260ارب ڈالر کا کھیل - منیر احمد بلوچ

کسی نے لکھا تھا‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے تیسری دنیا کے ممالک میں لوٹ مار اور مل جل کر کھانے کا ایک نیا طریقہ ایجاد کر رکھا ہے کہ حاکموں کی مدد سے پہلے ایسے معاہدے کرو ‘جو وہاں کے لوگوں کو فوری طور پر سمجھ میں نہ آئیں ‘ پھراس معاہدے کو سخت شرائط کے ساتھ باہمی دستخطوں سے پابند کرنے کے بعد اس پر کام شروع کر دو ‘پھر اپنے ہی کسی مقرر کردہ کسی شخص سے اس کے خلاف ملک کے اندر سے ہی اس قدر سخت اور اونچی آوازیں اٹھوائو کہ حکومت وقت گھبرا جائے اور پھر قانونی شکنجہ کس دو کہ اسے وہ معاہدہ ہی ختم کرنا پڑ ے اور پھر اس معاہدے کو ورلڈ بینک کے عالمی مصالحتی ٹربیونل میں لے جا کر اس وقت تک خرچ ہونے والی رقم کا دس گنا بطورِ ہرجانہ مانگ لو۔ یہی کچھ پاکستان کے ساتھ ریکو ڈک کے حوالے سے کیا گیا۔

قرضوں کی دلدل میں دھنسے ہوئے وطن ِ عزیز پر ریکوڈک معاہدے کے خلاف ٹیتھیان کے عالمی عدالت میں دائر کیس (ICSID) کے فیصلے کے نتیجے میں 6 ارب ڈالر جرمانے کا ایک اور پہاڑ لاد دیا گیا ۔ 6 ارب ڈالر کا یہ بوجھ کس کی ضد اور خود غرضی نے لادا۔ اس میں کون کون شامل رہا؟ وطن ِ عزیز کی معیشت پر کس کے کہنے پر 2011ء میں اپنا حصہ وصول کرنے کیلئے کلہاڑا چلایا‘ ان سب کرداروں کو جنہوں نے ملکی معیشت میں نقب زنی کی‘ چاہے وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں‘ ایک ایک کر کے کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا‘ لیکن یہ کام کرے گا کون؟ ان نقب زنوں سے ایک ایک پائی وصول کرنے کیلئے آتش نمرود میں کون چھلانگ لگائے گا؟ اگر کسی کو وہ چہرے نظر نہیں آتے تو ان کے چڑھائے گئے نقاب اتار نے کی ہمت میں کرتا ہوں۔

اب تک جتنے بھی میگا کرپشن کیسز سامنے لائے جا چکے ہیں‘ یہ ان سے زیا دہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ یہ اربوںڈالر کا کھیل ‘جس نے بھی کھیلا‘ وہ رتی برابر بھی رعایت اور رحم کا مستحق نہیں۔ نوکنڈی کے شمال مغرب میں واقع ریکوڈک ضلع چاغی کا ایک چھوٹا سا شہر ہے ‘جو ایران اور افغانستان کی سرحد سے ملحق ہے‘ ریکو ڈک کے اس علاقے کو SANDY PEAK بھی کہا جاتا ہے‘ جہاں عالمی رپورٹ کے مطا بق دنیا کا پانچوں بڑا سونے اور کاپر کا ذخیرہ موجود ہے۔ سب سے پہلے چلتے ہیں‘ نواز لیگ کے ساتھ جڑے ہوئے انگریزی اخبارکے ایک سینئر رکن کی طرف‘ جس کے ایک ایک حرف کی میاں نواز شریف اور ان کی فیملی آج قصیدے گاتے نہیں تھکتے اور جو گزشتہ تین برسوں سے اپنے ہر مضمون میں عمران خان کے کڑاکے نکالنے کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتا۔ اس نے اپنے قلم سے6 دسمبر2014 ء کو اپنی فائل کی گئی خصوصی سٹوری میں لکھا تھا ''سمجھ نہیں آ رہی کہ نواز شریف حکومت کو کس قسم کی جلدی ہے کہ وہ اربوں ڈالرز ریکو ڈک گولڈ اینڈ کاپر مائنز کے حوالے سے Discredited and ousted کینیڈین اور چلی کے مائننگ کنسورشم کو ادا کرنے جا رہی ہے؟''

