وزیر اعظم کا دورہ امریکا :کچھ لو کچھ دو کی پالیسی - قادر خان یوسف زئی

وزیراعظم پاکستان امریکا کے صدر ٹرمپ کی خصوصی دعوت پر 21سے23 جولائی دورہ امریکا کر رہے ہیں ۔وائٹ ہاؤس اعلامیے کے مطابق’’ صدرٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان مختلف امور پر بات چیت ہوگی، دونوں رہنماؤں میں انسداد دہشت گردی، دفاع اور توانائی اور تجارت پر بھی بات ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہوگا، ان کا دورہ امریکہ علاقائی سلامتی اور خوشحالی میں معاون ثابت ہوگا۔ترجمان وائٹ ہاوس کے مطابق وزیراعظم کا محور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام لانا ہے، مذاکرات کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔‘‘۔ دفتر خارجہ کے ترجمان فیصل قریشی نے امید ظاہر کی ہے کہ’’ امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ وزیر اعظم کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت ملے گی پاکستان کے دفتر خارجہ نے مزیدکہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکہ کے دوران خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بھی بات ہو گی‘‘۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ’’ امریکا تعلقات اہمیت کے حامل ہیں، دونوں ممالک میں مثبت اور تعمیری بات چیت ضروری ہے، وزیراعظم کا دورہ امریکا باہمی تعلقات میں اہم ثابت ہوگا۔ ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وزیراعظم عمران خان کو دورہ امریکا کی دعوت کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی اہمیت کا اعتراف سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مثبت رویے کے ساتھ پیش قدمی پاکستان اور امریکا دونوں کے بہترین مفاد میں ہے، ہمیں افغانستان کے متعلق امریکی ترجیحات کا احساس ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ، وزیراعظم کے دورہ امریکا سے اعتماد سازی کی فضا بحال ہوگی، دونوں ممالک میں مثبت اور تعمیری بات چیت ضروری ہے، پاک امریکا تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے، ہماری خارجہ پالیسی میں امریکا سے تعلقات ہمیشہ اہم رہے۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان مسئلہ افغانستان کے سیاسی حل کے لئے صدر ٹرمپ کے دوراندیش فیصلوں کا خیرمقدم کرتا ہے، جو خود پاکستان کے موقف اور پالیسی کا اعتراف ہے‘‘۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ریکارڈ بک کے مطابق پاکستان کی جانب سے جنرل ایوب خان 2 مرتبہ او رجنرل ضیا الحق 6 مرتبہ امریکا کا دورہ کرچکے ہیں ۔ جبکہ امریکی صدرو سے جنرل (ر) پرویز مشرف 11 مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ یہ کسی بھی سربراہ مملکت کی امریکی صدور سے ہونے والی سب سے زیادہ ملاقات کی تعداد ہے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اورسابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو دو ؍دو مرتبہجبکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف 6 مرتبہ امریکا کا دورہ کرچکے ہیں۔ جبکہ ایک مرتبہ امریکا کا پرائیویٹ وزٹ کیا، یہ دورہ 4 سے 5 جولائی 1999 کو کیا گیا تھا اور اس دوران انہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن سے کارگل تنازع پر گفتگو کی تھی۔کسی بھی پاکستانی حکمران کی جانب سے آخری مرتبہ امریکا کا دورہ 2015 میں کیا گیا تھا کہ اور یہ دورہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کیا تھا۔

چار برس بعد وزیراعظم عمران خان اُن حالات میں امریکا کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں ممالک کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ خاص طور پر پاک۔امریکا تعلقات میں سخت سرد مہری موجود ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے انتخابات میں کامیابی بعد جنوبی ایشیا کے لئے نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا، جس میں پاکستان کے خلاف سخت موقف رکھا۔ افغان امن عمل کے حوالے سے امریکی صدر نے یکطرفہ رویہ اپناتے ہوئے پاکستان سے ڈومور کے مطالبات بھی کئے ، نیز پاکستان کی قربانیوں کے اعتراف کے بجائے انہوں نے ’’کولیشن فنڈز ‘‘کو غلط پیرائے میں بیان کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ''ہم اب پاکستان کو اربوں ڈالر نہیں دے رہے کیونکہ وہ ہم سے پیسہ لے رہے تھے اور کر کچھ نہیں رہے تھے‘‘۔ جس پر وزیر اعظم نے بڑے مدلل انداز میں امریکی صدر کو ٹویٹر پر ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو افغانستان میں اپنی ناکامی پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ایک لاکھ 40 ہزار نیٹو افواج، ڈھائی لاکھ افغان فوجیوں اور ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں کیوں طالبان پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔‘صدر ٹرمپ کے ٹوئٹس پر عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ’ ٹرمپ کے دعوے پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں جس نے جانوں کی قربانی دی، خود کو غیر مستحکم کیا اور معاشی نقصان برداشت کئے۔ اُنہیں تاریخی حقائق یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان امریکی جنگ لڑتے ہوئے بہت زیادہ نقصان اُٹھا چکا ہے۔ اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے لوگوں اور ہمارے مفادات کیلئے بہترین ہو گا‘۔

