بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے گزارش - احسن سرفراز

عمران خان نے دورہ امریکہ کے دوران امریکی پاکستانیوں کے بھرپور مجمع سے خطاب کیا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی بہتر معیار زندگی کی تلاش میں دیار غیر جا بسے ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں رہ کر وہ جب پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کا موازنہ اپنے اقامتی ملک سے کرتے ہیں تو اپنے آبائی وطن کی محبت میں انکے دل سے بھی دعا نکلتی ہے کہ کاش پاکستان کے بھی مسائل ختم ہوں اور یہاں بھی ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہو۔

پاکستان کے دگرگوں حالات پر وہ لوگ ایک سادہ سا تجزیہ کر لیتے ہیں جو کہ محض آدھا سچ ہے کہ یہاں کے جمہوری حکمران چور اور ڈاکو ہیں اسلیے اس ملک کی یہ حالت ہوئی۔ حالانکہ آدھا عرصہ اس ملک پر حکمران براہ راست اسٹیبلشمنٹ رہی اور باقی آدھا عرصہ بھی ملک انکی کٹھ پتلیوں کے زیر نگیں ہی رہا۔ لیکن جب اپنے ہاتھوں سے تراشے صنم ہی اسٹیبلشمنٹ سے پورا حق حکمرانی مانگنا چاہتے ہیں تو ان حکومتوں کو خوب بدنام کر کے چلتا کر دیا جاتا ہے۔

ہمارے خان صاحب نے بھی مذکورہ بالا فلسفے کا خوب استحصال کیا، سابق حکمرانوں کو چور، ڈاکو کہا، پاکستان کے اچھے مستقبل کے سنہرے خواب دکھلائے، جھوٹے وعدوں اور دعوؤں کا سونامی لے آئے اور پھر سونے پر سہاگہ، اسٹیبلشمنٹ کے بغل بچہ اور کٹھ پتلی بن کر رہنے کے وعدے پر انھیں انھی چور جماعتوں کے بدترین لوٹے میسر کر کے ان کی حکومت بنوا دی گئی۔

پاکستانیوں نے خان صاحب کے دعوؤں کے مطابق ان کے پہلے سو دنوں سے تبدیلی کے آغاز کی امید لگائی، سو دن گذرنے کے بعد ان کے مہربانوں نے میڈیا اور قوم سے مزید چھ ماہ مانگے اور آج اس "تبدیلی" کے ایک سال بعد پاکستان کی کرنسی برصغیر میں کم ترین سطح پر جا پہنچی ہے، ملک پر چھ ہزار ارب کا مزید قرض چڑھ چکا ہے، شرح نمو آدھی رہ گئی ہے، سٹاک ایکسچینج کا کریش ہونا اب روز روز کا معمول بن چکا ہے، مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کیلیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، معاشرے کا ہر طبقہ پریشان ہے، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو کہہ دیا گیا ہے کہ چندہ لے کر یونیورسٹیاں چلائیں، فیسوں میں ہوش ربا اضافہ کر دیا گیا ہے، ہسپتالوں میں غریب عوام سے مفت ٹیسٹوں اور دواؤں کی سہولت چھین لی گئی ہے، گلی محلے میں ٹوٹی سڑکیں اور ابلتے گٹر اب معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مسافر خانے سے لنگر خانے تک - نسیم الحق زاہدی

