رک جائیے، پلیز رک جائیے - عامر ہزاروی

ٹی وی دیکھنا بہت کم کر دیا۔ چند گنے چنے پروگرامز دیکھتا ہوں، جن میں خبر ہوتی ہے یا تجزیے میں انصاف۔ چیختے چنگھاڑتے اینکرز، شور کرتی لڑکیاں، جھگڑا کرتے سیاست دان جذبات کی تسکین کا سامان تو فراہم کرتے ہوں گے لیکن عقل سلیم انہیں تسلیم نہیں کرتی۔ سیاست سے دل اچاٹ ہو گیا ہے، اسی لیے قلم روک رکھا ہے۔

رات یوٹیوب پر سلیم صافی کا پروگرام سامنے آیا جس کے مہمان حاجی غلام بلور اور میاں افتخار حسین تھے۔ نام دیکھ کر قدم روک لیے، پروگرام سننے لگ گیا۔ حاجی غلام احمد بلور کی گفتگو بھی رنج و الم سے پر تھی اور میاں افتخار حسین کی بھی۔

میاں افتخار نے ایک بات کہی کہ ہم تین بھائی ہیں۔ دو بھائیوں کی نرینہ اولاد نہیں، میرا ایک ہی بچہ تھا جو دو ہزار دس میں مارا گیا۔ اب ہماری فیملی میرات ہے۔ ہماری نسل یہاں رک گئی ہے۔ جن کی نسل رک جائے لوگ انہیں طعنے دیتے ہیں۔ اس وطن کے لیے قربانی دی ہے دیتے رہیں گے۔ ساتھ انہوں نے ایک شکوہ بھی کیا کہ میرے ساتھ ٹوٹل سیکورٹی کے سات لوگ ہیں۔ دو ہزار دس کے بعد میں اپنے گھر میں نہیں رہا۔ مجھے ابھی بھی دھمکیاں ملتی ہیں۔ ابھی سیکورٹی اداروں نے مجھے ایک میسج بھیجا کہ آپ پر حملہ کرنے کے لیے ثقلین آفریدی نام کا خود کش بمبار بھیجا جا چکا ہے، احتیاط کریں۔ میاں افتخار نے کہا میں مزید کیا احتیاط کروں؟ ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف میرے بیٹے کے قاتل کی ضمانت لگوا دی گئی ہے۔ مجھے کچھ لوگ کہتے ہیں، ان سے صلح کر لیں ورنہ یہ آپ کو بھی مار دیں گے۔

میں نے جب یہ گفتگو سنی تو حیرت میں ڈوب گیا۔ میاں افتخار کون ہے ؟ پٹھان! اسے مارنے والا کون ہے؟ پٹھان ! ماضی میں آپریشن کس کے خلاف ہوا؟ پٹھانوں کے خلاف! حکومت کس کی تھی پٹھانوں کی، حکومت والے کو قوم پرست کا نام مل گیا اور داڑھی والے کو طالب کا، دونوں ایک دوسرے کو مار کر خوش ہیں۔ آخر یہ کیا تماشہ ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   خالص "جماعتیے" کے جے این یو کے دورے پر تاثرات - تزئین حسن

دیکھیں!
برطانیہ نے اس خطے پر حکومت کی۔ وہ گیا تو ہمیں تقسیم اور دشمنی دیکر گیا۔ آج بھارت نہ برطانیہ کے خلاف ہے اور نہ ہی پاکستان بلکہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ نفرت اس کے خلاف ہونی چاہیے تھی جس نے ہمیں غلام بنائے رکھا، ہمارے خطے پر حکمرانی کی لیکن ہم اس سے نفرت نہیں کرتے۔ کیوں؟ کبھی اس سوال پر غور کیا؟

پاکستان کو دیکھیں!
نائن الیون کے بعد جنگ امریکہ اور افغانستان کی تھی۔ جنگ وہاں سے چلی ہمارے خطے تک آ گئی۔ لوگ ہمارے مرے، گھر ہمارے تباہ ہوئے، بچے ہمارے یتیم ہوئے، ہجرتیں ہم نے دیکھیں، دہشت گرد بھی ہم، اور دشمن بھی ہم ایک دوسرے کے۔

ستم ظریفی دیکھیں ! امریکہ آج انسانی حقوق کا ترجمان بنا ہوا ہے۔ امریکی پالیسیوں کی بدولت فوج اور پی ٹی ایم آمنے سامنے ہیں۔ پٹھان مقابل پٹھان کے کھڑا ہے، لیکن کوئی امریکہ کی بات نہیں کرتا۔ افغانستان پر حملہ امریکہ نے کیا۔ حکومت افغانیوں کی ختم ہوئی، پھر حکومت پر بھی افغان لائے گئے۔ ایک کو قوم پرست کا نام دیا گیا دوسرے کو طالب کا، ایک طرف بھی افغان دوسری طرف بھی افغان، ایک طرف بھی اللہ اکبر کا نعرہ دوسری طرف بھی اللہ اکبر کا نعرہ، ایک بھی شہید دوسرا بھی شہید۔ اتنے امریکی اٹھارہ سالوں میں نہیں مرے جتنے پٹھان ایک مہینے میں ایک دوسرے کو مار دیتے ہیں۔

طاقت ور نے ہمیں کمزور کرنے کے لیے بھائی کو بھائی کے مقابل کھڑا کر دیا۔ بھائی بھائی کو مار کر خوش ہے۔ پڑوسی پڑوسی سے پنگا لیکر خوش ہے۔ ریاستی ادارے اور شہری ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو کر خوش ہیں۔ میاں افتخار کو اب ڈر کسی امریکی سے نہیں اپنے ہی پختون بھائی سے ہے۔ اشرف غنی کو ڈر کسی امریکی سے نہیں اپنے ہی طالب بھائی سے ہے۔ فوج کو خطرہ امریکہ سے نہیں اپنے ہی ملک کی مزاحمتی پارٹی سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر، عملی قدم کا وقت ہے - صبا احمد

کوئی اٹھے، دل بڑا کرے اور بکھری قوت کو یکجا کر دے ورنہ آگ کا یہ کھیل جاری رہے گا اور اس میں کوئی اور نہیں اپنا ہی بھائی مرے گا۔ اپنے بھائیوں کو بچائیں جنگ بہت ہو چکی، طالب قوم پرست کا چکر بہت چل چکا۔ اب کسی غلام بلور کو نہیں رونا چاہیے۔ اب کسی میاں افتخار کی نسل نہیں ختم ہونی چاہیے، رک جائیے، پلیز رک جائیے۔