ہندوتوا: بدلتے ہندوستان کی زعفرانی تصویر - عاصم رسول

بھارت کے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی زبردست کامیابی نے سیاسی اور سماجی گلیاروں میں لامتناہی بحث و مباحثے کو جنم دے دیا۔ ان انتخابات کے تناظر میں تبصرہ نگار جہاں یہ کہتے ہیں کہ اس سے ہندوتوا کی حامل آرایس ایس (بی جے پی جس کی سیاسی تنظیم ہے) کو اپنے ہندوتوا اور ہندو راشڑا کے منصوبے کو عملانے میں بھرپور مدد ملے گی، وہیں یہ بھی کہا جارہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں خاص طور سے مسلمانوں کے لیے مستقبل میں سخت چیلنج درپیش ہوگا۔

نریندر مودی اور ہندو انتہا پسند لیڈروں کے بیانات سے بھی یہی کچھ مترشح ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انتخابی مہم کے دوران مودی نے الیکشن ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا : ’کانگریس کے رہنما جو زبان بول رہے ہیں، وہ جمہوریت میں قابلِ قبول نہیں، توہین آمیز ہے۔ یہ مغلوں کی ذہنیت کی عکاس ہے‘۔ ممبر پارلیمنٹ سبرامینم سوامی نے دھمکاتے ہوئے کہا: ’مسلمانوں کو بھارت میں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے یہ حلف اْٹھانا پڑے گا کہ ان کے آباؤ اجداد ہندو تھے‘۔ ممبر پارلیمنٹ سریندر سنگھ حملہ آور ہوتے ہیں: ’صرف چند مسلمان ہی محب وطن ہیں۔ بھارت جب ہندو ریاست بن جائے گا تو صرف انھی مسلمانوں کو یہاں رہنے کی اجازت ہوگی جو ہمارے طور طریقے اپنا لیں گے۔ جن پر ہمارے کلچر کا رنگ نہیں چڑھے گا، وہ کسی اور ملک میں جاکر سیاسی پناہ لے لیں‘۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ یہ کہہ کر ہندوؤں کو ڈراتے ہیں: ملک کی، خصوصاً مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی ہمارے سماجی ڈھانچے ، معاشرتی ہم آہنگی اور ملک کی ترقی کے لیے خطرہ ہے‘۔ اسی طرح ایک اور قانون ساز سنجے پٹیل ہندوؤں کو سمجھاتے ہیں: ’یہ انتخابات سڑکوں، پانی اور اس جیسے دوسرے مسائل کے لیے نہیں ہو رہے۔ یہ مسلمان بمقابلہ ہندو، بابری مسجد بمقابلہ رام مندر کا معاملہ ہے‘۔

اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات سے مسلمانوں کے اندر خوف و ہراس پیدا ہوگیا اور وہ اپنے تشخص کے تئیں تشویش میں مبتلا کیے گئے۔ تاہم یہ جو phenomenon پیدا ہوا ہے، یہ الل ٹپ رونما نہیں ہوا بلکہ اس نئے بیانیہ کے پیچھے طویل تاریخ اور جدوجہد پنہاں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے ۲۰۱۴ء کے مقابلے میں حالیہ الیکشن میں کئی گناہ زیادہ سیاسی قوت و طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور مودی بھارت کے طاقت ور لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں، حالاں کہ عالمی جریدے ٹائم نے کچھ ماہ قبل اپنے سرورق مضمون میں نریندر مودی کو divider in cheif قرار دیا تھا، مگر مودی کی زبردست جیت کے بعد اسی مؤقر رسالے کو اگلے شمارے کے اداریے میں مودی کو ’بھارت کو متحدکرنے والا‘ وزیراعظم قرار دینا پڑا۔ ۲۰۱۹ ء کی جیت واقعی حیران کن ہے کیوں کہ اگر خالص تعمیر و ترقی کے حوالے سے دیکھا جائے تو کوئی قبل ذکر کارنامہ نہیں یا جو وعدے گزشتہ انتخابات میں کیے گئے تھے ان کو روبۂ عمل لانے میں بھاجپا اور نرندر مودوی بری طرح ناکام رہے ہیں۔ پھر بھی اگر نریندر مودوی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو یہ امر گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اس کامیابی کی پشت پر آر ایس ایس کا فسطائی نظریہ ہے اور جو محنت آر ایس ایس نے اپنے یوم تاسیس سے لے کر ہر شعبہ میں کی ہے، اس کا پھل اسے اب مل رہا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ آر ایس ایس کا منصوبہ منفی ہے اور کچھ قوموں اور مذاہب کی شدید دشمنی پر استوار ہوا ہے۔ تاہم جیسے انگریزی میں کہتے ہیں کہ give the devil his due یہ ماننا پڑے گا کہ آرایس ایس نے اپنے فسطائی افکار و نظریات کو ایک منضبط انداز اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے کی مدد سے مسلسل فروغ دیا ہے۔ اور آج کا ہندوستان مکمل طور پر زعفرانی رنگ میں رنگ چکا ہے۔ اور ہندو توا کا ایجنڈا عملانے میں سرعت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