احتساب کے نظام کا یہ حال ہے کہ نیب چئرمین کی "سر تا پا" احتساب کرنے کی ویڈیو خود تحریک انصاف کے حمایتی چینل نے نشر کی، نواز شریف کو سزا دینے والے جج کا ویڈیو سکینڈل بھی عدلیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے، مخالفین کو دبانے اور بدترین حکومتی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کو جھوٹے سچے کیسز میں جیلوں میں بھیجنے کو ہی حکومت اپنی سب سے بڑی کارکردگی گردان رہی ہے۔ اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کے کیسز یا تو بند کر دیے گئے ہیں یا پھر ان سے بالکل آنکھیں موند لی گئی ہیں۔ وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج کا کام محض بدزبانی اور مخالفین کو گالیاں دینا رہ گیا ہے۔ پچھلے ایک سال میں بائیس ٹرین حادثات اور درجنوں قیمتی جانوں اور اربوں روپے کے ضیاع کے باوجود لمبی زبان والا وزیر دھڑلے سے وزارت کی کرسی پر براجمان ہے۔ میڈیا کو حکومتی کارکردگی پر تنقید سے روکنے اور اپوزیشن رہنماؤں کے انٹرویوز چلانے پر شدید دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔

الغرض کوئی شعبہ زندگی ایسا نہیں جو اس حکومت کے ابتدائی سال ہی میں زوال کا شکار نہ ہو۔ اب جب خان صاحب عمل کے میدان میں اپنے سابقہ دعوؤں اور وعدوں سے ایک ایک کرکے یوٹرن لے چکے ہیں تو اپنے ووٹرز سپورٹرز کو بہلانے کے لیے مولا جٹ ٹائپ تقاریر اور مر جاؤں گا، مار دوں گا ٹائپ بڑھکیں ہی ان کی کل پالیسی بن چکی ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو دکھانے کے لیے جب ان کے پاس کوئی بہتر حکومتی کارکردگی نہیں ہے تو انھی کنٹینر مارکہ تقاریر کو ٹاکی مار کر پیش کر دیا۔ کہتے ہیں کہ واپس جا کر نواز شریف اور آصف زرداری کا جیل میں ٹی وی اور اے سی بند کر دوں گا، مولانا فضل الرحمٰن کو بھی جیل میں ڈالوں گا وغیرہ وغیرہ۔ ویسے خان صاحب سے پوچھنا تھا کہ نواز و زرداری کا ٹی وی، اے سی بند کر کے ہی امریکہ کیوں نہ گئے؟

یہ بھی پڑھیں:   دو خبریں چار ممالک - حبیب الرحمن

خان صاحب کو اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ امریکہ میں ہیرو ورشپ کا شکار زمینی حقائق سے نابلد چند ہزار پاکستانیوں کو تو وہ اپنی ان اخلاقیات سے عاری تقاریر سے بیوقوف بنا سکتے ہیں لیکن اب بائیس کروڑ عوام کے سامنے یہ جھوٹ نہیں چلنے والا۔ وطن عزیز میں رہنے والا ہر پاکستانی ان کے دعوؤں کو عمل کے میدان میں پرکھے گا۔ نوازشریف اور آصف زرداری کو چاہے یہ چوک میں لٹکا دیں لیکن اگر اس سے عام پاکستانی کا معیار زندگی بلند نہ ہوا اور اس کی مشکلات میں کمی نہ آئی تو اسے آپ کی اس بڑھک بازی سے کوئی غرض نہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ مدینہ کی اسلامی ریاست بنانے کے دعویدار خان صاحب کی حکومت کو اس پیمانے پر پرکھیں جو آج سے چھبیس برس قبل مجاہد قاضی حسین احمد نے بتایا تھا کہ: "میرے بیٹو! اگر نواز شریف کہے کہ اسلامی انقلاب آ گیا تو یقین نہ کرنا۔ بے نظیر کہے تو نہ ماننا، یہ نگراں کہیں کہ اسلام آگیا تو جھوٹ سمجھنا، حتٰی کہ اگر میں بھی کہوں کہ اسلامی انقلاب آگیا تو بھی یقین نہ کرنا۔ میرے بچو! اسلامی انقلاب اس دن آئے گا جس دن یہ ریڑھی والا اپنے گھر میں مالی آسودگی دیکھے گا، جس دن مزدور کو سماجی تحفظ ملے گا، جب اس ملک کا غریب کسان اپنی محنت کا صلہ پائے گا۔" ( 1993ء میں مال روڈ پر قاضی حسین احمد کے خطاب سے اقتباس)

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.