آج میری قوم کا ایک ایک بچہ ہسپتالوں‘ تعلیمی اداروں‘ریلوں‘ بسوں اور سڑکوں پر انہی کی وجہ سے مصیبتیں اور تکلیفیں سہہ رہا ہے۔ ارسلان افتخار چوہدری کو2014ء میں نہ جانے کس کے کہنے پربورڈ آف انویسٹمنٹ بلوچستان کا وائس چیئر مین مقرر کرتے ہوئے سونے اور کاپر کی کانوں کے ذخیرے ریکو ڈک کے معاملات میں شامل کیا ۔اس تعیناتی پر جب اس وقت کی اپوزیشن نے اعتراض اٹھایا تو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک نے بلوچستان اسمبلی کو بتایا کہ ہم نے (مرکزی حکومت) نواز شریف کی سفارش پر ارسلان افتخار چوہدری کو ریکو ڈک کے معاملات سنبھلانے کیلئے بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کا وائس چیئر مین مقرر کیا ہے‘ لیکن افسوس کہ اتنا کہتے ہوئے وہ بھول گئے کہ روزنامہ ''دنیا'' اپنی30 جون2014ء کی اشاعت میں صفحہ آخر پر اپنی تحقیقاتی رپورٹ دے چکا تھا کہ''ارسلان افتخار چوہدری کو بلوچستان کے سونے کے ذخائر کی رکھوالی سونپ دی گئی ہے ‘‘اور یہ وہی سونے کی کانیں ہیں‘ جن کے مختلف کمپنیوں کو دیئے جانے والے کنٹریکٹ افتخار چوہدری نے بحیثیت چیف جسٹس سو موٹو لیتے ہوئے منسوخ کر دیئے تھے اور ارسلان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس سونے کی تلاش کیلئے بیرونی سرمایہ کار تلاش کرے۔اس بات کافیصلہ کون کرے گا کہ چھ ارب ڈالر کا یہ جرمانہ اور وہ اربوں ڈالر جو افتخار چوہدری کے فیصلے کی نذر ہو گئے‘ اب کس سے سے وصول کیے جائیں؟ ہماری دھرتی ماں جھولی پھیلائے اس سوال کا جواب مانگ رہی ہے کہ میرے بچوں کے آگے رکھا ہوا رزق کس نے چرایا؟انسانوں نے یاپھر کسی اور نے؟

ریکوڈک میں موجود سونے اور تانبے کے ذخائر دریافت کرنے کے لیے 29 جولائی1993ء کو بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنیBHP کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ‘جس کے تحت ریکوڈک پراجیکٹ کی آمدنی کے25% کا حکومت بلوچستان اور75% کا BHP کو حق دار بنایا گیا۔کچھ لوگ آج اعتراض کر رہے ہیں کہ اس وقت منافع کی یہ شرح جان بوجھ کر کم رکھی گئی ہے اس پر کوئی رائے دینے سے پہلے 1999ء میں دنیا بھر میں مائننگ کے عالمی ریٹس پر نظر ڈالیں تو ترقی یافتہ ملک33%مشرقی ایشیاء 32%لاطینی امریکہ27% ‘مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ26%مشرقی یورپ اور سینٹرل ایشیائ10% اور مجموعی طور پر دوسرے ملکوں میں28%ہے ۔اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے پاکستان میں یہ شرح اس وقت بہت ہی مناسب تھی‘ جس کا موازنہprofit Sharing between Government and Multinationals in Natural Resources Extraction سے کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت بلوچستان کی نگران صوبائی حکومت کے بعد اکتوبر1993ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں منتخب نئی سیا سی حکومت آئی تو اس نے ریکو ڈک کے اس منصوبے میں عدم دلچسپی شروع کر دی ۔اس کا کہنا یہ تھا کہ ان کی حکومت کے پاس تو اس منصوبے کے لیے فنڈز ہی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان، ایک سال میں کیا حاصل کیا؟ محمد عامر خاکوانی