شبیع الزمان کی لکھی ہوئی زیر نظر کتاب ’’ہندوتوا: بدلتے ہندوستان کی زعفرانی تصویر‘‘ اُن عوامل کی نشان دہی کرتی ہے جن عوامل کے تحت ہندوتوا کا پودا آج تن آور درخت کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس کتاب میں ابتدائیہ کو چھوڑ کر کل دس ذیلی عناوین ہیں۔ ہندو مذہب میں ذات پات کے نظام کے ہوتے تمام طبقات کے لیے ہندوتوا کا نظریہ قابل قبول نہیں ہو سکتا تھا تو کیا مشترکہ مقصد پیش کرکے انہیں قائل کیا گیا۔ اس حوالے سے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں ’’ ہندوتوا کا تصور ہر ہندو کے دل کی آواز نہ تھا۔ کیوں کہ اس تصور کے تحت منو اسمرتی کے طبقاتی نظام کو قائم کرنے کا خواب دکھایا گیا تھا۔ یہ خواب نچلی ذات کے ہندوؤں کے لیے باعث اطمینان نہ تھا۔ بلکہ اس بات کے زیادہ امکانات تھے کہ لوگ بڑی آسانی کے ساتھ ہندو مذہب کو ترک کرکے دیگر عقائد اور طرز حیات کی جانب متوجہ ہو جاتے۔ اس لیے ان تمام لوگوں کو ہندو باقی رکھنے اور منو وادی سماج کی تعمیر میں استعمال کرنے کے لیے ایک مشترکہ ایجنڈے کی ضرورت تھی۔ اور یہ ایجنڈا مسلم دشمنی کی شکل میں بڑی آسانی سے فراہم کیا جاسکتا تھا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   جموں و کشمیر اور عالمی رویہ - چوہدری محمدالطاف شاہد

اسلامی لٹریچر میں جہاں سیکولرازم، سوشل ازم، کیپٹیلزم وغیرہ نظاموں اور نظریات پر مسلمان مفکرین نے کثیر تعداد میں کتابیں تحریر کی ہیں، وہیں ہندوتوا اور ہندو احیائی تحریکوں پر راست لٹریچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور اس حوالے سے قاری کو خلا محسوس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ مصنف کے نزدیک یہ ہے کہ اسلامی مفکرین نے ہندوتوا کو کوئی نظریاتی اور فکری چیلنج سمجھا ہی نہیں۔ اگرچہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے تاہم عملی سطح پر ہندوتوا ہندوستان کے تناظر میں ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے اور اس سے غضِ بصر ممکن نہیں۔ کتاب کے پہلے مضمون ’’ابتدائے ہندوتوا‘‘ میں مصنف نے کہا ہے کہ ہندو سماج میں بیداری کی مہم انگریز دور میں شروع ہوئی اور مسلمانوں کے دورِ حکمرانی میں اس طرح کی کوششیں نظر نہیں آتیں۔ اس کی وجہ مصنف کے نزدیک مسلمان حکمرانوں کا ہندوؤں کے مذہبی اور سماجی معاملات میں دخل انداز نہ ہونا بیان کیا ہے۔ مصنف ہندوؤں میں دو تحریکات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’اس دور کی ہندوسماج کی مشہور سماجی تحریک راجہ رام موہن رائے کی برہمو سماج تھی۔ یہ غیر سیاسی، مذہبی تحریک تھی جو بنگال سے شروع ہوئی۔ راجہ رام موہن رائے بت پرستی کے خلاف تھے، اور ایک خدا کے قائل تھے۔ دوسری تحریک جو مقبول عام ہوئی وہ سوامی دیانند سرسوتی کی آریہ سماج کی تحریک تھی۔ یہ شدت پسند تحریک تھی اس کا بنیادی مقصد ہندو تہذیب اور ہندو مذہب کا احیاء تھا۔ـ‘‘ (صفحہ نمبر ۱۲)۔