یہ جواب پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا ، جس کے بعد امریکا نے اپنے رویئے میں تبدیلی لانی شروع کی تاہم ڈو مور کا مطالبہ بھی جاری رکھا ، تاہم پاکستان اور امریکی صدر کے درمیان افغان امن تنازع حل کے لئے بھرپور تعاون کئے جانے پر رویئے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ، امریکی صدر نے اپنے ایک خصوصی خط میں افغانستان کے لئے اپنے معاون خصوصی زلمے خلیل زاد سے تعاون کے لئے وزیر اعظم سے درخواست بھی کی تھی ۔ جس کا پاکستان نے مثبت جواب دیا اور افغان طالبان کو امریکا کے ساتھ براہ راست مزاکرات کی میز تک لانے میں موثر و فعال کردار ادا کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان سات دور ہوچکے ہیں اور دونوں فریقین ایک حتمی مسودے کے قریب پہنچ چکے ہیں ، چار نکاتی ایجنڈے پر دونوں فریقین نے بڑی حد تک کام کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی سربراہان کے امریکی دوروں کی تاریخ پر ایک نظر

ذرائع کے مطابق زلمے خلیل زاد چین کے دورے سے امریکا واپسی کے بعد امریکی صد رسے افغان طالبان کے ساتھ حتمی مسودے کی منظوری لیں گے ۔ تاہم اس حوالے سے امریکی انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ پہلے امریکی صدر نے شام و افغانستان کے سے امریکی افواج کا اعلان کیا تو ان کی کابینہ کے اہم اراکین مستعفی ہوگئے اور پینٹاگون کے علاوہ کانگریس کی جانب سے اعلان کو عجلت قرار دیا گیا۔ بعد ازاں امریکی صدر نے نصف فوج افغانستان میں رکھنے کا اعلان کیا ، لیکن افغان طالبان نے اس ارادے کی شدید مخالفت کی ،بعدازاں پرائیوٹ فوج کی افغانستان میں امریکی افواج کے جگہ لینے کی عالمی میڈیا میں خبریں آئی، جس میں خاص طور پر بلیک واٹر کو افغان جنگ ٹھیکے میں دیئے جانے کی اطلاعات تھی ۔ لیکن اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں آئی تاہم افغان طالبان افغانستان میں بلیک واٹر کی موجودگی کا الزام لگا رہے ہیں کہ امریکا فوجی انخلا سے پہلے بلیک واٹر افغانستان بھیج چکا ہے جو عام شہریوں پر حملوں سمیت کئی ایسے واقعات میں ملوث ہے جس میں بم دھماکے بھی شامل ہیں ۔ جس کا مقصد عام افغان شہری کو افغان طالبان کے مخالف کرنا قرار دیا جارہا ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہے کہ حتمی مسودے کے بعد امریکا انٹیلی جنس کے طور امریکی فوجیوں کو افغانستان میں لازماََ رکھے گا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے لئے نامزد کردہ جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ’’ افغانستان سے امریکی فوج کا فوری انخلا اسٹریٹجک غلطی ہوگی‘‘۔ 'اگر میں چیئرمین بنتا ہوں تو میں امریکا اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات برقرار رکھنا چاہوں گا جبکہ ہم پاکستان پر دبائو ڈالیں گے کہ وہ امریکا کی گزارشات پر عمل کرے'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے سیکیورٹی معاونت معطل کردی ہیں اور دفاعی مذاکرات روکے ہوئے ہیں مگر ہمیں اپنے مشترکہ مفادات پر فوجی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے'۔ سینیٹ پینل نے انہیں افغانستان، پاکستان اور عراق کے حساس معاملات پر تحریری سوالنامہ ارسال کیا تھا جس کے جواب میں انہوں نے پاکستان سے دفاعی تعلقات کی ضرورت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اسلام آباد کا افغانستان میں امن و استحکام میں اہم کردار ہے اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی اہم ضرورت ہے۔کمیٹی نے سوال کیا کہ 'آپ اس عہدے پر پاکستان سے امریکا کے تعلقات، بالخصوص فوج سے فوج کے تعلقات اور عالمی سطح پر فوجی تربیت کے حوالے سے کیا تجاویز دیں گے'۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا 'ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی پاکستان کو امریکی مفادات حاصل کرنے میں اہم شراکت دار بتاتی ہے، اس کے علاوہ اس میں افغانستان میں القاعدہ اور داعش-خراساں کو شکست دینے کے لیے امریکی فوج کو ساز و سامان فراہم کرنا اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے حوالے سے سیاسی معاہدے شامل ہیں'۔

