لیے لازم ہے کہ پہلے والی آراء چھڑوائی جائیں اور چونکہ لوگ انہیں دین سمجھتے ہیں لہذا یہ کہا جائے کہ وہ دین نہیں ہیں اور اس کے لیے دین و فقہ کی دوئی کا مقدمہ کھڑا کیا جاتا ہے۔ جو حضرات دین و فقہ کی دوئی کے اس فلسفے کے قائل ہیں، ان سے بس دو سوالات ہیں: ایک یہ بتایا جائے کہ ماوراء ہر قسم کی فقہ دین کیا ہے؟ اس کے جواب میں آپ ہمیں جو بتائیں گے کیا وہ انسانی کاوش و فقہ نہیں ہوگی؟ اگر نہیں تو کیوں اور اگر ہوگی تو پھر دین کیا اور کہاں ہے؟ پیچیدہ بحثوں میں پڑے بغیر اگر ان سادہ سوالات پر ہی غور کرلیا جائے تو اس فلسفے کی منطقی حیثیت واضح ہوجاتی ہے۔

محوبالا پروگرام میں بندے کو بھی گفتگو کا موقع ملا۔ قلت وقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو گفتگو کی اس کا خلاصہ یہاں پیش خدمت ہے:
- ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جنہیں جدید کلامی مباحث کا عنوان دیا جاتا ہے، ان کے پس پشت فکر کو سمجھا جائے جن سے یہ مسائل جنم لے رہے ہیں۔

- کلامی ایکٹیویٹی تین امور پر اثر انداز ہوتی ہے: (1) ذات کی حقیقت سے متعلق فرد کے عقائد پر، (2) اس کے تصور علم (حکم اخذ کرنے کے ماخذات) پر اور (3) اس کے تصور اخلاق پر۔ جدید علم کلام مذھبی شعور کے ان تینوں پہلووں پر اثر انداز ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآن فہمی اور جدید سائنسی نظریات - پروفیسر جمیل چودھری

- جدید کلامی مباحث کا ماخذ تنویری فکر ہے جس کا فرد کے بارے میں یہ مفروضہ ہے کہ فرد آزاد (یعنی غیر مکلف) ہے اور یہی تصور ذات عدل کے اصول طے کرنے کے لیے معیار ہے۔ ذات سے متعلق اس مفروضے کو قابل قبول بنانے کے لیے یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ "پہلے تم انسان ہو یا مسلمان؟" جس کے جواب میں پھر کہہ دیا جاتا ہے کہ اصلا ہم انسان ہیں۔ یہ ایک گمراہ کن جواب ہے جو مذہب کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہی وہ تصور ذات ہے جو اس تصور حقیقت کو جنم دیتا ہے کہ حقیقت مطلقہ کا کوئی وجود نہیں، حقیقت بس وہی ہے جو فرد اپنے ارادے سے خارجی امکانات کے پیش نظر حصول آزادی کی جدوجہد میں تخلیق کرتا چلا جاتا ہے۔ چنانچہ خارجی امکانات بدلنے سے حقیقت، علم و اخلاق سب کچھ بدل جاتے ہیں (کیونکہ حقیقت نفس کی خود تخلیقیت سے عبارت ہے جو حالات و مکانات سے بدلتی رہتی ہے)، نہیں بدلتی تو یہ حقیقت اولی کہ فرد آزاد ہے اور اس آزادی میں اضافے کی جدوجہد کرنا ہی اس کا اصلی مقصد حیات ہے۔ یہی وہ تصور حقیقت ہے جو مذہب کی جدید تشریحات کرنے کی دعوت کے پیچھے کارفرما ہے۔

- جدید علم کلام کا اسلامی علمیت پر اثر انداز ہونے کا نہج یہ ہے کہ اسلام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے دوسری اصطلاح کا استعمال کیا جائے، یعنی عقل و فطرت وغیرہ۔ عقل و فطرت کو ماخذات علم ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وحی سے باہر ادراک حقیقت کا کوئی ایسا ذریعہ بھی ہے جو شرع سے ماوراء ہے۔ اس دعوے کا نتیجہ انسانی زندگی کی سیکولرائزیشن ہے۔ یہ وہی دعوی ہے جو معتزلہ نے کیا تھا۔

- جدید علم کلام کی اثر پذیری کا تیسرا دائرہ اخلاقیات کا دائرہ ہے جس کے نتیجے میں ذاتی اخلاقیات لغویت کا شکار ہوتی چلی جاتی ہیں کیونکہ وحی کو رد کردینے کے بعد اخلاقیات کو ڈیفائن کرنے کا کوئی عملی اصول باقی نہیں رہتا، سوائے سرمائے میں اضافے کے۔

چنانچہ اگر ہم نے جدید کلامی مباحث کو سمجھنا اور ان کا مقابلہ کرنا ہے تو ان مباحث کو سمجھنا ہوگا۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.