اللہ جانے دورہ امریکہ کیا گل کھلاتا ہے - حبیب الرحمن

وزیرِاعظم پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے آج ملاقات کر رہے ہیں۔ اس ملاقات کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں۔ اگر جائزہ لیا جائے تو موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے مطابق پاکستان اور خصوصاً عمران خان یہ خواہش رکھتے تھے کہ پاکستان امریکہ سے جتنی بھی دور ہوگا وہ پاکستان کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ پاکستان نے اپنی ماضی کی خارجہ پالیسی بدلنے کی اپنی سی جو بھی کوشش ہو سکتی تھی وہ کی۔ پاکستان نے اپنے آپ کو چین کے قریب کرنا چاہا، روس سے تعلقات بڑھانے چاہے اور خطے میں پائیدار امن کی خاطر بھارت سے بھی بات چیت اوراچھے پڑوسیوں والی قربت کی جانب پیش قدمی کی لیکن شاید یا تو پاکستان اپنی اس جہد میں کامیاب نہ ہو سکا یا پھر روس، چین اور بھارت پاکستان پر اعتماد نہ کر سکے جس کی وجہ سے پاکستان کو وہ کامیابیاں حاصل نہ ہو سکیں جس کی خواہش موجودہ حکومت رکھتی تھی۔

اس وقت سر دست پاکستان کا اہم ترین مسئلہ وسائل کی شدید کمی کا ہے۔ پاکستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے اور ایک ملک کو ملک کی طرح چلانے کیلئے کم سے کم جتنے وسائل درکار ہیں یا جتنی رقم کی ضرورت ہے، فی الوقت پاکستان کے پاس اتنی رقم بھی موجود نہیں۔ جب صورت حال یہ ہو کہ ملک کی ایک سال کی ضرورت پوری کرنے کیلئے ہی رقم موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں ترقیانی اسکیمیں کہاں سے شروع کی جا سکتی ہیں۔

پاکستان کے وجود میں آنے سے لیکر تا حال پاکستان اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے مختلف اداروں سے قرض حاصل کرتا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شروع میں قرضوں کا والیم اتنا نہیں تھا کہ ان کی ادائیگی یا ان پر لگائے گئے سود کی اقساط کو ادا نہ کیا جاسکے اس لئے کہ قرض سے حاصل ہونے والے رقم کو ملک کی تعمیر و ترقی میں صرف کیا جاتا تھا جس وجہ سے ایک جانب تو روزگار کے مواقع بڑھ جایا کرتے تھے اور دوسری جانب ملک کی معیشت مستحکم سے مستحکم کی جانب گامزن ہونے لگتی تھی۔ ایوب خان کا دور پاکستان کی معیشت کیلئے ایک سنہری دور تھا جس میں بلا شبہ پاکستان نے ہر شعبے میں بہت نمایاں استحکام حاصل کیا، ملک میں ڈیم بنے، کارخانے تعمیر ہوئے، پاکستان کا انفرا اسٹرکچربہتر ہوا، بڑے بڑے ایئر پورٹس بنے اور پی آئی اے جیسی ایئرلائن وجود میں آئی۔ یقیناً ان کے اقتدار کی دورانیے میں کافی کوتاہیاں بھی ہوئی ہونگی لیکن پاکستان پوری دنیا کی نظروں میں بہت نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ بد قسمتی سے اندرونی اختلافات کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا اور ملک کی یہی دولختگی ہے جس کی وجہ سے ایک آگے بڑھتا اور ترقی کرتا پاکستان ایک دم دباؤ کا شکار ہوا اور باوجود مسلسل کوشش کے پاکستان اس مقام پر نہ پہنچ سکا جو ایوب خان کے دور میں تھا۔
یہ کہنا یا سوچنا غلط ہے کہ پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نہیں مل سکی اور جو بھی مسند اقتدار پر براجمان ہوا وہ پاکستان کیلئے مخلص ثابت نہ ہو سکا البتہ یہ بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ جو صلاحیتیں ریاست کے سربراہوں میں ہونی چاہئیں ممکن ہے ہمارے بیشتر حکمران اس معیار کو نہ پا سکے ہوں اور ملک مسلسل انحتاط کا شکار ہوتا چلا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل کشمیر نڈھال مت ہوجانا - سید مصعب غزنوی

موجودہ حکومت کے متعلق یہ گمان کر لینا کہ یہ ملک سے مخلص نہیں، درست نہیں۔ موجودہ حکومت بے شک اس کوشش میں رہی کہ وہ امریکہ کی کسی بھی مدد کے بغیر ملک کو چلا سکے اسی لئے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک وزیراعظم نے امریکہ کا کوئی دورہ نہیں کیا لیکن حالات نے دورہ بہر صورت ضروری بنادیا۔