سوامی دیانند سرسوتی کے بعد پنڈت مدن موہن مالویہ وہ دوسرا بڑا نام ہے جس نے ہندوستان میں ہندواحیاء پرستی کے لیے سعی کی۔ وہ اگرچہ کانگریس کے ۱۹۰۹ ء اور ۱۹۱۸ء میں کانگریس کے صدر بھی رہے مگر وہ کانگریس میں رہ کر متعصب ہندو تھا۔ مصنف ایک جگہ لکھتے ہیں ’’۹ مارچ ۱۸۹۸ کو ہندو تعلیم یافتہ اُمراء کا ایک وفد مدن موہن مالویہ کی قیادت میں لفٹننٹ گورنر سر میکڈونلڈ سے ملا اور اس نے فارسی رسم الخط کی جگہ دیوناگری رسم الخط کے اجراء کا مطالبہ کیا‘‘ (صفحہ نمبر ۱۴)۔

ہندوتوا کے اولین معماروں میں ایک بڑا نام ڈاکٹر بی ایس مونجے ہے۔ اس کی پیدائش ۱۸۲۷ء میں چھتیس گڑھ میں ہوئی۔ مونجے، لوکمانیہ تلک کے نظریات، افکار اور شخصیت کا گرویدہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ہندو اپنے تحفظ کے لیے فوجی ٹریننگ حاصل کریں۔ وہ اٹلی کے مسولینی کی فاشسٹ تحریک سے کافی متاثرتھا۔ وہ اپنی ڈائری میں ایک جگہ لکھتا ہے۔’’فاشزم عوام میں اتحاد پیدا کرتا ہے۔ ہندوستان اور ہندوؤں کو اس کی شدید ضرورت ہے تاکہ ہندو اپنی ملٹری تیار کرسکیں۔ ہمارے ناگپور میں ڈاکٹر ہیڈ گوار کی تنظیم آر ایس ایس اسی طرز کی تنظیم ہے۔ میں اپنی باقی ماندہ زندگی، ڈاکٹر ہیڈ گوار کی اسی تنظیم کو پھیلانے اور منظم کرنے میں صرف کردوں گا‘‘ (صفحہ نمبر۲۱)۔ ۱۹۳۷ء میں مونجے نے بھونسلے ملٹری اسکول قائم کیا۔ مالیگائوں بم بلاسٹ کے ملزم کرنل پروہت کا تعلق اسی اسکول سے تھا۔ مصنف لکھتے ہیں ’’ جو فکر دیانند سرسوتی سے چلی تھی اور مالویہ نے جس کو مضبوط کیا، مونجے نے اس کو فاشزم کی راہ پر ڈال دیا۔ مونجے اٹلی سے ملٹری اسکول کا آئیڈیا نہیں بلکہ یورپی فاشزم لایا تھا۔ اس طرح ہندوستان میں ہندوتوا فاشزم کا باضابطہ آغاز ہوا۔‘‘ (صفحہ نمبر ۲۲)۔

