میرے قارئین کو نظر آتی میری مایوسی اور اداسی- نصرت جاوید

’’انگریزی میڈیم‘‘ تعلیم کے باوجود بہت اشتیاق سے میرے کالم پڑھ کر مجھ سے بے تحاشہ محبت کرنے والے ایک نوجوان سے اتوار کے دن پہلی ملاقات ہوگئی۔ انتہائی احترام سے بہت ہی مؤدب انداز میں اس نے مجھے آگاہ کیا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے میں بہت مایوس، ناامید اور اداس نظر آرہا ہوں۔ آج سے چند ہفتے قبل ایسا ہی گلہ لاہور قلندر والے فواد رانا نے کیا تھا۔ اتوار کے دن اس سے بھی کم عمر نوجوان نے میرے مایوس ہونے کے تاثر کو دہرایا تو واقعتا جی ادا س ہوگیا۔

اتوار کی شب یہ ملاقات فیصل آباد میں ہوئی تھی۔ ایک بہت ہی عزیز صحافی اس شہر میں مریم نواز شریف کی آمد کو رپورٹ کرنے کی غرض سے وہاں جارہے تھے۔ کمر کا درد مجھے سفر کرنے سے روکتا ہے۔اتوار کے روز یہ ’’بہانہ‘‘ مگر میرے کام نہیں آیا۔ جدید گاڑی کی وجہ سے سفر آرام دہ اور خوشگوار رہا۔مغرب کے وقت فیصل آباد پہنچ کر اس شہر سے رات کے تین بجے اسلام آباد لوٹنے کا فیصلہ ہوا۔ صبح چھ بجے گھر واپسی ہوئی۔ایک لمحے کو بھی لیکن سو نہیں پایا۔خود سے مستقل سوال کئے جارہا ہوں کہ واقعتا مایوس اور نااُمید ہوچکا ہوں۔حقیقت کچھ بھی رہی ہو۔ مختلف عمر کے دو افراد کا میرے باقاعدہ قاری ہوتے ہوئے ایک ہی رائے کا اظہار میرے لئے بہت پریشان کن ہے۔خود کو ساری زندگی بہت ضدی اور مشقت وذلت کا عادی تصورکرتا رہا ہوں۔عمر کے آخری حصے میں اُمید کے دئے بجھاتے ہوئے اس دُنیا سے رخصت ہونے کے خیال سے خوف آتا ہے۔اس خوف کو ذہن میں رکھتے ہوئے مریم نواز شریف کی فیصل آباد آمد کے بارے میں ’’تجزیاتی‘‘رائے دینے سے خود کو معذور محسوس کررہا ہوں۔اس شہر جانے کا اتفاق تو بہت کم ہوتا ہے۔ 1970کی دہائی کے آغاز سے مگر فیصل آباد کے سیاسی سین سے خوب واقف ہوں۔

میری اس سین سے آگہی کا آغاز اس ضمنی انتخابات کے ذریعے ہوا جو مختاررانا کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل کروانے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں ہوا تھا۔ رانا صاحب کی بہن نے ان دنوں کی حزب اختلاف میں موجود تمام جماعتوں کی بھرپور حمایت کے ساتھ پیپلز پارٹی کے نامزدکردہ افضل رندھاوا کا مقابلہ کیا تھا۔ ’’مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا‘‘والا معاملہ رہا کیونکہ رندھاوا صاحب یہ الیکشن جیت گئے تھے۔فیصل آباد کے سمن آباد میں راناثناء اللہ کے ’’ڈیرے‘‘ کا پتہ ڈھونڈتے ہوئے لوگوں سے گفتگو ہوئی تو مجھے راستہ سمجھانے سے پہلے سب نے گلہ کیا کہ میڈیا ان کے شہر کی جانب رواں ریلی کے بارے میں ایک ٹِکر بھی نہیں چلارہا۔ میں نے ٹی وی سکرین سے اپنی ’’فراغت‘‘ یاد دلاتے ہوئے جان چھڑائی۔ اس سوال نے مگر اس شہر میں میری جند نہ چھوڑی۔اس سوال کے تناظر میں یاد آگیا کہ جاپان 1960کی دہائی میں پاکستان میں اپنے ملک کے بنائے ٹی وی Setsکی مارکیٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہماری حکومت کو گرانٹ دے کر لاہور سے ایک ’’تجزیاتی‘‘ نشریاتی مرکز قائم کرنا چاہ رہا تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان بہت عرصہ یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ پاکستان جیسے غریب ملک کو ایسی ’’عیاشی‘‘ کی کیا ضرورت ہے۔ دریں اثناء 1964ء آگیا۔ اس برس موصوف نے مادرِملت کے اعزاز سے نوازی محترمہ فاطمہ جناح کو صدارتی انتخاب میں شکست دی تھی۔ ان کے سیاسی مخالفین اس شکست کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ملک بھر میں ’’دھاندلی‘‘ کے الزامات لگاتے جلسے شروع ہوگئے۔

