چھوٹی سی لکیر - احسان کوہاٹی

کہنے کو ٹیلی وژن کی اسکرین پر وہ مناظر کچھ خاص نہ تھے۔ پولنگ اسٹیشن کے باہر ووٹروں کی قطاریں، گاڑیوں میں آتے جاتے سیاسی ورکر، پارٹی پرچموں کے رنگوں کی ٹوپیاں، چادریں لیے جوشیلے نوجوان اور کرخت لہجے والے فوجیوں کی گاڑیوں کا گشت۔ یہ سب پاکستانیوں کے لیے نیا نہ ہوگا اور فوج کا گشت تو ”علاقہ غیر“ کے اپنوں کے لیے بالکل بھی نیا نہیں۔ لیکن نئی بات یہ تھی کہ فوجی گاڑیوں کو دیکھنے کے باوجود نوجوان یہاں وہاں بھاگ نہیں رہے تھے۔ خاکی وردی دیکھ کر ان کے چہرے خوف سے پیلے نہیں پڑ رہے تھے، اتڑں کے لیے جھومتے بدن ساکت نہیں ہو ئے تھے۔ ان کے چہروں سے خوشی پھوٹ رہی تھی، وہ طویل قطاروں میں خوشی خوشی کھڑے اپنے انگوٹھے پر آدھے انچ کی اس چھوٹی سی لکیر کا انتظار کر رہے تھے جس کے لیے وہ کتنی ہی دہائیوں سے منتظر تھے۔ آج ان کا انتظار ختم ہوا تھا، وہ ووٹ ڈالنے آئے تھے، اپنی مرضی سے اپنانمائندہ چننے کے لیے گھروں اور حجروں سے نکلے تھے۔ آج وہ خود کو ویسا ہی پاکستانی محسوس کر رہے تھے جیسے لاہور شاہ عالمی کا محمد سلیم بٹ اور کراچی کی آرام باغ فرنیچر مارکیٹ کا محمد ندیم ہے۔ وہ کب سے اس وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کے آباؤ اجداد یہ انتظار کرتے کرتے قبر کے گڑھوں میں ساکت بدن کے ساتھ اتر تے چلے گئے، مگریہ انتظار ختم نہ ہوا۔

”علاقہ غیر“ میں عجب سی پراسرایت تھی۔ سیلانی پہلی بار پشاور میں اس نام سے اپنے کزنز کی زبانی متعارف ہوا۔ ”علاقہ غیر“ سن کر اس کا متعجب ہونا فطری تھا۔ اس کے پوچھنے پر تایا زاد زاہد بھائی نے بتایا کہ یہاں پاکستان کا قانون نہیں چلتا، یہاں کا قانون کوئی اور ہے۔ اگر کوئی شخص یہاں قتل کر کے علاقہ غیر چلاجائے تو پولیس اس کے پیچھے وہاں نہیں جا سکتی۔ وہاں پولیس نہیں ہوتی، وہاں تھانے پولیس اسٹیشن بھی نہیں ہوتے، وہاں جرگے فیصلے کرتے ہیں۔ وہاں اسلحہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، یہاں تو پستول رکھنے پر بھی حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے، لائسنس لینا پڑتا ہے۔ یہ سب باتیں بہت عجیب سی تھیں لیکن کچھ باتیں خوفناک بھی تھیں۔ قبائلیوں کے لیے مشہور تھا کہ یہ شہری علاقوں سے بچے اغواء کر کے علاقہ غیر لے جاتے ہیں اور بھاری تاوان لے کر چھوڑتے ہیں اور پھر جب زاہد بھائی نے پشاور کے صدر بازار میں جون جولائی کی سخت گرمی میں بڑی بڑی پگڑیوں اور داڑھیوں والوں کی جانب آنکھوں سے اشارہ کر کے بتایا کہ یہ علاقہ غیر کے لوگ ہیں تو سیلانی دیر تک انھیں پیچھے مڑ مڑ کر تکتا رہا۔