ہندوتوا ایجنڈے کو فروغ دینے میں دو لوگوں کا نمایاں رول رہا، جن کو مونجے کی فکری وراثت کا وافر حصہ ملا۔ ایک دامودر ساورکر اور دوسرا بلی رام ہیڈگیوار۔ ساورکر مونجے کے بعد ہندومہاسبھا کا صدر بنا اور ہیڈگیوار نے آر ایس ایس کی بنیاد رکھی۔ ساور کر اگرچہ ناخدا شناس اور ملحد تھا تاہم اس نے ہندومذہب کو اپنی فکر کے لیے سیڑھی کی طرح استعمال کیا۔ ساورکر نے ہندوؤں کے سامنے سات نکات رکھے جن پر عمل پیرا ہوکر وہ غالب قوت بن سکتے تھے۔ ان باتوں میں فرسودہ ذات پات اور چھوت چھات کا واضح رد تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس گاؤ رکھشا کو بنیاد بنا کر آج کے متشدد ہندو پورے ہندوستان میں قتل و غارت گری کے واقعات انجام دے رہے ہیں، ان کے گرو ساورکر نے اس کی واضح نفی کی ہے۔ وہ ایک جگہ لکھتا ہے’’جب گائے سے انسانی ضروریات پوری ہونی بند ہوجائے، بلکہ گائے نقصان دہ ثابت ہو، اس وقت گائے کے تحفظ کو ختم کر دینا ہی بہتر ہے۔ کسی بھی چیز کی اتنی ہی قدر ہونی چاہیے جتنی وہ انسان کے لیے مفید ہو۔ اس کو مذہبی تقدس کا درجہ دے دینا دقیانوسیت ہے۔ اس سے قوم کی ذہنی سطح پست ہوتی ہے‘‘ (samgra savarkar vangmaya page-311)۔ ساورکر کے نظریات مسلمانوں کے تئیں انتہائی متشددانہ تھے۔ اس نے مسلمانوں اور مسلم خواتین کے بارے نہایت غلیظ الفاظ کہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مودی ٹرمپ کا جشن "فتح کشمیر" اور ہماری "خوابوں کی دنیا" - محمد عاصم حفیظ

دوسرا شخص اور آر ایس ایس کا بانی ہیڈگیوار کی پیدائش ناگپور کے غریب مگر برہمن گھرانے میں ہوئی۔ اس کی تعلیم کے تمام اخراجات ہندومہاسبھا اور مونجے نے برداشت کیے۔ یہ ابتدائی زمانے سے ہی سوامی ویکانند، ساورکر اور شری اروبندوگھوش سے متاثر تھا۔ ہیڈگیوار کے حصے میں دوسرے ہندوتوا لیڈروں کے مقابلے میں زیادہ کامیابیاں آئیں۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ مصنف لکھتے ہیں’’ہیڈگیوار نے طویل عرصہ تک صرف افراد سازی اور لوگوں کی فکر سازی کے لیے محنت کی۔ اس کے برعکس ساورکر اور مونجے بالکل ابتدا ہی سے اقدامی اور انتہا پسندانہ کام کرنا چاہتے تھے۔ ہیڈگیوار نے ہندوؤں کو یکجا کرنے کے لیے مسلمانوں کو ان کے دشمن کے طور پر پیش کیا۔ اس سے ہندوؤں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا اور وہ متحد ہوئے۔‘‘(صفحہ ۳۶)۔