خیال کیا جارہا تھا کہ اس پراجیکٹ پر کام بند ہو جائے گا‘ لیکن آسٹریلین کمپنی کے ساتھ نگران حکومت کے کئے گئے معاہدے میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پاس اگر فنڈز نہیں ہو ں گے تو آسٹریلین کمپنی یہ اخراجات خود برداشت کرے گی‘ لیکن اس کے عوض آسٹریلین کمپنی کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ حکومت بلوچستان سے یہ رقم مع سود لندن انٹر بینک ریٹ بمع دو فیصد وصول کرے۔ 1993ء میں بلوچستان مائننگ قوانین کے تحت کئے گئے اس معاہدے میں سونے اور تانبے کی تلاش کیلئے چاغی کا تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا علا قہ شامل کیا گیا ۔ فروری2005ء میں اس معاہدے کی تجدید کی گئی اور تین سال بعد فروری 2008 ء میں پھر اس کی تجدید کی گئی ‘جس کی میعاد 19-2-2011 کو ختم ہو رہی تھی‘ لیکن کام کی رفتار ابھی تک وہیں تھی اور خیال کیا جا رہا تھا کہ ایک بار پھر اس معاہدے کی تجدید ہو گی۔ BHP نے1994ء میں جب یہاں کام کا آغاز کیا تو اسے ایک ہزار کلومیٹر کا علاقہ دیا گیا‘ لیکن ٹی سی سی کی انتظامیہ صرف435مربع کلو میٹر میں کام کرنے کے بعد وہاں کے ہوشربا ذخائر سے اپنے حواس کھو بیٹھی ۔اس کمپنی کی اپنی ایک رپورٹ کے مطابق ‘یہاں سے22بلین پائونڈ کاپر اور13ملین اونس خالص سونے کے پچاس سال تک کے ذخائر موجود ہیں۔ 29جولائی1993ء کے معاہدے کے بعد تکنیکی آغاز کرتے ہوئے جیالوجیکل سروے اور ڈرلنگ پر آسٹریلین مائننگ کمپنی نے اپنا کام شروع کر دیا۔

آسٹریلین کمپنی کے ساتھ اختلافات ہونے پر جب معاملات عدلیہ تک جا پہنچے یا یوں کہنا منا سب ہو گا کہ پہنچا دیے گئے تو اسی مالی معاملات بھی تشویش کن صورت اختیار کر گئے توکچھ عرصہ بعد بروکن ہلز پراپرٹیز( BHP) نے آسٹریلیاکی ہی ایک اور کمپنی ''MINCOR RESOURCES NL'' کو اپنے ساتھ شامل کر لیا جس نے ریکو ڈک پراجیکٹ پر35 لاکھ ڈالر سرمایہ کاری کا وعدہ کیا اور اس کمپنی نے ایک تیسری کمپنی ''ٹیتھیان کاپر کمپنی'' کو اپنا سب پارٹنر بنا لیا اور اپریل2002ء میں ٹیتھیان کاپر کمپنی اوربی ایچ پی میں اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہو گئے۔دوسرے لفظوں میں اس طرح ریکو ڈک پراجیکٹ میںابتدائی آسٹریلین کمپنی بی ایچ پی کا عمل دخل ختم ہو گیااورٹیتھیان کاپر کمپنی چاغی ہلز ایکسپلوریشن جائنٹ وینچر اور ریکوڈک ایکسپلوریشن لائسنس کے75فیصدحصص کی مالک بن گئی ‘لیکن ٹیتھیان کاپر کمپنی نے بھی وہی خرگوش والی رفتار اختیار کی جوبی ایچ پی آسٹریلیا نے 1994ء سے اختیار کررکھی تھی جبکہ2002ء میںٹیتھیان کاپر کمپنی بلوچستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن سے ہونے والے معاہدے کی رو سے2006ء تک ہر قسم کی فزیبلٹی سٹڈی سمیت سونے اور کاپر کی پیداوار دینے کی پابند تھی‘ لیکن وہ اس میں نا کام رہی۔

