کیا ہم دماغ بدل سکتے ہیں؟

کیا آپ کا دماغ پہلے سے معین شدہ ہے یا پلاسٹک کا ہے؟
کیا ہم ایک ایسی مربوط اور دیرپا مشین ہیں جو ان سرکٹس پر چل رہی ہے جن میں ہم کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے اور جس کی زندگی کی حد اس دماغ نے پہلے ہی مقرر کی ہوئی ہے جس کے ساتھ ہم پیدا ہوتے ہیں۔ یا ہم اس قابل ہیں کہ اپنے دماغ کے تار پھر بدلیں، اسے ری پروگرام کریں اور اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔ نیورو سائنسدان ہینا کرِچلو پوچھتی ہیں کہ دماغ پر ہونے والی حالیہ تحقیق آزاد قوتِ ارادی، قدرت بمقابلہ قدرت اور قسمت کے متعلق ہمیں کیا بتا رہی ہے۔

آپ کا دماغ ایک بالغ کے طور پر نہیں لگایا گیا.
نیوروسائنس کے آغاز میں اس کا فیصلہ اصولوی طور پر ہو گیا تھا کہ دماغ کے تمام نیورونز پیدائش سے پہلے بن جاتے ہیں اس لیے ’خراب دماغ‘ یا ایسے دماغ کی جس میں کوئی کمی رہ گئی ہو، مرمت کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ برسوں تک نیورو سائنسدان یہ سمجھتے رہے کہ بالغ دماغ کی ساخت ’فکسڈ‘ یا متعین ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں جو بھی ہمیں مل گیا بس وہ ہی ہمارے ساتھ رہے گا۔ لیکن 1960 کی دہائی میں یہ نظریہ بدلنا شروع ہو گیا اور نئی تحقیق سے اس کے بالکل برعکس معلوم ہوا۔ ایسے شواہد بھی ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ دماغ پلاسٹک ہو، یہ حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکتا ہو، بڑھ سکتا ہو بلکہ یہ دوبارہ پیدا ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔

لندن کے کیب ڈرائیور ہمارے دماغ کے متعلق کیا بتاتے ہیں
یونیورسٹی کالج لندن میں یاداشت کی تعلیم حاصل کرنے والے کوگنیٹو نیورو سائنسدان ہیوگو سپائرز کہتے ہیں کہ ’آپ لندن کی بلیک کیب میں پیچھے بیٹھ جائیں، اپنی منزل بتائیں تو ڈرائیور کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ آپ کو وہاں ممکنہ طور پر تیز ترین راستے سے لے کر جائے۔‘ ایسا کرنے کے لیے کیب ڈرائیور کو لندن کی سبھی سڑکیں زبانی یاد ہونی چاہییں۔ جس کا مطلب ہے 10 کلومیٹر کے نصف قطر کے اندر اندر 60 ہزار سے زیادہ گلیاں بشمول یک طرفہ گلیاں اور دوسری پابندیاں اور اس کے علاوہ ایک لاکھ دوسری اہم جگہیں۔

ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ہیوگو کو بتایا کہ ’اگر آپ اپنی بیٹھک کے متعلق سوچیں تو آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی کتابیں کہاں ہیں، صوفہ کہاں ہے اور باورچی خانے میں کیسے جانا ہے۔ آپ کو اس کے متعلق سوچنا نہیں پڑتا۔ بالکل اسی طرح لندن کی گلیوں کی بات ہے۔‘ اس طرح کی ساری معلومات میں کمال حاصل کرنے میں جسے کیب ڈرائیورز ’دی نالج‘ کہتے ہیں، عام طور پر دو سے چار سال لگتے ہیں۔ لیکن جب یو سی ایل میں نیوروسائنسدانوںں نے ڈرائیوروں کے دماغ پر تحقیق کی تو انھیں ایک حیرت انگیز چیز معلوم ہوئی: ’جب یہ یاد کرنے کا یہ دیوہیکل عمل ہو رہا تھا اس وقت دماغ بھی بدلنا شروع ہو گیا تھا۔‘

نیورو امیجنگ ٹیکنالوجی کے استعمال سے سائنسدانوں نے دیکھا کہ ڈرائیور کے دماغ کا وہ حصہ جسے ’ہپو کیمپس‘ کہتے ہیں وہ بڑا ہو گیا۔ یہ ایک بڑی دریافت تھی جس کا مطلب تھا ہمارا دماغ جو اس وقت ہے یہ ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا اور ہم میں صلاحیت ہے کہ اس میں تبدیلی لا سکیں۔ اس سے ایک نیا سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔ کیا ہم اپنے دماغ اسی طرح رکھ سکتے ہیں جس طرح ہم اپنے عضلات رکھ سکتے ہیں تاکہ جو کچھ کرنا سکیں کر سکیں۔