اگر دیانتدارانہ تجزیہ کیا جائے تو اس وقت پاکستان کو امریکہ کی شاید اتنی ضرورت نہیں جتنی ضرورت خود امریکہ کو پاکستان کی ہے۔ امریکہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ وہ پاکستان کی مدد کے بغیر شاید ہی افغانستان سے بخیریت نکل سکے۔ امریکہ طالبان سے مذاکرات تو ضرور کر رہا ہے لیکن اسے اس بات کا بہت اچھی طرح احساس ہے کہ پاکستان کو بیچ میں ڈالے بغیر نہ تو طالبان سے مذاکردیر پا ہوسکتے ہیں اور نہ ہی افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس یہ ایک بہت اہم پلس پوائینٹ ہے اور پاکستان اس سنہری موقعہ کو کسی صورت گنوانے کیلئے تیار نہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم ہی سرکاری دورے پر نہیں ہیں ان کے ساتھ پاکستان کے آرمی چیف اور افواج پاکستان کے اہم ذمہ داران بھی ہمراہ ہیں جن کو صدر ٹرمپ کی جانب سے دعوت ملی ہے۔ اس پس منظر میں اس دورے کی اہمیت بہت ہی سنجیدہ نوعیت کی ہوجاتی ہے۔ اب یہاں اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ کیا پاکستان امریکہ سے کچھ حاصل کر سکے گا یا پاکستان کو "ڈومور" کا سامنا رہے گا۔

امریکہ کی یہ کوشش ضرور ہوگی کہ وہ پاکستان کو مزید دباؤ میں لے۔ مثلاً وہ پاکستان سے کہہ سکتا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کو تلف کرے اور اس کا مقصد ہندوستان سے یاری نبھانہ ہو۔ پاکستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں پر نہ صرف کوڈ لگائے بلکہ وہ اس سلسلے میں امریکہ سے شیئر کرے۔ سی پیک کے سارے ٹھیکوں کی تفصیل اور دستاویز امریکہ کے سامنے پیش کرے۔ اس کا یہ مطالبہ کافی پہلے سے ہے جس پر پاکستان ابھی تک عمل کرنے کیلئے تیار نہیں۔ سرحد پار دہشتگردی کا الزام تو وہ پہلے بھی پاکستان پر لگاتا رہا ہے اور ممکن ہے کہ وہ اسی بات کو پھر دہرائے۔ حافظ سعید کی گرفتاری خود اس بات کا اقرار ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشتگردی کے الزام کو قبول کر چکا ہے۔

یہاں یہ بات بھی بہت غور طلب ہے کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر قبول کی گئی امداد اتنی نہیں جس سے پاکستان کی ضرورت پوری ہو سکے اس لئے پاکستان کو بہر صورت مزید امداد درکار ہے جس کیلئے ممکن ہے کہ پاکستان کو "ڈومور" میں سے کچھ نہ کچھ "مور" کو ماننا ہی پڑجائے۔

یہ بھی پڑھیں:   مصر سے مکہ اور کشمیر تک - محمد رضی الاسلام ندوی

پاکستان کے ساتھ ایک اہم ترین مسئلہ "ایف اے ٹی ایف" کی گرے لسٹ سے اپنا نام خارج کروانے کا بھی ہے۔ اس مسئلے پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے لیکن یہ معاملہ "دنیا کی نظر میں" دہشتگردوں کی تنظیموں کا مکمل خاتمہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں تک پاکستان میں تخریب کاریوں یا دہشتگردی کا تعلق ہے اس میں بہت واضح کمی آئی ہے اور پاکستان کو ماضی کے مقابلے میں ایک بہت پر امن ملک کہا جاسکتا ہے لیکن کیا پاکستان امریکی صدر کو اس بات کا یقین دلانے میں کامیاب ہو جائے گا کہ اس نے بجائے "سمجھوتوں" کے، حقیقتاً ایسی تمام تنظیموں کو کچل کر رکھ دیا ہے؟۔ یہ بات دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں امن ہو چکا ہے اور شمالی علاقوں میں ہونے والے الیکشن اس بات کا ثبوت بھی ہیں لیکن دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ یہ امن تنظیموں کے خاتمے کی نتیجے میں نہیں بلکہ سمجھوتوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے لہٰذا دنیا کہہ سکتی ہے کہ یہ سمجھوتے یا معاہدے کسی وقت بھی ٹوٹ سکتے ہیں اور دہشتگرد تنظیمیں دوبارہ منظم ہو سکتی ہیں۔ اس نقطہ نظر سے "ڈومور" کو دہرایا بھی جاسکتا ہے۔

یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ٹرمپ سے ان دنوں دنیا کے بہت سارے "مظلوموں" کے وفود ملاقاتیں کرکے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستانیں سنارہے ہیں جس کو نہ صرف سنا جارہا ہے بلکہ ان "مظلوموں" کی داد رسی کے وعدے بھی ہو رہے ہیں۔ یہ سارے "مظلومین" پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستان کے متعلق زہر فشانی میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ بات بھی بہت "خوش آئند" ہے کہ موجودہ حکومت اور عسکری حلقے ان "مظلومین" کی ہمدردی میں گھلے جارہے ہیں اور ان کیلئے بہت نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ٹھیک دورے سے قبل یہ ساری کہانیاں یونہی وائیرل نہیں ہو رہی ہیں اس لئے ملاقات میں ان کہانیوں کو بھی لازماً سامنے رکھا جائے گا اور زور دیا جائے گا کہ قانون ختم نبوت میں بہر صورت تبدیلی عمل میں لائی جائے۔ یہ صورت حال بہت غیر معمولی ہے اور اگر مسلم امہ بیدار نہیں ہوئی تو آج آئین میں ترمیم ہوگی اور آنے والے کل میں ممکن ہے کہ پاکستان کا نام ہی بدل دینے کی منصوبہ بندی کر لی جائے۔

اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ چند سکوں کی خاطر پاکستان اور نظریہ پاکستان، پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام اور اس کا آئین اپنی جگہ قائم رہتا ہے یا پھر 1947 میں دی جانے والی ساری قربانیاں مٹی میں ملادی جاتی ہیں۔