واشنگٹن دورے کی قیادت عمران خان ہی کر رہے ہيں، صحافی مثبت رپورٹنگ کریں

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اپنے تین روزہ دورہ واشنگٹن کے دوران امریکی وزیر دفاع اور امریکی افواج کے سربراہ سے ملاقات کے لیے پینٹاگون جائیں گے۔

امريکی دارالحکومت واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیر کے روز آرمی چیف وزیراعظم عمران خان کے ساتھ وائٹ ہاؤس جائیں گے۔ خیال ہے کہ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ افغانستان میں قیام امن اور خطے میں دہشت گری کے خاتمے کے حوالے سے مذاکرات میں جنرل باجوہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کا کلیدی کردار ہوگا۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی پاکستانی وزیر اعظم کے وائٹ ہاؤس کے دورے میں اعلیٰ فوجی قیادت بھی ان کے ساتھ ہو۔ وزیر اعظم کے مخالفین کے نزدیک اس غیر معمولی طرز عمل سے یہ تاثر مزید زور پکڑ گیا ہے کہ عمران خان ایک 'سلیکٹڈ‘ وزیراعظم ہیں، جنہیں فوجی قیادت اپنی کڑی نگرانی میں چلا رہی ہے۔

لیکن واشنگٹن میں موجود ڈی ڈبلیو کی نمائندہ مونا کاظم کے مطابق، وہاں موجود پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ان الزامات کی پرواہ نہیں اور ان میں وزیراعظم کے دورے کے لیے خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ عمران خان اس تین روزہ دورے کے دوران واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ پر قیام کر رہے ہیں، جہاں ہفتے کے روز ان کے استقبال کے لیے آنے والے کچھ لوگوں نے جنرل باجوہ اور عمران خان کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں۔

واشنگٹن میں بات چیت کے دوران فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس دورے کی قیادت وزیر اعظم ہی کر رہے ہیں لہٰذا میڈیا کی توجہ ان ہی پر ہونی چاہیے۔ ميجر جنرل آصف غفور سے پوچھا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قیاس آرائیوں میں کتنی صداقت ہے، تو انہوں نے اس کا کوئی جواب دینے سےگریز کیا۔ انہوں نے پاکستانی صحافیوں کو مشورہ دیا کہ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے حوالے سے مثبت رپورٹنگ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مخالف لابیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صحافی قومی مفاد سامنے رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ گیم اب نہیں چل سکے گی - جاوید چوہدری

دریں اثنا وزیراعظم عمران خان اتوار کے روز واشنگٹن کے'کیپیٹل ون ایرینا آڈیٹوریم‘ میں پی ٹی آئی کے ایک جلسے سے خطاب کرنے جا رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق، کانسرٹ ہال میں بیس ہزار لوگوں کی گنجائش ہے لیکن مختلف علاقوں سے کوئی بائیس ہزار پاکستانی اس جلسے میں شرکت کے لیے اپنے نام لکھوا چکے ہیں۔