2006ء میں جب ٹیتھیان کاپر کمپنی نے ریکوڈک سے با قاعدہ پروڈکشن شروع کرنی تھی تو ایک تیسراکھیل اس طرح شروع ہوا کہ اندرون خانہ مائننگ کی دنیا کی سب سے مشہورو معروف کمپنیوں چلی کی Antofagasta اور کینیڈا کی Barrick Gold Corporation نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کے تمام حقوق حاصل کر لیے اور یہ حقوق حاصل کرتے ہی ان کمپنیوں نے اعلان کر دیا کہ ٹیتھیان کاپر کمپنی کی تیار کردہ فزیبلٹی رپورٹ اور اب تک اس نے جوکام مکمل کیا ہے، اس کے بجائے ہم آزادانہ کام کرتے ہوئے 30 ملین ڈالر کی لاگت سے نئے سرے سے کام کریں گے اور ٹیتھیان کاپر کمپنی کی تیار کر دہ فزیبلٹی رپورٹ اور ان کے اب تک کے کئے گئے کام سے ہمارا کوئی تعلق اور سروکار نہ ہوگا۔ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ بروکن ہل پراپرٹیز (BHP) اورٹیتھیان کاپر کمپنی نے اب تک جو کام کیا ہے‘ معاہدے کے مطابق حکومت بلوچستان اس کا 25 فیصد ادا کرے اور وہی کام جو اب چلی اور کینیڈا کی یہ دو کمپنیاں کریں گی، اس کا بھی پچیس فیصد وصول کیا جا ئے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ ٹی سی سی نے ان کمپنیوں کو رپورٹ دے دی تھی کہ ریکو ڈک میں وسیع پیمانے پر کاپر اور سونے کے ذخائر کے علا وہ انتہائی قیمتی اور نایاب دھات Molybdenum کے ذخائر موجود ہیں‘ لیکن ٹیتھیان کاپر کمپنی نے یہ رپورٹ کبھی بھی حکومت بلوچستان کو فراہم نہیں کی۔ 2009ء میں آصف علی زرداری کی حکومت تھی جب 13000 کلومیٹر کے علاقے میں کھدائی کے منفرد اور بلا شرکت غیرے حقوق ٹیتھیان کاپر کمپنی کو الاٹ کر دیے گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ کمپنی 14 برسوں سے اس علاقے کا سروے کر رہی تھی اور اسے معلوم ہو چکا تھا کہ بلوچستان کے کن کن حصوں میں سونے اور تانبے کے ذخائر موجود ہیں۔ حکومت بلوچستان اگلے تین سال اپنی جگہ سوئی رہی جبکہ نئی داخل ہونے والی دونوں کمپنیوں نے نئی فزیبلٹی رپورٹ کے نام پر بھاری اخراجات پیش کر دیے اور 2008ء میں انہوں نے حکومت کو کہا کہ اس رپورٹ کی تیاری میں ہمارے 220 ملین ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ جب یہ بل پیش ہوا توحکومت بلوچستان کو احساس ہوا کہ ہم نے1993ء میں یہ معاہدہ کیا تھا اور آج اسے17 سال ہو گئے ہیں‘ ہمیں صرف کروڑوں ڈالروں کے بل دکھائے جا رہے ہیں‘ لیکن پراجیکٹ وہیں پر ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کچھ طاقتیں چاہتی ہیں کہ گوادر پورٹ کی طرح بلوچستان سے سونا‘ تانبا اور دوسری بیش بہا معدنیات پر بھی دبیز پردہ پڑا رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

