شکوہ؟؟ شوبزنس سے؟؟ محمد اظہارالحق

شوبزنس ایک پرستان ہے۔ حیرتوں سے چھلکتا!لطافتوں سے معمور! اس زمانے میں عجیب بات یہ ہوئی کہ یہ پرستان ہر گھر کے اندر داخل ہو گیا ہے۔ محل ہے یا مڈل کلاس کوٹھی، یا عام مکان! خاکروب کا گھر ہے یا گھروں میں کام کرنے والی مائی کا دو کمروں کا کوارٹر، شوبزنس کا پرستان ہر جگہ جلوہ نما ہے۔ ریموٹ کنرول کا بٹن دبائیے بمبئی سے کراچی اور لاہور تک کا شوبزنس آپ کے کمرے میں آموجود ہو گا! مگر مور کے پائوں بہرطور بدصورت ہیں۔ اس ہمہ وقت اور ہمہ جا موجودگی کے کچھ پہلو تلخ ہیں۔ بدصورت بھی! رمضان میں ایک قسط وار ڈرامے نے خوب مقبولیت حاصل کی۔ یہ اس ڈرامے کا سیزن ٹُوتھا سیزن ون گزشتہ رمضان میں جلوہ آرا رہا۔ ہر سیزن کی تیس تیس قسطیں تھیں، پورا ماہ چلا اور عید کے لگ بھگ آخری یعنی تیسویں قسط چلی! یہ ایک نسبتاً معیاری کھیل تھا۔ خاص طور پر پاکستان کی مختلف زبانوں کا ملاپ۔ مصنفہ صائمہ اکرم چوہدری نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی اور پشتو کا دل نشیں انداز میں ملاپ دکھایا۔ ہیروئن اقرا عزیز کا دیکھنے والوں کی نگاہوں میں ایک مثبت مقام پیدا ہوا۔ پھر ایک المیہ در آیا۔ لکس ایوارڈ کے تازہ ترین فنکشن کے دوران، ٹیلی ویژن کیمروں کی چمک دمک میں، ایکٹر یاسر حسین نے ایکٹریس اقرا عزیز کو منگنی کی انگوٹھی پہنائی۔

اس کے بعد دونوں نے حجابات کو ایک طرف رکھا اور سپردگی کا وہ منظر پیش کیا جسے پاکستانی معاشرہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں! اس کے دو نتیجے فوراً سامنے آئے۔ اقرا عزیز کا جو مثبت امیج، ڈرامے کے سیزن ون اور سیزن ٹُو سے بنا تھا، وہ دھڑام سے نیچے آن گرا۔ دوسرا یہ کہ سوشل میڈیا پر تنازع اتنا بڑھا کہ اس نے ہنگامے کی شکل اختیار کر لی۔ اس کی لپیٹ میں لکس ایوارڈ کی ساری کی ساری تقریب بھی آ گئی۔ اس میں کیا شک ہے کہ تقریب میں شریک بہت سی خواتین نے جو ملبوسات زیب تن کر رکھے تھے، وہ معاشرے کے لیے اچنبھا تھے اور دھماکہ بھی! احتجاج کا اور کچھ کچھ دفاع کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ یہ ایک عجیب صورت حال ہے! اس میں الم ناک کردار تضادات کا ہے۔ ان تضادات کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ شوبزنس کے کردار ہر گھر کا فرد ہیں۔ صبا قمر ہے یا یاسر حسین، مومنہ مستحسن ہے یا اقرا عزیز، میشا شفیع ہے یا علی ظفر یا نوری برادران یہ ہر شام میرے لائونج کی بھی زینت ہیں اور میرے گھر میں کام کرنے والے گُلّو کے گھر کا بھی حصہ! سب دیکھنے والوں کو یہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ مگر میں اور گُلّو دونوں اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ ان کی دنیا ہماری دنیا سے یکسر الگ ہے۔

ہم سب تفریح کے محتاج ہیں مگر تفریح کا تصور اپنا اپنا ہے۔ میں تفریح کے لیے زیادہ سے زیادہ اسلام آباد کلب چلا جائوں گا جہاں کسی ریٹائرڈ بیورو کریٹ کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی لوں گا یا اکادمی ادبیات کے رائٹر ہائوس میں شاعر دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ ٹائٹ اور کچھ لُوز گپ شپ کر لوں گا۔ کچھ شاعری سُن سنالوں گا۔ کسی تعطیل کے دن پوتوں کو لے کر مری کے ہوٹل بوربن میں چند گھنٹے گزار آئوں گا۔ گُلّو اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی فلم دیکھے گا۔ کسی ڈھابے سے اچھا کھانا لے گا۔ ہو سکتا ہے سستی شراب کا ایک آدھ جام بھی چھلکا لے یا ایک آدھ سُوٹا بھرا ہوا لے لے۔ بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مگر ہمارے گھر شام کو آنے والے یہ افراد! یہ شوبزنس کے سیلیبریٹی! ان کی تفریح اور ہے۔ یہ ایک مخلوط محفل ہو گی۔ مرد وزن کا آزادانہ اختلاط! شراب اور دیگر منشیات کا وافر استعمال! لباس اور بے لباسی کے مختلف مراحل! حجابات سے ماورا! کچھ گفتنی، کچھ نا گفتنی! اس تفریح کی کوئی جھلک ہم دیکھ لیں گے تو شور مچا دیں گے کہ اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا۔ غلطی ہم سے یہ ہوئی کہ ٹیلی ویژن یا انٹرنیٹ پر بیٹھ کر یہ ہر شام ہمارے گھر آتے رہے تو ہم انہیں اپنا فیملی ممبر سمجھ بیٹھے اور یہ بھول گئے کہ ان کی دنیا الگ ہے۔

