آئی ایم ایف کیاچاہتا ہے؟ محمد عنصر عثمانی

ملک میں ہر طرف غربت کا راج ہے۔ غریب عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ افراط زر میں بے تحاشہ اضافہ یہ شعوربیدار کرتا ہے کہ وہ ایک آزا د ملک میں غلام ہیں۔ عوام دیکھتے ہیں کہ حکومت معاشی پالیسیوں میں بے لچک ہے اور وہIMF کی خواہش پر عوام کی زندگی اجیرن کررہی ہے۔ IMF مالی امداد دینے والا ادارہ ہے جو دنیا بھر کے ممالک کو سود پر قرضے مہیا کرتاہے۔لہذا وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ مقروض ممالک خوش حال ،معیشت میں خودانحصار ہوں، کیوں کہ اس کے نتیجے میں اس کاسودی کاروبار بند ہو جائے گا۔اس لیے وہ ہمیشہ ایسی معاشی اصلاحات ان ممالک کو بنا کردیتا ہے، جس پر مقامی عوامی نمائندے بندآنکھوں سے عمل پیرا ہوجاتے ہیں۔

بڑھتی مہنگائی سے حکومتی معاشی پالیسیوں کی قلعی کھلتی جارہی ہے۔ حکومت ہر دن عوام کو ملک کے اہم ترین اداروں میں بہتری کی نوید سناتی ہے،لیکن جانے یہ کیسی سچائی ہے جو حکومت کو تودکھائی دیتی ہے مگرعوام کو نظر نہیں آتی۔ ملک بھر میںتاجروں کے حکومت سے مذاکرات ناکام ہوئے جس پروہ ہڑتال کرنے پر مجبور ہوگئے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کاروباری حجم سات سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔ڈالر کی اڑان بلند ہورہی ہے۔ پرانے کیسز میں جرمانے ہورہے ہیں۔ حکومت ایک طرف تو معاشی پالیسیوں میں تبدیلی کی بات کرتی ہے ، تو دوسری جانب آئی ایم ایف کی ایما پر مہنگائی میں مسلسل اضافہ اور کاروباری افراد پر ٹیکس لگائے جارہی ہے۔ گھریلو مصارف میں روز مرہ استعمال ہونے والی اشیاء عوام کی قوت خرید سے باہر ہوچکی ہیں۔ بجلی اور گیس کے بل بھرنا متوسط اور غریب طبقے کے ماہانہ بجٹ سے باہر ہوگیا ہے۔توانائی اور سکیورٹی کے شعبے زوال در زوال کی کھائی میں جارہے ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوںمیں بے پناہ اضافے سے کم آمدنی والے نوکری پیشہ افراد نے موٹرسائکلیں گھر پہ کھڑی کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا پاکستان اسلامی بھی ہے اور جمہوری بھی؟ حبیب الرحمن

IMF اپنی رپورٹ میں واضح کہہ چکا ہے کہ 6 ارب ڈالر قرض کے بدلے حکومت عوام سے مختلف ٹیکسوں کی صورت میں پیسہ نکالے اور دی جانے والی مراعات میں کمی کرے۔ حکومت امیروں اور مراعات یافتہ طبقے کے لیے تو ایمنسٹی اسکیم لے آتی ہے،لیکن غریب طبقے کے لیے اس کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں۔ یہاں تک کہ بجٹ میں بھی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ یہ اقدامات حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والے قرض کے سمجھوتوں کا اہم ترین حصہ تھے،جس کی وجہ IMF نے 6 ارب ڈالر قرض دیا۔

یہ پہلی گورنمنٹ نہیںجوIMF کے پاس کشکول لے کر گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی حکومتوں نے اپنے دوراقتدار میں آئی ایم ایف کی گنگا سے خوب سیر ہوکر قرض لیا ،لیکن موجودہ حکومت کا ریکارڈ سابقہ حکومتوں سے منفرد ہے۔ اس لیے کہ اس حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے عوام سے کئی وعدے کیے تھے اور کہاتھاکہ ملک کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہے۔مگر جب اسے اقتدار ملا تو عوام سے منھ پھیر کر اپنے وعدوں سے یو ٹرن لے کر IMF کی زبان بولنے لگی،کیوں کہ یہ آئی ایم ایف کی خواہش تھی۔ حالت یہ آ پہنچی کہ گزشتہ ایک سال میںاس کے بڑے بڑے معاشی ٹارزن فیل ہو چکے ہیں۔ روپیہ ملکی تاریخ کی پست ترین سطح پر ہے۔ شرح سود میں ریکارڈاضافہ کیا گیاہے۔ معیشت پٹڑی پہ کیا چڑھتی،الٹالوگوں کے کاروبار بند ہورہے ہیں۔ ایمنسٹی اسکیم جو پہلے گناہ کبیرہ تھی اب گناہ صغیرہ بھی نہیں سمجھی جارہی ہے۔ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے برابر ہوچکا ہے، جب کہ زر مبادلہ کے ذخائر مشکل سے آٹھ ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد بھی IMF کو ترس نہ آیا اور اس نے بزور افرادی قوت (بقول اپوزیشن: اہم ترین اداروں کی باگ IMF کے منظور نظر افراد کے ہاتھوں میںہے)کہہ دیا ہے کہ حکومت پاکستان،پاکستان اسٹیل ملز اور پاکستان ریلوے کی نجکاری پر ہونے والے باہمی اتفاق رائے پر فوری عمل کرے۔ IMFنے ان قومی اداروں کی نجکاری پر سہانے خواب دکھائے ہیں کہ اگر حکومت پاکستان عوام کو راضی کرکے ہماری اصلاحات پر عمل کرے تو دنیا بھر کے مالیاتی اداروں سے مزید 38 ارب ڈالر قرضے ملیں گے۔IMF چاہتا ہے کہ سرِ تسلیمِ خم کرکے میری پالیسیوں پر تسلسل اور خاموشی سے عملدرآمد کرو۔ حالات و نظائر سے لگتا یہی ہے کہ کم از کم ا س معاملے میں حکومت یوٹرن نہیں لے گی اور عوام کا تیل نکال کر پیالے بھر بھرکرآئی ایم ایف کوپیش کرے گی۔