سیلانی کا جب بھی پشاور آنا ہوتا تو لازما کوہاٹ کا بھی چکر لگتا۔ کوہاٹ میں اس کا ننھیال بھی تھا۔ تب پشاور سے کوہاٹ کے درمیان بیڈ فورڈ کی ڈنڈا گیئر بسیں چلا کرتی تھیں جو این ڈبلیو ایف پی یا صوبہ سرحد کے دارالخلافے سے کوہاٹ جانے کے لیے درہ آدم خیل کے علاقہ غیر سے ہو کر گزرتی تھیں۔ پشاور اور کوہاٹ کے درمیان درہ آدم خیل کے پہاڑ کسی چیلنجر کی طرح کھڑے ہیں۔ انہیں فرنگی دور میں تارکولی سڑک کی ڈور سے باندھا گیا تھا۔ دور سے یوں لگتا ہے جیسے لٹو کے گرد ڈور لپیٹی ہوئی ہو۔ پشاور سے روانہ ہونے والی بس متنی کے بعد جیسے ہی علاقہ غیر کی حدود میں پہنچتی، اسے کاندھوں پر رائفلیں لٹکائے لڑکے جوان بوڑھے دکھائی دینے لگتے۔ یہ اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ وہ علاقہ غیر میں پہنچ گئے ہیں۔ بس عموما درہ آدم خیل کے بازار میں کچھ دیر کے لیے رکتی، جہاں اسلحے کی دکانیں کراچی کے شہری لڑکے کی آنکھیں حیرت سے کھول دیتی تھیں۔ یہ 1980ء کی دہائی میں اس کا علاقہ غیر سے پہلا نامکمل تعارف تھا جو خاصا ڈراؤنا تھا۔ اس کی نظر میں قبائلی جھگڑالو، دشمن دار اور بات بات پر رائفل لوڈ کرنے والے لوگ تھے اور یہ تعارف طویل عرصہ بعد اس وقت مکمل ہوا جب وہ فاٹا کے قوانین سے متعارف ہوا۔ جتنا حیران وہ بچپن میں علاقہ غیرکے تعارف پر ہوا تھا ویسی ہی حیرت اسے حضرت حاجی صاحب سے کی زبانی ان قوانین کو سن کر ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک خواب کی تکمیل کا دن - سلیم صافی

حضرت حاجی صاحب کوئی پیر صاحب یا بزرگ نہ تھا، اپنے نام کے برعکس پتلا دبلا سا نوجوان تھا۔ والد صاحب کی شدید آرزو تھی کہ وہ حج کریں، حجر اسود کو بوسہ دیں، مقامات مقدسہ کی زیارت سے اپنی روح سیراب کریں، لیکن اخراجات آڑے آجاتے۔ ان کی یہ آرزو حسرت میں بدلتی جارہی تھی۔ آرزو اور حسرت کے اس سفر میں ان کے گھر پانچواں بیٹا ہوا تو انھوں نے اس کا نام حضرت حاجی صاحب رکھ دیا۔ حاجی صاحب سے سیلانی کی ملاقات کراچی کے ڈی جے کالج کے ہاسٹل میں ہوئی۔ وہ پڑھتا تو کسی اور کالج میں تھا لیکن ڈی جے کالج کے ہاسٹل میں اپنے دوست کے ساتھ رہتا تھا۔ یہیں اس نے ایک دن باتوں باتوں میں بتایا کہ وہ لوگ ووٹ نہیں ڈالتے؟

”ارے یہ کیا بات ہوئی، کیا پاکستان سے کوئی ناراضی ہے، سرخ پوش تو ووٹ ڈالتے ہیں اور اسمبلیوں میں بھی جاتے ہیں۔“ سیلانی کے لہجے میں بلا کی حیرت تھی۔ حضرت حاجی صاحب قوم پرست پشتون اور باچاخان کا پیروکار تھا۔ ان دنوں سیلانی کو فقہی، سیاسی تنازعات جاننے کی بڑی بھوک تھی۔ اسے تازہ تازہ ”خبر“ ملی تھی کہ باچا خان کانگریس سے خاصے قریب تھے اور گاندھی کے دوستوں میں سے تھے۔ پاکستان سے نرم گرم رہتے تھے۔

سیلانی کی بات پر حاجی صاحب نے برا منائے بغیر جواب دیا ”ہمارے یہاں الیکشن نہیں ہوتے۔“ اس کے بعد حاجی صاحب نے بتایا کہ علاقہ غیر میں پاکستان کا نہیں انگریزوں کا قانون چل رہا ہے۔ اس قانون کو انگریزوں نے 1848ء میں نافذ کیا تھا۔ اس قانون میں کوئی عدالت دلیل اور اپیل نہیں ہوتی۔ آزادی کے بعد پاکستان نے اس میں ایک اور قانون کا اضافہ کر کے نافذ کیے رکھا۔ اب ہم میں سے کوئی بھی قبائلی کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اس گرفتاری کے لیے کسی وجہ کا ہونا ضروری نہیں۔ حاجی صاحب نے بتایا کہ ہم پر ایک پولیٹیکل ایجنٹ نام کا بادشاہ مسلط ہوتا ہے۔ سمجھو سب کچھ اس کے اختیار میں ہے اور تو اور اگر میں وہاں کوئی جرم کروں تو اس کی سزا میرے پورے گھر کو دی جاسکتی ہے، میرے بھائی کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، میرا گھر جلا کر گرایا جا سکتا ہے اور کوئی سوال نہیں کر سکتا۔“