آر ایس ایس اپنے لیڈر یا امیر کو سرسنگھ چالک کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس کی تاریخ میں اب تک چھ سر سنگھ چالک ہوئے ہیں، لیکن سب سے زیادہ مقبول دوسرے سرسنگھ چالک ایم ایس گولوارلکر رہے ہیں۔ تنظیم میں اس کی زبردست تعظیم کی جاتی تھی، یہاں تک کہ بھارت کے سابق وزیراعظیم اٹل بہاری واجپائی ان کے سامنے کبھی کرسی پر نہیں بیٹھے تھے بلکہ نیچے فرش پر بیٹھتے تھے۔ گولوالکر اہلِ قلم بھی تھا۔ اس کی دو کتابیں بہت مشہور ہوئیں۔ بلکہ ان کتابوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر کسی کو ہندوتوا کے پورے فکر و فلسفے کو جاننا ہے تو اس کے لیے یہ دو کتابیں ہی کافی ہیں۔ ایک We, or our Nationhood Defined جس میں اس نے تصور قومیت پر بحث کی ہے۔ دوسری Bunch of thoughts جس میں اس کی ۳۳ سالہ دور کی مختلف تقاریر، تبصروں اور تحریروں کو جمع کیا گیا ہے۔ اس نے آر ایس ایس کو مضبوط بنانے میں زبردست جدوجہد کی۔ مصنف ایک جگہ لکھتے ہیں ’’گولوالکر جس وقت آر ایس ایس کا سربراہ بنا، اس وقت آر ایس ایس کی ۵۰ شاکھائیں اور ایک لاکھ ممبرز تھے، اس کے انتقال کے وقت آر ایس ایس کی دس ہزار شاکھائیں اور ایک ملین سے زیادہ ممبران تھے۔ گولوالکر نے سنگھ کو ہمیشہ سیاست سے دور رکھا اور اپنا پورا زور صرف فکری اور نظریاتی کاموں میں صرف کیا۔‘ ‘(صفحہ نمبر ۴۳)۔

اس کے بعد ہندوتوا کی فکر کو فروغ دینے میں دین دیال اُپادھیائے اور شاماپرساد مکھرجی نے مرکزی کردار ادا کیا۔ دین دیال اُپادھیائے نے InternalHumanism کا معاشی فلسفہ پیش کیا۔ جبکہ شیاما پرساد مکھرجی نے ۱۹۵۱ ء میں جن سنگھ بنائی جس کی حیثیت آر ایس ایس کے سیاسی بازو کی تھی۔ اسی دور میں ۱۹۶۰ میں جن سنگھ نے پہلی مرتبہ قومی سطح پر گاؤکشی کے خلاف مہم چلائی۔ شیاماپرساد مکھرجی کی کشمیر کی جیل میں موت کے بعد سنگھ کی ناؤ کو اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے ایڈوانی نے سنبھالا اور انھوں نے ایک نئی سیاسی پارٹی بی جے پی کی بنیاد ڈالی۔ مصنف نے ان محرکات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح ۸۴ کے الیکشن میں محض دو سیٹیں حاصل کرنے والی بی جے پی ۸۹ ء کے انتخابات میں رام مندر کا کارڈ کھیل کر ۸۴ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ مصنف نے ایڈوانی کی قیادت میں نکلی رتھ یاترا اور پھر اس کے نتیجے میں بابری مسجد کی شہادت کو بھی بیان کیا ہے۔ اس کے بعد کتاب کے مؤلف نے بھارت کی قیادت کے سٹیج پر نریندر مودی کے ابھرنے کو بھی مفصل انداز میں بیان کیا ہے اور ان تمام اسباب پر روشنی ڈالی ہے جن کی مدد سے بی جے پی نے ۲۰۱۴ میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ ساتھ ہی کانگریس کے زوال اور اہم موقعوں پر کانگریس کی قیادت سے فاش غلطیاں ہونے کا تجزیہ بھی بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ مصنف نے راج دیپ سردیسائی کا راہل گاندھی کے بارے یہ غور طلب فقرہ لکھا ہے کہ He never missed an opportunity to miss an opportunity

بہر حال ۹۶ صفحات پر مشتمل مذکورہ کتاب ہندوتوا کے فکرو فلسفہ کو سمجھنے کے لیے عمدہ کاوش ہے۔ اس کتاب میں شامل مضامین کو مصنف نے ایک سال کے عرصہ میں مختلف موقعوں پر لکھا۔ ہندوستان کی طلبہ تنظیم SIO کے ترجمان رفیق منزل میں یہ مضامین شائع ہوتے رہے۔ جس کواب وائٹ ڈاٹ پبلشرز نے کتابی شکل میں عمدہ کاغذ اور خوب صورت ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا ہے۔ ہندوتوا کے جدید مظاہر کے فکری پس منظر کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