وزیر اعظم عمران خان اپنے دورے کے دوران کس ایجنڈے پر بات کریں گے ۔ اس حوالے سے صورتحال کافی واضح ہے کہ امریکی صدر افغانستان میں امریکی فوج کے انخلا اور پاکستان کی سرزمین پر کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کو زیر بحث لائیں گے ۔دیگر ضمنی معاملات میں ڈاکٹر شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے ذرائع کے مطابق کوئی بات ممکن نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق خاص طور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے حکومت فی الوقت امریکی صدر سے بات نہیں کرنا چاہتی ۔ واضح رہے کہ عمران خان اپنے انتخابی منشور میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے قوم سے وعدہ کرچکے ہیں لیکن ذرایع کے مطابق حالیہ دورہ امریکا میں پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام یا وزیر خارجہ کی جانب سے ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی کہ عمران خان کے پہلے دورے میں عافیہ رہائی پر کوئی بات کی جائے گی ۔ بنیادی طور امریکا دورہ کالعدم تنظیموں ، منی لانڈرنگ اور افغان امن حل تنازع کا احاطہ کرے گا۔پاکستان کی جانب سے پاک۔بھارت تعلقات بھی زیر بحث آئیں گے کیونکہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کا دیرینہ مطالبہ بھارت کا ہے اور امریکا بھارتی ایما پر ہی کشمیر کی آزادی کے لئے مزاحمتی تنظیموں کی اخلاقی حمایت ختم کرنے کے لئے پاکستان پر دبائو بڑھاتا رہا ہے۔

امریکی دورے سے قبل اس حوالے سے ایک بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سی ٹی ڈی پنجاب نے حافظ سعید کو گرفتار کرکے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے جوڈیشنل ڈیمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ۔ عدالت کی طرف سے سی ٹی ڈی کو تحقیقات مکمل کرکے چارج شیٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔پاکستان میں کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید احمد کے خلاف محکمہ انسداد دہشتگری پنجاب نے رواں ماہ 3 جولائی سے تخریب کاری میں مالی معاونت کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا ۔2012کو امریکا کی جانب سے جماعت الدعوہ اور حافظ سعید احمدکو دہشت گرد کی عالمی فہرست میں شامل کئے جانے کے بعد پاکستان نے فلاح انسانیت کے ادارے سمیت کالعدم جماعت الدعوہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے اثاثے ضبط کرلئے تھے ۔ بھارت حافظ سعید کو ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ کالعدم جماعت الدعوہ کے خلاف کاروائی کرے ۔ پاکستان میں ممبئی حملوں کے بارے میں درج کیس میں حافظ سعید ملزم نامزد نہیں رہے تاہم اس کے باوجود پاکستان نے کئی بار حافظ سعید کو گرفتار کیا لیکن بھارت کوئی ثبوت فراہم میں ناکام رہا جس کے بعد انہیں رہا کردیا جاتا۔

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں حافظ سعید کے خلاف انسداد دہشت گردی کے تحت تخریب کاری کے لئے مالی معاونت کے الزام پر مقدمے بنائے گئے ۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق حافظ سعید مقامی عدالت سے ضمانت کروانے گجرانوالہ آرہے تھے کہ انہیں پکڑ لیا گیا۔ حافظ سعید کی گرفتاری کو بعض حلقے عمران خان کے دورہ امریکا سے قبل صدر ٹرمپ کی خوشنودی کی خوشش قرار دے رہے ہیں ۔ جب کہ دوسری جانب ایف ٹی ایف اے کی جانب سے پاکستان پر عالمی دبائو کو کم کرنے کے لئے کاروائی بھی قرار دی جا رہی ہے کہ اس سے پاکستان دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لنڈرنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرانے کے موقف کو اپناسکے گا تاکہ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں داخل نہ ہوسکے ۔ تاہم وزیر اعظم کے دورہ امریکا سے قبل اس اہم کاروائی پر صدر ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ’’ 10 سال کی تلاش کے بعد ممبئی حملوں کے نام نہاد ماسٹر مائنڈ کو پاکستان میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری 10 سال کی تلاش کے بعدعمل میں آئی، ان کی تلاش کیلئے 2 برسوں سے دباؤ ڈالا جارہا تھا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر سے آخری پیغامات: ’اگر ہم مر بھی گئے تو یہاں نہ آنا‘