پاکستان کے حساس اداروں نے ملک کی سلامتی اور معاشی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کو مشورہ دیا کہ قدرت کی طرف سے عطا کیے گئے ان ذخائر پر بھرپور توجہ دی جائے ‘ جس پر بلوچستان کی کابینہ نے متفقہ طور پر 24 دسمبر 2009ء کو فیصلہ کرتے ہوئے ریکوڈک پراجیکٹ پر سنجیدگی سے کام کرنے کے لیے ایک بورڈ آف گورنر تشکیل دیا جس کی سربراہی ملک کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان اور ممبر پلاننگ کمیشن ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو سونپ دی گئی۔ اب تک ریکو ڈک میں بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے جو دو بنیادی غلطیاں کی گئی ہیں، ان میں ٹیتھیان کاپر کمپنی کو آسٹریلین سٹاک ایکسچینج میں رجسٹر ہونے کی اجازت اور ایکسپلوریشن لائسنس کی بار بار تجدید۔ بلوچستان حکومت کو چاہیے تو یہ تھا کہ جب MINCOR RESOURCES NL ٹیتھیان کاپر کمپنی کو ریکوڈک معاہدے کے مکمل اختیارات منتقل کر رہی تھی تو بجائے آسٹریلین سٹاک ایکسچینج کے اسے پاکستان کی سٹاک ایکسچینج میں رجسٹر ہو نے کا پابند کیا جاتا‘ لیکن ٹی سی سی کی غیر ملکی سٹاک ایکسچینج کی رکنیت کی وجہ سے حکومت بلوچستان اس پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے کے حق سے محروم ہو گئی۔

ٹی سی سی کا کہنا ہے کہ جب بروکن ہل پراپرٹیز (BHP) آسٹریلیا نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کیا تو اس نے حکومتِ بلوچستان کو کہا کہ معاہدے کے مطابق ان کے 75 فیصد حصص حکومت بلوچستان حاصل کر لے‘ لیکن حکومت بلوچستان نے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے معذوری ظاہر کر دی‘ جس پر یہ حقوق ٹی سی سی کو منتقل ہو گئے‘ جسے بلوچستان ہائیکورٹ نے بھی کنفرم کر دیا۔ دوسری غلطی یہ ہوئی کہ2000ء میں جب اس معاہدے کی تجدید ہو رہی تھی تو حکومت کی طرف سے ایک شق رکھی گئی کہ اگر کمپنی اپنے مالی حقوق کسی دوسری کمپنی کو منتقل کرے گی تو حکومت بلوچستان کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے مالی حصے کو بھی بڑھا سکے گی‘ لیکن جب ٹیتھیان کاپر کمپنی نے اپنے حقوق چلی اور کینیڈا کی کمپنیوں کو منتقل کئے تو کسی نے بھی اس طرف دھیان دینے کی کوشش نہیں کی۔ دوسری طرف ٹیتھیان کاپر کمپنی کی بیلنس شیٹ دیکھیں تو ان کے مطابق مارچ2010ء تک وہ400ملین ڈالر اس پراجیکٹ پر خرچ کر چکی تھی‘ جس میں130ملین ڈالراس نے صرف اس علاقے کی بہتری اور دوسری سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کرنے کے علاوہ19ملین ڈالر حکومت بلوچستان کو مختلف ٹیکسوں کی صورت میں ادا کئے۔

2008ء میں ریکوڈک میں 76 بلین ڈالرکے ذخائر تھے جو 2011 ء کی عالمی مارکیٹ کے حساب سے قیمتوں کے بڑھنے سے 130 بلین ڈالرہو گئے۔ اس کے علاوہ ریکوڈک میں ایک انتہائی قیمتی اور نایاب دھات Molybdenum کے بیش بہا ذخائر کی موجودگی کی توثیق ہو چکی ہے۔ یہ وہ قیمتی دھات ہے جو ہائی سپیڈ سٹیل‘ کاسٹ آئرن‘ اور سپر الائز بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ دھاتیں ائیر کرافٹ انڈسٹری‘ میزائل سسٹم اور سپیس انڈسٹری کے استعمال میں آتی ہیں۔ فروری2011 ء میں اس معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد پھر اس کی تجدید ہونی تھی کہ مولانا عبد الحق کے ہاتھ میں پٹیشن دیتے ہوئے بلوچستان حکومت کے مقابل لا کھڑا کیا گیا‘ جس پر افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا حکم جاری ہوا کہ چاغی ہلز جائنٹ وینچر معاہدہ جو بلوچستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور اور بروکن ہل پراپرٹیز (BHP) کے درمیان 1993ء میں کیا گیا، وہ void ab initio ہے‘ یعنی شروع ہی سے کالعدم ہے۔