دماغ کی صحت مندی

اس کے بعد کیے جانے والے تجربات سے پتہ چلا کہ دماغ ساخت اور کام کرنے کی صلاحیت میں بڑے پیمانے کی تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 60، 70 اور 80 کی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی۔ ان اہم ترین تبدیلیوں میں سے ایک نیورو جینیسز بھی ہے۔ یہ بالغ افراد کے نیورو سٹیم سیلز میں سے نئے نیورونز کی نشو نما ہے۔ امریکی صحافی اور ’دی پلاسٹک برین‘ کی مصنفہ شیرون بیگلی کہتی ہیں کہ ’اس سے زخم بھرنے کی صلاحیت جیسے اہم عمل میں اضافے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔‘ اسی لیے کوگنیٹیو بی ہیویئرل تھراپی (سی بی ٹی) جیسے علاج آپ کو اپنی سوچ اور رویے میں تبدیلی لا کر اپنے مسائل سے نمٹنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآن فہمی اور جدید سائنسی نظریات - پروفیسر جمیل چودھری

’نیورو پلاسٹی (دماغ کی باقاعدہ طور پر بدلتے رہنے کی صلاحیت) کی حوصلہ افزائی لوگوں کی کئ طریقوں سے مدد کر سکتی ہے۔‘ شیرون کہتی ہیں کہ جب اس طرح کی نفسیاتی مداخلت کے دوران ہمیں اپنے زندگی کے تجربات کے متعلق مختلف طریقے سے سوچنے کے متعلق سکھایا جاتا ہے، تو درحقیقت یہ دماغ کی ساخت اور کام کرنے کے عمل پر بھی الٹا اثر انداز ہو سکتا ہے۔ شیرون جسے ’نیورو ہائیپ‘ کہتی ہیں اس سے محتاط رہیں کیونکہ یہ الٹی پڑ سکتی ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جس کے تحت ہم دماغ کے متعلق ہر چیز بدل سکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس وقت کیا ہوتا ہے جب کوئی ڈپریشن یا ٹراما سے باہر نکلنے کا نہیں سوچ سکتا۔ کیا ہم ان پر الزام لگائیں گے کہ وہ صحیح طرح نہیں سوچ رہے۔‘ شیرون کے مطابق ’یہ خیال کہ اگر دماغ میں کچھ بھی خرابی ہو تو اسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے بہت ہی دور کی کوڑی ہے۔‘

پلاسٹیسٹی کا صنفی کرداروں کے لیے کیا مطلب ہے
حیاتیاتی عقیدۂ جبریت بہت حد تک انسانوں کی زمرہ بندی اور ان کی صلاحیتوں کو محدود کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم رویوں کے کافی پہلووں کو جنسی درجہ بندی میں ہانک دیتے ہیں۔ کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے سیکس کروموسوم بتاتے ہیں کہ آپ کس طرح عمل کریں گے۔ کوگنیٹیو نیوروسائنٹسٹ اور ’دی جینڈرڈ برین‘ کی مصنفہ جینا رپون کہتی ہیں کہ جیسا کہ ایسی سوچ کے متعلق دوبارہ سوچنا چاہیئے کہ ’عورتیں غیر منطقی اور مرد غیر جذباتی ہوتے ہیں۔

جینا اس سوال کو چیلنج کرتی ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے دماغ مختلف ہیں اور یہ اختلافات معین شدہ ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ انسانی بائیولوجی میں ایسا کچھ نہیں ہے جو کہ اس خیال کو تقویت دے سکے کہ دماغ میں صنفی اختلافات ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس انسانوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کا ’مرد دماغ‘ اور ’عورت دماغ‘ ہے۔ یہ سب کچھ ان تجربات کی وجہ سے ہے جو انھوں نے زندگی میں حاصل کیے جن میں یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ ان کے ذہنی یا جسمانی طور پر کام کا تعین صنف کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ دماغ ایک بہت زیادہ ایکٹیو ایجنٹ ہے۔ اس لیے یہ دنیا اور جو کچھ اس دنیا میں ہے اس پر اس کا ہماری سوچ سے زیادہ اثر ہو گا۔‘

دماغ کی حالات سے سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت دو طرفہ ہے۔ اور جینا کے بقول، پلاسٹیسیٹی کا یہ خیال جو کہ پیدائش سے شروع ہو کر بڑھتی ہوئی عمر تک پھیلا ہوا ہے، صنف اور اس کی وجہ سے لگائی جانے والی پابندیوں کے متعلق پرانے اور دقیانوسی خیالات سے ہمیں نکال سکتا ہے۔

پلاسٹیسیٹی اور پیرنٹنگ (بچے پالنا)
جب بات بچے پالنے کی ہوتی ہے تو یہ کافی تسلی بخش خیال ہے کہ زندگی یہاں کچھ حد تک فکسڈ ہی ہے۔ پرورش سے بالکل مختلف طور پر قدرت شاید اس فیصلہ سازی اور والدین کی کبھی نہ ختم ہونے والی تشویش کے دور کے دباؤ کو ختم کرنے میں ان کی مدد ہی کرتی ہے۔ سو اگر قدرت اہم ہے تو کیا والدین کو پریشان ہونا چاہیئے کہ وہ بچوں کی پرورش کس طرح کریں۔