ان جلسوں کی مقبولیت نے حکومت کو پریشان کرنا شروع کیا تو الطاف گوہر جیسے ذہین اور چرب زبان افسروں نے صدر ایوب کو سمجھایا کہ جاپان کی مدد سے پاکستانی خزانے سے ایک روپیہ خرچ کئے بغیر ٹی وی نشریات شروع ہو گئیں تو عوام کی اکثریت شام کے بعد اپوزیشن کے جلسوں میں شرکت کے بجائے گھروں میں محدود ہو کر ٹی وی دیکھنا شروع ہو جائے گی۔ صدر ایوب کو یہ خیال پسند آیا۔ پاکستان میں ٹیلی وژن متعارف ہو گیا۔ عوام کی ’’توجہ‘‘ سیاست کے بجائے ’’تفریح‘‘ کی جانب مبذول کرنے کے لئے ٹیلی وژن کی اہمیت کو مگر جنرل ضیاء کے سیکرٹری اطلاعات میجر جنرل مجیب الرحمن نے بھرپور ذہانت سے استعمال کیا۔ محمد علی کے باکسنگ مقابلوں کو Liveدکھانے کے بعد کرکٹ میچز کی Hypeمارکہ Coverageشروع ہوگئی۔ راوی نے حکومت کے لئے چین لکھنا شروع کردیا۔ٹی وی کی بدولت ’’چین‘‘ کی یہ فضا جنرل مشرف کے زمانے میں ’’نجی‘‘ ٹی وی متعارف کروانے کے باوجود کئی برس تک برقرار رہی۔ 2007میں لیکن عدلیہ بحالی تحریک کی Live Coverageشروع ہوگئی۔

ساتھ ہی لال مسجد والا واقعہ بھی ہوگیا۔ حکمران اشرافیہ نے طے کرلیا کہ ’’مادرپدرآزاد‘‘ نشریات معاشرے میں انتشار پھیلاتی ہیں۔ ٹی وی کے ذریعے حکومتوں کو ’’غیر مستحکم‘‘ دکھانے کا چلن لیکن آصف علی زرداری اور نواز شریف کی حکومتوں میں اپنی انتہا کو پہنچا۔ عروج کے بعد اب زوال کا سفر ہے۔ ٹی وی سکرینیں کافی ’’ذمہ دار‘‘ نظر آنا شروع ہوگئی ہیں۔جبلی طورپر مجھے نجی ٹی وی چینلوں کی ’’آزاد‘‘ نشریات کے ضمن میں 2002ہی سے ’’ہر روز روزِ عیدنیست‘‘ والاخدشہ لاحق رہا۔ بہت ہی کم معاوضے کے باوجود پرنٹ میڈیا سے وابستہ رہا۔ عدلیہ تحریک کے عروج کے دنوں میں لیکن تھوڑی خوش حالی اور ذرا شہرت کی خواہش نے الیکٹرانک میڈیا کی جانب منتقل ہونے کو مجبور کردیا۔ اب پنجابی محاورے والی ’’آنے والی تھاں‘‘ پر واپس لوٹ آیا ہوں۔

بہت ہی منطقی ذہن کے ساتھ مگر ٹی وی نشریات کے ذریعے عدم استحکام پھیلانے کے سوال پر غورکریں تو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ گھنٹوں تک پھیلی عدلیہ بحالی تحریک کی Liveنشریات کے باوجود جنرل مشرف نے ’’ایمرجنسی پلس‘‘ نافذ کردی تھی۔ اس کے بعد افتخار چودھری سمیت کئی ججز اسلام آباد میں موجود سرکاری گھروں میں نظر بند ہوگئے۔مجھ جیسے اینکرز سکرینوں سے غائب ہوگئے۔ عوام کی اکثریت ’’ایمرجنسی پلس‘‘ کے بارے میں زیادہ پریشان نہ ہوئی۔ 2008کے انتخابات کے لئے جاری مہم سے لطف اندوز ہوتی رہی۔انتخابی نتائج آنے کے بعد یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر منتخب ہوئے تو باقاعدہ حلف اٹھانے سے قبل ججز کی رہائی کا اعلان کردیا۔ عوام کی اکثریت کو حقیقتاََ ان کے اعلان سے یاد آیا کہ افتخار چودھری اور دیگر کئی ججز گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنے گھروں میں نظر بند تھے۔اینکروں کی سکرینوں پرواپسی ان کی رہائی کے کئی ہفتوں بعد ہوئی۔ آصف علی زرداری کے ایک بیان نے ان کی مشکل آسان کی۔

اگرچہ سکرینوں پر لوٹتے ہی ہم اینکروں کی اکثریت نے زرداری حکومت کے بارے میں ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والا تاثر پھیلاناشروع کردیا۔ اس حکومت نے یوسف رضا گیلانی کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی کے باوجود اپنی پانچ سالہ ا ٓئینی مدت مکمل کی۔ نواز شریف کی نااہلی کے باوجود بھی یہ معاملہ رہا۔حالیہ ماضی کی حقیقتوں کو یاد دلاتے ہوئے عرض فقط یہ کرنا ہے کہ ٹی وی نشریات حکومتوں کے استحکام یا عدم استحکام کا سبب نہیں ہوتیں۔حکومتوں کی ’’بے ثباتی‘‘ کی وجوہات قطعاََ مختلف ہوا کرتی ہیں۔ 1968میں صرف پاکستان ٹیلی وژن تھا۔ اس برس کے نومبر میں لیکن ایوب حکومت کے خلاف تحریک چلی تو 1969کا مارشل لاء لگا۔ 1970کے انتخاب ہوئے۔ ان کے نتیجے میںٹھوس سیاسی وجوہات کے سبب ملک دولخت ہوا۔محترمہ بے نظیربھٹو اپریل 1986میں طویل جلاوطنی کے بعد ملک لوٹیں تو ملک بھر میں تاریخی ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کیا۔ ان جلسوں کی اجازت دینے والی جونیجو حکومت مگر اپنی جگہ قائم رہی۔ اس حکومت کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے جلسوں نے نہیں جنرل ضیاء نے صدارتی حکم کے ذریعے مئی 1988میں فارغ کیا تھا۔