سیلانی کو اس وقت یہ سب باتیں مبالغہ آرائی میں گندھی ہوئی لگیں لیکن بعد میں وقت کے ساتھ ساتھ ایف سی آر کی خباثتیں سامنے آئیں تو اسے اس قانون کے بارے میں حاجی صاحب کا علم بہت محدود لگا۔ علاقہ غیر کہلائے جانے والے علاقے میں سرکش پٹھانوں کو قابو کرنے کے لئے فرنگیوں کو ایسے ہی قانون کی ضرورت تھی۔ یہاں جرگے کا نظام تھا۔ جرگے کے بڑوں کو انتظامیہ سلیکٹ کرتی، یعنی وہ انتظامیہ ہی کا حصہ ہوتے، انتطامیہ ہی عدلیہ اور انتظامیہ ہی مقننہ ہوتی تھی۔ ان فیصلوں کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہی نظام رائج رہا۔ دو سالہ زرمینہ کی سزائے قید تو زیادہ پرانی بات بھی نہیں۔ 2004 میں اغواء برائے تاوان کے دو ملزمان قادر خان اور ارسل خان کی عدم گرفتاری پر جرگے نے زرمینہ، اس کی والدہ حکم جاناں، سات سالہ بہن وزیر جان، آٹھ سالہ بہن اسلام بی بی، تین سالہ بھائی خلیل محمد اور نو سالہ بھائی صادق محمد کو تین سال قید کی سزا سنا دی۔ صرف یہی نہیں بلکہ جرگے نے مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ان کے آبائی علاقے لکی مروت میں آپریشن کر کے ان کے رشتہ داروں کے سو سے زائد گھر مسمار کر دیے۔ جرگے کے ان فیصلوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے دو سالہ زرمینہ اور تین سالہ خلیل محمد کو اپنے بہن بھائیوں اور ماں کے ساتھ جیل کاٹنی پڑی۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک خواب کی تکمیل کا دن - سلیم صافی

سیلانی سامنے ٹیلی وژن پر مہمند، باجوڑ، وزیرستان وغیرہ میں الیکشن کی ہلچل دیکھ رہا تھا۔ قبائلیوں کو بھی عام پاکستانیوں کی طرح ووٹ کاسٹ کرتا دیکھ رہا تھا اور دلی طور پر خوشی محسوس کر رہا تھا۔ اس کی نظر میں یہ صرف قبائلی علاقوں کی سولہ نشستوں کا الیکشن نہیں تھا، یہ ان علاقوں میں ایک طرح سے پاکستان کا ریفرنڈم بھی تھا۔ یہاں کابل دہلی مارکہ قوم پرستوں نے شکایتوں میں نفرتیں کاشت کرنے کے لیے بڑی کوششیں کی تھیں۔ ان کی صبح حلق سے آزادی کے نعروں کی قے سے ہوتی، پورا دن دہشت گردی کے پیچھے وردی کی تلاش میں کٹتا اور رات سونے سے پہلے ریاست کو اس وقت تک گالیاں دیتے جب تک نیند نہ آجاتی۔ یہ اپنے دو نمائندے اسمبلی میں بھجوا کر سمجھے تھے کہ انھوں نے قبائل کو ہپناٹائز کر لیا ہے۔ لیکن آج وہی وردی والے ان کے پولنگ اسٹیشنوں کی حفاظت کر رہے تھے، سڑکوں پر گشت کر رہے تھے اور قبائلی نوجوان ان کے سامنے اتڑں کر رہے تھے، جھوم رہے تھے رقص کر رہے تھے، مسکرا رہے تھے، قہقہے لگا رہے تھے۔ ان کی گاڑیوں پر پارٹی پرچموں کے ساتھ ساتھ قومی پرچم لہرا رہے تھے۔ یہ ایک خوبصورت دن تھا اور حضرت حاجی صاحب جیسے سیاسی کارکنوں کے لیے تو برسوں بعد کسی محبوبہ سے ملاقات جیسا حسین دن رہاہوگا۔ جانے حاجی صاحب کہاں ہوگا؟ شاید کہیں اتڑں کر رہا ہو۔ یقیننا اس نے بھی سرخ ٹوپی پہن رکھی ہوگی۔ اس کے ایک ہاتھ میں رومال اور دوسرے میں پارٹی کا سرخ پرچم ہوگا۔ وہ ڈھول کی تھاپ پر جھوم رہا ہوگا۔ شاید نہیں یقیناوہ انگوٹھے پر لگی چھوٹی سی لکیر چوم رہا ہوگا جسے لگنے میں 71 برس لگے۔ سیلانی بھی مطمئن اور مسرور تھا کہ اب کسی بھی کالج کے ہاسٹل میں کوئی بھی حاجی صاحب کسی بھی سیلانی سے ایف سی آر کا شکوہ نہیں کرے گا۔ سیلانی کے لبوں پر آسودہ سی مسکان بکھر گئی اور وہ ٹیلی وژن پر جیت کی خوشی میں اتڑں کرتے نوجوانوں کو مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.