22 جولائی کو طے شدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات دونوں رہنماؤں کی پہلی باضابطہ ملاقات ہو گی۔ جس میں پاکستان کی جانب سے یہی کوشش ہوگی کہ امریکی صدر کو افغانستان میں قیام امن کے لئے دی جانے والی قربانیوں اور پاکستان کو درپیش مشکلات کے حوالے بد اعتمادی کی فضا کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ کیونکہ امریکہ کا مفاد بنیادی طور پر افغانستان کے ارد گرد گھومتا ہے۔پاکستان کی دفاعی امداد کو امریکا مختلف جانبدارنہ و یکطرفہ کاروائی کے سبب روک چکا ہے ۔ ان حالات میں امریکا ، پاکستان کو صرف اسی صورت میں کوئی یقین دہانی کراسکتا ہے جب وہ اپنے مطالبات کے حوالے سے مطمئن ہو۔ لہذا ان حالات میں امریکا کی جانب سے پاکستان کی دفاعی ضروریات کے حوالے سے دفاعی جنگی سازو سامان کی فراہمی یا معاہدے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ گو کہ امریکی منفی رویئے کی سبب پاکستان کا روس، چین کی جانب بڑھتا جا رہا ہے ، اس لئے امریکا ، چین کو اقتصادی طور پر مضبوط کرنے میں سی پیک( ون روڈ ون بیلٹ ) کے حوالے سے پاکستان پر دبائو بڑھانے کی کوشش ضرور کرے گا۔ نیز خطے میں ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کے سبب ایران کی حکومت کی جانب سے غیر جانب دارانہ حمایت پر امریکا رویہ پاکستان کے ساتھ سرد ہی رہنے کی توقع ہے۔

پاکستان خطے کو جنگ کے مضر اثرات سے پاک کرنے او ر امن کو پائدار بنیادوں میں استوار کرنے کے لئے جہاںایک طرف افغانستان سے تعلقات کو بہتر بنانے اور غلط فہمیوں کے ازالے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب بھارت کے ساتھ مذاکرات اور تصفیہ معاملات کے حوالے سے بھی سنجیدہ کردار ادا کررہا ہے۔ خاص طور پر کرتار پور راہدری کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو عالمی برادری نے سراہا ہے اور امریکا نے بھی پاک ۔ بھارت کے درمیان کرتار پور راہدری کے منصوبے کا خیر مقد م کیا ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا ہے کہ’’ پاکستان اور بھارت کے درمیان شروع ہونے والا کرتار پور راہداری کا منصوبہ خوش آئند ہے۔یہ واقعی بہت اچھی خبر ہے۔ ہم اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جو چیز بھی پاکستان اور بھارت کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔''واضح رہے کہ کرتار پور منصوبے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں ملکوں کی کوشش ہے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک اس راہداری کو کھول دیں۔ بیشتر سکھ یاتریوں کو کرتار پور میں واقع گورودوارہ تک رسائی نہیں دی جاتی۔رواں برس 23 نومبر کو سکھوں کے مذہبی پیشوا گُرو نانک کا 550 واں یومِ پیدائش منایا جائے گا۔ پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی خواہش ہے کہ گُرو نانک کے یومِ پیدائش سے قبل کرتار پور راہداری کے معاملات طے پا جائیں تاکہ اس مذہبی تہوار پر بھارت سے سکھ یاتری کرتار پور آ سکیں۔

وزیر اعظم کا دورہ امریکا سے دونوں رہنمائوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے و موقف کو جاننے کا موقع ملے گا ۔ امریکی صدر و پاکستانی وزیر اعظم کو ہم مزاج بھی کہا جاتا ہے اس لئے سیاسی پنڈتوں کے مطابق عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اچھی قربت پیدا ہونے کے امکانات کو بھی ظاہر کیا جارہا ہے ۔ واضح طور پر صدر ٹرمپ امریکی مفادات کے پیش نظر پاکستان کے لئے ایک مثبت رویئے کا اظہار کریں گے ۔ پاکستان بھارت ، افغانستان اور ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے تحفظات کو دور کرنے کے علاوہ پاکستان کو درپیش مشکلات کے حوالے سے نئے اسٹریجک تعلقات کا خواہاں ہوگا ۔ 2020کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ امریکی عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے یقینی طور پر ایسے فیصلوں کو فوقیت دیں گے جس سے انہیں آیندہ انتخابات میں درپیش مشکلات سے چھٹکارا پانے میں مدد ملے ۔ کیونکہ انتخابات سے قبل ہی صدر ٹرمپ اپنے متنازعہ بیانات کے وجہ سے عوامی مقبولیت تیزی سے کھوتے جارہے ہیں خاص طور پر نسل پرستانہ بیان اورغیر ملکی نژاد خواتین کے خلاف سخت بیانات پر صدر ٹرمپ الجھتے جارہے ہیں ۔پاکستان ان حالات میں صدر ٹرمپ سے دفاعی و تجارتی تعلقات کی بحالی کی صورت میں صدر ٹرمپ کی کئی دیرینہ خواہشات کو پورا کرنے میں مدد گار ہوسکتا ہے۔دیکھنا ہوگا کہ کچھ لو کچھ دو کی پالیسی کا تسلسل بحال ہوتا ہے یا نہیں ۔