یہ ہماری فیملیوں کا حصہ نہیں۔ یہ اور جہان ہے جس کی زمین، آسمان، جس کے بادل، گھٹائیں، جس کے رات دن جس کی مسرتیں، غم، سب مختلف ہیں۔ ان کی اِس دنیا میں بیگانے مرد سے بغل گیر ہونا اور بے لباسی سے بھرا ہوا لباس پہننا معمول کی زندگی کا حصہ ہے! صحافی اور شاعر عامر مرزا نے اس سارے بکھیڑے پر ایک جامع اور تجزیاتی تبصرہ کیا ہے جو پڑھے جانے کے قابل ہے دیکھیے!(کچھ ترامیم کے ساتھ) ’’حمید اختر صاحب کی روح سے معذرت کے ساتھ۔ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ اس کا فیصلہ تو شاید کبھی نہ ہو لیکن عوام الناس کی کثیر تعداد نے میشا شفیع کو وومن کارڈ کے زیر اثر سچا ثابت کر دیا ہے! حالانکہ عوام الناس کی کثیر تعداد کو شوبز کے ماحول کی ایک فیصد بھی جانکاری نہیں ہے۔ جی ہاں ایک فیصد بھی! ہم لوگ، بالخصوص مڈل کلاس کے دانشور شوبز کی دنیا اور اَپر کلاس کے لائف سٹائل کو ایک فیصد بھی نہیں جانتے۔ مگر تبصرے اور تجزیے کمال کے کرتے ہیں۔ ایک طرف ’’پارٹی‘‘ کی مین آئٹم مرغ کڑاہی اور ڈیڑھ لٹر پیپسی کی بوتل ہے اور شاید آئس کریم بھی۔ دوسری طرف شوبز کی ’’پارٹی‘‘ ہے جس میں شراب، کوکین، ڈانس اور پھر اختلاط سے آگے کے مناظر پارٹی کا لازمی حصہ ہیں۔

میڈیا بے خوف نہیں ہے۔ سچ بولتے ہوئے ہر بندہ ڈرتا ہے۔ پرسنل لائف شوبز کلاس کی جیسی بھی ہو، پبلک میں مذہب کا تڑکہ لگانے کا رواج ہے۔ ایک زمانے میں شوبز والے رمضان میں آرام کرتے تھے مگر اب رمضان میں مذہب کا چورن فروخت کر کے پیسہ اِدھر سے بھی کمانے لگے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ شوبزنس کلاس، عوام سے کس قدر مختلف ہے؟ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ شوبزنس کے مردوں اور عورتوں کے رات دن کیسے ہوتے ہیں۔ ایشوریہ رائے کو ایک خاص محفل میں پرفارم کرنے کے کتنے پیسے دیئے گئے تھے۔ خالدہ ریاست، روحی بانو اور دیگر ستاروں کی زندگی کا بیشتر حصہ کیسے گزرا؟ یوں لگتا ہے یہ دونوں گروہ ایک ملک میں تو کیا، ایک سیارے پر بھی نہیں رہتے۔ پوری دنیا میں ان کلاسوں کے درمیان فرق ہے لیکن جتنا فرق اس ملک میں ہے، کم ہی کہیں اور پایا جاتا ہو گا۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جن کے نزدیک تصویر کھنچوانا بھی حرام ہے۔ دوسری طرف یہ تصویر دیکھیے(یہاں ایک تصویر تھی ہمارے شوبز کی خواتین کی جو ناقابلِ بیان ہے) ایک کلاس وہ ہے جہاں شراب اور کوکین استعمال نہ کرنے والا ابنارمل سمجھا جاتا ہے دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے صرف کباڑیے کے پاس خالی بوتل دیکھی ہے۔ کمال کنٹراسٹ ہے بلکہ انتہا درجے کی دو گانگی! شوبزنس میں آنے والی نئی خواتین کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کا عوام کی اکثریت تصور بھی نہیں کر سکتی۔

پاکستان میں اس پر کوئی نہیں بات کرتا حالانکہ بھارت جیسے آزاد خیال ملک میں بھی ’’کاسٹنگ کاوچ‘‘(Casting Couch)کے متعلق بات ہونی شروع ہو چکی ہے۔یہ مکروہ اصطلاح نکلی ہی شوبزنس سے ہے۔ جاپان میں اسے ’’پِلّو ٹریڈ‘‘۔ یعنی ’’تکیوں کی تجارت‘‘ کہا جاتا ہے۔ شوبزنس کا لائف سٹائل کیا ہے؟ وہاں کون کون سے نارم (Norm) معیار اور قاعدے ہیں دانشوروں کو نہیں معلوم مگر تبصرہے ہو رہے ہیں اور متاثرین اپنی نِکی سریاں ہلا ہلا کر واہ واہ کر رہے ہیں‘‘۔ عامر مرزا نے یہ تجزیہ خوب کیا۔ آپ اس تضاد یا کنٹراسٹ کی ایک مثال دیکھیے کہ ڈرامے میں دلکش پنجابی بول کر اور ’’نئے نئے کٹے کھول کر‘‘ جس ایکٹریس نے قبولیتِ عامہ حاصل کی ہے وہ ڈرامے سے باہر کی زندگی میں اسّی نوّے فیصد گفتگو انگریزی زبان میں کرتی ہیں۔ اس فرق کا عوام کو اندازہ ہو تو وہ لکس ایوارڈ قسم کے پروگراموں پر حیرت کا اظہار نہ کریں۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہم انگریزی بولنے پر اعتراض نہیں کر رہے، فقط کنٹراسٹ کی بات کر رہے ہیں۔