یہ بھی پڑھیں:   تاریخ کا کوڑے دان - اوریا مقبول جان

جینا کہتی ہیں کہ دماغ کی پلاسٹیسیٹی والدین کے لیے امید کی ایک کرن ہو سکتی ہے۔ ’اگر ہم اپنے نوزائیدہ بچے کو موذارٹ نہیں سنائیں گے تو پھر بھی وہ اپنے بچپن میں موسیقی کا سبق لے سکتے ہیں اور بڑے ہو کر پیانو بھی سیکھ سکتے ہیں۔‘ پلاسٹیسیٹی کا مطلب انسانی صلاحیتوں کا زیادہ مثبت اور روشن خیال ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں بچے کا دماغ ایک خالی سلیٹ کی طرح ہے، جینیاتی وراثت کی قید سے بالکل آزاد۔

آپ کا دماغ کتنا پلاسٹک ہو سکتا ہے؟
ہمارا دماغ روز بدلتا ہے۔ جب بھی آپ کوئی نئی چیز سیکھتے ہیں، یا کوئی نیا خیال آتا ہے تو آپ اپنے دماغ میں نئے نیورونل کنیکشن بنا اور مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔ اپنے دماغ میں نئے ڈھانچے بنا رہے ہوتے ہیں۔

لیکن ہم کس طرح بدل سکتے ہیں؟
آئرلینڈ میں ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے نیورو جینیٹسٹ کیون مچل کہتے ہیں کہ ’زیادہ تر تبدیلیاں جو آتی ہیں وہ مائیکرو سکیل پر ہوتی ہیں۔ وہ سائنیپٹک کنیشکشن کی سطح کی چھوٹی تبدیلیاں ہیں۔ (سائنیپٹک کنیشکشن آسان زبان میں نیُورونز کے دَرمیان جَنکشَن ہیں جن سے حَیوانات کے عصبی نَظَاموں میں عصبی امپَاس مُنتَقَل ہوتے ہیں) اور یہاں مثال کے طور پر ہماری یاداشتیں جنم لیتی ہیں۔‘

اپنی کتاب ’اننیٹ‘ میں کیون بتاتے ہیں کہ ہمیں اپنے آپ کو بتاتے رہنا چاہیئے کہ دماغ کی پلاسٹیسٹی لامحدود نہیں ہے اور اس خیال کو بھی ذرا شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہیئے کہ ہم میکرو سکیل پر ایسی تبدیلیوں کا تجربہ حاصل کر سکتے ہیں جو ہماری شخصیتیں بدل کے رکھ دے گا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں شواہد کو ذرازیادہ احتیاط سے دیکھنا چاہیئے اور اس خیال پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے کہ ہم ہر وہ چیز جو بدلنا چاہتے ہیں بدل سکتے ہیں۔ کہ ہم اپنے جینیاتی قید کی زنجیریں توڑ کے آزاد ہو سکتے اور جس طرح کا انسان چاہیں بن سکتے ہیں۔‘ ’ہم ہمیشہ اپنا دماغ استعمال کرتے ہیں۔ ہم ہر وقت دماغ کے سامعاتی اور بصری حصے استعمال کرتے ہیں۔ ’اور وہ متواتر بڑے نہیں ہو رہے ہیں۔ اگر دماغ کا ہر وہ حصہ جسے ہم کام میں لاتے ہیں بڑا ہونا شروع ہو جائے تو ایک وقت آئے گا کہ ہماری کھوپڑی پھٹ جائے گی۔‘

تو ہماری قسمت کا فیصلہ قدرت کرتی ہے یا پرورش؟
ہماری جینیات اور ماحول کا اثر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ کیون کہتے ہیں کہ ’ہمیں اس نیچر ورسز نرچر (قدرت بمقابلہ پرورش) کی بحث نکلنے کی ضرورت ہے کیونکہ دونوں بہت پیچیدہ طریقے سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ہم ’پری وائرڈ‘ آتے ہیں، جس میں ہماری جینیات اور ہمارے دماغ کی نشو نما کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے اور یہ ہماری شخصیت کے خدو خال ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن یہ پری وائرنگ (پہلے سے سب کچھ طے شدہ ہونا) ہماری فیصلہ سازی کے متعلق سب کچھ نہیں بتاتی۔ وہ زیادہ تر عادتاً ہے۔

کیون کہتے ہیں کہ ہم اپنے تجربات کی روشنی میں جو عادات اپناتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جو لمحہ بہ لمحہ ہمارے عوامل کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ہمارے دماغ پر ہمارے جینیاتی اثرات اور ہمارے تجربات کے اثرات کی متواتر مداخلت رہتی ہے۔ دونوں ہماری تمام زندگی ہماری شخصیات تشکیل دیتے ہیں۔ یہ خود مختاری یا قسمت نہیں ہے بلکہ خود مختاری اور قسمت ہے جو ہماری تقدیر بناتی ہے۔